.

صحافی، ذرائع اور امریکی سیٹی بجانے والے

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آجکل امریکی صدر اوباما اور امریکہ کی پاکستانی کمیونٹی کو ایک مشترکہ پرابلم لاحق ہے۔ دونوں کو بُری شہرت اور بُری خبروں کا سامنا ہے۔ اسی طرح بعض امریکی صحافی بھی پاکستانی صحافیوں کی طرح حکومتی اداروں اور اوباما حکومت کے دبائو اور حقائق سے پردہ اُٹھانے والوں کے ساتھ ناروا سلوک کی شکایت کا شکار ہیں۔ پاکستانی کمیونٹی کو تو اپنے ہی متعدد پاکستانیوں کے کاروبار، کردار، پیشہ ورانہ زندگی کے حوالے سے قانون شکنی، تحقیقات، حراست اور ضمانت کی بُری خبروں کے تسلسل سے شرمندگی اور بُرے ’’امیج‘‘ کا سامنا ہے کیونکہ امریکی پاسپورٹ کے باوجود امریکی میڈیا میں ’’پاکستانی‘‘ شناخت کا ذکر نہ صرف ہمارے اپنے بچوں اور نوجوان نسل کے ذہنوں میں بہت سے سوالات اور مسائل کو جنم دیتا ہے بلکہ نئی نسل کی پاکستانی کمیونٹی سے دوری کا باعث بھی بن رہا ہے۔

آج کل تو بعض ایسے پاکستانیوں کے خلاف زیر سماعت مقدمات کے فیصلوں، سزائوں اور جرمانوں کی اطلاعات معمول سے کہیں زیادہ ہیں جنہوں نے اپنی دولت اور کاروبار کے باعث پاکستانی کمیونٹی میں نام اور قائدانہ حیثیت حاصل کرلی لیکن اپنی قانون شکنی کے باعث تحقیقات، حراست اور عدالت کی زد میں آگئے۔ نیویارک کی ایک وفاقی عدالت کی جیوری نے گزشتہ روز نیو یارک کی مشہور سالانہ پاکستان ڈے پریڈ کے پچھلے سال تک ٹرسٹی مظفر ندیم عرف مظفر چوہدری اور دیگر پاکستانیوں کو ٹیکس فراڈ، لیبرلاز کی خلاف ورزی، منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کا مرتکب قرار دیا ہے اور اب جج امریکی قانون کے مطابق جیوری کے فیصلے کی روشنی میں سزائیں اور جرمانے کا تفصیلی فیصلہ سنائیں گے جو تین ماہ بعد 14 اگست یعنی آزادی پاکستان کی سالگرہ کے روز سنائے جانے کی توقع ہے۔ جب لوگ کمیونٹی کے نمائندہ اور قائد بن کر قانون شکنی کی یہ صورتحال پیدا کریں تو پھر کمیونٹی کو بُری شہرت اور بُری خبروں کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا۔ اس نوعیت کے متعدد مقدمات اور معاملات مزید امریکی ریاستوں میں بھی سامنے آئے ہیں۔

اُدھر پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے حوالے سے امریکی صحافی سیمور ہرش کی تفصیلی انکشافاتی رپورٹ پر ہمارے صحافی بھائیوں کے تبصروں، تجزیوں اور رائے کا زور رہا۔ سیمور ہرش کی اس خبر نے امریکہ کے پاکستانیوں میں بھی ایک ہیجانی کیفیت اور پاکستانی موقف جاننے کی جستجو کو جنم دیا ہے۔ وہ متعدد سوال کررہے ہیں خصوصاً کیا پاکستانی فوج اور حکومتی اداروں کو امریکی آپریشن کا علم تھا؟ اگر نہیں تو پھر پاکستانی سرحدوں کی دفاع کی ذمہ داری ادا کیوں نہ کی گئی؟ اگر پہلے سے امریکی آپریشن کا علم تھا تو پھر سیمور ہرش کے انکشافات تک اسے قوم سے کیوں اور کس نے چھپایا؟ بلکہ اب بھی ریٹائر ہونے کے بعد ہمارے دو محترم جنرل کیانی اور جنرل پاشا قوم کے سامنے اپنا موقف پیش کیوں نہیں کرتے تاکہ تاریخ کا ریکارڈ اور حقائق درست ہوجائیں۔

یہ دونوں شخصیات تاریخ کا قرض اور قومی فرض سمجھ کر قوم کو حقائق سے آگاہ کریں ورنہ قوم غیروں سے اپنے معاملات کی حقیقت جاننے اور ماننے کے رحجان کا شکار ہوجائے گی۔ سیمور ہرش کی رپورٹ پر رائے، تبصرہ، تجزیہ یا تنقید کا حق ہر ایک کو ہے مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ جو حضرات خود اپنی انکشافاتی خبروں کا ذریعہ ایک فرضی ’’چڑیا‘‘ کو بناکر درست خبر دینے کا دعویٰ کرتے ہیں اُن کا یہ اعتراض درست نہیں کہ سیمور ہرش نے اپنی رپورٹ کے ’’ذرائع‘‘ کا نام نہیں لکھا۔ خبر کے ’’ذرائع‘‘ اور ’’چڑیا‘‘ بھی تو اسی بے نام ’’ذرائع‘‘ کی کٹیگری میں آتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ کسی پاکستانی صحافی بھائی کے ’’ذرائع‘‘ یا ’’چڑیا‘‘ سیمور ہرش کی رپورٹ پر ان دو ریٹائرڈ جنرلوں کا موقف سامنے لاکر حقائق سے پردہ بھی اُٹھائے اور صحت مند جرنلزم میں ساکھ بھی قائم کرے۔

