.

غیب سے مدد کی دعا (اور انتظار)

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہ کیا ایک بدنام سا گیت ہے کہ مینوں نوٹ دکھا میرا موڈ بنے ، لگتا ہے کہ مولانا کو پھر سے نوٹ دکھا دیئے گئے ہیں اور وہ اپنے دیرینہ دشمن یعنی گوادر پراجیکٹ بمع پاک چین کو ریڈور کا قلع قمع کرنے کیلئے جون جولائی میں وطن تشریف لا رہے ہیں۔ جذبہ جہاد ہو تو ایسا کہ گرمیوں کے سخت ترین موسم میں کینڈا کی راحتِ جان ٹھنڈی فضاؤں کو چھوڑ کر پاکستان کے گرم زاروں میں خون پسینہ ایک کرنے آ رہے ہیں۔ خون پسینہ ایک تو اکے کارکن کریں گے، مولانا کنٹینر میں بیٹٹٹھ کر انکییی نگرانی فرمممائیں گےےے اااور یییہ نگرانی کرنا بھی خون پسینہ ایک کرنے سے کم تو نہیں۔

ادھر ’’را‘‘ کی دہشت ہمارے میڈیا اور حکمرانوں نے ایسی طاری کر دی ہے کہ لوگوں کو ہر طرف را ہی را نظر آنے لگی ہے۔ اور تو اور بس میں بیٹھو تو کنڈیکٹر پر بھی را کا ایجنٹ ہونے کا شبہ گزرتا ہے۔ را نفرت اور حسد کے مارے ہوئے جنوبی ہندوؤں کا تربیت یافتہ ٹولہ ہے لیکن اسکی اتنی طاقت کہاں کہ پاکستان پر دہشت طاری کر سکے، لیکن جو کام دشمن نہیں کر سکا ہمارے میڈیا اور حکمرانوں نے کر دکھایا۔ لگتا ہے را کے بھوت ہر جگہ منڈلاتے اور دندناتے پھرتے ہیں اور حکمران اسکی دہائی دے رہے ہیں۔ لوگ بیچارے اتنے مجبور ہیں کہ حکمرانوں سے پلٹ کر انتا سا سوال بھی نہیں پوچھ سکت کہ حضور را کو اتنا فری ہینڈ کس نے دیا؟ بلوچستان اور فاٹا سے لے کر کراچی اور سندھ تک وہ تباہی پھیلاتی پھر رہی ہے تو آپ کے ادارے کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے؟

خیر، عوام یہ سوال پوچھنے کی جراٗت کر لیں تو بھی حکمران جواب کہاں سے لائیں گے؟ حکمرانوں کے دائرہ اختیار میں وہ شعبے ہیں ہی نہیں جن سے اس سوال کا کوئی تعلق بنتا ہے۔ ہاں عمران خان سے پوچھا جائے تو وہ ضرور جواب دینے کی پوزیشن میں ہوں گے کون کیا کر رہا تھا؟ لیکن انکی مرضی ہے کہ جواب دیں یا نہ دیں۔ انکی پارٹی کی صوبہ کے پی کے شاخ نے پاک چین کوریڈور کی حمایت کر دی ہے۔ خان صاحب کے دل پر کیا گزری ہو گی، بیچارے کھل کر ناراض بھی نہیں ہو سکتے۔ مجبور ہیں اف اللہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے کی تصویر بنے رہنے کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہیں۔ کیسے منہ پھاڑ کر کہہ دیں کہ گوادر اور کوریڈور ہمیں منظور نہیں ہے۔

گوادر اور کوریڈور کی وجہ سے را سخت اذیت میں ہے، اسکا مسئلہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو بھارت کے خواب چاہ بہار کے اندھے کنویں میں اتر جائیں گے۔بہار کی چاہت میں اربوں روپے گھاٹے کے اندھیرے میں اتر جائیں گے۔ یہ وہ ٹھینڈے پیٹوں کیسے برداشت کر لے؟ اسی لئے بھارت نے پاکستان کے ایک پڑوسی مسلمان ملک اور مشرق وسطی کے ایک غیر عرب اور غیر مسلم ملک سے مل کر 30 کروڑ ڈالر کا ایک فنڈ گوادر کوریڈور روکنے کیلئے بنایا ہے اور سنا ہے کہ کچھ لوگوں کا موڈ بنانے کیلئے جو نوٹ دکھائے گئے ہیں انکا تعلق بھی اسی فنڈ سے ہے۔ لوگ میڈیا میں بہت ہیں، بھارتی میڈیا میں پاکستان کا ایک بھی ساتھی نہیں، یہاں انکے وفاداروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔
بہر حال الجھن کی بات یہ ہے کہ بھارت اور را سمیت اتحاد ثلاثہ کا غم و غصہ تو سمجھ میں آتا ہے یہ پاکستان اشرافیہ کیوں اتنی اداس ہو گئی؟ سلجھن اس الجھن کی یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ کی جملہ ارادت مندی امریکہ سے ہے اور امریکہ کو گوادر نامنظور ہے، اس لئے اسے بھی نامنظور ہے۔

