.

دو نریندر مودی اور دو ہندوستان

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صرف پاکستان میں ہی نہیں امریکہ میں بھی ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کی چین یاترا کے اصل مقاصد پر سرگرم بحث ہو رہی ہے۔ کچھ نادان عناصر میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مودی صاحب چین کی پاکستان کے ساتھ دوستی کے جلاپے کے تحت چین گئے ہیں اور نیویارک نے اپنے ایک تازہ شمارہ میں بتایا ہے کہ ایشیا کے یہ دونوں بڑے ممالک (چین اور ہندوستان) اپنی معیشتوں کی کامیابی کی شہرت کے باوجود بہت سی مشکلات کے دور سے گزر رہے ہیں اور باہمی تجارت کے ذریعے ان مشکلات پر قابو پانے کی خواہش رکھتے ہیں مگر چین کے دورے پر روانہ ہونے سے پہلے بھارتی وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے اقتصادی کاریڈور کے منصوبے کے خلاف احتجاج کرنا ضروری سمجھا جو پاکستان کے ہندوستانی قبضے سے واگزار کرائے گئے (آزاد کشمیر) میں سے گزرتا ہے جس کشمیر کو ہندوستان اپنا ’’اٹوٹ انگ‘‘ قرار دیتا ہے لیکن چین کے دورے پر روانہ ہونے سے چند دن پہلے نریندر مودی چین کی سرحد پر واقعہ ہندوستانی صوبے ارونا چل پردیش کے دورے پر بھی گئے جس کو چین کے حکمران بھی اپنا ’’اٹوٹ انگ‘‘ قرار دیتے ہیں یہ حقائق باہمی تجارت کے منصوبے کو کامیاب بنانے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

بائیں بازو کے تجزیہ کاروں نے بھی بعض عالمی رپورٹوں کے حوالےسے بتایا ہے کہ چین کی اقتصادی ترقی کی رفتار منفی اثرات کی زد میں ہے۔ سال 2014ء کے دوران 1990 کے بعد کے عرصہ میں اقتصادی ترقی کی رفتار سب سے زیادہ نیچے رہی جس کی تصدیق فنانشل ٹائمز کے علاوہ آئی ایم ایف نے بھی کی ہے۔ چین کے 31 صوبوں میں سے 30 صوبے اقتصادی اہداف پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں صرف ایک صوبہ تبت جو کہ سب سے چھوٹا صوبہ ہے اپنا ہدف پورا کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ ان حالات میں چین بیرونی دنیا کے ساتھ مشترک اقتصادی منصوبے شروع کرنے کے لئے متحرک ہوا ہے۔ پاکستان کے ساتھ دوستی کے جذبات کے تحت منصوبے بنا رہا ہے تو ہندوستان کے ساتھ باہمی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اختلافات کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہا مگر ہندوستان کے ساتھ باہمی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اختلافات کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہا مگر ہندوستان کے وزیراعظم کے نظریات اور مفادات کے حوالے سے ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے بتایا ہے کہ عوامی چین کے دورے پر ہندوستان کے دو وزرائے اعظم یا دو نریندر مودی روانہ ہوئے ہیں۔ ایک تاجر نریندر مودی اور دوسرے ہندوستان کے چیف سکیورٹی آفیسر نریندر مودی۔ تاجر نریندر مودی چین سے سودے بازی کریں گے اور چیف سکیورٹی آفیسر چین کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ انہیں چین کی پھیلتی ہوئی طاقت سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

تجزیہ نگاروں کو اگر ایک نریندہ مودی کی جگہ دو نریندر مودی دکھائی دے سکتے ہیں تو وہ دو ہندوستانوں کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ایک ہندوستان جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے تو دوسرا ہندوستان جو دنیا کی سب سے بڑی غربت اور اتنی ہی بڑی کرپشن بھی ہے۔ ایک ہندوستان جو ایک سیکولر ملک سے انتہاء پسند ہندوئوں کا ملک بن رہا ہے اور دوسرا ہندوستان جو ایشیا کی سپر پاور بننے کا شوق رکھتا ہے۔ ایک ہندوستان جو چین کے ساتھ تجارت کے ذریعے اقتصادی ترقی چاہتا ہے اور دوسرا ہندوستان جو امریکی مدد سے چین کے خلاف نبرد آزما ہونے کا تاثر دے رہا ہے۔

بریسلز انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ جوناتھن ہولڈ لیگ کا کہنا ہے کہ ایک آزمائش کا عرصہ آ چکا ہے جس میں ہندوستانی حکمران یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ ان کا چین کےساتھ اقتصادی اور معاشی تعاون کہاں تک جا سکتا ہے۔ مگر یہ بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ اس تعاون میں ناکامی سے زیادہ خطرناک بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ تعاون میں کامیابی سے ضروری نہیں کہ چین اور ہندوستان دونوں کو فائدہ پہنچے مگر تعاون میں ناکامی دونوں ملکوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گی۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.