.

تحریک انصاف کا ’’انصاف‘‘

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مبنی برانصاف بات یہی ہے کہ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں سے بلوچستان اور پختونخوا کی حکومتیں زیادہ جمہوریت پسند ثابت ہوئی ہیں۔ بلوچستان کی اس حوالے سے سرفہرست قرار پائی کہ اس کی حکومت نے عدالتی دبائو کے بغیر خود بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرایا ۔ پختونخوا کی حکومت نے عدالتی حکم کے تحت لیکن بہر حال انتخابات کراہی دیئے جبکہ پنجاب اور سندھ کی حکومتیں تادم تحریر تاخیری حربوں سے کام لے رہی ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے بلدیاتی ادارے بھی برائے نام ہیں اور خیبرپختونخوا میں بھی جو نظام بنایا گیا ہے ، اس میں یہ ادارے صوبائی حکومت کے مہرے کا ہی کردار اداکرتے رہیں گے۔ جو قانون خیبرپختونخوا میں بنایا گیا ہے ، وہ کچھ حوالوں سے دیگر صوبوں سے بہتر ضرور ہے لیکن اس میں جو نظام تشکیل دیا گیا ہے ، وہ مقامی حکومتوں کا نہیں بلکہ بے اختیار قسم کے مشاورتی کونسلوں کا نظام ہے ۔ ایکٹ کا نام ’’مقامی حکومتوں کا ایکٹ 2013ء ‘‘ رکھا گیا ہے لیکن اس کے اندر مقامی حکومتوں کا نہیں بلکہ ضلع، تحصیل اور یونین کونسلوں کا ذکر ہے ۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو منتخب اداروں کے دائرہ اختیار سے بالکل باہر رکھا گیا ہے ۔ نہ صرف وزیراعلیٰ کو ناظمین کی معطلی اور معزولی کا اختیار دیا گیا ہے بلکہ نگرانی کے لئے وزیربلدیات کی قیادت میں ایک کونسلر بھی اوپر بٹھادیا گیا ہے۔

ضلع اور تحصیل کونسل کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے گئے جبکہ ویلیج اور نیبر ہوڈ کونسل کے غیرجماعتی بنیادوں پر ۔ یہ ایک عجیب قسم کا مبہم نظام ہے جس سے ہر تیسرا چوتھا بندہ ممبر، کونسلر یا ناظم تو بن گیا لیکن قانوناً اختیار کوئی نہیں ہوگا اور یوں ہمہ وقت ، ہر جگہ انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ منتخب نمائندوں کا میچ جاری رہے گا۔ ایک چالاکی یہ دکھائی گئی ہے کہ 2013ء میں منظور کئے گئے ایکٹ کے تحت بننے والے بلدیاتی نظام کے لئے رولز آف بزنس ابھی تک نہیں بنائے گئے۔

کہا جاتا ہے کہ انہیں تیار کرکے رکھا گیا ہے اور اگر زیادہ ناظم حکومتی جماعت کے منتخب ہوئے تو پھر رولز آف بزنس ناظمین کے حق میں بنا دیئے جائیں گے اور اگر مخالفین غالب آئے تو پھر ان کے ہاتھ پائوں مزید باندھ دیئے جائیں گے۔ نئے نظام کو چلانے کے لئے ساڑھے تین ہزار سیکرٹری درکار ہوں گے اور ان کی تقرری ابھی تک نہیں ہوئی۔ گویا ناظمین تو منتخب ہوجائیں گے لیکن وہ اس وقت تک کام نہیں کر سکیں گے جب تک سرکار کی طرف سے ان کے پاس سیکرٹری نہیں ہوں گے ۔ رہی سہی کسر انتخابات کے دوران بدترین بدانتظامی نے پوری کردی ۔ پری پول ریگنگ، دوران انتخابات دھاندلی ، دھونس، قتل مقاتلے اور افراتفری کے ماضی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

وزراء اور ایم این ایز یا ایم پی ایز نے اپنے اپنے حلقوں میں جاکر سرکاری اور سیاسی اثرورسوخ کو بدترین طریقے سے استعمال کیا۔ بعض وزراء کی ویڈیوز تک سامنے آئیں جن میں وہ وزارت کا استعمال کرکے لوگوں کو ڈرا دھمکارہے ہیں ۔ ایک صوبائی وزیر توانتخابات کے روز بیلٹ باکس سمیت پکڑے گئے۔ الیکشن کے دن دو درجن سے زائد لوگ لقمہ اجل بنے۔ ہزاروں لوگ ووٹ ڈالنے سے محروم رہے ۔ درجنوں مقامات پر پولنک معطل کرنی پڑی۔ سینکڑوں مقامات پر بیلٹ پیپر غلط چھپے تھے۔ سب سے زیادہ شکایات وزیراعلیٰ کے ضلع سے موصول ہوئیں جہاں رشکیء میں انتخابات بھی ملتوی ہوئے۔ نوشہرہ میں جھگڑے ہوئے اور پبی میں ایک کارکن کی ہلاکت اور میاں افتخار حسین کی گرفتاری کا واقعہ پیش آیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے الزامات تو ایک طرف ، حکومت میں شامل اتحادی جماعت اسلامی نے بھی تحریک انصاف پر دھاندلی کے الزامات لگائے ۔ الزام کسی فرد نے نہیں لگایا بلکہ شوریٰ کے اجلاس کے بعد جماعت اسلامی کے پولیٹکل سیکرٹری کا بیان جاری ہوا۔ جماعت اسلامی نے بھی سب سے زیادہ احتجاج وزیراعلیٰ کے ضلع میں مبینہ دھاندلی پر کیا ہے ۔ جو کچھ ہوا یقینا اس کے لئے الیکشن کمیشن بھی ذمہ دار ہے ۔

