.

برطانیہ کیسا عجیب وغریب ملک ہے؟

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جارج گیلوے برطانیہ میں انتہائی متنازع شخصیت متصور ہوتے ہیں مگر بیشتر پاکستانی انہیں ایک عظیم مجاہد، مسیحا اور چارہ گر سمجھتے ہیں جو مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جارج گیلوے نے یہودیوں اور اسرائیل کے خلاف ہمیشہ سے سخت موقف اختیار کیا۔ ہمیں تو ہٹلر جیسے ڈکٹیٹر سے اس لئے پیار ہے کہ اس نے یہودیوں کا قتل عام کیا تو یہودیوں کے خلاف ڈٹ جانے والے جارج گیلوے کو کیوں نہ چاہا جائے۔ مگر معذرت کے ساتھ مجھے یہ شخص ہمیشہ ایک سیاسی شعبدے باز محسوس ہوا جو متنازع بیانات دیکر اپنی سیاست چمکانا چاہتا ہے اور اسے محض لوگوں کی توجہ درکار ہے۔ اسے محسوس ہوا کہ بریڈ فورڈ ویسٹ کے حلقے میں پاکستانیوں کی اکثریت ہے اور یہ لوگ ایم کیو ایم کو پسند نہیں کرتے تو اس نے الطاف حسین کے خلاف بیان بازی شروع کر دی۔

مگر چار مرتبہ دارلعوام کا رُکن منتخب ہونے والے جارج گیلوے کو اس بار آزاد کشمیر کے علاقے چکسواری سے برطانیہ منتقل ہونے والی پاکستانی نژاد برطانوی خاتون ناز شاہ نے ہرا دیا۔ناز شاہ نے اپنی زندگی میں بیشمار مصائب و آلام دیکھے ایام طفولیت میں ہی اس کے باپ نے بے یارو مددگار چھوڑ دیا۔اپنے بچوں کو چھت فراہم کرنے کے لئے اس کی ماں نے ایک پاکستانی نژاد ٹھیکیدار کے آگے ہاتھ پھیلائے۔ رہنے کے لئے گھر تو مل گیا مگر اس شخص نے مبینہ طور پر ناز شاہ اور اس کی بہن پر بری نظر رکھنا شروع کر دی۔

اپنی بچیوں کو بچانے کےلئے ناز شاہ کی والدہ نے اس شخص کو قتل کر ڈالا اور اس جرم کی پاداش میں جیل چلی گئیں یہ وہ دور تھا جب ناز شاہ نے غربت و افلاس کو بہت قریب سے دیکھا۔ بہر حال اس مرتبہ لیبر پارٹی نے انہیں بریڈ فورڈ ویسٹ سے اپنا امیدوار نامزد کیا اور وہ ریسپیکٹ پارٹی کے جارج گیلوے کو شکست دیکر پارلیمنٹ میں پہنچ گئیں۔ برطانیہ کے حالیہ انتخابات میں ایک اور اپ سیٹ یہ ہوا کہ گلاسگو سینٹرل سے دارالعوام کی نشست پر لیبر پارٹی کے امیدوار انس سرور ہار گئے۔ انس سرور سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کے صاحبزادے ہیں۔ موصوف پاکستان میں اقتدار کے مزے لوٹنے آئے تھے، مگر اب نہ یہاں کے رہے نہ وہاں کے۔ ہو سکتا ہے وہاں بھی چوہدری سرور مینڈیٹ چرائے جانے کا الزام لگا دیں اور برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیکر بیٹھ جائیں۔ مگر ان کے فیصلہ کرنے سے پہلے ہی جارج گیلوے نے پہل کر دی ہے اور بریڈ فورڈ ویسٹ سے ناز شاہ کی جیت کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ پوسٹل بیلیٹنگ میں بڑے پیمانے پر بے ظابطگیاں ہوئی ہیں۔ ان کی طرف سے دائر پٹیشن میں یہ دعویٰ بھی کیا جائے گا کہ ناز شاہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1983ء کی شق 106 پر پورا نہیں اترتیں کیونکہ انہوں نے اپنے پس منظر کے بارے میں جھوٹ بولا ہے۔ ہوسکتا ہے لگے ہاتھوں چوہدری سرور بھی دھاندلی کے الزامات لگا دیں اور عمران خان اور طاہر القادری جیسے اتالیقوں سے استفادہ کرتے ہوئے کنٹینر نشین ہو جائیں ۔

مجھے تو ا س بات پر تعجب ہے کہ وہ گورے جنہیں ہم دن رات مطعون کرتے اور بُرا بھلا کہتے نہیں تھکتے ،ان کے ملک میں 10 پاکستانی نژاد امیدواروں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔بریڈ فورڈ ایسٹ کے حلقے سے لیبر کے امیدوار عمران حسین کامیاب ہوئے ہیں۔ پرتھ شائر سے اسکاٹش نیشنل پارٹی کی تسمینہ شیخ نے کامیابی حاصل کی ہے،برمنگھم پیری بار سے لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر خالد محمود دارالعوام کے رُکن منتخب ہوئے ہیں۔ برمنگھم لیڈی وڈ سے لیبر پارٹی ہی کی امیدوار شبانہ محمود نے الیکشن جیتا ہے، لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر پاکستانی نژاد یاسمین قریشی بولٹن سے کامیاب ہوئی ہیں جبکہ صادق خان نوٹنگ سے منتخب ہوئے ہیں۔ حکمراں کنزرویٹو پارٹی کے وزیر ثقافت ساجد جاوید برومز گرو کے حلقے سے رکن پارلیمنٹ بنے ہیں گینگھم اور رینھم کے حلقے سے پاکستانی نژاد رحمان چشتی نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ کنزرویٹو پارٹی کے ٹکٹ پر ویلڈن سے نصرت غنی برطانوی پارلیمنٹ کے رُکن منتخب ہوئے ہیں۔ صرف پاکستانی ہی نہیں ،دیگر کئی ممالک سے برطانیہ میں آباد ہونے والے افراد پارلیمنٹ کے رُکن منتخب ہوئے ہیں۔

