.

کافر، کافر، کافر، کافر!

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی وزیر سینیٹر پرویز رشید کو بھی حال ہی میں دائرہ اسلام سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ابن انشاء کی بات کتنی سچی ہے کہ ہمارے بڑے، کفار کو دائرہ اسلام میں داخل کرتے تھے اور ہمارے چھوٹے مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ پرویز رشید اس گالی سے بہت زیادہ بدمزہ ہوئے ہوں گے لیکن ان کی ’’تالیف قلب‘‘ کے لئے عرض کر رہا ہوں کہ اس اقدام سے ان کا قد چھوٹا نہیں ہوا بلکہ مفتیان کرام نے نہیں بلکہ صرف ایک مفتی نے انہیں بیٹھے بٹھائے خواہ مخواہ ہماری تاریخ کے ان بڑے لوگوں کے ساتھ بریکٹ کر دیا ہے جن پر وہ بہت پہلے کفر کی مہر لگا چکے ہیں، ان ’’کفار‘‘ میں سرسید احمد خاں اور پھر ہمارے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح، ہمارے بین الاقوامی شاعر اور تفہیم این کے حوالے سے اعلیٰ مقام کے حامل قومی شاعر علامہ اقبال بھی شامل ہیں۔

قائداعظم کو تو (میرے منہ میں خاک) کافرِاعظم کہا گیا۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ علامہ عنایت اللہ مشرقی نے ’’مولوی کا غلط مذہب‘‘ کے نام سے کتاب لکھی تو مولویوں نے ان پر بھی کفر کا فتویٰ صادر کر دیا سید ابو لاعلیٰ مودودی، علامہ احمد پرویز اور جاوید الغامدی بھی کفر کے فتوے سے کب بچ سکے ہیں؟ یہ الگ بات ہے کہ یہ فتوے ہوا میں اڑ گئے اور کسی نے ان کا اثر قبول نہیں کیا۔

کافر سازی کی صنعت جہاں بہت دلخراش ہے، وہاں بہت دلچسپ بھی ہے، کبھی تو مختلف مسالک کے مفتیان کرام مشترکہ طور پر کسی کو کافر قرار دیتے ہیں اور کبھی علیحدہ علیحدہ ایک دوسرے کو کافر اور مشرک ’’ثابت‘‘ کیا جاتا ہے، میری ذاتی لائبریری میں لٹریچر کے علاوہ مختلف ادیان اور مختلف مسالک کے علماء کی کتابیں موجود ہیں ان میں ایسی کتابیں بھی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے تمام مسالک کے بعض مفتیان کرام ایک دوسرے کو کافر اور مشرک قرار دے چکے ہیں۔ حتیٰ کہ دیو بندی اور بریلوی مکاتب کے بڑے ستون بھی اس کی زد میں آ چکے ہیں۔

اہل حدیث کو بھی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جا چکا ہے اور اہل تشیع بھی کافر ہیں۔ عوام نے ان فتوئوں میں سے کسی فتوے کو تسلیم نہیں کیا لیکن اگر ان سب مسالک کے کچھ مفتیان صاحبان کی رائے کو تسلیم کر لیا جائے تو پاکستان کے بیس کروڑ مسلمان دائرہ اسلام سے خارج کئے جا چکے ہیں کیونکہ یہ سب کے سب کسی نہ کسی مسلک کے پیرو کار ہیں جبکہ کون کہتا ہے پاکستان کی آبادی 99 فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے؟

لیکن اب مسئلہ کسی مسلک یا کسی فرد کا نہیں رہا۔ بلکہ پاکستان کی بقاء کا بن چکا ہے۔ مسلک کی بنیاد پر دہشت گردی جب اپنی انتہا کو پہنچ گئی اور پورے ملک میں بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلی جانے لگی تو ہماری حکومت اور ہماری فوج کو بھی خطرے کی یہ گھنٹی سنائی دی۔ اور پھر بڑے پیمانے پر اس عفریت کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی، یہ عفریت ہماری فوج کے مدمقابل بھی آ چکا تھا لیکن پہلے سوات میں ان کا خاتمہ کیا گیا اور اب شمالی وزیرستان کو پاک کرنے کی کوشش جاری ہے۔ مگر یہ کس قدر حیرت کا مقام ہے کہ یہ لوگ اسلام آباد میں دندناتے پھر رہے ہیں، انہوں نے پرویز رشید کے خلاف شہر میں اشتعال انگیز پوسٹر لگائے اور پولیس نے جب یہ پوسٹر اتارنے کی کوشش کی تو ایک ’’دینی مدرسے‘‘ کے طالبان نے پولیس پر حملہ کر دیا۔ پرویز رشید سے یہ بیان منسوب کیا گیا کہ ہمارے دینی مدارس جہالت پھیلا رہے ہیں اور یہ کہ مولوی کے ہاتھ میں دن کے اوقات میں پانچ مرتبہ لائوڈ اسپیکر تھما دیا جاتا ہے، جبکہ پرویز رشید کا یہ وفاقی بیان منظر عام پر آ چکا ہے کہ وہ علمائے حق کی دل کی گہرائیوں سے عزت کرتے ہیں۔