بدانتظامی اور دھاندلی کا اصل ذمہ دار الیکشن کمیشن ہی ہے لیکن امن و امان بہر حال صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی اور جو دو درجن سے زائد لوگ مرے ہیں ، قیامت کے روز صوبائی حکومتی عہدیداروں کے دامن ہی اس خون سے داغدار ہوں گے ۔ جیو نیوز کے پروگرام میں جب پرویز خٹک صاحب نے دھاندلی اور بدانتظامی تسلیم کرکے اس کے لئے الیکشن کمیشن کو ذمہ دار قرار دیا تو میں نے عرض کیا کہ اس قاعدے کے مطابق تو پھر عام انتخابات کے دوران ہونے والی مبینہ دھاندلی سے نجم سیٹھی اور میاں نوازشریف بھی بری الذمہ قرارپاتے ہیں تو انہوں نے یہ انوکھی دلیل دے دی کہ وہ اس لئے ذمہ دار ہیں کہ اس دوران منظم دھاندلی ہوئی ہے ۔ اب ایک نگران وزیراعلیٰ جو خود الیکشن لڑرہے تھے نہ کسی جماعت کے رکن تھے تو ذمہ دار ہیں لیکن جس وزیراعلیٰ کی جماعت خود سب سے بڑی فریق تھی اور جس کے مقرر کردہ سرکاری افسران نگرانی کرہے تھے اورجو مستقل وزیراعلیٰ ہیں ، ہر قسم کی دھاندلی ، قتل وغارت اور بدنظمی سے بری الذمہ ہیں ۔ یہی منطق عمران خان صاحب نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں پیش کردی اور ایک ہی سانس میں پنجاب میں ہونی والی مبینہ دھاندلی پر اپنے روایتی موقف کا اعادہ بھی کیا ۔ یہ ہے تحریک انصاف کا انوکھا انصاف اور شاید اسی کے بارے میں شاعر نے کہا تھا کہ:

جو تیری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں تھی

دوسری طرف ویڈیو فوٹیج موجود ہے کہ پبی میں تحریک انصاف کے جشن منانے والے کارکن اے این پی کے اس دفتر کی طرف جارہے ہیں جس میں میاں افتخار حسین موجود تھے۔ عمران خان صاحب نے پریس کانفرنس میں یہاں تک ارشاد فرمایا کہ فائرنگ اےاین پی کے اس دفتر سے ہوئی۔ حالانکہ وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے جس میں تحریک انصاف کے جیتنے والے امیدوار کےحامی کلاشنکوفوں سے فائرنگ کررہے ہیں ۔ خان صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ چونکہ مقتول کے ورثاء نے میاں افتخارحسین کے خلاف دعویداری کی ہے ، اس لئے قانون حرکت میں آیا لیکن مقتول کے والد تحریک انصا ف کے بھرپور دبائو کے باوجود میاں صاحب کے خلاف دعویداری کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کردیا گیا جس سے صو بے میں سیاسی انتقام کے قبیح عمل کا آغاز ہوگیا۔ دوسری طرف اسی روز الیکشن کمیشن اور عوام کے دبائو کی وجہ سے تحریک انصاف کے ایک صوبائی وزیر کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی لیکن انہیں گرفتار نہیں کیا گیا ۔

اگر واقعی پولیس آزاد ہے تو پھر وہ اس صوبائی وزیر کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی؟۔اگرو اقعی پختونخوا پولیس سیاسی دبائو سے آزاد ہے تو پھر قوم کو بتایا جائے کہ ویڈیو میں دیکھے جانے والے پی ٹی آئی کے کلاشنکوف برداروں میں سے کتنوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔اس پولیس نے جو پھرتی میاں افتخار حسین کی گرفتاری میں دکھائی وہ پی ٹی آئی کے فائرنگ کرنے والے رہنمائوں یا کارکنوں کی گرفتاری میں کیوں نہیں دکھائی؟ ۔اب پی ٹی آئی کی منطق کے مطابق ماڈل ٹائون میں پولیس کی کارروائی کے لئے تو وزیراعلیٰ پنجاب ذمہ دار ہے اور ہم بھی کہتے ہیں کہ ذمہ دار ہیں لیکن پبی میں میاں افتخار حسین کے خلاف کارروائی کے لئے پختونخوا کی صوبائی حکومت ذمہ دار نہیں ۔
مکرر عرض ہے کہ

جو تیری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں تھی

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.