نومنتخب ارکان میں 42 ارکان اسمبلی کا تعلق بنیادی طور پر کسی اور ملک سے ہے۔ جس طرح 10 پاکستانی نژاد امیدوار الیکشن جیتے ہیں اسی طرح 10 بھارتی نژاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ ان 42 ارکان پارلیمنٹ میں Alan Mak نامی ایک رُکن پارلیمنٹ کا آبائی ملک چین ہے۔ میں اس بات پر حیران ہوں کہ یہ کیسا ملک ہے جہاں کئی نسلوں سے آباد گورے امیدوار ہار جاتے ہیں اور ان کے مقابلے میں ایسے ایشیائی امیدوار جیت جاتے ہیں جنہیں برطانوی شہری بنے محض چند برس ہی ہوئے ہیں۔ یہ کیسا ملک ہے جہاں لوگ محض روزی روٹی کا بندوبست کرنے جاتے ہیں اور نہ صرف انہیں اپنی محنت کا صلہ ملتا ہے اور معاشرے میں باعزت مقام حاصل ہوتا ہے بلکہ چند برس کی سکونت کے بعد انہیں برطانوی پاسپورٹ بھی مل جاتا ہے۔

کیا ہمارے ملک میں ایسا ممکن ہے کہ کسی اور ملک کے شہری کو یہ مقام و مرتبہ حاصل ہو جائے یا کوئی غریب کا بچہ محض اپنی محنت و صلاحیت کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کر لے؟ وہ کافر تو غیروں کو وسعت قلبی کے ساتھ اپنے اندر ضم کرلیتے ہیں اور ہم ہیں کہ اپنے ہم مذہب شہریوں میں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے پھرتے ہیں۔ یہ کیسا ملک ہے جہاں محض پانچ یا دس سال گزارنے والے برطانوی شہری ہو جاتے ہیں اور ہمارے ہاں یہ عالم ہے کہ تین نسلیں رچ بس جانے کے باوجود بھی ہجرت کرکے پاکستان آنے والے بھی خود کو مہاجر کہتے ہیں اور معاشرہ بھی ان سے مہاجروں جیسا ہی سلوک کرتا ہے۔ یہ کافر کیسے احمق ہیں کہ ہمارے ملک کے شہریوں کو شہریت دیتے ہیں ،مقام و مرتبہ دیتے ہیں، انہیں اپنی نمائندگی کا حق دیتے ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ چند برس بعد کوئی ایشیائی برطانیہ کا وزیر اعظم بن جائے مگر ان کافروں کے مقابلے میں ہمارے برادر اسلامی ممالک کی مہمان نوازی اور بھائی چارے کا یہ عالم ہے کہ آپ اپنی ساری زندگی وہاں بسر کردیں ، اپنا سرمایہ وہاں لے جائیں ، وہاں کسی مقامی خاتون سے شادی کرلیں مگر پھر بھی آپ کا شمار عجمیوں میں ہی ہو گا۔

آپ کو وہاں قیام و طعام اور کاروبار کے لئے کسی کفیل کا محتاج ہونا پڑے گا۔ ان کافروں کے ملک میں تو یہ سہولت بھی حاصل ہے کہ اگر ہوائی جہاز میں سفر کے دوران بچہ پیدا ہو جائے تو بوقت پیدائش جہاز جس ملک کی ہوائوں اور فضائوں میں ہو گا، اس بچے کو اس ملک کی شہریت مل جائے گی، یہی وجہ ہے کہ کئی پاکستانی منصوبہ بندی کے تحت زچگی سے قبل امریکہ یا برطانیہ کا ویزہ لگوالیتے ہیں تاکہ ان کے بچے کو وہاں کی شہریت مل جائے۔ کیا کسی عرب ملک میں یہ سہولت دستیاب ہو سکتی ہے؟ یقین کیجئے جب سے برطانیہ میں الیکشن کے نتائج سامنے آئے ہیں ،میں یہی سوچے جارہا ہوں کہ یہ کیسا ملک ہے؟یہ کیسے لوگ ہیں؟ ان کے ہاں بھی خرابیاں ہونگی ،قباحتیں ہوں گی، برائیاں ہوں گی مگر یہ کافر ،یہ گورے نام نہاد مسلمانوں سے بدرجہا بہتر ہیں۔ یہ انہونی ان کافروں کے ہاں ہی ہوسکتی ہے کہ پاکستان سے وہاں آباد ہونے والے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا وزیر بن جائے اور ایک ایسی خاتون جس کے باپ نے بے یارو مددگار چھوڑ دیا اور ماں قتل کے مقدمے میں جیل چلی گئی،اسے برطانوی عوام نے اپنے نمائندگی کے لئے منتخب کر لیا۔

----------------------

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.