.

افغانستان اور پاکستان۔ سب اچھا نہیں

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان اور پاکستان کے تعاون کا نیا باب افغانستان اور پاکستان میں گزشتہ انتخابات سے قبل کھل گیا تھا۔ تینوں فریقوں (امریکہ، پاکستان اور افغانستان) کو اپنے اپنے حصے کی مار پڑگئی تھی اور تینوں نے ایک دوسرے کو آخری موقع دینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ چنانچہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پاکستان سے وعدہ کیا کہ افغانستان میں انڈیا کو دخیل کرنے کا سلسلہ بند کرکے، مستقبل کی صورت گری میں مناسب کردار دیا جائے گا۔ افغانستان کے مستقبل کے حکمرانوں (ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ) نے انتخابات سے قبل پاکستان کو یقین دلایا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ پاکستان کے مطالبات کو پورا اور اعتراض کو دور کریں گے ۔ جواب میں پاکستان کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وہ افغانستان کی شکایات کو ختم کرنے اور طالبان کے ساتھ مفاہمت کرانے میں بھرپور تعاون کرے گا۔ حکمران بن جانے کے بعد ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے امریکہ اور پاکستان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کا پاس رکھا۔ ہندوستان کے ساتھ ا سٹریٹجک تعاون اور اشتراک کا سلسلہ بڑی حد تک معطل یا ختم کیا۔

افغان صدر نے ہندوستان کی بجائے پہلا دورہ چین کا کیا اور امریکہ کی رضامندی سے طالبان کے ساتھ مفاہمت کے سلسلے میں چین کو بھی کردار ادا کرنے کا کہا۔ امریکہ یا نیٹو کی طرف سے برطانیہ ثالث اور نگران کا کردار ادا کرنے لگا۔ ڈاکٹرا شرف غنی نے پاکستان کے وہ مطالبات بھی تسلیم کئے جو سابق صدر حامد کرزئی گزشتہ تیرہ سالوں میں تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھے ۔ پاکستان نے جواب میں تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے افغانستان کے ساتھ متعدد وعدے کئے اور ساتھ ہی وعدے کی صورت میں یہ تاثر دیا کہ وہ طالبان کے ساتھ مفاہمت کرانے میں بھرپور کردار ادا کرے گا۔ یوں پاکستان میں سیاسی رہنماء اور تجزیہ کار نہ صرف افغان حکومت کے رویے پر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوئے بلکہ ہر طرف سے ڈاکٹرا شرف غنی کی تعریفیں ہونے لگیں۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے بھی ان کو دوست کی حیثیت میں قبول کیا اور انہیں جی ایچ کیو کا دورہ کرایا گیا جہاں ان کا پرتپاک استقبال بھی کیا گیا۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان شخصیات کے ساتھ ساتھ اداروں کے درمیان بھی تعلقات استوار ہوگئے۔ لیکن افسوس کہ یہ سلسلہ زیادہ دیر چلتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ اب کی بار مسئلہ دونوں ممالک کے اندرونی معاملات ناکامی کی وجہ بنتے نظر آرہے ہیں ۔ ڈاکٹراشرف غنی پاکستان کے لئے تو بہت اچھے نظرآنے لگے لیکن داخلی محاذ پر وہ خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے۔

اپنی کابینہ کی تشکیل میں بھی انہوں نے ایک سال کا عرصہ لگا دیا۔ دوسری طرف انہوں نے حکومت میں نئے چہروں کو شامل کرنے اور سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے سابق جہادی کمانڈروں یا پھر صاحب ثروت لوگوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی ، اس لئے ان کی سیاسی مخالفت بڑھنے لگی۔ وزراء اور گورنروں کی صورت میں انہوں نے جو نئے چہرے متعارف کئے ، وہ زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئے ۔ دوسری طرف چونکہ اپنے انتخابی حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ساتھ ان کو ایک غیرآئینی اور غیرروایتی سیاسی سیٹ اپ پر اتفاق کرنا پڑا تھا اور اس کی وجہ سے دونوں کے درمیان اختیارات کی جنگ جاری رہی ، اس لئے بھی حکومتی کارکردگی متاثر رہی ۔ سیاسی اور سفارتی فرنٹ پر تو وہ پاکستان کے ساتھ وعدے پورے کرتے رہے لیکن چونکہ انٹیلی جنس اداروں اور فوج پر وہ پورا کنٹرول حاصل نہ کرسکے ، اس لئے ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسندوں کی افغانستان میں موجودگی کے حوالے سے پاکستان کے خدشات پوری طرح ختم نہیں ہوسکے۔

دوسری طرف پاکستان کے ساتھ نئے خطوط پر دوستی استوار کرنے کی وجہ سے انہیں افغانستان میں شدید تنقید اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی کی قیادت میں ان کی پاکستان کے ساتھ قربت اور ہندوستان سے دوری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ میڈیا میں اس حوالے سے ان پر شدید تنقید ہوتی رہی اور انہیں بار بار طعنے ملتے رہے کہ پاکستان کبھی بھی ان کے ساتھ وعدے پورے نہیں کرے گا۔ دوسری طرف پاکستان میں حکمران طبقہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کا کریڈٹ لے کر جشن تو مناتا رہا لیکن افغانستان کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے نہ تو مناسب حکمت عملی وضع کی گئی اور نہ اس طرف خاطر خواہ توجہ دی گئی ۔ وزیراعظم صاحب نے افغانستان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو نہ تو اپنی ترجیحات میں شامل کیا اور نہ اس کے لئے مناسب ٹیم تشکیل دی۔ پاکستانی میڈیا ڈاکٹر اشرف غنی کی تعریفیں کرکے ہندوستان کی ناکامی کا جشن مناتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ افغانستان میں ملافضل اللہ کی موجودگی کا ڈھنڈورا تو پیٹتا رہا لیکن اس پہلو کو ذرہ بھر توجہ نہیں دی کہ افغانستان کے مطالبات اور توقعات کیا ہیں اور یہ کہ ہماری حکومت ان کو پورا کرنے کے لئے کیا کررہی ہے ۔

