.

مودی اور پاکستان....!

طیبہ ضیاء چیمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی رپورٹ کے مطابق نریندر مودی نے ان تمام وعدوں کو بھلا دیا جن پر اعتبار کرتے ہوئے عوام نے ووٹ دیا تھا۔ غریبوں کو خوشحال بنانے اور 100 دن میں بیرون ملک سے کالا دھن واپس لا کر ہر شہری کے اکاﺅنٹ میں پندرہ لاکھ روپے جمع کرانے کا لالچ دیا۔ عوامی مسائل کو نظر انداز کر کے بیرونی دوروں سے خود کو بہلاتے رہے۔ نریندر مودی اقتدار کے پہلے سال میں بیرونی دوروں کا ریکارڈ قائم کرنے والا پہلا بھارتی وزیر اعظم ہے۔ بھارت کے نریندر مودی اور پاکستان کے آصف علی زرداری کے بیرونی دوروں کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ ان لوگوں نے عوام سے جھوٹے وعدے کیئے اور صرف خود کو مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز رکھی۔

زرداری بھی روٹی کپڑا مکان کا دغا دیتے رہے اور مودی بھی خود کو غریبوں کی آواز کہہ کر غریبوں سے مذاق کرتے رہے۔ بار بار خود کو چائے فروخت کرنے والا ظاہر کرتے ہوئے ماضی کا غریب نریندر مودی، اقتدار ملتے ہی لاکھوں روپے مالیت کے سوٹ زیب تن کرنے لگے۔ بھارتی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عوام کے ووٹ سے بر سر اقتدار آنے والی بی جے پی حکومت صرف خواص کے مفادات کی نگہبان بن گئی۔ اندرون ملک مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے موصوف نے ایک سال میں 19 ممالک کا دورہ کیا۔ مودی کا دورہ چین کو ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔

مودی کے دورہ چین کے دوران چین نے اپنے میڈیا پر بھارت کا نقشہ دکھاتے ہوئے ، نقشہ سے جموں کشمیر غائب کر دیا جس پر بھارت سیخ پا ہوا۔ 1962ء سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع چل رہا ہے، چین کے موقف میں کوئی نرمی دکھائی نہیں دی۔ اروناچل پردیش کے علاقے پر چین کی دعویداری اور چینی افواج کی ہندوستان کی حدود میں سرگرمیاں بھارت کے لیئے تشویش کا باعث ہیں۔ چین کی پاکستان میں چھیالیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری نے بھی بھارت کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ تسلیم کرنے پر بھی چین کو تامل ہے جو کہ بھارت کے لیئے پریشانی کا باعث ہے۔ نریندر مودی ”برانڈ ایمبسڈر“ ہیں۔ میڈیا پر رہناخوب جانتے ہیں۔

ڈرامہ بازی میں ماہر ہیں۔ دنیا کا مقبول ترین جریدہ ”ٹائم“ کے گزشتہ شمارے کے ٹائٹل پیج پر مودی کی قد آور تصویر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چائے فروش نریندرمودی دنیا کا ”آئیکون“ بننے کا حریص ہے۔ بیرونی دوروں سے فرصت ملے تو غریب عوام کے مسائل پر توجہ دے۔ مسلمانوں کا دشمن ،گجرات میں مسلمانوں کے لہو سے ہاتھ رنگنے والا مودی پاکستان کے خلاف گھناﺅنی پالیسیاں بنا رہا ہے۔ آخر کچھ تو ایسا ہے کہ پاک فوج کو بھارت کے ناپاک عزائم کا کھل کر اعتراف کرنا پڑا اور نواز حکومت فوج کی امامت میں سیاست کرنے پر مجبور ہوئی۔ ملک ہے تو سیاست ہے ۔فوج کی سیاست میں مداخلت کا حال بھی ”پہلے انڈا کہ پہلے مرغی“ جیسا معمہ ہے۔ سیاستدان الزام دیتے رہے کہ فوج کی مداخلت جمہوریت کو چلنے نہیں دیتی اور فوج کا الزام ہے کہ سیاستدانوں سے ملک نہیں چلتا تو فوج کو مداخلت پر مجبور کرتے ہیں بلکہ کبھی خفی اور کبھی اعلانیہ دعوت دیتے ہیں۔ ہماری ذاتی رائے کے مطابق پاکستان کے حالات اور اس قوم کا مزاج ”ہاف اینڈ ہاف“ سیٹ اپ کا متقاضی ہے جس میںحکومت جمہوری ہو اورفوج ان کے سر پر کھڑی ہو۔

آمریت اور جمہوریت کے بیچ کا نظام ہی ملک کو راس آسکتا ہے۔ گزشتہ پانچ سالہ زرداری حکومت اور موجودہ حکومت کی مثال سامنے ہے۔ ماضی میںچند جرنیلوں کی کرپشن اور دوغلی پالیسیوں نے پوری فوج کو بدنام کیا جبکہ فوج چند جرنیلوں کا نام نہیں بلکہ لاکھوں جوانوں کو فوج کہتے ہیں۔ سیاستدانوں میں چند ایک لوگوں کے ہاتھ صاف ہو سکتے ہیں جبکہ فوج میں چند ہاتھوں نے پوری فوج کا امیج خراب کیا۔ عوامی مسائل کو حل کرنا سیاستدانوں کا فرض ہے اور فوج کا فرض ملک و قوم کی حفاظت ہے۔ مشرف دور نے فوج کو بہت بدنام کیا، عوام پاک فوج کو سیلوٹ کرنا بھول گئے تھے لیکن جنرل راحیل شریف کے آنے کے بعد فوج کا امیج پھر سے بحال ہوا اور بھارت کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیا۔ جب تک مرض کی تشخیص نہیں کی ہو گی، مرض کا علاج لا حاصل ہے۔

بھارت کی پاکستان میں مداخلت اور کرائے کے قاتلوں کے چہروں پر داڑھی سجا کردہشت گرد حملے کروانے کی گھناﺅنی سازش بری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔ محترم مجید نظامی مرحوم نے کہا تھا کہ بھارت اور پاکستان میں آئندہ کوئی جنگ ہوئی تو وہ پانی کے لئے ہو گی۔ پورے ملک سے پانی پانی کی صدائیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ سندھ حکومت اتنی بے حس ثابت ہوئی ہے۔ ناقص کارکردگی کے باعث آئیندہ الیکشن میں بھی ناکامی کا سامنا کرے گی۔ مودی حکومت نے پہلے سال میں ہی اپنی ساکھ کو نقصان پہنچا لیا ہے۔ پاکستان میں سندھ حکومت ناکام ہے اور وفاق پنجاب کی طاقت سے چل رہا ہے مگر کب تک....؟

----------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.