.

اقتصادی راہداری کا تنازعہ

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ صدی کی آخری دہائیوں میں جب جرمنی کو تقسیم کرنے والی ’’دیوار برلن‘‘ بھی موجود ہوتی تھی اور پاکستان میں ’’پوربو پاکستان‘‘ بھی شامل تھا ایک گمنام علاقائی شاعر نے بہت سارے سخن شناسوں کو پسند آنے والا ایک شعر کہا تھا جو پیش گوئی ثابت ہوا کہ؎

دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن سے رستہ بنا لیا

سوچا جاسکتا ہے کہ موجودہ صدی کی پہلی دہائیوں تک سرمایہ داری نظام کے کمرشل ازم نے کیسا سماجی انقلاب برپا کیا کہ کچے مکانوں والے گھروں کی ’’پرائیویسی‘‘ بھی غارت گر ناموس معیشت بازار کے قبضے میں آگئی اور کچے مکان کی دیوار گرنے کا یہ حادثہ اگر آج کے کمرشل دور میں رونما ہوتا اور راستے بنانے سے کچھ مالی مفادات بھی وابستہ کئے گئے ہوتے تو کچے مکانوں کے تمام مالکان اس راستے کو پاکستان چین کی اقتصادی راہداری یا کاریڈور کی طرح اپنے گھروں کے صحنوں سے گزارنے کا مطالبہ کررہے ہوتے اورشائد اس مقصد کے لئے دھرنے دینے کا حربہ بھی آزما رہے ہوتے جیسے چند سال پہلے مرد مومن مرد حق اور محسن پاکستان کو یکساں کرنے والے ایک سینئر کالم نگار نے بتایا تھا کہ آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ سے پہلے تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے جذبہ جہاد سے مغلوب قبائلی گھرانوں کی مائیں نماز کے بعد دعائیں مانگا کرتی تھیں کہ ان کے گھر اور گھرانے کے افراد امریکی میزائلوں اور ڈرون حملوں کی زد میں آکر جنت واصل ہوں۔

چند روز پہلے ان کالموں میں یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا پاکستان چین کی اقتصادی راہداری کا خوش آئند منصوبہ ہمارے سیاسی عناصر کے باہمی اختلافات اور عدم تحفظ کے جذبات کی وجہ سے ایک دوسرا ’’کالا باغ ڈیم‘‘ نہ بن جائے۔ یہی بات کوئٹہ میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں اے این پی بلوچستان کے صدر اصغر اچکزئی نے بھی فرمائی ہے کہ یہ منصوبہ کالا باغ ڈیم کے منصوبے اور ون یونٹ کے پروگرام کی طرح ناکام بھی ہو سکتا ہے اور ناقابل عمل بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔مذکورہ بالا کل جماعتی کانفرنس کی میزبانی عوامی نیشنل پارٹی نے اور صدارت اسفند یار ولی نے فرمائی پیپلز پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی، مسلم لیگ ق، پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام سمیع گروپ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اے پی سی کے فیصلے اے این پی کے لیڈر میاں افتخار حسین نے پڑھ کر سنائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے اصل راستے کو تبدیل کیا جائے اور یہ بھی کہا گیا کہ زبردستی سے ٹھونسے گئے فیصلے پاکستان کی فیڈریشن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

کانفرنس میں چین اور پاکستان کے باہمی تعلقات کی خوشگوار اہمیت پر بھرپور انداز میں اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران فیصلوں کا خیرمقدم کیا گیا مگر تشویش ظاہر کی گئی کہ حکمران کاریڈور کے راستے کو متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں اجلاس میں کہا گیا کہ اگر کوئٹہ کو اس راہداری سے باہر رکھا گیا تو گوادر کاشغر راہداری قابل قبول نہیں ہوگی۔ یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان اور چین کے مابین 45 ارب ڈالروں کی سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے ہیں لیکن بلوچستان کا اس میں حصہ صرف دو ارب ڈالر رکھا گیا ہے جو سراسر بے انصافی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ اسفند یار ولی خاں نے کانفرنس میں کہا کہ اگر کسی معاہدے سے افغانوں اور بلوچوں کو فائدہ ہوگا تو وہ پورے پاکستان کا فائدہ ہوگا۔ اسفند یار ولی نے یہ بھی فرمایا کہ اقتصادی راہداری کے منصوبے پر عمل درآمد کے بعد گوادر کا اصل مالک کون سا ملک یا صوبہ ہوگا؟ اسفند یار ولی کی جس دلیل کے تحت افغانوں اور بلوچوں کا فائدہ پورے ملک کا فائدہ ہوسکتا ہے اس دلیل کے تحت گوادر، اسلام آباد پر خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ، گلگت بلتستان سے چین کی سرحد تک پھیلا ہوا فائدہ بھی پاکستان کا فائدہ ہوسکتا ہے اور یہ سوچنے یا سمجھنے کی کوئی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی کہ گوادر ایک مرتبہ پھر کسی بیٹی کے جہیز میں دے دیا جاسکتا ہے۔

----------------------

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.