.

سازشیوں کی تلاش

مطیع اللہ جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کو کام کا آغاز کیے45 دن گزر چکے ہیں۔آرڈیننس کے تحت کمیشن کو اس مدت میں ممکنہ طور پر تحقیقات مکمل کرنا تھیں،تاہم قانون نے اس مدت کے بعد بھی کمیشن کے کام جاری رکھنے کی گنجائش رکھی ہے۔ کچھ قانونی ماہرین کے مطابق کمیشن کی مدت میں ہفتہ وار اور سرکاری چھٹیاں شامل نہیں ہوتیں۔ اس عدالتی کمیشن کے 45دن کی مدت بظاہر 23 مئی کو ختم ہو گئی تھی، مگر آرڈیننس کے تحت ےہ مدت حتمی نہیں۔سرکاری اور ہفتہ وار چھٹیاں نکال کر کمیشن کے 45دن کی مدت30مئی کو ختم ہو گی۔

اس کے علاوہ آئین کے تحت کسی بھی آرڈیننس کی مدت 120 دن ہوتی ہے یوں تکنیکی لحاظ سے کمیشن کے پاس اگست کے آخر تک کا قانونی وقت بھی ہے مزید ےہ کہ اس عدالتی کمیشن کا آرڈیننس اسمبلی میں بھی پیش ہو چکا ہے۔ ایک رائے کے مطابق کوئی بھی آرڈیننس 120 دن کے بعد بھی زندہ رہتا ہے اگر اسے اس مدت کے دوران اسمبلی میں پیش کر دیا جائے۔ تاہم اس آرڈیننس کی 4 ماہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے کمیشن کی ترکیب میں اہم تبدیلی رونما ہو گی۔ کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس ناصرالملک 16 اگست کو ریٹائر ہوں گے جس کے بعد وہ قانوناََ کمیشن کے رکن نہیں رہ سکیں گے۔

آرڈیننس کے تحت سپریم کورٹ کا جج بھی کمیشن کا رکن بن سکتا ہے۔ جسٹس ناصرالملک کے بعد جسٹس جواد ایس خواجہ 24دن کے لئے چیف جسٹس بنیں گے۔ مخصوص اور منفرد طبیعت کے حامل جسٹس جواد ایس خواجہ کا ازخود کمیشن کے رکن بننے کا کوئی امکان نہیں۔ ایسے میں اگر کمیشن کا کام 16 اگست تک جاری رہا تو وہ اس کے لئے سپریم کورٹ کا ایک نیا جج مقرر کریں گے۔ ان تمام اہم تاریخوں کے باوجود لگتا ہے کہ چیف جسٹس ناصر الملک اپنا کام ادھورا چھوڑ کر ریٹائر نہ ہوں گے۔ اِن کی سربراہی میں کمیشن کی اب تک کی کارروائی میں تحقیقات کی سمت متعین کر دی ہے۔

تلاش ،دھاندلی ےا بے ضابطگی کی نہیں بلکہ صرف منظم دھاندلی کی ہے جس کے لئے چیف جسٹس ناصر الملک نے تمام فریقین سے تحریری طور پر دو ٹوک سوال کیا تھا کہ مبینہ منظم دھاندلی کے منصوبہ ساز(designer) اور اعلیٰ کا (executioner) کون تھے؟کسی فریق سیاسی جماعت نے ابھی تک اس سوال کا واضح جواب نہیں دیا اور تحریک انصاف کا مﺅقف تھا کہ قانون کے تحت عدالتی کمیشن خود بھی اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے مبینہ دھاندلی کے منصوبہ سازوں اور اعلیٰ کاروں کی شناخت کا پابند ہے۔ ایک بات واضح ہے کہ ان دو عناصر کی شناخت اور باہمی تعلق کو ثابت کیے بغیر تحریک انصاف ےہ مقدمہ ہار جائے گی اور اصل میں ےہ مقدمہ ہے ہی تحریک انصاف کا۔ باقی سیاسی جماعتیں شامل باجا پارٹی کے طور بھی دُھن کے مطابق آواز نہیں نکال رہیں بلکہ ےہ سب واضح طور پر دو کشتیوں کے سوار ہیں جس کو ہم لوگ تعمیری سیاست کا نام دیتے ہیں۔منظم دھاندلی ثابت نہ ہونے پر یہی شامل باجا فریقین اِسے جمہوریت کی خطا اور اپنے مﺅقف کی توثیق قرار دیں گے۔اب تک کے گواہان اور شواہد کے منصوبہ ساز اور اعلیٰ کار کے خدوخال واضح نہیں۔

