.

آخر کوئی شرم ہوتی ہے…

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الحمدللہ ۔ ثم الحمد للہ ۔ سازش ناکام ہوئی اور جمہوریت جیت گئی۔ شریفانہ آمریت کو شکست جبکہ قومی مشاورت کوکامیابی نصیب ہوئی۔ سازشی وزراء ہار گئے اورقوم جیت گئی۔ جھوٹے، جھوٹے نکل آئے اور سچ کو سچ کہا جانے لگا۔ احسن اقبال صاحب کی ’’کرشمہ سازیاں‘‘ بے نقاب ہوئیں اور قومی قیادت نے سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرکے کرشمہ دکھادیا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس میں اتفاق رائے ہوگیا۔ چین کی بے چینی بھی ختم ہوگئی اور ہم جیسے مظلوموں کی چیخ و پکار بھی۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسی را کے اسفندیارولی خان ، پرویز خٹک،ڈاکٹر عبدالمالک، مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق جیسے ’’ایجنٹ ‘‘باری باری ٹی وی پر آئے اور وزیراعظم کو مبارک باد دے کر منصوبے سے اپنا اتفاق ظاہر کیا۔

مجھ جیسے قلم اور زبان کے مزدور جنہیں احسن اقبال صاحب اور ان کے ہمنوائوں نے را کے ایجنٹوں کی صف میں سرفہرست رکھا تھا ، بھی اب پوری قوت سے اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے دست بہ دعا اور مصروف عمل ہوجائیں گے ، جس سے ہندوستانی را کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہا ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ یہ تنازع اب حل ہوگیا ہے اس لئے میں چند حقائق سے پردہ اٹھانا مناسب سمجھتا ہوں۔ ہوا یوں کہ گزشتہ سال کے اوائل میں جب میں اسٹاف کالج کوئٹہ میں لیکچر کی غرض سے وہاں گیا تھا تو مجھے کچھ باخبر لوگوں نے روٹ میں تبدیلی کی سازش سے آگاہ کیا۔ اگلے روز بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوںنے بھی اس خدشے کا اظہار کیا۔

واپس آکر میں نے مختلف حکومتی شخصیات سے بات کی لیکن کوئی واضح جواب نہیں دے رہا تھا۔ انہی دنوں مجھے وزیراعظم صاحب کے ساتھ سوات کے سفر کا موقع ملا۔ وہ لاہور سے تشریف لائے اور ہم اسلام آباد سے رسالپور جاکر پی اے ایف بیس پر ان کا انتظار کررہے تھے ۔ ہاتھ ملاتے ہوئے میں نے انہیں ازراہ مذاق کہا کہ ’’ہم آپ کو پختونخوا میں پہلے غیرملکی دورے پر خوش آمدید کہتے ہیں‘‘۔اس تناظر میں گپ شپ کے انداز میں چھوٹے صوبوں کی محرومیوں کا ذکر ہونے لگا۔ ہیلی کاپٹر میں انہوں نے مجھے ساتھ بٹھایا ۔ پرواز شروع ہوتے ہی ہم لوکوموٹیوفیکٹری کے اوپر سے گزرنے لگے تو میں نے اس حوالے سے ان سے بات کی کہ ریلوے انجن تیار کرنے والی یہ فیکٹری حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے بند ہوتی جارہی ہے اور دوسری طرف ہم چین سے انجن منگوارہے ہیں ۔

چین کے ذکر سے میں نے ان کے ساتھ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی بات چیت چھیڑ دی اور ان کو روٹ کی تبدیلی سے متعلق اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔ لیکن وزیراعظم صاحب نے راہداری منصوبے سے متعلق کوئی خاص جواب نہیں دیا۔ پھر اس منصوبے کو بلوچستان کے سینیٹرزسعید مندوخیل ، ہمایوں مندوخیل، پختونخوا میپ کے نواب ایاز جوگیزی ، اے این پی کے سینیٹر عبدالنبی بنگش اورسینیٹر شاہی سید وقتاً فوقتاً آپس میں ڈسکس اور وقتاً فوقتاً حکومتی شخصیات کے ساتھ اٹھاتے رہے ۔ میں بھی اس عمل کا حصہ رہا لیکن بدقسمتی سے دھرنوں کی وجہ سے سیاست اور میڈیا میں یہ ایشو اہمیت کے باوجود توجہ حاصل نہ کرسکا۔ مجبور ہوکر دھرنوں کے دوران میں نے اس منصوبے سے متعلق کالم لکھ ڈالے لیکن پھر بھی کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ اس دوران میں نے عمران خان صاحب کو بھی پیغامات بھیجے کہ وہ اس ایشو پر توجہ دیں کیونکہ اس سے میانوالی کی قسمت بھی بدل جائے گی لیکن اس وقت شاید خان صاحب کا خیال تھا کہ عنقریب جب وہ نوازشریف کو رخصت کرکے خود وزیراعظم بنیں گے تو تب ہی اس قسم کے ایشوز پر توجہ دیں گے ۔

