.

زمرد کی پہاڑی پر عناب کی کیاری

وجاہت مسعود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمارے صحن میں پینتالیس لاشے رکھے ہیں۔ درد کی میزان میں ایک اور دکھ ڈال دیا ہے۔ صدمے کی رسومات پورے التزام سے نبھاہی جا رہی ہیں۔ مذمت کی فراوانی ہے، الزامات کی برکھا ہے۔ پاکستان کے جسد اجتماعی میں ایک عضو کسی قدر محفوظ چلا آ رہا تھا، اس پر کاری وار کیا گیا ہے۔ مرنے والوں کی گروہی شناخت سے قطع نظر، اس قوم کا لہو بہہ رہا ہے۔ حملے کی زد میں آنے والی بس سے ایک انتہا پسند گروہ کا دھمکی آمیز پیغام ملا ہے۔ سبحان اللہ! کیسے فاضل لوگ ہیں۔ مظالم کی املا ’مزالم‘ کرتے ہیں اور قصاص کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم گمراہ بندگان دنیا کو ہدایت کرنا چاہتے ہیں۔ ان ظالموں سے کیا گلہ! ہماری اپنی یکسوئی باعث تشویش ہے۔

پشاور اسکول حملے کے بعد کا منظر کچھ مختلف تھا۔ اس دفعہ دفتر خارجہ کا ہمسایہ ملک کے خفیہ ادارے کے حوالے سے بیان گویا غیبی مدد کی طرح ظاہر ہوا ہے۔ بے طرح دھول اڑائی جا رہی ہے۔ دور کی کوڑیاں ملائی جا رہی ہیں۔ رموز مصلحت ملک خسرواں دانند۔ ہم ایسے گدایان گوشہ نشین ان نازک معاملات میں نابلد محض ہیں۔ سوالات البتہ موجود ہیں اور قابل غور اشاروں کی بھی کمی نہیں۔ تین روز قبل اطلاع آئی کہ ملک کی نامور ماہر تعلیم ڈاکٹر برنڈیٹس لوئیس ڈین نے ایک مذہبی جماعت کی دھمکی آمیز مہم کے نتیجے میں ملک چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ محترمہ برنڈیٹس ان دنوں پرائمری نصاب میں اصلاح اور بہتری کے لئے سندھ کے محکمہ تعلیم کی مدد کر رہی تھیں اور ماضی میں آغا خان یونیورسٹی سے بھی منسلک رہ چکی ہیں۔ غیر ملکی شہریت کی حامل خاتون استاد کے خلاف مذہبی بنیاد پر مہم چلانے والوں کے نام اور چہرے اجنبی نہیں ہیں۔

یاد رکھنا چاہئے کہ 2010ء میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد ایک مہم چلائی گئی تھی کہ تعلیم کے شعبے سے نصاب کا معاملہ الگ کر کے اسے بدستور وفاق کے زیر انتظام رکھنا چاہئے۔ یہ ایک سیاسی معاملہ تھا اور کچھ حلقوں کو خدشہ تھا کہ نصاب تعلیم کو صوبوں کے زیر اہتمام لانے سے مرکزیت کا سیاسی بیانیہ متاثر ہو گا۔ مرکزیت اور وفاقیت کا یہ جھگڑا ہمارے ترجیحی سیاسی بیانیے سے جڑا ہو اہے ۔ ہمارے ملک میں مذہب کی بنیاد پر قوم کا تشخص متعین کرنے کے حامی حلقے وفاقی اکائیوں کے متنوع خد وخال سے خائف ہیں اور چاہتے ہیں کہ قومی ریاست سے ماورا مذہبی سیاسی بیانیے اور قدامت پسند معاشرت پر مبنی نصاب تعلیم برقرار رکھا جائے۔ یہ نصاب تعلیم حتمی تجزیے میں شہری اور ریاست کا براہ راست تعلق مجروح کرتا ہے اور اس مفروضے کو بڑھاوا دیتا ہے کہ موجودہ دستوری ڈھانچے کو ملیا میٹ کر کے ایک متبادل مذہبی نظام حکومت قائم کر نے میں ہماری بہتری پنہاں ہے۔

