.

ایگزیکٹ کی بلند پروازی

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈیکلن والش ایک سنجیدہ صحافی ہیں اور بطور رپورٹربہت سا اچھا کام اُن کے کریڈٹ پر ، لیکن جب نیو یارک ٹائمز اپنی بلند صحافتی اخلاقیات کی بات کرتا ہے تو چاہے اُس کا موقف درست ہی کیوں نہ ہو، میرے منہ کا ذائقہ خراب ہوجاتا ہے۔ عراق جنگ ایک غلطی تھی۔ بہت سے لوگ جو اُس وقت اس جنگ کے حق میں تھے، آج اسے ایک غلطی تسلیم کرتے ہیں۔ اُس وقت نیویارک ٹائمز جھوٹ اور غلط بیانی کی بنیاد پر لڑی جانے والی اس جنگ کے بڑے اور پرجوش نقیبوں میں سے ایک تھا۔ جب آپ اتنی خوفناک غلطیاں کرچکے ہوں تو پانی کے چند چھینٹے دامن پر لگے اتنے بڑے داغ نہیں اتار سکتے۔

جعلی ڈگریاں فروخت کرنا یقینا بہت گھٹیا حرکت ، لیکن جب میری نظر اُس کے صارفین پر پڑتی ہے تو میں ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ ایگزیکٹ نے کچھ پاکستانیوں کوبھی چکما دیا ہو لیکن کراچی کی اس آئی ٹی کمپنی کے جال میں زیادہ تر امریکی، عربی اور بھارتی باشندے آتے رہے۔ تھوڑی دیر کے لئے عرب بھائیوں کو ایک طرف رکھیں، امریکی اور بھارتی باشندے چالاک لوگ ہوتے ہیں۔ لیکن کیا ڈگری حاصل کرنے کے لئے انٹر نیٹ استعمال کرنا دانائی ہے تاوقتیکہ آپ جانتے ہوں کہ یہ ایک جعلی ڈگری ہے اور یہ آپ کے کس کام آسکتی ہے؟اس معروضہ کو سامنے رکھتے ہوئے سوچیں کہ کیا ایگزیکٹ کا شکار ہونے والے معصوم اور بھولے بھالے افراد تھے یا چالاک اور جہاندیدہ گھاگ جو جانتے تھے کہ وہ کیا کرنے جارہے ہیں؟

اہم ترین سوال یہ کہ ایگزیکٹ یا اس کی خفیہ ویب سائٹس اتنا عرصہ کسی کی نظروں میں آئے بغیر جعلی کاروبار کرنے کے قابل کیسے ہوئیں؟ یقینا ایسے کالجوں اور یونیورسٹیوں، جن کا کہیں وجود ہی نہ ہو، کی ڈگریاں فروخت کرکے ڈالر کمانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، اس کے لئے بہت ذہین دماغ چاہیے۔ اگر کوئی شخص ’’Barkley‘‘ اور’’Columbiana‘‘جیسے ناموں پر ڈالر خرچ کرنے کے لئے تیار ہوجائے تو میرا خیال ہے کہ اُس کا لٹنا بنتا ہے۔ ڈبل شاہ رقم دوگنی کرنے کا وعدہ کرتا تھا، چنانچہ ہزاروں افراد ایسے تھے جنہوں نے کسی روشن دن عقل کو خیرباد کہہ کر اُس کے ہاتھ میںاپنی جمع پونجی تھما دی۔ کیا ایسے لوگ خود ہی لٹنے کے لئے تیار نہیں بیٹھے ہوتے؟

نیٹ پر ہر قسم کی ویب سائٹس ہوتی ہیں اور ان پر ہر قسم کا ’’مال ‘‘ فروخت ہوتا ہے۔ اس کی کوالٹی کی کوئی ضمانت نہیں، بلکہ یہ گاہک کو خود ہی دیکھنا پڑتا ہے کہ وہ کیا خریدنے جارہا ہے۔ دراصل نوسربازی ایک فن ہے۔ اس فن کا سلسلہ سڑک کے کنارے شعبدے دکھانے اورقوت میں اضافے کی جعلی ادویات فروخت کرنے سے لے کر غیر معمولی منافع کا وعدہ کرنے والی مالیاتی کمپنیوں اور دنیا کے دور دراز ممالک ،جیسا کہ نائیجریا اور لائبریاوغیرہ، سے ای میل بھجوانے والے افراد، جو آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ دس ملین ڈالر کا فنڈ آپ کی تحویل میں دے کر دنیا سے رخصت ہونا چاہتے ہیں، تک پھیلا ہوا ہے۔

