.

کیا مرسی ،بدیع اور شاطر کو پھانسی دے دی جائے گی؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں دونوں فریقوں نے تنازعے کو بڑھاوا دینے کا انتخاب کیا ہے۔اخوان المسلمون کے مصر سے راہ فرار اختیار کرکے بیرون ملک مقیم ہوجانے والے لیڈر مصری رجیم کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں۔وہ سیناء میں ہلاکتوں کا جواز پیش کررہے ہیں اور موجودہ مصری حکمرانی کو ڈرا دھمکا رہے ہیں۔ جہاں تک مصری پراسیکیوٹر کا تعلق ہے تو ان صاحب نے جیل میں قید اخوان المسلمون کے سینیر لیڈروں کے خلاف ایک مقدمہ قائم کیا تھا ،ان کے خلاف جاسوسی اور جیل سے فرار کے دو الزامات کے تحت فرد جرم عاید کی گئی اور ان دونوں جرائم کی سزا پھانسی ہوسکتی تھی۔

اب اس فیصلے کی مصر کے مفتی اعظم کی جانب سے توثیق کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔اس کے بعد عدالت حتمی فیصلہ سنائے گی لیکن یہ سوالات اپنی جگہ موجود ہیں کہ کیا ان سزاؤں پر عمل درآمد کیا جائے گا؟کیا برطرف صدر محمد مرسی کو پھانسی دے دی جائے گی؟ کیا وہ اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع اور جماعت کے ایک سرکردہ رہ نما خیرت الشاطر کو تختہ دار پر لٹکا دیں گے؟اور کیا اس جماعت کے کارکنوں کی بڑی تعداد اور سابق وزراء کو بھی پھانسی دے دی جائے گی؟

پھانسی کا پھندا

اخوان المسلمون کے قائدین اور کارکنان کی ممکنہ طور پر پھانسیوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔سید قطب کو بھی 1966ء میں اسی قسم کے الزامات میں پھانسی لگا دیا گیا تھا۔ان پر بھی مصر کے خلاف سازش کا الزام عاید کیا گیا تھا۔مصر کا موجودہ سیاسی ماحول بھی 1960ء کے عشرے ایسا ہی ہے۔اخوان المسلمون کے مجرم قراردیے گئے سرکردہ قائدین کو تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا اور ان کی پھانسی کی سزاؤں کی توثیق کے بعد مصالحت اور معافی کی اپیلوں کو مسترد کردیا جائے گا۔

مصر میں اس وقت کشیدگی اور عدم موافقت کا ماحول ہے۔مصری رجیم کو یہ یقین ہے کہ اخوان المسلمون نے ابھی تک ملک کے خلاف جنگ برپا کررکھی ہے اور بیرون ملک مقیم اخوان المسلمون کے لیڈر ایک اور سید قطب چاہتے ہیں تاکہ وہ اس کو اپنے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرسکیں۔

یہ بھی یقین کیا جاتا ہے کہ اخوان المسلمون کا بیرونی قوتوں کے ہاتھوں یرغمال بن جانے والے اپنے لیڈروں کے بیانات اور اعمال پر کوئی کنٹرول نہیں رہا ہے۔ان قوتوں کا مقصد مصر کے اندر تنازعے کے دائرہ کار کو بڑھانا ہے۔یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس پر اخوان المسلمون کے ایک عرب مسلم رکن کو یقین ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون نے جب مصر میں اقتدار سنبھالا تو وہ اپنی حقیقی قیادت سے محروم ہوگئی تھی۔پھر وہ صدارتی حکمرانی میں بھی ناکام رہی تھی اور جیلیں ان کا مقدر بنی تھیں۔

اب عدالتوں کے فیصلوں نے اخوان کے لیڈروں کو جھکڑ کر رکھ دیا ہے کیونکہ وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ ان کے ارد گرد کیا ہورہا ہے اور کیا ہوتا رہا ہے۔وہ ایک لڑائی میں شریک ہوگئے اور آسان ہدف بن گئے۔اس کارکن کے بہ قول اخوان کی کوئی قیادت نہیں رہی ہے اور اسی وجہ سے حکومتوں نے اس کو مصر کے مدمقابل حالت جنگ میں قرار دے دیا ہے۔اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میڈیا، سیاسی اور عسکری محاذوں پراس جماعت کا خوب استحصال کیا گیا ہے۔چنانچہ مصالحتی کوششوں یا نرم سزاؤں کا کوئی امکان ہی نہیں رہا تھا۔

کوئی بھی کسی بھی صورت میں سیناء یا قاہرہ میں خونریزی نہیں چاہتا ہے۔تاہم بظاہر یہ لگتا ہے کہ اگر صدر عبدالفتاح السیسی مداخلت نہیں کرتے ہیں تو صورت حال کا کنٹرول سے باہر ہوجانا ناگزیر ہے۔انھیں اخوان المسلمون کے قائدین اور ارکان کو معافی دے دینی چاہیے اور یہ ان کا آئینی حق بھی ہے۔
------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے خیالات سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.