.

ایگزیکٹ، بول، ایان علی اور ہم!

بشریٰ اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پتہ نہیں اس ملک کے حقیقی مسائل کیا ہیں؟ جس ملک میں سکینڈل بکتے ہوں، گرما گرم کیکوں کی طرح، اور ماڈل ایان کی اسیری، جادوئی داستانوں کی طرح میڈیا پر پیش کی جاتی ہو اور مذکورہ ماڈل، جسے اس سے قبل صرف ’’شوقین‘‘ جانتے تھے (عوام کی زیادہ اس چہرے سے واقفیت نہ تھی) میڈیا کے اسے چمکدار ریپر میں لپیٹ کر پیش کر دینے کے بعد، وہ راتوں رات شہرت کے آسمان پر پہنچا دی گئی ہو اور اس کی صرف ایک جھلک دیکھنے کو لوگ ٹوٹ پڑتے ہوں۔ اس کی خبر کو زیادہ بھاؤ لگتے ہوں تو ایسے میں حقیقی مسائل کی نشاندہی کون کرے؟

ریکوڈک، او بی آئی، مضاربہ سکینڈل، ایفیڈرین وغیرہ سے لے کر ایگزیٹ تک، اب طویل فہرست ہے، ان مالیاتی سکینڈلز کی، جو اپنے اپنے وقت پر ابھرے اور غبار کی طرح وہم ہو گئے۔ وہ تمام افراد، ادارے اور ان میں ملوث خفیہ اور ظاہر کرداروں، میں سے اگر ایک بھی، قانون کی گرفت میں آیا ہو، نیب نے اسے آنکھیں دکھائی ہوں، طرح طرح کے نادر ونایاب بیانات ’’عطا‘‘ کرتے، جج صاحبان کے ماتھے پر انہیں دیکھ کر شکن بھی ابھری ہو تو بتائیں؟ اور تو اور ہم عوام بھی انہیں ایسے بھول گئے، جیسے پرانے گناہوں کو بھلا دیا جاتا ہے۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں، ان سکینڈلز کی وجہ سے وہ کچھ اور مغرور ہو گئے، کچھ اور معزز ہو گئے، کچھ اور ہردلعزیز ہو گئے۔ ان معززین اور مغرورین کی ایک بھیڑ ہے، جو پاکستان کے نقشے پر یوں محیط ہے، جیسے کالے سیاہ بادل، جونہ دھوپ نکلنے دیتے ہیں نہ سورج کا منہ دیکھنے دیتے ہیں۔ ان کا کمال یہ ہے کہ یہ اصل مسائل کی جانب رخ ہی نہیں کرنے دیتے۔ میڈیا اس ضمن میں جب سے آزاد ہوا ہے، ان کی دامے، درمے، سخنے اور قدمے نہ سہی، سخنے ضرور مدد کر رہا ہے، بھرپور مدد کہ اسے بھی لوگوں کا سکون تباہ کرنے والی، تھرتھرل مچانے والی، گھٹیا، بے بنیاد، ہوائی اور خام خبریں چاہیے بیچنے کے لئے۔ مثلاً سکندر جس نے اسلام آباد میں اپنے خاندان کو ہتھیار کے زور پرسارادن ہراساں کئے رکھا، وہ اس دن کی بڑی خبر بن گیا۔

اسے خبر بننے سے روکنے کے بجائے، پولیس اور اداروں نے درپردہ اسے موقع فراہم کیا کہ وہ دن کی بڑی خبر بن سکے تاکہ ایک دن کے لئے ہی سہی، عوام کی توجہ حقیقی خبروں اور مسائل کی جانب سے ہٹائی جا سکے۔ اسی رویہ نے ایان علی کو شہرت اور گلیمر کی حد پر پہنچا دیا، اس طرح اس کا جرم، اور اس جرم سے بڑا مالیاتی سکینڈل تو رہا ایک طرف، بلکہ دیگر حقیقی مسائل سے بھی لوگوں کی توجہ ہٹ گئی۔

حالانکہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ دیہاتوں میں، اور چودہ سے بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ شہروں میں شروع ہو چکی ہے، اس ملک کے کارخانے بند ہیں، ملیں بندہیں، ٹیکسٹائل انڈسٹری دیوالیہ ہو رہی ہے۔ کسان پانی کو رو رہا ہے۔ بجلی کی سبسڈی واپس لی جا چکی ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھانے کی سمری جاری ہو گئی۔ ایل این جی کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ اس سال گندم کی فصل نہ ہونے کے برابر ہوئی ہے۔ بارشوں اور خراب موسمی صورت حال کے باعث، چنانچہ کسان سر پر ہاتھ رکھے رو رہا ہے۔

سندھ میں اول (فریال تالپور) اور زرداری نے وہ حشر مچایاکہ سندھ کے کسانوں نے گنے کی تیار فصلوں کو آگ لگادی۔ اب وہ سر پکڑ کر بیٹھے ہیں۔ اگلی فصل کیسے بیچیں، پنجاب میں یہ حال کہ پالیسی نہ ہونے کے باعث ، کنو کی انڈسری پوری کی پوری بیٹھ گئی، بیوپاری تباہ ہوگئے اور فیکٹری مالکان نے کسانوں سے اونے پونے فصل خرید کر، اپنے بینک بھر لئے۔ پانی کی قلت، مہنگے بیج، کھادوں اور قدرتی آفات کے ہاتھوں مارا جانے والا کسان، اس شعبے کی جانب سے حکومت کی مکمل نظراندازی کے سبب اس وقت ایسی مشکلات کا شکار ہے، جس کا ایان علی اور ایگزیکٹ سکینڈل کی پروموشن پر پورا زور باندھے ہوئے میڈیا اور اسے ہلاشیری دینے والی حکومت اندازہ بھی نہیں کرسکتی۔

میں پچھلے ایک ہفتے سے ایگزیکٹ اور بول کے علاوہ کچھ نہیں پڑھ رہی ۔ کچھ نہیں سن رہی، کچھ نہیں دیکھ رہی۔ اس کی یہ وجہ نہیں کہ میری توجہ کا مرکز یہ سکینڈل ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے علاوہ نہ کچھ دکھایا جا رہا ہے، نہ کچھ سنایا جا رہا ہے اور نہ کچھ پڑھایا (اخباروں کے ذریعے) جا رہا ہے۔

ایگزیکٹ اور بول سکینڈل کی سنجیدگی سے ہرگز انکارنہیں۔ مگر کہنا یہ ہے کہ جس گھر میں گھر والے بھوک کے مارے بلبلا رہے ہوں، پیاس نے ان کے ہونٹوں پر پپڑیاں جما رکھی ہوں۔ جہاں انہیں بیماریوں نے گھیر رکھا ہو، اور ان کے پاس علاج کے پیسے نہ ہوں۔ جس گھر کی دیواروں پر دہشت گردی کا قبضہ ہو، جس گھر کے دروازے پر چور ڈاکو پہریدار ہوں، جس گھر میں نہ تیل ہو نہ بتی، اس گھر میں ماڈل ایان کی ادائیں کس بھاؤ بکتی ہیں، یہ جاننے کی کسے فرصت؟