کراچی میں اسماعیلی مسلمان شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں نے اپنے دھمکی آمیز پیغام میں دستور پاکستان سے بغاوت ہی کی وعید دی ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کی مختلف صورتوں میں مشترک نقطہ دستور پاکستان سے بغاوت اور ایک متبادل مذہبی نظام کے تسلط کا سیاسی ایجنڈا ہی ہے۔ سمجھنا چاہئے کہ ہر وہ شخص اور گروہ جو پاکستان کے موجودہ آئینی بندوبست کو سبو تاژ کرنا چاہتا ہے نیز پاکستان کو موجودہ عالمی معاشی اور سیاسی نظام سے علیحدہ کرنا چاہتا ہے، براہ راست یا بالواسطہ طور پر دہشت گردوں کی حمایت کر رہا ہے۔

گزشتہ برسوں میں دہشت گردوں کے درپردہ حامیوں کا مسلمہ طریقہ کار یہ رہا ہے کہ کسی بھی واقعہ کے فوراً بعد اس کی مذمت کی جائے۔ کچھ وقفہ دے کر واردات کے تکنیکی پہلوئوں پر بات کی جائے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوتاہی واضح کی جائے۔ سیاسی قیادت کی بے عملی کو بے نقاب کیا جائے۔ اگر دہشت گردوںنے واقعہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہو تو کہا جائے کہ ذمہ داری قبول کرنے والے افراد کی اپنی شناخت موہوم ہے۔ اور اگر انہوں نے ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا ہو توزور دے کر کہا جائے کہ تقویٰ کے یہ پتلے اپنا دامن صاف ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اشارہ دیا جائے کہ مذہبی دہشت گردوں کے علاوہ دوسری قوتیں بھی اس میں ملوث ہو سکتی ہیں۔ بین الاقوامی طاقتوں کی سازشیں شمار کی جائیں۔ یہ بھی کہا جائے کہ مذہب ایسی دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد دہشت گرد خاموشی سے واردات میں پنہاں تانا بانا بیان کر دیتے ہیں لیکن تب تک ہم کسی اور واردات کی پردہ پوشی میں مصروف ہو چکے ہوتے ہیں۔

اب دیکھئے، 2007ء کے بعد سے دہشت گردی کی کتنی وارداتوں میں لال مسجد کا ذکر آیا مگر اس کے کردار مامون ہیں اور یہ کہ ہم 2007ء میں لال مسجد کے بارے میں کی جانے والی کچھ نکتہ طرازیاں فراموش کر چکے ہیں۔ اسماعیلی مظلوموں کے ضمن میں یہی نمونہ دہرایا جا رہا ہے۔ اس امر پر زور دیا جا رہا ہے کہ اس سانحے میں بلوچ علیحدگی پسندوں کے ملوث ہونے کا اشارہ ملا ہے اور یہ کہ اس میں بھارتی خفیہ ادارے کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ بہت بہتر، پاکستان میں کسی نے بھارت کے خفیہ ادارے یا بلوچ علیحدگی پسندوں کی حمایت نہیں کی۔ مطالبہ صرف یہ ہے کہ دہشت گردی کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، بھلے ان کا تعلق کسی بیرونی قوت سے ہو یا وہ اندرون ملک سرگرم ہوں۔ یہ جاننا ہمارا حق ہے کہ ہمارے سیاسی رہنمائوں، اساتذہ، صحافیوں اور معصوم شہریوں کے خون سے کس نے ہاتھ رنگے ہیں۔ یہ دہشت گردی کی ایک طرفہ واردات ہے جس کی ذمہ داری طالبان گروہ جنداللہ کے علاوہ کسی نے قبول نہیں کی۔

