.

پرانا بھارت نیا پاکستان اور بدلتے حالات

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ چند دن سخت اضطراب میں گزرے۔ دو بڑے بہت بڑے حادثے ہو گئے۔ ایک حادثے کی وجہ طیارے کی فنی خرابی قرار دی گئی جس میں میرے جیسے ایک غیر فنی شخص کو کلام ہے دوسرا حادثہ سیدھا سادا دہشت گردی کا تھا۔ دونوں حادثے پاکستان کے مقامی تھے مگر اپنے دوررس اثرات کی وجہ سے عالمی سطح کے۔ فضائی حادثے میں ہمارے مہمان سفارت کار جان سے گئے۔

انتہائی معزز مہمانوں کا اپنے ہاں کسی ایسے حادثے میں انتقال ایک ناقابل برداشت قومی نقصان تھا۔ خبر سن کر پاکستانیوں کے ہاتھ پاؤں شل ہو گئے اگر ہمارے یہ مہمان زندگی میں واپس آ سکتے ہیں تو ہم پاکستانی اس کے عوض نہ جانے کتنی جانیں قربان کرنے پر تیار تھے لیکن قدرت کو ہماری بے بسی ہی منظور تھی اور ہماری دنیا بھر میں یہ شرمندگی کہ ہم اپنے مہمانوں کی حفاظت نہ کر سکے۔

مجھے شبہ ہے کہ ہمارے طیارے کی خرابی شاید قدرتی نہیں تھی اس میں سوچی سمجھی کوئی سازش تھی اور جب ہمارا دشمن دن رات ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے تو ایسی گہری سازش کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے دو ہوا باز ہمارے دو فضائی ہیرو بھی اس حادثے میں کام آ گئے۔ وہ مہمانوں کو بچاتے ہوئے اپنی جان سے گزر گئے۔

یہ ایک پاکستانی روایت تھی کہ کسی مہمان کی زندگی اپنی زندگی سے کتنی عزیز ہوتی ہے۔ بہرکیف ہم مہمان نوازی پر قربان ہو گئے اور اپنی قوم کی میزبانی پر حرف نہ آنے دیا۔ اب دیکھیں گے کہ اس عالمی حادثے کا سبب کیا تھا وہی جو فوری طور پر ہماری سمجھ میں آیا یا کچھ اور بہرکیف دنیا اس میں ہماری کسی کوتاہی کی نشاندہی نہیں کر سکتی لیکن ہم اپنے ہر دم تیار دشمن کا ہاتھ تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہمارا دشمن کچھ بھی کر سکتا ہے۔

دوسرا حادثہ بھی انتہائی درد ناک تھا۔ ہماری ایک نہایت ہی پرامن برادری جو ہمیشہ اپنے کاروبار اور پاکستانی قوم کی فلاح کے کاموں میں مصروف رہتی ہے۔ یہ اسماعیلی برادری کے لوگ تھے جو ایک بس میں اپنے جماعت خانے جا رہے تھے کہ راستے میں دہشت گرد ان کی بس میں گھس گئے اور ان کی ایک بڑی تعداد کو بس کے اندر ہی شہید کر دیا۔ یہ لوگ ایک پاکستانی عالمی برادری کے افراد تھے۔

ان کے رہنما اعلیٰ حضرت پرنس آغا خان کے دل پر کیا گزری ہو گی اس کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ان کے شفا خانے اور اعلیٰ معیار کی درسگاہیں موجود ہیں جن سے ہر سال ہزاروں پاکستانی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ایک بار میری ان سے ملاقات ہو گئی۔

میں میاں نواز شریف وزیر اعظم کے وفد میں پیرس گیا۔ جہاں سرکاری کھانے میں اتفاق سے میری نشست جناب آغا خان کے ساتھ تھی۔ میں نے بطور صحافی تعارف کرایا تو ہز ہائی نیس پرنس نے پاکستان کے بارے میں بڑے جذباتی انداز میں گفتگو شروع کر دی اس دوران وہ میری پلیٹ میں کھانا بھی ڈال دیتے چونکہ ان کا مستقل خاندانی قیام پیرس میں تھا یعنی ان کے خاندان کا بھی اس لیے وہ اپنے آپ کو میرا میزبان سمجھنے لگے۔

یہ کھانا یادگار رہے گا۔ اس میں انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ اب کے میں جب پاکستان جاؤں تو وہاں ان سے ملنے آؤں۔ پھر ایک عجیب اتفاق ہوا کہ میں قاہرہ گیا تو اپنے سفیر سے ملاقات کے لیے سفارت خانے بھی گیا۔ محترم جناب سید احمد سعید کرمانی ہمارے سفیر تھے جو لاہور میں میرے مستقل ملنے والے مہربانوں میں سے تھے۔ انھوں نے سفارت خانے کے شعبہ اطلاعات والوں کو بلایا کہ ہمارے یہاں پاکستان سے لمبا چکر کاٹ کر کون آتا ہے اب یہ آ گئے ہیں تو ان کی خوب خاطر مدارات کریں اور مجھے خود اپنے ہاں قیام کا کہا۔

