.

پاکستان ایک ایٹمی مگر پُرامن ملک ہے

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

28 مئی 1998ء کو پاکستان ایٹمی دھماکے کرکے دُنیا کے اُفق پر ساتویں ایٹمی طاقت کے طور پر نمودار ہوا اگرچہ یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ پاکستان 1983ء میں ایٹمی طاقت بن گیا تھا اور اس وقت پاکستان نے چاغی اور خاران میں ایٹمی دھماکہ کرنے کےلئے سرنگیں تیار کرنا شروع کردی تھیں اور یہ سرنگیں ایک سال کے اندر اندر مکمل ہوگئی تھی۔ بہت کم لوگوں کو یہ بات یاد رہی ہوگی کہ آخری دھماکہ خاران میں ہوا تھا۔ یہ ایک جدوجہد اور جانفشانی کی داستان ہے کہ پاکستان کے سائنسدانوں نے انتہائی قلیل مدت میں پاکستان کو ایٹمی ملک بنادیا اور بھارت کا پاکستان کو ختم کرنے کا خواب ایک دفعہ پھر چکنا چور کردیا۔

1971ء میں المیہ مشرقی پاکستان جنم لے چکا تھا کہ بھارت نے 1974ء میں پوکھران میں ایٹمی دھماکہ کرکے پاکستان کو سہمانے کی کوشش کی۔ اس وقت پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو نے اِس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانیوں کو گھاس بھی کھانا پڑے تب بھی وہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر رہیں گے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کی خدمات حاصل کیں۔ کہوٹہ لیبارٹری کا قیام عمل میں آیا، اس کی کھوج میں کئی واقعات ہوئے، کئی غیرملکی جاسوس پکڑے گئے، کئی سفارت کاروں کی پٹائی ہوئی۔ ایک ایسا وائرلیس سیٹ پکڑا گیا جو ایک بڑے پتھر میں بند تھا جو پہاڑوں پر رکھا گیا تھا۔ بہرحال ایک الف لیلوی داستان ہے اس پروگرام کو چلانے اور بنانے کے درمیان! جب پابندیاں لگ گئیں تو پاکستان کو قدرے مشکلات کا شکار ہونا پڑا مگر پاکستان اپنے دفاع کے میدان میں آگے بڑھتا گیا، جنرل مرزا اسلم بیگ کا کہنا ہے کہ جب ہمارے پاس مناسب ایٹمی ہتھیار جمع ہوگئے تو ہم نے سائنسدانوں کو اس کو ہدف پر مارنے کےلئے میزائل بنانے کا فیصلہ کرلیا، ایک سے ایک میزائل بن گئے، غوری اور شاہین کی سیریز نے عظیم کام سرانجام دیئے، اب شاہین III اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ وہ بھارت کے جزیرہ انڈومان اور نکوربار کو اپنی مار کی زد میں لے آیا ہے۔ بھارت نے ایک کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کو جنم دیا کہ وہ پاکستان کی سرحد کے اندر آٹھ کمزور جگہوں سے گھس کر پاکستانی علاقوں پر قبضہ کرکے پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے گا۔

جواباً پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنا ڈالے، یہ ہتھیار دُنیا میں امریکہ اور روس کے علاوہ شاید ہی کسی اور ملک کے پاس ہوں، اس لئے ایک طویل عرصے تک دُنیا اِس بات کو قبول کرنے کےلئے تیار نہیں تھی کہ پاکستان نے Tactical War Heads بنا ڈالے ہیں، پاکستان نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایسے کم فاصلے پر مار کرنے والے میزائل بنا ڈالے جو 60 کلومیٹر سے 160 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بناسکتے ہیں کیونکہ بھارت نے ہماری سرحدوں پر اسی فاصلے پر اپنے اڈے اور فوجی مراکز بنا رکھے ہیں۔ اس طرح بھارت کے کئی بلین ڈالرز جو پاکستان کے خلاف کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کو روبہ عمل لانےمیں صرف کئے تھے ضائع ہوگئے۔ 2013ء میں بھارتی ایٹمی پروگرام کے چیئرمین شیام سرن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کیا تو ایٹمی جنگ شروع ہوجائے گی مگر ہم تو ایٹمی جنگ نہیں چاہتے۔ ایٹمی جنگ کی صورت میں پاکستان اور بھارت میں زندگی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی۔ یہ تو بھارت کو شوق ہے کہ پاکستان کو ختم کیا جائے۔ جس کا جواب دینا ہمارا فرض ہے۔ ہم آزاد قوم ہیں، زندہ رہنا چاہتے ہیں، عزت سے اور احترام کے ساتھ جینا چاہتے ہیں اور ساری دُنیا میں اپنا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ایٹمی اسلحہ سے لیس ایک علاقائی طاقت ہیں، پاکستان معدنی دولت سے مالا مال ملک ہے اس لئے بہت جلد مالی طور پر پاکستان کا شمار امیر ترین ملکوں میں ہونے لگے گا۔