ان کا اختلاف قتل و غارت گری کا کھیل رچانے والے افراد سے ہے اور ہمیں مل کر ان کا مقابلہ کرنا ہے جو ہماری زندگیوں کے درپے ہیں۔ انہوں نے وضاحتی بیان میں کہا کہ انہوں نے مدارس میں پڑھائے جانے والے تعلیمی نصاب کے حوالے سے بات کی تھی اور اگر کسی کی اس سے بھی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں! لیکن مسئلہ پرویز رشید کے دین ایمان کا نہیں لگتا کہ وہ ویسے ہی سیدھے سادے، کچھ نیک اور کچھ گناہ گار قسم کے مسلمان ہیں۔ جیسے ہم سب ہیں، مسئلہ وزیرستان سے نکل کر اسلام آباد کی سڑکوں تک آنے کی اسٹرٹیجی کا ہے، ایک مفتی صاحب نے فتویٰ دیا اور اسلام آباد پر پوسٹر لگ گئے کہ پرویز رشید کو پھانسی پر لٹکایا جائے اور اس کے بعد ایک مدرسے سے ’’طالبان‘‘ نکلے اور انہوں نے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا۔

وہ کون لوگ ہیں جو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں فضا تیار کر رہے ہیں جس کے خاتمے کے لئے ہماری فوج بے شمار قربانیاں دے چکی ہے۔ حکومت سے میری درخواست ہے کہ وہ ہر قسم کی مصلحت سے بالا ہو کر ابھی سے ان مفسدوں کی گردن ماپے جو کفر سازی کی صنعت کا مندہ نہیں دیکھ سکتے! اور اس بات کا جائزہ بھی لے کہ کہیں اس سارے کھیل میں کوئی وزارتی رقابت بھی تو شامل نہیں ۔

پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں میں بعض بہت قابل قدر شخصیات موجود ہیں تاہم ان میں سینیٹر پرویز رشید سرفہرست ہیں۔ پرویز ایک طویل عرصے سے سیاست میں ہیں اور ابھی تک ایک پیسے کی کرپشن کا الزام تک ان پر نہیں ہے۔ ان کے ذاتی اثاثے کم تو ہوئے ہوں گے۔ زیادہ بہرحال نہیں ہوئے۔ یہ شخص غریبوں کا ساتھی ہے اور انہی کے ساتھ بیٹھ کر خوش ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر ہے اور کوئی حفاظتی دستہ ساتھ نہیں رکھتا۔ یہ تو گاڑی بھی خود ہی ڈرائیو کرتا ہے۔ اس نے تو وزارت کی جائز سہولتیں بھی حاصل نہیں کیں یہ وہ شخص ہے جس نے اصولوں کے لئے لازوال قربانیاں دیں۔ ہمارے درمیان یہ ایک درویش ہے اور ہم دنیا دار اپنے درمیان شاید کوئی درویش نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہم وہ کبڑے ہیں جو اپنا ’’کُب‘‘ ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کرتے، اس کی بجائے ہم سب کو کبڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ملک اور قوم کے لئے وہ وقت بہت نازک ہوتا ہے جب خیرپر شر غالب آنا شروع ہو جائے۔

اس وقت پرویز رشید اور ان کے خاندان کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہو چکا ہے بلکہ جو حالات پیدا کئے جا چکے ہیں اس کے نتیجے میں کوئی پاکستانی بھی خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا۔

جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہوا جاتا ہے

عام لوگ کفر سازی کی ’’تحریک‘‘ سے کس قدر متنفر ہو چکے ہیں، اس کا اندازہ ذیل کی اس نظم سے لگایا جاتا ہے جو ان دنوں پورے ملک میں سینہ بہ سینہ چل رہی ہے۔ میں اس نظم کے چند اشعار پہلے بھی نذر قارئین کر چکا ہوں آخر میں مزید چند اشعار ملاحظہ کریں اور پاکستان کی سلامتی، بقاء اور استحکام کی دعا بھی کریں۔

میں بھی کافر، تو بھی کافر
پھولوں کی خوشبو بھی کافر
لفظوں کا جادو بھی کافر

………..

فیض بھی کافر، منٹو کافر
نور جہاں کا گانا کافر

………..

میکڈونلڈ کا کھانا کافر
برگر، کافی، کوک بھی کافر
ہنسنا بدعت جوک بھی کافر
طبلہ کافر، ڈھول بھی کافر
پیار بھرے دو بول بھی کافر

………..

سُر بھی کافر، تال بھی کافر
بھنگڑا، لڈی، دھمال بھی کافر
دادرا، ٹھمری، بھیروین کافر
کافی اور خیال بھی کافر

………..

وارث شاہ کی ہیر بھی کافر
چاہت کی زنجیر بھی کافر

………..

زندہ، مردہ پیر بھی کافر
نذر نیاز کی کھیر بھی کافر
بیٹے کا بستا بھی کافر
بیٹی کی گڑیا بھی کافر

………..

ہنسنا رونا کفر کا سودا
غم کافر، خوشیاں بھی کافر

………..

میلے ٹھیلے کفر کا دھندا
گانے باجے سارے پھندا
مندر میں تو بت ہوتا ہے
مسجد کا بھی حال بُرا ہے

………..

کچھ مسجد کے باہر کافر
کچھ مسجد کے اندر کافر
مسلم ملک کے اکثر کافر
کافر کافر میں بھی کافر
کافر کافر تو بھی کافر

---------------------

بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.