ایگزیکٹ نے یہ کام ذرا بڑے پیمانے اور زیادہ مہارت اور سلیقے سے کیا لیکن مومی پروں کے ساتھ سورج کے قریب جانا کہاں کی دانائی ہے؟ غالباً ایسا ہوا کہ یہ اپنی پہنچ سے زیادہ بلند پرواز کرنے کی کوشش میں تمازت کی زد میں آگئی جو موم کے پر پگھلا دیتی ہے۔ آغا حسن عابدی کے بنک ، بی سی سی آئی، کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ اُسے یک لخت کامیابی اور ترقی ملنے لگی، لیکن پھر اس نے بہت لاپرواہی سے مبینہ طور پر اتنے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کرنا شروع کردی کہ امریکی اداروںکی نظروں میں آگیا۔ ہمارے عظیم جوہری سائنسدان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ اُنھوں نے ملک کے لئے بم بنانے پر اکتفا کرنے اور باقی زندگی عبادت ریاضت وغیر ہ میں گزارنے کی بجائے بم بنانے کی عالمی سطح پر تجارت کرنے کی ٹھانی۔

اس ضمن میں ان کی یہ بات درست ہے کہ وہ اس میدان میں اکیلے نہیں تھے کیونکہ سینٹری فیوج مشینیں کوئی قلم نہیں ہوتیں کہ آپ بڑے آرام سے جیب میں ڈال کر چلتے بنیں۔یہ اُن کی اور پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ امریکیوں کی اُن پر بہت دیر بعد نگاہ پڑی، ورنہ اگر وہ دبئی ،جہاں وہ اکثر جاتے رہتے تھے، سے اٹھا لئے جاتے تو سخت مشکل میں پھنس جاتے۔ تاہم یہ اُس وقت کی بات ہے ، آج کل وہ عبادت اور وضو کی اہمیت پر بہت متاثر کن کالم لکھ رہے ہیں۔ ایگزیکٹ کا شمار بھی اسی صف میں ہوتا ہے۔ اس کی مہارت اسی کے گلے پڑگئی۔ اس نے نگاہوں کو خیرہ کرنے والی لاتعداد ویب سائٹس بنائیں اور جعلی ڈگریوں کا دھندہ اتنے بڑے پیمانے پر کیا کہ اس نے کسی نہ کسی کی نظروں میں آنا ہی تھا۔ اور پھر یہ ایگزیکٹ کی بدقسمتی کہ اس پر ڈیکلن والش ، جو اپنی خبروں پر بہت محنت کرتے ہیں، نے رپورٹ لکھی۔

اس موضوع پر میری فکر قدرے مختلف ہے۔ کیا یہ فراڈ ایل این جی ڈیل، جس کا کسی کوپتہ ہی نہیں، سے بڑ اہے؟کیا یہ ہمارے ملک میں پیش آنے والے دیگر واقعات، جیسا کہ سیف الرحمن سے متعلق کہانیاں، رینٹل پاور سقم، این ایل سی اسکینڈل (اور یہ فہرست بہت طویل ہے) سے زیادہ سنگین نوعیت کا ہے؟ ماڈل ٹائون سانحہ ، جس پر بننے والی جے آئی ٹی نے وزیر ِ اعلیٰ، رانا ثنااﷲ ، توقیر شاہ وغیرہ کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے ایک ایس پی اور کچھ نچلے درجے کے پولیس اہل کاروں کو واقعے کا مرتکب ٹھہرایا ہے،اس سے کم نوعیت کا جرم تھا؟کیا کسی ضرورت مند کو جعلی ڈگری بنا کر دینا زیادہ سنگین جرم ہے یا ایشیا کے پیرس، جسے عام فہم زبان میں لاہور کہا جاتا ہے، میں بیمار یا قریب المرگ بھینسوں کے گوشت کی فروخت؟

دراصل ایگزیکٹ کا معاملہ نیویارک ٹائمز رپورٹ کی وجہ سے نظروں میں آگیا ۔ کئی سالوں سے نیویارک ٹائمز نے پاکستان پر بہت سے الزامات لگائے ہیں، جیسا کہ امریکہ کے حلیف ہوتے ہوئے بھی طالبان سے درپردہ روابط رکھنا، وغیرہ لیکن ان کہانیوں کو ہمیشہ نظر انداز کردیا گیا، لیکن ایگزیکٹ کی کہانی دھماکہ خیزانداز میں سامنے آئی۔اس کی ایک وجہ، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، کا تعلق میڈیا سے ہے۔ ایگزیکٹ کا اونچی چھلانگ لگانے کا ایک پہلو اس کی طرف سے ایک ٹی وی چینل شروع کرنا تھا (جو ابھی تک شروع نہیں ہوسکا)۔ اس چینل کے لئے اس نے دیگر چینلز سے ٹیلنٹ اکٹھا کرنے کے لئے بھاری اور پرکشش معاوضہ دینے کی راہ اپنائی۔ ان بھاری معاوضوں کی وجہ سے یہ بات پہلے بھی گردش میں تھی کہ اس چینل کے پیچھے کون ہے اور یہ رقم کہاں سے آ رہی ہے۔ اس ضمن میں کسی انڈرورلڈ ڈان کا بھی نام لیا جا رہا تھا۔

