.

سانحہ 13مئی:راہداری منصوبہ سبوتاژ کرنےکی کوشش

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

13 مئی 2015ء کا سانحہ کراچی ایک طرف عالمی سازشوں کا شاخسانہ قرار دیا جاسکتا ہے، جیسا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کیونکہ پاکستان میں معاشی کاریڈور بن رہا ہے جس نے پاکستان کی اسٹرٹیجک اہمیت کو بڑھایا ہے کہ وہ اِس قابل ہوگیا ہے کہ وہ اپنی آزاد پالیسی وضع کرسکے، میں نے اپنے 4 مئی 2015ء کے کالم میں لکھا تھا کہ پاکستان اپنا اسٹرٹیجک کمپاس بنا چکا ہے کہ اُس کو کس رُخ پر جانا ہے کیسی خارجہ پالیسی وضع کرنی ہے۔ دوسرے پاکستان کی معیشت راتوں رات بدل گئی ہے وہ خراب سے بہتر حالت میں آگئی ہے۔ اِس کی دفاعی طاقت بھی بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے کئی ممالک خوفزدہ ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی عدم توازن قریب قریب ختم ہوگیا ہے، پاکستان نیلگوں پانی کی بحریہ بنانے کی طرف پیش قدمی شروع کرچکا ہے۔ ہم غیرمتحرک جنگ کے معاملے میں کاوش کررہے ہیں۔ پاکستان دہشت گردوں کے تعاقب میں ہے اس لئے کہ ایک تو بیرونی خطرات سے زیادہ اندرونی خطرات ہیں جو کہ عالمی طاقتوں اور پڑوسی ملکوں کی بارودی سرنگیں زیرزمیں دبائے رکھنے کی وجہ سے ہیں اور دوسرا خطرہ مصنوعی قدرتی آفات سے ہے جیسا کہ اس وقت نیپال اِن حالات سے گزر رہا ہے کیونکہ اس کے صدر نے 28 اپریل 2015ء کو چین کے صوبے حنین میں چینی صدر سے شاہراہ ریشم بنانے اور تبت سے ہمالیہ پہاڑ کے نیچے سے 540 کلومیٹر کی سرنگ نکال کر کھٹمنڈو سے ملانے کا معاہدہ کیا تھا۔ پاکستان اِس سے 2005ء اور 2010ء میں گزر چکا ہے جبکہ اُس کو زلزلہ اور سیلاب کے نقصانات سے دوچار ہونا پڑا تھا اور پھر 11 مارچ 2011ء کو جاپان میں سونامی آیا تھا کیونکہ جاپان اور چین پیٹرو ڈالر کے نظام کو بدلنا چاہتے تھے۔

جس وقت 2013ء میں میاں نواز شریف نے گیم چینجر کی اصطلاح استعمال کی تھی، سیاسیات اور عالمی تعلقات کے طالب علم کی حیثیت سے میرے ذہن میں خطرے کی گھنٹی بجی تھی اور میں نے 15 جولائی 2013ء کو ’’Game Changer خدا خیر کرے‘‘ کے عنوان سے کالم لکھ کر اس سے پیدا ہونے والے خطرات اور اُس کی پیش بندی کی طرف توجہ دلائی تھی مگر پاکستانی حکومت اور ادارے اس کی مناسب تیاری نہیں کرسکے تو ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں جیسا کہ 13 مئی 2015ء کو کراچی میں ہوا جہاں اسماعیلی جماعت کی بس پر حملہ کرکے 45 افراد کو شہید کیا گیا ہے، اسماعیلی جماعت کے تاجروں اور صنعت کاروں کو خود قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان مدعو کیا تھا، جنہوں نے آکر پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا اور پاکستان کو ایک صنعتی ملک بنایا پھر ان کی صنعتوں کو قومیا کر پاکستان کی معیشت پر کاری ضرب لگائی گئی۔ اب اس سانحے کا مقصد یہ ہے کہ اِن کو بددل کیا جائے مگر یہ اُن کا ملک ہے اور پاکستان کی بنیاد ڈالنے میں اسماعیلی جماعت کے سربراہ آغا خان کی بڑی خدمات ہیں۔

امریکہ، بھارت کے ساتھ کئی ملکوں کی آنکھوں میں پاک چین دوستی اور معاشی کاریڈور کھٹک رہا ہے، پاکستان اور چین کے درمیان انرجی سیکٹر میں جو معاہدے ہوئے اس سے پاکستان روشن ہوجائے گا اور پاکستان کی صنعتوں کا پہیہ چل پڑے گا۔ ساری دُنیا پاکستان کے شاندار مستقبل کی پیش گوئیاں کررہی ہے۔ دُنیا بھر کے نامور دانشور چین کے صدر کے دورہ پاکستان کو پاکستان اور چین کے تعلقات دونوں کی جیت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایک کو راہداری کی ضرورت تھی وہ اِس کو مل گئی اور دوسرے کو وہ کچھ مل گیا جس کی اِس کو ضرورت ہے۔ اس طرح اِس دورے کو پاکستان کے لئے قطب تارہ کے طور پر تسلیم کررہے ہیں مگر امریکہ پاکستان کے انرجی کے معاہدات پر اندرونی طور پر انتشار برپا کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد خود میدانِ عمل میں آگیا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان ایٹمی بجلی گھروں کے جو معاہدے ہوئے ہیں وہ عالمی قوانین سے متصادم ہیں۔

