.

پاکستان کے خلاف گھنائو نی سازش!

طارق چودھری، سابق سینیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’نیو یارک ٹائمز‘‘ اچھی شہرت‘ کثیر اشاعت اور عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے میں پہلے دو تین اخبارات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں چھپنے والے ایک ایک لفظ کو اہمیت حاصل ہے۔ ہمارے قومی رہنما امریکہ کے دورے پر ہوں‘ انہیں اس اخبار میں دو سطری سنگل کالم جگہ مل جائے تو سفارت خانہ پھولے نہیں سماتا۔ ان کے ہاں جگہ ہوتی ہے‘ نہ وقت ۔ اس معتبر اخبار نے‘ 19 مئی کو نمایاں جگہ پر طویل مضمون شائع کیا ہے۔ مضمون نویس ’’ڈیکلن والش‘‘ (Declan Walsh) بین الاقوامی شہرت کے انویسٹی گیٹر جرنلسٹ ہیں۔

انہوں نے کئی مہینوں کی عرق ریزی سے پاکستان میں کام کرنے والی بڑی اور بااثر آئی ٹی کمپنی ’’ایگزیکٹ‘‘ کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’یہ کمپنی عالمی سطح پر بڑے تعلیمی فراڈ میں ملوث ہے‘ یہ آئی ٹی بزنس کی آڑ میں جعلی ڈگریوں کا دھندا کرتی ہے‘ ہائی اسکول کی سند سے لے کر پی ایچ ڈی کی ڈگری تک‘ دو سو ڈالر کی قیمت سے دو لاکھ ڈالر تک‘ اس نے بڑے عالمی شہرت کے اسکول ‘ کالج اور یونیورسٹیوں سے ملتے جلتے ناموں کے جعلی ادارے بنا رکھے ہیں جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ تین سو ستر ویب سائٹس بنا رکھی ہیں اور آن لائن تعلیم کا جھانسہ دیا جاتا ہے۔ کہنے کو کمپنی ’’سافٹ ویئر‘‘ کا کام کرتی ہے‘ اس شعبے میں پیداوار نہ گاہک‘ پھر یہ کمپنی چند برس میں 20ًَارب ڈالر کے اثاثہ جات کی مالک کیسے ہو گئی؟ ڈیکلن والش نے کمپنی کے بعض سابق ملازمین اور لٹے ہوئے گاہکوں کو بھی کھوج نکالا ہے‘ جن میں کمپنی کے سابق کوالٹی کنٹرول آفیسر یاسر جمشید بھی شامل ہے۔

ایک سعودی شہری کو چار لاکھ ڈالر میں جعلی ڈگری تھما دی گئی‘ ایک مصری، انجینئر بننے کیلئے بارہ ہزار ڈالر گنوا بیٹھا۔ اس کمپنی کے نام نہاد سربراہ ’’بل گیٹس‘‘ سے زیادہ دولت کما کر دنیا کے سب سے امیر آدمی بننے کی شیخی بگھارتے ہیں۔ بلیک میل پوزیشن کیلئے ’’ایک نیا چینل‘‘ لایا جا رہا ہے۔ مذکورہ کمپنی کے خلاف ایک مقدمے میں تیس ہزار امریکی مدعی بنے‘ یہ کمپنی اپنے ناجائز کاروبار سے ان دنوں تقریباً ڈیڑھ لاکھ ڈالر یومیہ کما رہی ہے۔