امریکہ کو گوادر کیوں نامنظور ہے اسکا تو گوادر سے بظاہر کوئی لینا دینا نہیں بنتا؟ تو جواب اس سوال کا بالکل سادہ ہے۔ پاکستان کو کوئی فائدہ ہو تو امریکہ کو اسکی تکلیف ہوتی ہے اور چین کو کوئی فائدہ ہو تو یہ تکلیف سخت تکلیف میں بدل جاتی ہے۔ پھر فائدہ بھی ایسا جسکی نوعیت سٹریٹیجک ہو۔ اندازہ کیجئے امریکہ تہران کے راستے خلیج کو اپنی ملکیت بنانے کا خواب دیکھ رہا ہو اور خلیج کے ایک سرے پر واقع گوادر میں چین آکر بیٹھ جائے تو امریکہ پر کیا گزرے گی؟

اور پھر امریکہ ایک مختصر المیعاد جمع طویل المیعاد منصوبہ چین کے گھیراؤ کا بھی رکھتا ہے جس پر عملدرآمد کیلئے اس نے فلپائن ، جاپان ، جنوبی کوریا ، تائیوان وغیرہ کا اتحاد بنایا ہوا ہے، جس میں ساتویں محلے سے آ کر آسٹریلیا بھی شریک ہوگیا ہے۔ یہ اتحاد اگر مشرقی سمندروں میں چین کیلئے مشکلات کھڑی کرتا ہے یعنی کسی قسم کی اقتصادی ناکہ بندی تو چین گوادر کا متبادل راستہ اختیار کر کے اس ناکہ بندی کے غبارے سے ہوا نکال دے گا اور اسی کی سخت تکلیف امریکہ کو ہے اور امریکہ کو جب تکلیف ہوتی ہے تو درد سے بے حال ہمارا اشرافیہ ہو جاتا ہے۔

تینوں تاپ چڑھے میں ہوںگاں
اشرافیہ نے گزشتہ برس کے دھرنے نواز شریف کیخلاف نہیں چین کا راستہ روکنے کیلئے دیئے تھے۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ چین کتنا پرعزم ہے۔ اب را کو براہ راست مدد کیلئے آنا پڑا۔

چھیتی بوہڑیں وے طبیبا نہیں تاں میں مر گئی آں
تو گوادر کوریڈور کو ایک طرف اشراف کا سامنہ ہے ، دوسری جانب را کی زیر قیادت اتحاد ثلاثہ کا اور تیسری طرف امریکہ جو ہر دو کا مہربان نظر آتا ہے اور ان تینوں کا مددگار ہمارا میڈیا!

را سرگرم ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن را کے مقابلے میں ہمیں جن پر تکیہ ہے انہیں کچھ دوسرے ضروری امور نمٹانے کی جلدی ہے ، مثلا سندھ میں گورنر راج لگان بہت ضروری ہے، کیوں لگانا ہے یہ مت پوچھئے ، دیر کیوں ہو رہی ہے، یہ پوچھئے۔ دوسری طرف نواز شریف کی زیر قیادت ایک بے اختیار ، بے حس و حرکت زمین جنبد نہ جنبد گل محمد کی تصویر بنی حکومت ہے جو اس خیال سے خوش ہے کہ تاریخ میں گوادر کا سہرا اسکے سر باندھا جائے گا، حالانکہ اس کام میں اشرافیہ کے مقہور و معتوب آصف علی زرداری کا بھی بہت حصہ ہے۔ یہ حکومت را کا مقابلہ کرے گی، اسکی امید پہلے ہی کہاں تھی، اب تو اس حکومت کو ایک مصروفیت بھی آن پڑی ہے۔

دو برسوں میں پہلی مصروفیات! پچھلے دنوں وزیر اعظم کابل تشریف لے گئے اور افغان صدر کو یہ یقین دہانی کرا کے آ گئے کہ ہم آپ کے دشمنوں سے نمٹیں گے۔ یعنی افغان طالبان سے۔ تو وزیر اعظم کی حکومت ہلمند، زابل ، ننگرہار اور کنڑ میں جا کر افغان طالبان سے لڑے گی۔ بیچاری کے پاس را کا مقابلہ کرنے کا وقت ہی کہاں ہوگا۔ یمن کے جھگڑے میں غیر جانبدار نواز حکومت کابل کے جھگڑے میں وفادار ہوگی۔ آئیے خدا سے دعا کریں کہ را سے مقابلے کیلئے غیب سے مدد بھیجے۔ آمین۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ ’’خبریں‘‘
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.