دوسری طرف افغانستان میں ڈاکٹراشرف غنی پر جتنا دبائو ملک کے اندر سے آتارہا اس کے جواب میں وہ اپنے شہریوں کو یہ تسلی دیتا رہےکہ پاکستان نے جواب میں طالبان کے مسئلے کو حل کرانے میں مکمل تعاون کا وعدہ کیا ہے اور یہ کہ اپریل تک نتائج کا انتظار کیا جائے گا۔ دوسری طرف افغانستان میں تنہائی اور بڑی حد تک سیاسی اور سفارتی محاذ پر ناکامی کے بعد ہندوستان نے پوری قوت کے ساتھ اپنے ایجنٹوں کو متحرک کررکھا ہے جو ایک طرف افغان حکومت کو طعنے دے کر پاکستان کی مخالفت کی طرف لے جانے کی کوشش کررہا ہے اور دوسری طرف اپنے مہروں کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ مفاہمت کے سلسلے میں افغان حکومت ، پاکستان کے کردار سے بری طرح مایوس ہوگئی ہے ۔ طالبان پر پاکستان کے اثرورسوخ کے حوالے سے افغانستان میں جو تصور ہے ، وہ بہت زیادہ مبالغہ آمیز بھی ہے لیکن اس حد تک شکایت میں وزن بھی ہے کہ حکومت پاکستان نے خاطرخواہ اور جامع کوشش بھی نہیں کی ۔ دوسری طرف اس دوران افغانستان میں طالبان کی کارروائیاں حیرت انگیز حد تک بڑھ گئیں۔

کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ کابل شہر میں ان کی طرف سے کوئی کارروائی نہ ہو۔ مشرقی اور جنوبی افغانستان میں تو کارروائیاں روز کا معمول ہیں ہی ، پہلی مرتبہ انہوں نے شمالی افغانستان میں بھی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے ۔ افغانستان کے انتہائی شمال میں تاجکستان کی سرحد کے قریب صوبہ کندوز میں طالبان اس بھرپور قوت کے ساتھ حملہ آور ہوگئے ہیں کہ ایک ماہ کی کارروائی کے باوجود افغان سیکورٹی حکام ان کا صفایا نہ کرسکے ۔ دوسری طرف صوبہ بدخشان میں طالبان نے ایسی کارروائیاں کیں کہ سب تجزیہ کار حیرت زدہ رہ گئے ۔ دوسری طرف انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹیں بتارہی ہیں کہ اس موسم گرما میں طالبان نے بڑے پیمانے پر کارروائیوں کی بڑی تیاری کررکھی ہے ۔ اس تناظر میں ڈاکٹراشرف غنی ، حامد کرزئی کے راستے کی طرف جانے کے لئے پرتول رہے ہیںاور چند روز قبل انہوں نے پاکستان کو بڑا سخت پیغام دیا جس کے اگلے روز وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کابل پہنچ گئے۔

وہاں دونوں طرف سے یہ شکوہ ہوتا رہا کہ اس کے ساتھ ہونے والے وعدے پورے نہیں ہوئے جس کے تناظر میں ایک تو دونوں ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کے مابین تعاون کے ایم او یو پر دستخط ہوئے جو خوش آئند ہے لیکن پاکستان کی طرف سے مزید ایسے وعدے کئے گئے جن کو پورا کرنا مجھے اس حکومت کے بس کاکام نظر نہیں آتا۔ ادھر آئی ایس آئی اور این ڈی ایس کے درمیان تعاون کے معاہدے پر افغانستان کے اندر پاکستان مخالف کیمپ نے طوفان کھڑا کردیا ہے ۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر اشرف غنی کی مقبولیت بہت تیزی سے گررہی ہے۔جبکہ اس کے برعکس سابق صدر حامد کرزئی کی مقبولیت کا گراف اوپر جانے لگا ہے ۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مجھے یہ دوستی زیادہ دیر چلتی نظر نہیں آرہی ۔ یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ اگر اس بار معاملہ بگڑ گیا تو دوبارہ اسے بنانا نہایت مشکل ہوگا۔ اس نازک موڑ پر اگر دونوں ممالک کے تعلقات بگڑ گئے تو پاکستان اور افغانستان دونوں کو ناقابل تصور نقصان اٹھانا پڑے گا۔ بلکہ حالیہ تعاون کے ختم ہوجانے اور دوستی کے مخاصمت میں تبدیل ہونے کی صورت میں تو مجھے تباہی ہی تباہی نظر آتی ہے ۔اس لئے پاکستان کو چاہئے کہ وہ صرف افغانستان کی ذمہ داریوں کے تذکرے پر اکتفا کی بجائے افغانستان کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرے اور افغانستان کو چاہئے کہ وہ پاکستان کی ذمہ داریوں کے تذکرے اور اپنی ذمہ داریوں سے صرف نظر کی بجائے پاکستان کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.