.

عالمی زبان جھوٹی نہیں ہوسکتی

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیسویں صدی اپنے نصف کو چھورہی تھی اور دونوں عالمی جنگیں ختم ہوچکی تھیں،لیکن ابھی اِن جنگوں کے محض اثرات ہی باقی نہ تھے بلکہ بہت سی وجوہات بھی باقی تھیں جو چنگاری بن کر امنِ عالم کی راکھ میں چھپی بیٹھی تھیں، یہ ان چنگاریوں کے کسی بھی وقت بھڑک اٹھنے کا خدشہ ہی تھا، جس نے دو عالمی جنگوں میں بارہ کروڑ لاشیں بھنبھوڑ ڈالنے والے ’’گدھ‘‘میں سوئے انسان کوکسی حد تک بیدار کردیا تھا، یہی وجہ ہے کہ اقوام عالم نے شدت سے محسوس کرنا شروع کردیا کہ ’’چونکہ ہر انسان کی ذاتی عزت اور حرمت اور انسانوں کے مساوی اور ناقابلِ انتقال حقوق کو تسلیم کرنا دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے، چونکہ انسانی حقوق سے لاپروائی اور ان کی بے حرمتی اکثر ایسے وحشیانہ افعال کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے جن سے انسانیت کے ضمیر کو سخت صدمے پہنچے ہیں اور عام انسانوں کی بلندترین آرزو یہ رہی ہے کہ ایسی دنیا وجود میں آئے جس میں تمام انسانوں کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی حاصل ہو اور خوف اور احتیاج سے محفوظ رہیں،،، چونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ انسانی حقوق کو قانون کی عملداری کے ذریعے محفوظ رکھا جائے،،، چونکہ اقوام عالم نے بنیادی انسانی حقوق، انسانی شخصیت کی حرمت اور قدر اور مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق کے بارے میں اپنے عقیدے کی دوبارہ تصدیق کردی ہے ،،، چونکہ اقوام عالم رضامند ہیں کہ وہ ساری دنیا میں اصولاً اور عملاً انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا زیادہ سے زیادہ احترام کریں گے اور کرائیں گے،،، اور چونکہ اس عہد کی تکمیل کے لیے بہت ہی اہم ہے کہ ان حقوق اور آزادیوں کی نوعیت کو سب سمجھ سکیں‘‘۔

اقوام عالم کے دماغوں میں پلنے والے یہ تمام ’’چونکہ‘‘ بہت اہم تھے، اس کا حل 10 دسمبر 1948ء کے یخ بستہ دن پیرس میں ایک قرارداد کے ذریعے سامنے آیا۔ یہ قرارداد اُس منشور کی منظوری تھی جو بعد میں اقوام متحدہ کا ’’انسانی حقوق کا عالمی منشور‘‘ کہلایا۔ اس قرارداد میںانسانی حقوق اور انسانی آزادیوں سے متعلق 30 شقیں شامل کی گئی، یہ تمام شقیں بین الاقوامی معاہدوں، علاقائی انسانی حقوق کے آلات، قومی دستوروں اور عالمی قوانین سے اخذ کی گئی تھیں۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی بل کا سب سے اہم ترین اور لازمی حصہ بھی یہی ’’ انسانی حقوق کا آفاقی منشور‘‘ ہے، جبکہ دوسرے دو حصوں یعنی عالمی معاہدہ برائے معیشت، سماج اور ثقافت اور عالمی معاہدہ برائے عوامی و سیاسی حقوق کو اختیاری قرار دیا گیا، لیکن 1966ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اتفاق رائے سے انسانی حقوق کے عالمی بل کے موخر الذکر دونوں معاہدوں کو بھی منظور کر لیا، جس کے بعد سے اب تک اس بل کو انسانی حقوق سے متعلق ایک مکمل دستاویز قرار دیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کے اس بل میں دنیا بھر میں پہلی بار ان تمام انسانی حقوق بارے اتفاق رائے پیدا کیا گیا جو کہ ہر انسان کا بنیادی حق ہیں اور بلا امتیاز ہر انسان کو فراہم کیے جانے چاہئیں۔ انسانی حقوق کاعالمی منشور تمام اقوام کے واسطے حصولِ مقصد کا مشترک معیار قرار دیا گیا۔انسانی حقوق کے اس منشور کا ایک ایک لفظ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ’’ اگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ انسان عاجز آکر جبر اور استبداد کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور ہوں، تو ہمیں ہر فرد اور معاشرے کے حقوق اور آزادیوں کا احترام پیدا کرنا ہوگا‘‘۔ اس منشور کی ابتدائی دفعات میں کہا گیا کہ ’’تمام انسان آزادی اور حقوق و عزت کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں،قدرت کی جانب سے انہیں ضمیر اور عقل و دیعت ہوئی ہے، اس لئے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے کا سلوک کرنا چاہیے اور یہ کہ ہر شخص ان تمام آزادیوں اور حقوق کا مستحق ہے جو اس اعلان میں بیان کیے گئے ہیں، اور اس حق پر نسل، رنگ، جنس، زبان، مذہب اور سیاسی تفریق کا یا کسی قسم کے عقیدے، قوم، معاشرے، دولت یا خاندانی حیثیت وغیرہ کا کوئی اثر نہ پڑے گا۔