چنانچہ مجبور ہوکر میں نے اس وقت جیو نیوز پر پورا ’’جرگہ‘‘ اس ایشو کے لئے مختص کیا۔ وہ پروگرام ٹیلی کاسٹ ہوا تو احسن اقبال صاحب نے سعودی عرب سے فون کیا اور مجھے گمراہ کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ میں قائل نہ ہوسکا۔
انہوں نے واپس آکر تفصیلی بات کرنے کا وعدہ کیا لیکن واپس آکر غائب آگئے۔ اس دوران اے این پی ، جے یوآئی ، شیرپائو صاحب کی قومی پارٹی، جماعت اسلامی اورکچھ دیگر جماعتوں نے اسے پارلیمنٹ میں اٹھایا ۔قومی ایشو بن جانے کے بعد میں نے خود درخواست کرکے احسن اقبال صاحب کو اپنے ٹی وی پروگرام میں مدعو کیا لیکن افسوس کہ مجھے یا قوم کو قائل کرنے کی بجائے انہوںنے مزید کنفیوژن پھیلادی۔ یوں یہ ایشو عوامی ایشو بن گیا اور حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان اور پختونخوا میں جو تشویش اور یکسوئی اس ایشو سے متعلق سامنے آئی ، وہ پہلے کبھی کسی دوسرے ایشو سے متعلق نہیں دیکھی گئی تھی ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسی وقت ہوش کے ناخن لئے جاتے اور قومی نمائندوں کو اعتماد میں لیا جاتا لیکن ایسا کرنے کی بجائے روایتی حربوں کا سہارا لیا گیا۔

یہ جھوٹ بولا گیاکہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی نے منصوبے کے خلاف مہم چلانے کے لئے سات ارب روپے بھیجے ہیں جس کا بڑا حصہ اے این پی جیسی سیاسی جماعتوں اور مجھے ادا کیا گیا ہے ۔ مزید جھوٹ پرجھوٹ بولے جاتے رہے ۔ آخر میں تو میڈیا کے ایک حصے اور دانشوروں کو گمراہ کرکے ہمارے خلاف میدان میں اتارا گیالیکن اب بعد ازخرابی بسیار اسی مغربی روٹ کو پہلے تعمیر کرنے کا وعدہ کیا گیا ، جس کو ہم مناسب ترین سمجھتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ کیا جارہا تھا وہ پنجاب کے فائدے کے لئے نہیں بلکہ حکمران خاندان کے مالی مفادات اور خواہشات کی تکمیل (کسی مناسب وقت پر وہ تفصیل بھی انشاء اللہ منظرعام پر لے آئوں گا) کے لئے کیا جارہا تھا لیکن نفرتوں کو ہوا دے کر پنجاب کو گالیاں دلوائی گئیں۔

احسن اقبال صاحب ہم پر جھوٹ کا الزام لگا کر کہا کرتے تھے کہ فیصلے تو چین نے کرنے ہیں اور ہمارا اس میں کوئی اختیار نہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر فیصلہ چینیوں نے کرنا تھا تو پھر آپ کے وزیراعظم نے مغربی روٹ پہلے تعمیر کرنے کا وعدہ کیسے کیا۔
وہ فرمایا کرتے تھے کہ انرجی پروجیکٹ اور صنعتی زونز کا فیصلہ ہم نے نہیں بلکہ چینی کمپنیوں نےخود کرنا ہے ۔ اب اگر ایسا ہی تھا تو اکنامک زونز اور منصوبوں کے تعین کے لئے پاکستانی رہنمائوں کی نگران کمیٹی کیوں بنائی گئی؟ آپ اور میڈیا میں موجود حکومتی کارندے یہ بھی کہا کرتے تھے کہ مغربی روٹ پر سیکورٹی کا مسئلہ ہوگا۔ اب اگر وہاں سیکورٹی کا مسئلہ ہے تو پھر وزیراعظم صاحب کیوں اس روٹ کو سب سے پہلے فعال بنانے پر راضی ہوئے۔ آپ تو کہا کرتے تھے کہ تنقید کرنے والے را کے ایجنٹ ہیں اور انہوں نے مخالفت کے عوض ’’را‘‘ سے سات ارب روپے لئے ہیں ۔ اب جب کہ یہ لوگ منصوبے پر راضی ہوگئے تو سوال یہ ہے کہ را کی وہ رقم کیا یہ لوگ واپس کرچکے ہیں یا پھر آپ کی قرض اتارو اسکیم میں جمع کرچکے ہیں ۔ کاش اپوزیشن کی صفوں میں بھی کوئی خواجہ آصف ہوتے اور اے پی سی کے اختتام پر وہ بلند آواز میں حکمران طبقے کو مخاطب کرکے کہتے کہ آخر کوئی شرم ہوتی ہے ۔ کوئی حیاہوتی ہے ۔ کوئی ایتھکس ہوتی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ حکومت کے شاطر وزیر اور مشیر اب اس قول کی حقانیت کو سمجھ چکے ہوں گے کہ آپ کچھ لوگوں کو پوری زندگی کے لئے اور پوری دنیا کو کچھ وقت کے لئے توبے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن پوری دنیا کو پوری زندگی کے لئے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ مجھے یقین ہے کہ اس کے بعد بھی احسن اقبال صاحب اور ان کے ساتھی چھوٹے صوبوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے اس لئے اب چھوٹے صوبوں کے نمائندوں کو ہمہ وقت چوکنا رہنا ہوگا۔ اب یہ کوشش ہوسکتی ہے کہ مغربی روٹ کو موٹروے یا پھر ایکسپریس کی بجائے صرف ہائی وے بنا دیا جائے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.