اُن کے کئی کارندوں نے پہلے کئی طرح سے روڑے اٹکانے کی کوشش کی۔ کہیں مذاکرہ، کہیں تقاریر تو کہیں اِدھر اُدھر اور کئی انٹرنیٹ پر پول ہر جگہ سے جب ناکامی ہوئی تو امریکہ اپنی توپ کے ساتھ باہر نکل آیا ہے مگر پاکستانیوں کا یہ عزم ہے کہ وہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ہٹادیں گے۔ اِس کے ساتھ کئی ممالک پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں،کوئی شیعہ ہو یا سُنّی وہ پہلے پاکستانی ہے، اُن کے بزرگوں نے مل کر یہ ملک بنایا تھا اور اغیار اس ملک کی ترقی کی راہ میں خون کی لکیر کھینچنا چاہتے ہیں۔ مگر اسماعیلی جماعت کے غریب لوگوں کو شہید کرکے انہوں نے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی، میرے خیال میں تو وہ بُری طرح ناکام ہوئے ہیں اور پاکستانی انتہائی پُرعزم ہوکر ان کے خلاف جت گئے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ نے یہ کہا کہ یہ وقت ٹوٹنے کا نہیں جڑنے کا ہے۔ ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں، ہم جڑے ہیں اور جس محبت اور خلوص اور غم و غصہ کا اظہار ساری قوم نے اس سانحہ پر کیا ہے اِس کی مثال نہیں ملتی۔

چیف آف آرمی اسٹاف اپنا سری لنکا کا دورہ ملتوی کر کے سرعت کے ساتھ کراچی پہنچے اور اِس کے بعد میاں محمد نواز شریف بمعہ اپنے وزرا کے کراچی کے دورے پر آئے اور پورا میڈیا آغا خان اسپتال کے باہر جمع ہوگیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ پورا پاکستان ان سے یکجہتی کا مظاہرہ کررہا ہے، دوسرے آرمی چیف، وزیراعظم اور گورنر سندھ نے آغا خان سے تعزیت کی، آغا خان کا بیان کہ ایک پُرامن برادری پر حملہ سمجھ میں نہیں آتا بالکل درست ہے۔ سمجھ میں یہی آتا ہے جو میاں نواز شریف نے کہا کہ یہ پاک چین معاشی راہداری کے معاہدہ کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، اِس کے علاوہ چیف آف دی آرمی اسٹاف نے کہا کہ دہشت گردوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ ہماری اُن سے گزارش ہے کہ پاکستان کے اداروں کی استطاعت کو مزید بڑھایا جائے اور جہاں مسلح تنظیموں اور لسانیت، فرقہ واریت اور دیگر طریقوں سے جو بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں، اُن کو بے اثر کیا جائے، مزید برآں یہ بات وہ خود سمجھ سکتے ہیں کہ اُن کے دورئہ سری لنکا کی کیا اہمیت تھی، کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ان کے دورئہ سری لنکا کو روکنے کے لئے یہ کارروائی کی گئی ہو کیونکہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے، میاں محمد نواز شریف کا دورئہ جاپان ایک خاندان کو لاہور میں قتل کرنے کے بعد رکوایا گیا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم کا دورہ امریکی صدر کے دورئہ جاپان سے پہلے نہ ہو۔

پھر سندھ کے ایک وزیراعلیٰ نے میانی کے جنگل میں سو کلاشنکوف بمعہ ہزاروں کی تعداد میں بلیٹس اور ہزاروں ڈالرز کے ساتھ ایک کھیپ پکڑی تھی، اس سے یہ اندازہ ہورہا تھا کہ پاکستان میں کوئی سازش پنپ رہی ہے اور ایک چیف آف آرمی اسٹاف کو دورئہ چین اس وجہ سے ملتوی کرنا پڑا تھا، یہ بات مجھے اس وقت کے کورکمانڈر کراچی نے بتائی تھی ۔ اسی طرح عین ممکن ہے کہ پاکستان کے بہادر چیف آف دی آرمی اسٹاف کا دورئہ سری لنکا ملتوی کرانا مقصود ہو، جو بھی صورتِ حال ہو اس کا فیصلہ تو حکومت کو کرنا ہے۔ تاہم پاکستان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اتنی استطاعت حاصل کرسکے کہ وہ اِن دہشت گردوں کے ذہن کو پہلے سے پڑھنے کی صلاحیت حاصل کرے۔

ہمارے ملک کے دشمن اپنے ناپاک مقاصد کے حصول کےلئے ایسی کارروائی کرتے ہیں۔ یہ حکومت کا کام ہے کہ عوام کے ساتھ مل کر اِن کو ناکام بنائے اور دشمن سے بہتر صلاحیت حاصل کرے۔ اس مقصد میں ہم ضرور کامیاب ہوں گے چاہے نقصان زیادہ ہو یا کم۔ مگر بہتر یہ ہی ہوگا کہ ہم کم نقصان اٹھا کر اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہوجائیں۔

---------------------

بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.