پاکستان ایک پُرامن ملک ہے اس پر دُنیا نے دہشتگردوں کے ذریعے سے یلغار کر رکھی ہے جس کو ختم کرنے کے لئے پاکستان کی فوج اپنا کام تندہی سے کررہی ہے، جان کے نذرانے پیش کررہی ہے اور کسی حد تک اس پر قابو بھی پالیا گیا ہے۔ پاکستان نے بھارت کو کئی ذرائع سے پیغام دے دیئے ہیں کہ وہ اپنی حدود میں رہے کیونکہ پاکستان ایٹمی و میزائل کے حوالے سے آواکس، کروز میزائل، F-17 تھنڈر، ٹینک، غیرمتحرک جنگ کی نسبت سے بھارت سے بہت آگے ہے۔ وہ پاکستان کے شاہین اور کروز میزائل کو جام نہیں کرسکتا اس لئے کہ اس میں عدم منجمدی آلات لگے ہوئے ہیں جب ہمارا میزائل حملہ آور ہوگا تو وہ دشمن کو بچنے کا موقع نہیں دے گا۔ پاکستان کو امریکہ نے ایٹمی طاقت تسلیم نہیں کیا مگر بھارت کو تسلیم کرلیا تاہم چین نے بہت پہلے پاکستان کو ایٹمی طاقت تسلیم کیا ہوا ہے اسے سول ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کررہا ہے۔

اب آسٹریلیا نے بھی پاکستان کو ایٹمی طاقت تسلیم کرنے کا ارادہ ظاہر کردیا ہے جب آسٹریلیا کی وزیر خارجہ جولی بشپ نے 7 مئی 2015ء کو پاکستان کا دورہ کرکے پاکستان کے ساتھ چین کے حوالے سے جڑنے کا فیصلہ کیا اور اشارہ کیا کہ وہ بھارت کے ساتھ ایٹمی معاہدہ سے جڑا ہوا ہے اس لئے وہ پاکستان کی مدد کرسکتا ہے۔ ایٹمی حوالے سے آسٹریلیا ایک آسٹریلوی گروپ کے نام سے تنظیم چلا رہا ہے۔ اس میں آسٹریلیا نے بھارت کو اربوں ڈالر کی مدد دے کر اس کے ساتھ تعاون شروع کردیا ہے۔ شاید وہ پاکستان کو بھی ایسے ہی تعاون کی پیشکش کرے جو ہم قبول کرسکتے ہیں مگر اُس کے بدلے میں ممکن ہے کہ وہ پاکستان کی معاشی راہداری اور پاکستان میں سونا، کوپر اور لوہا نکالنے میں حصہ ڈالنے کی خواہش ظاہر کرے اگرچہ انہوں نے کہا ہے کہ وہ پیسے کے پیچھے نہیں ہیں بلکہ چین کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔

اِس کے برخلاف مغرب پاکستان کے خلاف کئی محاذ پر سرگرم عمل ہے۔ وہ ان دہشت گردوں کی مدد کررہا ہے جو شہروں اور ہماری مسلح افواج پر حملے کررہے ہیں۔ وہ پاکستان کے خلاف امریکی کاریڈور کے خلاف ہیں۔وہ ہماری مخالفت کررہا ہے۔ پاکستان میں بدامنی کو فروغ دینے اور سیاسی عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے کئی طریقے استعمال کررہا ہے۔ فرقہ واریت اور اداروں میں ٹکرائو کراکے خلفشار پیدا کرنے پر تلا ہوا ہے۔راہداری کا راستہ بدلنے پر وہ سیاسی کشمکش پیدا کرنا چاہتا ہے، اگرچہ پہلے سے کوئی بھی ایسا نقشہ موجود نہیں تھا جس میں راہداری کو دکھایا گیا ہو۔ پاکستان کو ایٹمی سپلائی گروپ کا ممبر بننے سے روکنا چاہتا ہے اِس کے باوجود پاکستان کے پاس شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میں شمولیت کا اختیار موجود ہے۔ جولائی میں فائو کے روسی شہر میں شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ہورہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ پاکستان کو ممبرشپ مل جائے۔

پاکستان کے پاس برکس ممالک سے تعاون کرنے کا امکان موجود ہے اس کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے پاکستان کے تعاون کے امکانات بھی کافی بڑھ گئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے، پاکستان کے دوست موجود ہیں، پاکستان کے عوام پُرعزم ہیں۔ مغرب ہمارے خلاف کسی بھی قسم کا پروپیگنڈا کرے چاہے وہ سیمورہرش جیسے صحافی کے ذریعے سیاستدانوں اور اداروں میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرے یا پاکستان کے ایٹمی پاور پلانٹ پر اعتراضات کی شکل میں ہوں تاہم یہ ضروری ہے کہ پاکستان ان مشکلات اور چینلجز سے نمٹنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرے۔ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے مگر امن کا خواہاں اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا متمنی ہے جس کے لئے وہ سر توڑ کوشش کررہا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.