.

ہندوستان کا ایجنٹ کون؟

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین اور پاکستان میں اس حوالے سے بڑی مشابہت ہے۔ مغربی اور وسطی چین سندھ اور پنجاب کی طرح زیادہ آبادی والے اور نسبتاً خوشحال علاقے ہیں جبکہ مغربی چین پہاڑوںاور صحرائوں پر مشتمل ہمارے بلوچستان ، پختونخوا اور فاٹا کی طرح پسماندہ ہے۔ مغربی چین رقبے کے لحاظ سے چین کے کل رقبے کا 71.4 فی صد ہے لیکن وہاں کل آبادی کا صرف 28.8 فی صد حصہ رہتا ہے۔ مغربی چین چھ صوبوں (Gansu, Guzhou, Qinghai, Shaanxi, Sichuan) اور پانچ خودمختار ریاستوں (Guangxi, Inner Mangolia, Ningxi, Tibet, Xingiang) پر مشتمل ہے ۔ پھر ان ریاستوں میں صرف دو یعنی سنکیانگ (Xingiag) اور تبت کا رقبہ باقی پورے مغربی چین سے زیادہ ہے ۔ گویا ہم تبت کو بلوچستان اور پختون بیلٹ کو سنکیانگ سے (غربت اور رقبے کے لحاظ سے) تشبیہ دے سکتے ہیں ۔

دوسری مماثلت یہ تھی کہ اس غربت اور احساس محرومی کی وجہ سے سنکیانگ میں مذہبی بنیادوں جبکہ تبت میں لسانی جمع مذہبی بنیادوں پرعلیحدگی کی تحریکیں چل رہی تھیں۔ ان تحریکوں کو ہندوستان جیسی چین مخالف قوتیں ہوا دے رہی تھیں اور خصوصا تبت کے دلائی لامہ کو تو ہندوستان کھل کر سپورٹ کررہا تھا۔ چینی قیادت چونکہ ہماری قیادت کی طرح کوتاہ اندیش نہیں تھی اس لئے ملٹری آپریشنز یا پھر غداری کے الزامات کی بجائے اس نے مغربی چین کی ترقی اور اسے مشرقی اور وسطی چین کے برابر لانے کے لئے ویسٹرن چائنا ڈیویلپمنٹ ا سٹرٹیجی کے نام سے ایک جامع منصوبہ شروع کیا جس کے تحت کھربوں روپے مرکز اور مشرقی چین سے مغربی چین منتقل کئے گئے ۔ ہزاروں کلومیٹر پر مشتمل موٹرویز بنائی گئیں۔ ریلوے لائنیں بچھائی گئیں۔ کالجز اور یونیورسٹیاں تعمیر کی گئیں۔ مراعات اور سہولتیں دے کر مشرقی اور وسطی چین سے سرمایہ کاروں اور ہنرمند لوگوں کو مغربی چین کی طرف آنے کی ترغیبات دی گئیں 1996ء میں مغربی چین کومرکز سے صرف 80 ارب مل رہے تھے جو 2009ء میں 1200 ارب تک پہنچائے گئے اور اگلے سالوں میں یہ رقم اسی تناسب سے بڑھائی گئی۔ 2000ء سے لے کر 2010ء کے دس سالوں میں چینی حکومت نے 2874 ارب مرکز سے نکال کر مغربی چین کی ترقی پر صرف کئے جبکہ ٹیکس چھوٹ وغیرہ کی مراعات اس کے علاوہ ہیں۔ اب اگر چین کے نقش قدم پر چلا جائے تو ہونا تو یہ چاہئے کہ نسبتاً ترقی یافتہ پاکستان سے رقم نکال کر پسماندہ علاقوں کو منتقل کی جائے لیکن ظاہرہے کہ پاکستان میں ایسا نہیں ہوسکتا اور ہم اپنے اندرونی وسائل سے کبھی بھی پاکستان کے مغربی حصے (بلوچستان اورپختون بیلٹ ) کو باقی پاکستان کے برابر نہیں لاسکتے ۔

