.

یمن میں حوثیوں کی بغاوت کا تاریخی پس منظر!

اسرار بخاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس، مصر اور لیبیا کے بعد ”عرب بہار“ نے جب یمن میں کام دکھایا اور علی عبداللہ صالح کی فوج مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کے باوجود قابو نہ پا سکی تو امریکہ اور مغربی ممالک کو خدشہ لاحق ہوا اس صورتحال سے القاعدہ نہ فائدہ اٹھا لے چنانچہ ایک مشترکہ حکومت قائم کی گئی جس کا صدر شافعی مسلک کے منصور ہادی اور اخوان المسلمین کی یمنی شاخ ”جماعت الاصلاح“ کے سلیم باسندوا وزیراعظم بن گئے‘ لیکن کیونکہ مقصد القاعدہ کے دائرہ عمل کو محدود کرنا تھا‘ متحدہ حکومت کو مستحکم کرنا نہیں تھا کیونکہ نئی حکومت میں اخوان المسلمین کی بھی شاخ کو بھی نمائندگی دی گئی تھی اس لئے امریکہ نے حالات خراب کرنے کے لئے نئی حکومت کو ہر قسم کی امداد سے محروم کر دیا۔

ادھر اس صورتحال سے پریشان ہوکر بجائے اس کے کہ حکومت کو مستحکم بنانے کیلئے اقدامات کئے جاتے اور اندرونی اتحاد کے ذریعہ امریکہ کی پیدا کردہ پریشان کن صورتحال کا مقابلہ کیا جاتا۔ علی عبداللہ صالح نے دوبارہ اقتدار کی ہوس میں یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد یمن پر پھر سنیوں کا قبضہ ہو گیا ہے۔ اس نعرے نے اثر دکھایا اور شیعہ اکثریتی علاقوں میں شیعہ اقتدار کے نعرے شروع ہو گئے چنانچہ علی عبداللہ صالح کے حامی فوجیوں، عبدالمالک حوثی کی انصار اللہ نے ایرانی عسکری ماہرین کی رہنمائی میں پیش قدمی کی سنیوں کے ساتھ ساتھ ز یدی شیعہ قبیلے الاحمر کے جنرل علی محسن الاحمر نے چھ مختلف مقامات پر حوثیوں کی مزاحمت کی تاہم علی عبداللہ صالح کے حامی سرکاری عہدیداروں نے ساتھ دیا اور حوثی کسی مزاحمت کے بغیر صنعا پر قابض ہو گئے۔

وزیراعظم سلیم باسندوا کو برطرف کر دیا گیا اور جماعت الاصلاح کی قیادت اور کارکنوں کو چن چن کر قتل کیا گیا۔ وزارت دفاع، داخلہ اور اہم فوجی مراکز پر قبضہ مستحکم کرنے کے بعد حوثیوں نے صدر منصور ہادی کو برطرف کر دیا اور وہ سعودی عرب میں پناہ گزین ہوگئے اور ساتھ ہی صنعا اور تہران کے مابین براہ راست پروازوں کا معاہدہ کر لیا۔اب یہ راز نہیں رہا کہ یمن کے خراب حالات میں امریکہ پوری طرح ملوث ہے۔ اس نے یہ دراصل خطے میں مسلمانوں کو مسلک کی بنیاد پر لڑانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے جہاں حوثیوں کے صنعا پر قبضہ کیلئے ایران کو خاموش تھپکی دی گئی۔ وہاں سی آئی اے کے ذریعے علی عبداللہ صالح کو استعمال کیا۔ علی عبداللہ صالح اگرچہ زیدی شیعہ ہیں مگر اپنے اقتدار کیلئے انہوں نے زیدی شیعوں کے مقابلے میں حوثیوں کی زیادہ حوصلہ افزائی کی اور بڑی تعداد میں یمنی فوج میں شامل کیا۔

چنانچہ علی عبداللہ صالح کی جس وفادار فوج نے حوثیوں کی صنعا پر قبضہ میں مدد کی یہ دراصل علی عبداللہ صالح کے تیس سالہ دور اقتدار میں فوج میں شمولیت اختیار کرنے والے حوثی ہی ہیں۔ اسی سرکاری فوج نے بڑی تعداد میں حوثیوں کو اسلحہ فراہم کیا۔ سعودی عرب کی بحریہ نے سمندر میں ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ ایران کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اس کے جہازوں کو راستے میں رکاوٹ ڈالی گئی تو پورے خلیج میں آگ لگا دی جائے گی۔ مسلمانوں کی قوت کو منتشر کرنے کیلئے مسلک کا خطرناک ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ ہتھیار شام‘ عراق‘ لبنان اور بحرین میں تباہ کن صورتحال پیدا کر چکا ہے اور اب یمن میں اپنا رنگ دکھا رہا ہے‘ لیکن بدقسمتی سے اس کا ادراک نہیں کیا جا رہا۔

امریکہ نے سوویت یونین کو تڑوانے کیلئے پہلے سلفی اور دیوبندی مسلک کے مسلمانوں کو استعمال کیا‘ اب مشرق وسطیٰ میں اپنے مقاصد کیلئے ایران اور یمن کے شیعوں کو استعمال کر رہا ہے۔ ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خصوصی ایلچی علی شیرازی کافارسی نیوز ویب پورٹل پر انٹرویو موجود ہے کہ ”انصار اللہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی ایک شکل ہے جو یمن میں کامیابی کے بعد ایک نیا محاذ شروع کرے گی۔ ادھر حوثیوں نے سعودی عرب کے ملحقہ تین صوبوں نجران، عسیر اور جازان کو یمن کی سابق شیعہ سلطنت کا حصہ قرار دیکر دوبارہ قبضے کے دعوے شروع کر دیئے۔ اس صورتحال کی روشنی میں سعودی عرب میں اس اضطراب نے جنم لیا اور اس نے صدر منصور ہادی کی اپیل پر سعودی عرب کے حوثیوں پر فضائی حملے کا پس منظر آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.