افواہوں سے بھرپور اس فضا میں جب ڈیکلن والش کی کہانی نے پتھر پھینکا تو یہ بم دھماکے سے کم نہ تھا۔ پھر کیا تھا، زبان ِ زد ِخاص وعام پر ایک نیاچینل تھا۔ ایک حوالے سے یہ سب کچھ اس کی تشہیر کا سامان ہی تھا۔

پاکستان میں میڈیا کی کمرشل بنیادوں پر ہونے والی سخت کشمکش کو دیکھیں تو اس معاملے میں کاروباری رقابت کا پہلوابھر کرسامنے آنا فطری بات تھی۔ ایک اور بات یہ کہ ہمارے وزیر ِ داخلہ ان دنوں سائیڈ لائن پر ہیں۔ اب وہ حکومت کی اہم میٹنگز میں دکھائی نہیں دیتے ، چنانچہ اس واقعے نے اُنہیں ایک موقع فراہم کردیا کہ وہ فعالیت کا تاثر دیتے ہوئے کچھ بے معانی اعلانات کر ڈالیںتاکہ سند رہے۔ جب صفوراگوٹھ کا واقعہ پیش آیا تو آرمی چیف اور وزیر ِ اعظم فوراً کراچی پہنچے، لیکن وزیر ِداخلہ پانچ یا چھ دن بعدوہاں گئے اور کچھ بے مقصد باتیں دہرائیں۔

اس دوران جب نیویارک ٹائمز کی کہانی سامنے آئی تو اُنھوں نے فوراً ہی ایف آئی اے کو تفتیش کا حکم دیا (بالکل اسی طرح اُنھوں نے مشرف کے خلاف غداری کیس کو کھول دیا اور پھر وزیر ِ اعظم کو بعد میں اس کا بوجھ اٹھانا پڑا)۔ ماڈل ایان علی کا رقم اسمگلنگ کیس ایک قابل ِ دید نظارہ بن چکا ہے۔

اس بات کوکئی ہفتے گزر چکے ہیں اور ابھی تک کسٹم حکام اُس کے سیل فو ن کا کوڈ نہیں کھول سکے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ ایف آئی اے کے جاسوس اس کیس میں پائی جانے والی مبینہ پیچیدگی سے کیسے نمٹتے ہیں؟

ایگزیکٹ کے حوالے سے ایک بات یادر کھنے کی ہے کہ اس کی بنائی گئی پی ایچ ڈی کی جعلی ڈگریاں زیادہ تر امریکی مارکیٹ کے لئے تھیں۔ کیا اس کو دیکھنا امریکی حکام کا فرض نہیں تھا؟بہرحا ل یہ ایک دلچسپ کیس بننے جارہا ہے۔ایگزیکٹ کے باس، شعیب شیخ کو ٹی وی پر دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ ایک بہت پراعتماد شخص ہے۔ جس صورت ِحال کا اُس کو سامنا ہے ، کوئی عام آدمی حواس باختہ ہوجاتا ، لیکن اس نے ہر الزام کی تردید کرتے ہوئے ٹی وی میزبان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اُس کی کمپنی صرف پورٹیل Portals بناتی اور فروخت کرتی ہے اور یہ کہ (بقول اُس کے) ان کا جعلی ڈگریوں کی فروخت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دراصل سائبرا سپیس تحقیق کے لئے ایک مشکل میدان ہے لیکن مسٹر والش کی کہانی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اُس نے ثبوت کے ساتھ بات کی ہے۔اب تک ہونے والی پیش رفت سے تاثر یہی ہے کہ اس نئے چینل کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ ایسے معاملات میں اگرایک مرتبہ ساکھ کو نقصان پہنچ جائے تو تلافی مشکل ہوجاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ایگزیکٹ کا سی ای او ایک زیرک شخص ہے اور ہو سکتا ہے کہ قانون اُس پر آسانی سے ہاتھ نہ ڈال سکے، بہرحال یہ کیس میڈیا کے لئے بہت پرکشش ہے۔ ڈبل شاہ اور ایان علی کیس کشش میں اس کے سامنے دھندلا گئے ہیں۔ آخری بات، ہمارے گھر کی رونق ایک ہنگامے پر ہی موقوف ہے۔
---------------------

بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.