اب اللہ نے ایک موقع اس صورت میں دے دیا کہ چین کی اپنی ضرورت یہ قرار پائی کہ وہ پاکستان کے راستے سمندر تک پہنچے ۔ یوں اگر روٹ وہ اپنایا جائے (ژوب ، ڈی آئی خان وغیرہ) جو پہلے تجویز کی گیا تھا اور روٹ کے ساتھ ساتھ وہ اکنامک زونز بھی مغربی چین کی طرز پر مغربی پاکستان میں بنائے جائیں تو کسی حد تک یہ علاقے وسطی پنجاب کے ہم پلہ بن جائیں گے لیکن کیا کریں کہ ہمارے مسلم لیگی حکمران، اللہ اور چین کی طرف سے دی گئی اس نعمت کو بھی متنازع بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ احسن اقبال صاحب بار بار یہ تاثر دے رہے ہیں کہ جیسے ہم لوگ جاہل ہیں اور ہم نہیں سمجھتے کہ اکنامک کاریڈور صرف ایک سڑک کا نام نہیں حالانکہ احسن اقبال کے مقابلے میں پسماندہ ہوکر بھی ہم اتنا ضرور سمجھتے ہیں کہ یہ صرف سڑک کا نہیں بلکہ اقتصادی سرگرمیوں کے ایک پورے پیکیج کا نام ہے اور اسیلئے ہم مصر ہیں کہ اس کو وہاں سے گزارا جائے کہ جوفطری گزر گا ہ ہے، جس کا فاصلہ کم سے کم ہے اور جس کے نتیجے میں محروم علاقوں کی محرومیاں کم ہوسکیں لیکن وزیراعظم صاحب اور احسن اقبال صاحب اس منصوبے کو جس طرح آگے لے کر بڑھ رہے ہیں اس کی وجہ سے پہلے سے موجود محرومیاں اور بھی بڑھ جائیں گی بلکہ یہ پروجیکٹ الٹا سندھ و پنجاب کو پختونخواو بلوچستان سے لڑانے کا موجب بن سکتا ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو خود بخود پتہ چل جاتا ہے کہ ’’را‘‘ کا کام کون آسان کررہا ہے ؟۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ’’را‘‘ اور پاکستان دشمن دیگر قوتیں فاٹا، پختونخوا اور بلوچستان میں سرگرم عمل ہیں ۔ تنہا غربت وجہ نہیں لیکن معاشی سرگرمیاں نہ ہونے کی وجہ سے یہ علاقے ’’را‘‘ جیسی قوتوں کی سرگرمیوں کے لئے زرخیز علاقے اوریہاں کے لوگ ان کے لئے تر نوالے بنے ہوئے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اگر اپنے وسائل سے نہیں کرسکتا تو چین نے جو موقع دیا ہے ا س سے فائدہ اٹھا کر ہماس پٹی میں معاشی سرگرمیوں کا آغاز کرکے ’’را‘‘ کا کام مشکل بنادیں لیکن موجودہ حکمران چینی اصولوں کے برعکس انہیں پسماندہ رکھنے پر مصر ہیں ۔ ایسے ہی رہے تو یہ علاقے باقی پاکستان کے لئے بھی مصیبت بنے رہیں گے اور ’’را‘‘ کی سرگرمیوں کے بھی گڑھ رہیں گے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سمجھنے میں دقت نہیں ہونی چاہئے کہ ’’را‘‘ کے غیردانستہ ایجنٹ کا کردار کون ادا کررہا ہے ؟۔ اسفند یار ولی خان اور ڈاکٹر مالک یا پھر جناب احسن اقبال ؟

مشرقی روٹ سے صرف ہندوستان کے ساتھ تجارت ہوسکتی ہے یا پھر گوادر کو ہندوستان کے ساتھ منسلک کیا جاسکتا ہے جبکہ مغربی روٹ وسط ایشیاء اور افغانستان سے پاکستان اور چین کو جوڑتا ہے۔ اس تناظر میں بھی باآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی خدمت کون کر رہا ہے؟ پاکستان میں مغربی روٹ (انڈس ہائی وے) کو تعمیر کرنے کا خیال اس وقت سامنے آیا جب جی ٹی روڈ کے بعض حصے ہندوستانی حملوں کی زد میں آنے لگے۔ اس وقت پاکستان کے دفاعی ماہرین نے سوچا تھا کہ مغربی پاکستان میں بھی اسلام آباد اور پشاور کو کوئٹہ اور گوادر سے جوڑا جائے ۔ ہم لوگ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے لئے اسی انڈس ہائی وے کو موٹروے میں بدل کراقتصادی راہداری کا روٹ بنانا چاہتے ہیں جبکہ وزیراعظم صاحب اور احسن اقبال صاحب مصر ہیں کہ وہی روٹ رہے جو جنگ کی صورت میں باآسانی ہندوستان کے حملوں کی زد میں آسکتا ہے ۔ اس وقت ہمارے سارے صنعتی زونز کراچی یا پھر ہندوستانی سرحد کے قریب علاقوں میں واقع ہیں اور جنگ کی صورت میں باآسانی وہ پاکستان کی معاشی ناکہ بندی کرسکتا ہے ۔

