.

پاکستان اور افغانستان کی قومی سلامتی کے تقاضے

جنرل مرزا اسلم بیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور افغانستان کے مابین ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد کی حیثیت حاصل ہے لیکن یہ لائن کبھی بھی چالیس ملین پختون قوم‘ جسکا تقریبأ ساٹھ فیصد پاکستان میں مقیم ہے‘ کو تقسیم نہیں کرسکی۔یہی تاریخی حقیقت ہے کہ پختون اکثریت افغانستا ن کے معاملات میں فیصلہ کن کردار کی حامل رہی ہے جس کی مرضی اور تائید کے بغیر کابل میں کو ئی بھی حکومت قائم نہیں کرسکتی۔دونوں ممالک کی سلامتی کے حوالے سے پختون ایک مشترک حقیقت ہیں۔ 70ء کی دہائی میں جب سوویٹ یونین نے حفیظ اللہ امین کو کابل کا حکمران بنایا تو افغان قوم اس کیخلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور پاکستان سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں اپنے امدادی ٹھکانے قائم کر لئے۔بعد میں امریکہ اورپاکستان بھی انکی گوریلا جنگ میں شامل ہوئے اور روسی قبضے کیخلاف اعلانیہ جنگ شروع ہوئی۔’’اس جنگ میں پوری دنیا کے ستر ممالک سے جہادی شامل ہوئے جس سے ڈیورنڈ لائن کا علاقہ اسلامی مزاحمتی تحریک کا مرکزبن گیا‘‘۔CIA
سوویٹ یونین شکست کھا کر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوا اور امریکہ نے قانون فطرت سے انحراف کرتے ہوئے افغان مجاہدین‘ جو کہ اصل فاتح تھے‘ کو حکومت سازی کے عمل میں شریک ہونے کے حق سے محروم کر دیا اور یہی بات افغانستان میں خانہ جنگی اور پھر 1995ء میں طالبان کے ابھرنے کا سبب بنی۔

2001ء تک طالبان نے افغانستان کے بیشتر علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا‘ جب سانحہ نائن الیون رونما ہوا اور اسکے انتقام میں اندھا ہوکرامریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کردی‘ ملک پر قبضہ کرلیا گیا‘ افغان قوم کو ناکردہ گناہ کی سزا دی گئی اور اسے تباہ کر دیا گیا لیکن ان کے جذبہ حریت کوشکست نہ دے سکا ۔اب جبکہ قابض فوجوں کا انخلا مکمل ہونے کو ہے‘ طالبان نے آپریشن Spring Offensive شروع کر دیا ہے کیونکہ امریکہ اور افغانستان میں قائم انکی حمایت یافتہ حکومت نے ایک بار پھرطالبان کو حکومت سازی کے عمل سے محروم رکھنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں‘ جس سے اقتدار کی جنگ شروع ہوچکی ہے اور ’’صدر اوبامہ کی طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے کے طریق کار اور انکی افغان پالیسی میںموجود خرابیوں کی وجہ سے امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ مزید طویل ہوتی جا رہی ہے ۔ ‘‘ ۔ Brahma Chellaney

افغان طالبان گذشتہ پینتیس (35) سال سے اپنے وطن کی آزادی و خودمختاری کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس دوران انہوں نے دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتوں کو شکست سے دوچار کیا ہے جو حربی تاریخ میں ایک منفرد نوعیت کا غیر معمولی واقعہ ہے جبکہ ہمارے وزیر اعظم نے 12 مئی کو کابل میں اعلان کیا کہ ’’افغان طالبان کا آپریشن Summer Offensive اور انکے حملے دہشتگردی تصور کیے جائیں گے اور ہم ایسے حملوںکی مذمت کرتے ہیں۔‘‘ بہتر ہوتا کہ اس معاملے پر وزیر اعظم پارلیمنٹ سے راہنمائی حاصل کرتے جیسا کہ سعودی عرب اور یمن کے تنازعے میں ہوا تھا۔ ہمارے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی نے افغانستان کے ڈائریکٹر جنرل برائے قومی سلامتی کیساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرکے بہتر اقدام اٹھایا ہے جس کی رو سے دونو ں ممالک کی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے گا کیونکہ یہ ہماری مشترکہ ضرورت بھی ہے اورذمہ داری بھی ۔

افغان بہت کشادہ دل قوم ہیں۔ انکی قومی شناخت و اقدار مثالی ہیںاور ہماری نسبت دو سو سال پرانی ہیں۔ 2001ء میں افغانیوں کیخلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کے باوجود انہوں نے کبھی ہمیں اپنا دشمن نہیں سمجھا۔یہ افغانستان کی نام نہاد حکومت ہی ہے جس نے پاکستان کیخلاف عالمی سازشوں کے فروغ میں بھارت کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی۔ 2007ء میں راقم نے پاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کا مفصل تجزیہ پیش کیا تھا لیکن کسی نے میری باتوں پر کان نہ دھرا۔ اب مجھے امید ہے کہ افغان طالبان کی تحریک میں آنیوالی تذویراتی تبدیلی کا ہمیں علم ہو چکا ہوگا جس سے علاقائی سلامتی پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ تبدیلی یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے آپریشن کے سبب طالبان کی پناہ گاہیں اور امدادی کیمپ تباہ کر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اپنی مزاحمتی کارروائیوں کا مرکز افغانستان کے شمال علاقوں کی جانب منتقل کرنا پڑا ہے جہاں ازبکستان کی اسلامی تحریک (Islamic Movement of Uzbekistan - IMU)‘ جس کی تعداد سات تا آٹھ ہزار جنگجوئوں پر مشتمل ہے‘ اسکے اشتراک سے بدخشاں‘ تخار‘ فاریاب‘ زابل‘ بغلان‘ کندوز‘ جوشجان اور بادغیس کے صوبوں میں خاصا اثرو رسوخ بڑھا لیا ہے۔