اس گھر میں بول ٹی وی کامران خان کو مرسڈیز گاڑی اور نصف کروڑ پر خرید کر بیٹھا ہو،کسے دلچسپی؟ کہ خبریں تو کامران خان نے، چاہے جیو پر ہوں، چاہے بول پر، انہی ایان علی اور شعیب شیخوں کی ہی پڑھ پڑھ کر ہمیں سنانی ہیں۔ ایگزیکٹ اور بول کے ڈھانچے بنانے ہیں اور پھر توڑ دینے ہیں۔ نئے بول نئے ایگزیکٹ کے لئے، کہ اس وقت یہی کاروبار اس ملک کا اصلی اور حقیقی کاروبار ٹھہر چکا ہے۔ میڈیا پر کتنی خبریں روزانہ آتی ہیں لوڈشیڈنگ کے متعلق؟ کتنی خبریں روزانہ آتی ہیں زراعت کی بدحالی کے متعلق؟ کتنی خبریں روزانہ آتی ہیں، گندے پانی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے متعلق؟ عورتوں پر ظلم، چائلڈ لیبر، تیزاب کے کیس، کون کس سڑک پر بھوک اور فاقے کی وجہ سے دم توڑ گیا۔ کس بیٹی نے بجلی کا بل بھرنے کے لئے جسم کو بیچ ڈالا؟ کس ماں نے اپنے بچے کے بہتر مستقبل کے لئے گردہ بیچ ڈالا۔ کون ان سرکاری، سول ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی عدم توجہی کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گیا، کہاں کوئی نشے کی وجہ سے ایڈز کا شکار ہوگیا، کہاں کسی یتیم اور بیوہ کے گھر پر قبضہ ہوگیا؟

کیا کوئی حصہ ہے روزانہ کی بریکنگ نیوز میں ان چھوٹے اور معمولی مسائل کا؟ کہیں شرمیلافاروقی کہیں مریم نواز، کہیں ریحام خان اور کہیں ایان علی، ہمیں تو خبریں بھی رنگین اور چمکیلی دمکیلی چاہئیں۔ ہمیں تو سنسنی بھرے سکینڈل درکار ہیں روزانہ۔ تاکہ ہم اپنے روزمرہ کے خوفناک مسائل سے توجہ ہٹا سکیں۔ اپنے حقیقی مسائل کو بھول سکیں۔ یہی سائیکی بنا دی گئی ہے ہماری۔ جسے نہایت ہوشیاری اور چالاکی سے، ہم پر حکومت کرنے والے استعمال کر رہے ہیں۔ اس میں میڈیا ان کی شعوری لاشعوری مدد کر رہا ہے۔ پرانی بات ہے 1857ء میں جب جنگ آزادی شروع ہو چکی اور برٹش ایمپائر کے سپاہی یونین جیک کے سائے میں، دلی پر قبضے کے لئے آگے بڑھ رہے تھے، تو مغل شہزادے اور فرماں روا، چوسر اور بٹیر بازی فرما رہے تھے۔

شطرنج کھیل رہے تھے اور برٹش ایمپائر انہیں مہروں کی طرح اٹھا کر، ادھر ادھر رکھ رہی تھی۔ افسوس، اس تاریخ کو دہرا رہے ہیں ہم۔ یہی وجہ نہ ہمارے خواب بدلے نہ تقدیر۔ کارپوریٹ میڈیا، اور مغربی آقاؤں نے ،جس غلامی کو ہماری روح کا حصہ بنایا تھا، وہی غلامی ہے۔ جس کا طریقہ قدرے مختلف ہے، مگر اجزائے ترکیبی وہی ہیں۔ غلاموں کے ذہنوں سے بھی فراموش کردو کہ وہ غلام ہیں۔ اپنے ملکوں اور معاشروں میں انہیں اجنبی کردو، تاکہ ان کے ضمیروں کو آسانی اور سہولت سے خریدا جا سکے۔ تاکہ وہ اپنے ملک اور معاشروں کو بیچنے میں ہمارے اچھے مددگار ثابت ہو سکیں۔

آخری بات ۔جن معاشروں اور ملکوں میں سکینڈلز سے بجائے عبرت اور سبق حاصل کرنے، اور ان سکینڈلز کی پیداوار مغرور ین اور معززین کے سامنے جھک کر سلام کرنے اور ان سے مرعوب ہونے والے بکثرت پائے جائیں۔ وہاں بول، ایگزیکٹ اور ایان علی کو الزام دینے کے بجائے، ہر ایک کو اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے، کہیں وہاں چور تو نہیں بیٹھا؟؟؟

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.