وہ ایک محل میں مقیم تھے جو دریائے نیل کے کنارے جناب سر آغا خان نے تعمیر کرایا تھا اور اب یہ محل پاکستان کے پاس ان کا عطیہ تھا۔ اس محل اور دریائے نیل کے درمیان صدر ناصر کی حکومت نے ایک سڑک بنوا دی تھی جو دریا اور اس محل کے درمیان فاصلہ بن گئی اور یہ محل دریا سے دور ہو گیا لیکن اس کی عمارت سے دریا صاف دکھائی دیتا تھا۔

دیواروں پر نقش و نگار تھے جن کو اجلا کرنے کی ضرورت پڑی تو اسلام آباد کے دفتر خارجہ سے رابطہ ہوا۔ کئی بار یاد دہانی کے باوجود جب ضروری رقم نہ ملی تو پھر مجبوراً ان دیواروں پر سفیدی کرا دی گئی اور یوں ان کا حسن ختم ہو گیا جو سر آغا خان کے شاہی شوق اور ذوق کی علامت تھا۔

جناب آغا خان کا ذکر ان کے پیرو کاروں پر پڑنے والی تازہ مصیبت کے ذکر سے تازہ ہوا۔ افسوس کہ ہم اپنے ان مخلص اور انتہائی پرامن پاکستانیوں کو نہ بچا سکے۔ یوں لگتا ہے ہم ملک کی سلامتی اور پاکستانیوں کی زندگیوں کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں اور دہشت گردی ایک معمول بن چکی ہے اب تو کھل کر خبریں آ رہی ہیں کہ بھارت کے ادارے ’را‘ نے پاکستان کی تباہی کا منصوبہ بنا لیا ہے اس کے لیے مخصوص رقم کا ذکر بھی ہو رہا ہے اور حکومت پاکستان بھی پہلی بار ’را‘ کی شکایت کر رہی ہے حالانکہ یہ جاسوسی ادارہ اس ملک کا ہے جو ہمارا اور ہماری قوم کا اس قدر پسندیدہ ملک ہے کہ پاکستانی قوم نے ہمارے آج کے حکمرانوں کو اتنی بھاری تعداد میں ووٹ بھی اس ملک سے دوستی کرنے کے لیے دیے تھے۔

ہمارے اور بھارت کے درمیان چونکہ دشمنی شروع دن سے چل رہی ہے جنگیں بھی ہو چکی ہیں اور کشمیر کا مسئلہ بھی زندہ ہے اس لیے بھارت کے ساتھ دوستی کی برملا جرات کوئی بڑا لیڈر ہی کر سکتا ہے چنانچہ جب گزشتہ الیکشن میں جس کے صدقے میاں صاحبان اقتدار میں آئے قوم نے ووٹ اس لیے دیے کہ بھارت کے ساتھ پرانی دشمنی ختم کر کے دوستی کا آغاز کیا جائے اور یہ انکشاف میاں صاحب نے خود الیکشن کے فوراً بعد کیا تھا تو بڑے ہی پرانے اور کربناک قسم کے تنازعے بھی حل ہونے لگے یا کمزور پڑ گئے۔

خود میاں صاحب اپنے ایک کاروباری صاحبزادے کے ہمراہ بھارت کے بڑوں سے ملے اس طرح عملاً حالات کا رخ بدلتا دکھائی دیا لیکن بھارت وہیں تھا جہاں وہ پاکستانی الیکشن سے پہلے تھا کیونکہ ہم نے بھارت ماتا کا ایک ٹکڑا اس سے چھین کر اس پر پاکستان بنا لیا تھا چنانچہ آج بھی پاکستان میں کوئی بڑی واردات ہوتی ہے تو اب پاکستان سرکاری اور رسمی طور پر بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا نام لیتا ہے اور اس پر براہ راست الزام لگاتا ہے۔

یوں وہ جھجھک اب دور ہوتی جا رہی ہے جو بھارت پر کوئی الزام لگاتے وقت محسوس ہوتی تھی بلکہ زبان روک لیتی تھی۔ پاکستانی اب کچھ سکون میں ہیں کہ وہ اپنے دشمن کے خلاف دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں خصوصاً ہم اخباری لوگ جو بھارت کا ذکر اب اپنی مرضی کے الفاظ میں کر سکتے ہیں یعنی بڑی حد تک ہم بھی اپنے قلم کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ میں تعجب کے ساتھ حکومت پاکستان کی بدلتی ہوئی زبان اور لہجہ محسوس کرتا ہوں اور اپنے آپ کو اکیلا نہیں سمجھتا۔ اب ہمارے حکمران بھی پاکستانی عوام یعنی اپنے ووٹروں کی اصل زبان سننے سمجھنے لگے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

بھارت کے ساتھ جنگ و جدل کون چاہتا ہے وہ تو بھارت ہمیں مجبور کرتا رہا اور ہم کمزور ہونے کے باوجود میدان میں اترتے رہے اب تو حالات بہت زیادہ بدل گئے ہیں اور کس کی جرات ہے کہ ہمیں ڈرا دھمکا سکے بس صرف دہشت گردی اور خفیہ حرکتیں ہو سکتی ہیں جو حکومت کا رویہ یہی رہا تو یہ سب خود بخود درست ہو جائے گا اور اندر سے بھارت نکل آئے گا جس پر بقول اندرا گاندھی مسلمانوں نے ایک ہزار برس تک حکومت کی اور جس کا کچھ بدلہ سقوط ڈھاکا کی صورت میں بھارت نے لے لیا۔ بہر کیف حالات کی تبدیلی ہم پاکستانیوں کے لیے قابل اطمینان ہے۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.