آئی ایم یو (IMU) نے ان مقامات پر اڈے اس لئے قائم کیے ہیں تاکہ وہ طالبان کو ساتھ ملا کر ازبکستان‘ تاجکستان‘ ترکمانستان اور کرغزیا میں کارروائی کرسکیں اورطالبان نے تقریباً پندرہ ہزار جنگجوئوں کوان علاقوں میں متحرک کر دیا ہے‘ جو اپنے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں‘ جو کہ احمد شاہ مسعود اور جنرل دوستم کے مضبوط گڑھ تصور کیے جاتے ہیں۔ افغانستان کے شمال میں موجود یہ ٹھکانے ‘ افغانستان میں جنگ کو ایک نیا رنگ دے رہے ہیں‘ جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ’’امریکہ کے آپشنز محدود ہوتے جا رہے ہیںکیونکہ وہ طالبان کو کابل کی طرف پیش قدمی سے روک نہ پائے گا‘‘ Brahma Chellaney آج کے طالبان‘ 1990ء کے طالبان سے بہت مختلف ہیں۔ کل انکے دوآقا تھے یعنی سی آئی اے اور آئی ایس آئی‘ مگر اب ایک سرپرست ہے یعنی ملا عمر۔ اس وقت مجاہدین کے سات قائدین تھے اور اب صرف ایک ملا عمرانکے قائد ہیں۔اب انکی اصل مزاحمتی قوت ‘ افغانستان کے وہ نوجوان جنگجو ہیں جو جنگ کے سایوں میں پل کر جوان ہوئے ہیں۔وہ نہایت سخت گیر ہیں لیکن انکی قیادت بالغ النظراور ملک میں قیام امن کے حوالے سے مثبت سوچ کی حامل ہے۔ دسمبر 2012ء میں پیرس میں منعقد ہونیوالی انٹرا افغان مذاکرات میں انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ :ـ

’’اب ہم 1990 ء کی طرح دشمنوں کے دھوکے میں نہیں آئینگے۔ جب قابض فوجیں افغانستان سے نکل جائیں گی تو ہم باہمی اتحاد و مفاہمت سے ایک نمائندہ حکومت قائم کرینگے جو ہماری قومی اقدار و روایات کی امین ہوگی۔ہماری منزل آزادی ہے اور ہمارا عزم مصمم ہے۔‘‘ طالبان کو پہلے ہی افغانستان کے بیشتر علاقوں پر کنٹرول حاصل ہے اور اب انہوں نے افغانستان نیشنل آرمی پر دبائو بڑھانا شروع کر دیا ہے جو‘ امریکی جنرل رابرٹ سیل کے بقول ’’خزاں رسیدہ پتوں کی طرح جھڑ رہی ہے۔‘‘گذشتہ اتوار کو طالبان نے کابل ائرپورٹ کے قریب امریکی قافلے پر حملہ کیاجس میں دس امریکی ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔پورے افغانستان میں طالبان کی طرف سے مزاحمت شدید ہوتی جا رہی ہے۔

افغانستان کا انتہائی قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے پاکستان کی یہ ذمہ داری ہے کہ ’’ایشیا کے قلب‘‘ میں قیام امن کی کوششوں کو فروغ دے کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ہم نے دیکھا ہے کہ گذشتہ پچیس سالوں سے امریکہ القاعدہ کو تباہ کرنے میں لگا ہوا ہے لیکن سوائے ناکامی و نامرادی کے اسکے ہاتھ کچھ نہیں لگا بلکہ القاعدہ کا بھوت مختلف شکلوں میں ان کے اعصاب پر سوار ہے‘ مثلأشام و عراق میں داعش‘ لیبیا میں تکفیری‘ صومالیہ میں الشباب‘ نائیجیریا میں بوکو حرام‘ یمن میں حوثی‘ افغانستان میں طالبان اور اب ازبکستان کی تحریک اسلامی کی صورت میں مزاحمت کا نیا مرکز شمالی افغانستان میں ابھرا ہے۔ کوئی ہے جو انکی سرزمین پر ان کا مقابلہ کر سکے؟ کسی میں اتنا حوصلہ اور جرأت نہیں سوائے ایران اور حزب اللہ کے‘ لیکن وہ بھی اس جنگ میں شدید نقصان اٹھا کر ہلکان ہورہے ہیں۔’’امریکہ کیلئے خصوصاً یہ صورتحال انتہائی مایوس کن اور اضطراب کا باعث ہے اور اگروہ معاملہ فہمی سے محروم رہا تو رسوائی و ناکامی اس کا مقدر ہوگی۔‘‘۔Brahma Chellaney

افغانستان میں سازشیںاور ریشہ دوانیاں حالات کو مزید بگاڑنے کا سبب بنیں گی اوران پر کنٹرول کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ماضی میں سازشوں کے نتائج ہم دیکھ چکے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس سال کے آخر میں پاکستان میں منعقد ہونیوالی ’’ہارٹ آف ایشیا‘‘ کانفرنس کے دوران اجتماعی سیاسی و سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قیام امن کی راہیں تلاش کرنے میں مدد ملے گی لیکن افسوس کہ ہم میں یہ اجتماعی سیاسی و سفارتی بصیرت کہیںدور تک نظر نہیں آتی۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.