دہشت گرد گروہوں کے لئے اپنے سیاسی مقاصد کو آگے بڑھانا واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے سے منسلک ہوتا ہے۔ جنہوں نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے ہم انہیں صاف دامنی کا سرٹیفکیٹ دینا چاہتے ہیں اور جنہوں نے ذمہ داری قبول نہیں کی، ان پر الزام رکھ رہے ہیں۔ یہ ناقابل فہم ہے۔ کراٰچی میں بیس منٹ تک بلا خوف و خطر فائرنگ کرکے فرار ہونے والوں کو گرفتار کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟کراچی کو مدت گزری رینجرز کے سپرد کیا گیا تھا، فوجی عدالتیں قائم ہوئے بھی کئی مہینے گزر چکے، اب بتائیے ، مزید کیا کرنا چاہئے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ 21ویں ترمیم میں ایپکس کمیٹی کا ذکر تو نہیں تھا، وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے ہوتے ہوئے فیصلہ ساز اجلاس منعقد کرنے والے مہربانوں کو ذمہ داری کا کچھ حصہ بھی قبول کرنا چاہئے۔ بھارتی ادارے را کا ہاتھ کچھ ایسا ناقابل فہم نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ مذہبی دہشت گرد تو بھارت دشمنی میں پیش پیش رہے ہیں ، یہ وضاحت نہیں ہو سکی کہ بھارت ان عناصر کو کیسے استعمال کررہا ہے جن کے بیانیے میں بھارت دشمنی شامل ہے۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ عراق، شام اور دوسرے ممالک میں جاری رستاخیز میں ساجھے دار ہونے کے دعویدار پاکستان میں بھارت کے عزائم پورے کر رہے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں کیا کر رہے ہیں۔ بہت سے دہشت گردوں کے پاکستان سے جا کر مشرق وسطیٰ کے جہاد میں شامل ہونے کی اطلاعات ہیں، یہ لوگ کون ہیں اور ایک برس پہلے تک ان سے مذاکرات کے دوران گرم جوشی کا اظہار کرنے والے کون تھے۔ دیکھئے کراچی کے قتل عام کی خبر آنے پر مولانا فضل الرحمن فرماتے ہیں کہ دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ، اکنامک کوریڈور کے بارے میں اجلاس جاری رہنا چاہئے۔ صاحب، دہشت گرد حملے تو آپ پر بھی ہوئے ہیں، تب آپ کے ردعمل میں ایسی عملیت پسندی کا اشارہ نہیں ملا۔

وزیر اعلیٰ سندھ کی فراست ملاحظہ ہو، فرمایا کہ دہشت گردی تو دوسرے صوبوں میں بھی ہو رہی ہے، میں استعفیٰ کیوں دوں۔ قائم شاہ صاحب ، سندھ کے عوام نے آپ کو وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سونپی ہے۔ دوسرے صوبوں کے عوام کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہے، آپ نے حلف اٹھاتے ہوئے نہیں بتایا تھا کہ سندھ کے عوام کو وہی تحفظ مل سکے گا جو دوسرے صوبوں کو حاصل ہو گا۔ کیا ستم ہے کہ دشمن یکسوئی سے ہمارا خون بہا رہا ہے اور ہم لفظوں کا بیوپار کر رہے ہیں۔ پاکستان زمرد کی پہاڑی تھا، ہم نے اس منظر میں عناب کی کیاری لگا دی ہے ۔ گھاس کی یہ ریشمی چادر لہو کے دھبوں سے آلودہ ہو رہی ہے۔ یہ ایک بیمار معاشرے کی تشدد زدہ تصویر ہے ۔ ہمیں اس تصویر کے فنی محاسن بیان کرنے کی بجائے تخریب کے بنیادی عناصر کی نشان دہی کرنی چاہئے۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.