اس کے علاوہ جس علاقے یا ملک سے جو شخص تعلق رکھتا ہے اس کی سیاسی کیفیت دائرہ اختیار یا بین الاقوامی حیثیت کی بنا پر اس سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ چاہے وہ ملک یا علاقہ آزاد ہو یا تولیتی ہو یا غیر مختار ہو یا سیاسی اقتدار کے لحاظ سے کسی دوسری بندش کا پابند ہو، اور یہ کہ ہر شخص کو اپنی جان، آزادی اور ذاتی تحفظ کا حق ہے۔اور یہ کہ کوئی شخص محض حاکم کی مرضی پر اپنی قومیت سے محروم نہیں کیا جائے گا اور اس کو قومیت تبدیل کرنے کا حق دینے سے انکار نہ کیا جائے گا‘‘۔ اس متفقہ، مشترکہ، مصدقہ اور مقدسہ دستاویز کی موجودگی کے باوجود دنیا کے مختلف خطوں میں انسانی حقوق کی پامالی اب بھی جاری ہے۔

مثال کے طور پر مقبوضہ کشمیر میں تو انسانی حقوق کی تاریخ اس سے بھی کہیں زیادہ پرانی ہے، جتنی یہ دستاویز پرانی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ 1948ء میں انسانی حقوق کے عالمی بل میں شامل بنیادی انسانی حقوق سے متعلق قرارداد منظوری کی گئی تو اُس وقت بھارت کشمیر کے ایک حصے پر قبضہ کر کے بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیرنے کا آغاز کر چکا تھا، لیکن اس سے بھی زیادہ حیرت کا مقام وہ تھا کہ جب اقوام متحدہ سے رجوع کرنے اور کشمیریوںکو استصواب رائے کا حق دینے پر آمادگی کے دو دہائی بعد بھارت نے کشمیریوں کے سیاسی حقوق کی مکمل نفی کرنا شروع کردی، حالانکہ ٹھیک اس وقت 1966ء میں اقوام متحدہ انسانی حقوق کے بل میں شامل ثقافتی اور سیاسی حصوں سے متعلق معاہدوں کی منظوری دے رہی تھی۔ لیکن آج سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے انسانی حقوق کی آواز اٹھانے والے کشمیریوں پر زندگی اجیرن بنارکھی ہے۔ کشمیریوں پر لرزہ خیز تشدد میں انسانیت چیخ رہی ہے اور ایک جانب اگر نوجوانوں، بوڑھوں اور بچوں کو زندگی سے محروم کرنے کا سلسلہ نہیں تھما تو دوسری جانب خواتین کی عصمت تار تار کرنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے خواہش مند اگر سری نگر میں پاکستانی پرچم لہرا دیں تو بھارت کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔

اب تو بھارت کی حواس باختگی کا یہ عالم ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کواہمیت دینے کی بجائے بھارت پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان میں کھلم کھلا دہشت گردی کو انگیخت دے رہا ہے اور حد تو یہ ہے کہ اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارتی نیتا کھلی دھمکی دے رہے ہیں کہ وہ بلوچستان کو پاکستان کے ساتھ نہیں رہنے دیں گے۔

قارئین کرام!! انسانی حقوق کے عالمی منشور کے اب تک دنیا بھر میں تقریباً 375 زبانوں اور لہجوں میں تراجم شائع کیے جا چکے ہیں ، جس کی بنیاد پر اس دستاویز کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ تراجم کی حامل دستاویز کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ان 375 زبانوں میں سے تین درجن زبانیں صرف بھارت میں بولی جانے والی زبانیں ہیں، جن میں ہندی، سنسکرت، گورمکھی، تامل، گجراتی، مراٹھی، بنگالی، راجستھانی، بہاری، ڈوگری، آسامی، بودھو، ملیالم، کونکانی، سنتالی، تیلگو، مانی پوری اور دیگر زبانیں بھی شامل ہیں۔اگر ابھی تک بھارت اپنے ملک میں بولی جانے والی ان تین درجن زبانوں میں بھی انسانی حقوق کے عالمی منشور کے تراجم نہیں پڑھ سکا تو پھر بھارت کو اقوام متحدہ کو یقینا بتانا چاہیے کہ اسے اس کی مرضی کی زبان میں ترجمہ کر کے دے دیا جائے۔ بھارت اس دستاویز کا اپنی مرضی کی بھی جس زبان میں چاہے ترجمہ کرالے، تو بھی دنیا کی کوئی زبان اُسے اِس عالمی منشور میں کشمیریوں کے حقوق غصب کرنے کا حق نہیں دے سکتی، کیونکہ یہ دستاویز محض انسانی حقوق کا منشور نہیں ہے، بلکہ ایک عالمی زبان ہے، یہ کل عالم کی زبان ہے اور کل عالم کی زبان جھوٹی نہیں ہوسکتی۔

---------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.