’’نیویارک ٹائمز‘‘ میں اس مضمون کی اشاعت کے چند گھنٹے بعد وزیرداخلہ کے حکم پر ایف آئی اے نے چھاپے مارے‘ ان کے کمپیوٹرز‘ دستاویزات کو قبضے میں لے کر ملازمین کو حفاظت میں رکھ لیا تاکہ ان کے بیانات لئے جا سکیں۔ ساتھ F.B.R بھی حرکت میں آئی‘ سندھ کا بورڈ آف ریونیو بھی خواب سے جاگا۔ اس پر اگلے ہی دن یعنی ’’بدھ‘‘ 20 مئی کو ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے پالیسی ایڈیٹوریل بورڈ نے طویل اور مدلل اداریہ لکھا۔ انہوں نے نہ صرف اس اسٹوری کی تصدیق کی بلکہ اس کی اہمیت کو زیادہ وسعت اور سنجیدگی بخشی۔ اداریے میں یہ سوال اٹھا کہ پاکستان کے تمام ادارے اس مضمون کی اشاعت کے بعد ہی حرکت میں کیوں آئے؟کیا حکومت اس سے پہلے بے خبر تھی؟

اگر بے خبر تھے تو نالائق ‘ باخبر تھے تو بدعنوان اور شریک جرم۔ بی بی سی لندن نے بھی ایک گھنٹے کا پروگرام نشر کیا۔ دنیا بھر کے اخبارات اور ٹی وی اس انہونی کو لے اڑے۔ اگلے دن یعنی ’’جمعرات‘‘ 21 مئی کو ’’نیویارک ٹائمز‘‘ میں فاضل مصنف کا ایک اور مضمون شائع ہوا‘ جس میں مزید معلومات اور شواہد پیش کر دیئے گئے۔ اسی دن دبئی اور ابوظہبی کے دو مؤقر جرائد ’’خلیج ٹائمز‘‘ اور ’’گلف نیوز‘‘ نے تفصیلی مضامین لکھے۔ دبئی کا دفتر بند پڑا ہے کہ

مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا
ان خالی کمروں میں ناصر اب شمع جلائوں کس کے لئے

دو برس ہونے کو ہیں کوئی ملازم آیا نہ کسی مالک کا گزر ہوا۔ پاکستان میں متعلقہ ادارے کافی حد تک اس فراڈ سے آگاہ تھے۔ ایف بی آر اس کمپنی کے ٹیکس معاملات کو جانتا تھا‘ نیب کو ان کے غیرقانونی دھندے کی تحریری اطلاع مل چکی تھی۔ ایک خاتون ایم پی اے کے بیٹے کو اس فراڈ ادارے میں پرکشش نوکری ملی ‘ تین دن کے بعد اس نے دفتر جانا بند کر دیا اور والدہ کو اطلاع دی کہ یہ ادارہ غیرقانونی اور غیراخلاقی کاروبار میں ملوث ہے۔ اپنی ماں کے مشورے پر بیٹے نے ایف آئی اے سے رجوع کیا اور ساری تفصیلات سامنے رکھ دیں ‘ پھر بھی کچھ نہ ہوا۔اس عرصہ میں فراڈ کو جاری رکھنے کیلئے بلیک میلنگ کا طاقتور ہتھیار درکار تھا تاکہ کوئی سرکاری افسر اور سیاستدان میلی آنکھ سے نہ دیکھے۔

وزیر داخلہ رحمن ملک مدد کو آئے‘ سیکورٹی کلیئرنس کے بغیر ہی انہیں ٹی وی چینل کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔ جس ملک میں کسی چھوٹے گھر میں بجلی کے میٹر او رگیس کنکشن کیلئے وزیر کی سفارش‘ بھاری فیس اور رشوت کی رقم بیک وقت ادا کرنی پڑتی ہے‘ وہاں بغیر سیکورٹی کلیئرنس کے ٹی وی چینل کی اجازت کتنے میں دی گئی ہوگی‘ وہ بھی بیس ارب ڈالر رکھنے والی کمپنی کو؟ پاکستانی اخبارات اور ٹی وی نے اس فراڈ کو ثابت کرنے میں قابل قدر کام کیا ہے؟ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ’’نیا چینل‘ ‘ چل رہا ہوتااور اس کے مالکان نے اس کلب کی باقاعدہ ممبرشپ حاصل کر لی ہوتی‘ اس کا چہرہ عاصمہ شیرازی‘ کامران خان کی شکل میں سامنے ہوتا‘ تب بھی آپ ایسا ہی ردعمل دے سکتے تھے؟ اللہ کا شکر ہے کہ ’’یہ چینل‘‘ بروقت چل نہیں سکا‘ اب اس کی کوئی سنتا نہیں۔ بدعنوان سیاستدان‘ قانون پابند عدالت اپنے فرائض کی ادائیگی میں لاجواب ہیں۔