سیمور ہرش کی رپورٹ میں لاکھ خامیاں سہی مگر اس کو مفروضوں کی بجائے حقائق کے ذریعے جواب کی ضرورت ہے۔ رہی بات بے نام ’’معتبر ذرائع‘‘ کے صحافتی استعمال کی تو عرض یہ ہے کہ ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ امریکی ٹی وی اور صف اول کے امریکی میڈیا میں حساس رپورٹوں اور خبروں میں ذرائع کا نام اور عہدہ بتائے بغیر صرف ’’ذرائع‘‘ ایک عہدیدار، سابق انٹیلی جنس افسر، کا استعمال بہت عام اور قابل قبول ہے۔ بلکہ امریکی صحافت میں متعدد ایسے صحافی بھی ہیں جنہوں نے کسی حساس یا اہم اسٹوری کے ’[ذرائع‘‘ کا نام بتانے سے انکار کیا حتٰی کہ عدالت میں اُن پر مقدمہ چلا مگر انہوں نے عدالت کے مطالبے پر بھی اپنی خبر کے ذرائع کا نام نہیں بتایا۔ خود جیل جاکر سزا بھگت لی مگر اپنی خبر کے ذرائع کو ’’معتبر ذرائع‘‘ ہی رکھا۔ اس کی تازہ مثال ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے مشہور صحافی جیمز رائزن ہیں جو اپنے ’’ذرائع‘‘ کا نام بتانے سے انکاری ہیں اور جیل جانے کو بھی تیار ہیں۔ موصوف متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور اُن کی نئی کتاب دہشت گردی کی جنگ کو مخصوص مفادات والوں کی دولت بنانے کی جنگ قرار دے رہی ہے۔

وہ اپنے ان گمنام ’’ذرائع‘‘ کی خبروں اور انکشافات کے باوجود نیویارک ٹائمز سے وابستہ اور دو مشہور کتابوں ’’اسٹیٹ آف وار‘‘ اور ’’پے اینی پرائس‘‘ میں پاکستان اور مسلم دنیا، امریکی حکومت کے خفیہ اقدامات اور دیگر امور کے بارے میں ایسے انکشافات کرچکے ہیں کہ جو امریکی حکومت کے لئے پریشانی ، مسلم حکمرانوں کے لئے پشیمانی اور عوام کے لئے حیرانی کا باعث ہیں۔رہی بات صدر اوباما کی مشکل کی تو بارک اوباما اس تنقید کا شکار ہیں کہ انہوں نے آزادی صحافت کی حوصلہ شکنی کی ہے اور حکومتی اداروں نے خفیہ اقدامات کا راز فاش کرنے والوں سے سختی سے نمٹنے کی کوشش کی۔ ایسے راز فاش کرنے والوں کو (Whistle Blower) یعنی سیٹی بجانے والے کہا جاتا ہے۔ جن میں وکی لیکس کے جولین اسانج، نیشنل سیکورٹی ایجنسی کا مفرور اسنوڈن، نیشنل سیکورٹی ایجنسی کا تھا مس ڈریک، کانگریشنل کمیٹی کی جیلین راڈک، پیٹروان بورن اور سی آئی اے کے جیفری ا سٹرلنگ سرفہرست ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نے ان اداروں اور حکومت کے ایسے خفیہ کاموں سے پردہ اُٹھایا جو امریکی آئین، قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں یا پھر جن سےحکومتی وسائل کا ضیاع اور بے دریغ استعمال ثابت ہوتا ہے۔

صدر اوباما نے ’’سیٹی بجانے والوں‘‘ اور انکشافات کرنے والے صحافیوں کی اپنی تقریروں میں تو خوب تعریف کی لیکن عملاً ان پر مقدمات چلائے۔ افغانستان و عراق کی جنگوں میں امریکی ڈالروں سے بھرے فوجی کارگو طیاروں کی پروازیں اور تقسیم، امریکی سی آئی اے، این ایس اے اور دیگر اداروں کے خفیہ اقدامات، امریکی عوام کے فونز کا ڈیٹا اور کالز کی ریکارڈنگ، عراق کی جنگ کی خفیہ کہانی اور دیگر انکشافات گمنام ’’ذرائع‘‘ سے سامنے لانے میں سیمور ہرش، جیمز رائزن، ڈیوڈ سانگر جیسے صحافیوں اور مذکورہ ’’سیٹی بجانے والے‘‘ افراد کی محنت اور قربانی کا بڑا دخل ہے۔ امریکہ میں آزادی صحافت کے لئے ان دونوں کا وجود لازم ہے۔ ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے صحافی ڈیکلن واش نے ایک پاکستانی کمپنی کے بارے میں ڈگریوں اور تعلیمی اداروں کے حوالے سے ویب سائٹس وغیرہ کے بارے میں جو تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے اُس نے بھی پاکستانی کمیونٹی کی تشویش اور مسائل میں اضافہ کیاہے۔ رپورٹ میں ’’سیٹی بجانے والے‘‘ یعنی کمپنی کے سابق ملازمین کے انٹرویوز بھی ہیں، صحافی، ذرائع اور سیٹی بجانے والے تینوں اس خبر کے ذمہ دار ہیں.

---------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.