دھرنے سے پہلے اور اس کے دوران جن شخصیات کو ملزم گردانا گیا ،وہ گواہان کی فہرست میں بھی نہیں اور اب الزامات کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔اُردو بازار میں بیلٹ پیپروں کی چھپائی،اُسی بازار سے 200افراد کی افرادی قوت کا طلب کیا جانا اور مقناطیسی سیاہی کی فراہمی میں جعلسازی کے الزامات ایک نیا رُخ اختیار کر رہے ہیں۔ اب اعلٰی افسرانِ اعلیٰ کمیشن و پرنٹنگ پریس نے واضح کیا ہے کہ اُردو بازار میں بیلٹ پیپروں کی چھپائی ممکن ہی نہیں اور اِس کام کے لئے اُردو بازار کے200افراد کی نہیں محض 34افراد کی مدد لی گئی اور اِن افراد سے بیلٹ پیپروں کی چھپائی نہیں محض نمبر شمار اور بائنڈنگ کا کام لیا گیا۔دھرنے کا ایک اور الزام پولنگ سے دو دن پہلے یعنی 9 مئی 2013ء کے بیلٹ پیپروں کی چھپائی کے لئے اضافی افرادی قوت منگوائے جانے کا تھا۔9مئی کی تاریخ کے حوالے سے اُس وقت کے چیف سیکرٹری پنجاب کے علاوہ الیکشن کمیشن اور پرنٹنگ پریس کے اعلٰی حکام نے تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ےہ ٹیلی فون کال پولنگ سے تین دن پہلے7 مئی 2013ء کو کی گئی۔ تحریک انصاف کے وکیل ایک معروف قانون دان اور فوجی آمریت میں پھانسی پانے والے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پسندیدہ وزیر قانون بھی رہے ہیں، اُن کے سوالات سے لگتا ہے کہ منظم دھاندلی ، منظم اداروں کے تعاون ےا اُن کے بغیر نہیں ہو سکتی۔

اُن کی جرح کے جواب میں الیکشن کمیشن اور پرنٹنگ پریس کے حکام اپنے اور اپنے ادارے کے دفاع پر مضبوط نظر آئے مگر عمران خان اور سب کے لئے نادرا کے چئیرمین عثمان مبین کے بیان نے اب نئی الجھن پیدا کر دی ہے اُن کا ےہ کہنا ہے کہ ووٹوں پر لگے انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے لئے مقناطیسی سیاہی کا ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی نادرا کے پاس مقناطیسی سیاہی والے انگوٹھوں کے نشانات کی جانچ کے لئے کوئی مخصوص آلات دستیاب ہیں۔اِس بیان سے عمران خان تو حیران ہوئے ہی ہم سب بھی اُلجھن کا شکار ہوئے۔ میڈیا کے خود ساختہ جلا وطن سابق چئیرمین نادرا طارق ملک کا وہ بیان بھی ےاد ہے جس میں اُنہوں نے معیاری مقناطیسی سیاہی کی عدم دستیابی کو کچھ حلقوں کے انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق نہ ہونے کی وجہ بتایا تھا۔بہر حال موجودہ چیئرمین نادرا کے بیان نے چوہدری نثار کو تو غلط ثابت کر بھی لیا تو عمران خان مقناطیسی سیاہی کے حوالے سے لگائے گئے منظم دھاندلی کے الزام کو کیسے ثابت کریں گے۔

اِس حوالے سے آئندہ سماعت میں طلب کیے گئے الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری اشتیاق احمد خان کا بیان بھی اہم ہو گا۔اس تمام صورتحال میں ایک بات واضح ہے کہ ےہ تحقیقات صرف سیاست دانوں کے بیوروکریسی کے خلاف ہی نہیں بلکہ خود عدالتی افسران کے خلاف بھی ہے جنہوں نے ریٹرننگ افسران کے فرائض انجام دینے تھے۔ اطلاعات ہیں کہ جلد ہی تحریک انصاف کی طرف سے ایک درجن سے زائد ریٹرننگ افسران کو بھی بطور گواہ طلب کئے جانے کی استدعا کی جائے گی۔ریٹرننگ افسران کے فرائض انجام دےنے والے سیشن اور ایڈیشنل سیشن ججوں پر عبدالحفیظ پیرزادہ کی جرح کے بعد مبینہ دھاندلی ثابت ہو نہ ہو ےہ ضرور ثابت ہو جائے گا کہ عدلیہ کے لئے انتخابی فرائض انجام دینا دوبارہ کبھی اتنا آسان نہ ہو گا۔

امید ہے کہ عمران خان صاحب ریٹرننگ افسروںکے عہدوںکے لئے اُس نیوٹرل ایمپائر کو ڈھونڈ کر لائیں گے جس کا ذکر وہ اپنے منظم دھرنوں میں کرتے رہے ہیں۔ےقینا ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے مگر خان صاحب کو پارٹی کے اختتام پر برتن سمیٹنے کا بھی سوچ لینا چاہئیے ۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

‘‘
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.