نئے وزیرداخلہ نے ’’اس چینل‘‘ کی اصل حقیقت جاننے کے بعد اس کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا ‘ تب سے دو برس ہوئے’’عدالت محترمہ‘‘ نے حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے۔ اسی حکم امتناعی کے سہارے اب جلدی میں اس کو ’’چلنا‘‘ سکھایا جا رہا ہے۔بیس روپے کے حصہ داران کو نامعلوم لوگوں کے ساتھ ملا کر وسیع کاروبار کرنے کی اجازت ہے اور ایک ٹی وی چینل بھی ۔ فرض کریں شعیب شیخ فرنٹ مین ہے‘ اصل کمپنی جو کل چھ لاکھ حصوں میں 99.99 فیصد کی مالک ہے‘ اس کے کرتا دھرتا‘ القاعدہ ہے‘ داعش‘ اسرائیل یا ’’را‘‘۔ آپ نے ان کو جرائم کی کھلی چھوٹ اور بلیک میل کرنے کا طاقتور ہتھیار دے رکھا ہے‘ اس حرکت کا ذمہ دار کون ہے؟ ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کی برکت سے راتوں رات شہرت کی بلندیوں کو پانے والے ’’شعیب شیخ‘‘ کون ہیں؟

موٹروے پر آتے جاتے سرسبز پہاڑوں میں گھرے خوبصورت جھیل والے ’’کلر کہار‘‘ سے باہر نکل کر چکوال کی طرف روانہ ہوں تو پہاڑ کی اترائی میں نالہ ہے‘ اس سے ذرا پرے سڑک کے دونوں کنارے ایک گائوں آباد ہے‘ نام اس کا ’’بھون‘‘ گائوں شاید لاہور‘ ملتان اور دلی سے کہیں پرانا ہے‘ کیونکہ کورو ‘ پانڈو ’’یدھ‘‘ اس گائوں نے دیکھا‘ پہاڑ کی اترائی میں واقع نالے کے کنارے ’’سوئمبر‘‘ ہوا جس میں ’’پانڈووں‘‘ کے بڑے بھائی ’’ارجن‘‘ نے مچھلی کی آنکھ میں تیر پرو کر ’’خوبصورت دروپدی‘‘ کو جیت لیا جو سب بھائیوں کی بیوی بنی کہ ان دنوں ’’چند سری‘‘ کا رواج تھا۔ ’’دروپدی‘‘ کی رقابت مہا بھارت کا باعث بنی جس میں کروڑوں لوگ ہلاک ہوئے‘ ویسے ان دنوں سارے برصغیر کی کل آبادی لاکھوں میں تھی‘ پھر بھی کروڑوں کھیت رہے۔ اسی گائوں میں ہمارے دوست پروفیسر غنی جاوید رہتے ہیں۔ ان کی بغل میں ایک گھر پٹواریوں کا ہے‘ اب یہ گھرانہ پروفیسر کے غریب خانے کی ہمسائیگی سے جناب ایاز امیر کے دولت کدے کے اردگرد جا بسا ہے۔ اسی گھرانے کا ایک چراغ شعیب ہے‘ جس نے ارادہ باندھ رکھا ہے کہ ’’وہ ایک کمرے کے گھر میں پیدا ہوا مگر دنیا کا امیر ترین آدمی بن کے رہے گا‘‘ یہی شعیب اب ’’شعیب شیخ‘‘ اور ’’ایگزیکٹ‘‘ کا چیف ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.