ہم مغربی پاکستان میں اقتصادی زونز تجویز کرکے ہندوستان کا کام مشکل بنانا چاہتے ہیں لیکن احسن اقبال صاحب کے فارمولے کی رو سے اس کا کام آسان بن جاتا ہے ۔اس تناظر میں بھی بہ آسانی فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کا کام کون آسان کررہا ہے ؟۔ اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے یا پھر پاکستان کے آئینی اور جمہوری قواعد کو سامنے رکھا جائے ، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر سب سے زیادہ حق بلوچستان اور گلگت بلتستان کے لوگوں کا ہے ۔کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں چینی سفیر کی موجودگی میں گلگت بلتستان اسمبلی کے ا سپیکر اور ان کے دیگر رہنما احسن اقبال صاحب کے سامنے کھڑے ہوئے اور ان سے شکایت کی کہ ان کے گھر سے گزرنے والے راستے کے بارے میں نہ ان سے پوچھا گیا ہے اور نہ ان کو علم ہے کہ اس منصوبے سے گلگت کے عوام کو کیا ملے گا۔ اسی طرح بلوچستان کے احسن اقبال صاحب کے اتحادی وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک نے بھی اب کہہ دیا کہ ان کو کچھ پتہ نہیں کہ روٹ کہاں سے گزرے گا ۔

ہم تو احسن اقبال صاحب کے نزدیک لاعلم یا باالفاظ دیگر جاہل ہیں لیکن اگر ان کی نیت صاف ہے تو انہوں نے گوادر کے اصل مالکوں یعنی بلوچوں کے منتخب وزیراعلیٰ کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا؟۔ اسفندیارولی خان چارسدہ کے ہیں جبکہ اس عاجز کا تعلق مردان ، نوشہرہ یا پھر مہمند ایجنسی سے ہے ۔ اگر مغربی روٹ ہی چین پاکستان راہداری کا روٹ بنے تو افغانستان کے راستے وسط ایشیاء کے ساتھ دس سے زائد تجارتی راستے زیراستعمال آئیں گے لیکن اگر احسن اقبال صاحب اپنے ارادے کے مطابق اس کو حسن ابدال لاہور کی طرف موڑ دیں تو افغانستان کے ساتھ صرف ایک روٹ یعنی پشاور طورخم روٹ استعمال ہوگا ۔

اس صورت میں سب سے زیادہ فائدہ اسفندیارولی خان اور میرے آبائی علاقوں کو ہوگا لیکن پاکستان کی خاطر ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ جس ٹریفک نے صرف ہمارے علاقوں پر سے گزرنا ہے ، اسے چمن ، ژوب، ڈی آئی خان، غلام خان اور دیگر علاقوں میں تقسیم کیا جائے لیکن پھر بھی ہم ہندوستان کے ایجنٹ اور احسن اقبال صاحب محب وطن قرار پاتے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق مطالبہ کر رہے ہیں کہ ضروری اور مختصر روٹ مغربی پہلے تعمیر کیا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان گواہی دے رہے ہیں کہ وہ 1996ء سے اس معاملے پر چینیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان کے بقول خود چینیوں کی بھی یہ خواہش تھی کہ مغربی روٹ ہی روٹ رہے ۔

سرائیکستان سے تعلق رکھنے والے شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ وزیرخارجہ کی حیثیت سے انہوں نے چینیوں کے ساتھ جتنی بات چیت کی تھی وہ صرف اور صرف مغربی روٹ سے متعلق تھی۔ اب کیا یہ سب ناسمجھ ہیں یا پھر ان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ہندوستان کی کسی سازش کو کامیاب کرنے میں حصہ بنیں گے؟ مجھے تو لوگوں کی نظروں میں لاعلم باور کرایا جاسکتا ہے لیکن کیا ان معاملات میں فرحت اللہ بابر صاحب کا علم احسن اقبال صاحب سے کم ہے؟ ہم تو نہ مسلم لیگی ہیں اور نہ پاکستان پر شاید ہمارا اتنا حق ہے جتنا کہ احسن اقبال صاحب کا ہے لیکن کم ازکم وہ مہربانی کرکے بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کو تو اصل نقشہ اور اکنامک زون کے مقامات دکھا دیں ۔ انہیں نہیں دکھا سکتے تو محمود خان اچکزئی ہی کو دکھا دیں کیونکہ وہ بھی تو آج کل احسن اقبال صاحب کی طرح محب وطن ہیں۔

----------------------

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.