.

مصر اور سعودی عرب کے درمیان شامی جنگ

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نئے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ انھوں نے اور ان کے مصری ہم منصب نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا دھڑن تختہ ہونا چاہیے تاکہ بحران کے کسی سیاسی حل تک پہنچا جاسکے جبکہ فوجی اور سول ادارے برقرار رہنے چاہئیں۔

اگر سعودی عرب اور مصر فی الواقع بشارالاسد کی رخصتی پر متفق ہوگئے ہیں تو یہ ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ قاہرہ اس سے پہلے شام میں رجیم کی تبدیلی سے متعلق بات کرنے سے گریزاں رہا ہے اور اس کا یہ موقف رہا ہے کہ وہ وہاں انقلاب کا مخالف ہے۔

عادل الجبیر کے بیان سے قبل الریاض اور قاہرہ کے درمیان شامی تنازعے کے بارے میں خاموش عدم رضا مندی پائی جاتی تھی۔مزید برآں سعودی عرب اور مصر نے روس کو اپنے مؤقف میں تبدیلی لانے پر آمادہ کرنے کی اہمیت سے بھی اتفاق کیا ہے کیونکہ وہ خطے میں ایک اہم کھلاڑی ہے اور اس کی وجہ سے بھی بشارالاسد ابھی تک اقتدار میں ہیں۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران خطے میں تین خطرناک اور اہم پیش رفتیں ہیں جنھوں نے ہرکسی کو اپنے مؤقف میں تبدیلی لانے پر مجبور کردیا ہے۔دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) نے سعودی عرب میں پہلی مرتبہ دہشت گردی کے دو حملے کیے ہیں۔داعش نے لیبیا کے تیل کی دولت سے مالا مال شہر سرت پر قبضہ کر لیا ہے اور عراق کے مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

سعودی عرب اور مصر کے درمیان مشاورت اور اس کے ساتھ مغرب کی جانب سے حالیہ بیانات سے بحران کے درمیانے سیاسی حل کی حمایت کی عکاسی ہوتی ہے۔اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اب ہر کوئی رعایتیں دینے کو تیار ہے اور اب شاید بحران کا ایسا کوئی معقول حل نکل آئے جس پر زیادہ تر فریق راضی ہوجائیں۔

ہائی برڈ شامی رجیم

اب مقصد یہ ہونا چاہیے کہ شام میں ایک ہائی برڈ رجیم کے خدوخال وضع کیے جائیں۔اس میں شامی حزب اختلاف اور بشارالاسد کے سوا حکومت کے ارکان شامل ہوں اور ریاستی ڈھانچے کو برقرار رکھا جائے۔مختلف فریقوں کے درمیان داعش کے بارے میں ایک اتفاق رائے ہونا چاہیے۔داعش کے جنگجوؤں سے خطرہ یہ لاحق ہے کہ وہ علاقوں پر قبضہ کرنے اور عراق کی جانب بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

شام سے متعلق اس انتخاب کا بڑا امتحان شامی حزب اختلاف کی آیندہ چند روز میں قاہرہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس ہوگی۔اس میں قریباً دو سو مندوبین شریک ہوں گے مگر یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ یہ کانفرنس ایک اور ناکامی بھی ہوسکتی ہے۔اگر قاہرہ شامی حزب اختلاف کو ایک درمیانے حل کو قبول کرنے اور بشارالاسد کے بغیر ہائی برڈ رجیم کے قیام پر آمادہ کر لیتا ہے تو یہ مصری پالیسی کی ایک بہت بڑی فتح ہوگی۔

تاہم اس کانفرنس کے شرکاء کی پہلی فہرست میں اسد رجیم کے لیے قابل قبول حزب اختلاف کی شخصیات کے نام شامل ہیں۔وہ اس کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے لیے سخت محنت کریں گے اور شام کے علاوہ ایرانی رجیم سے بھی ان کے روابط ہیں۔اس سب کے باوجود مصر اس کانفرنس کا اس انداز میں انعقاد کرسکتا ہے جو نئی بین الاقوامی تفہیم سے ہم آہنگ ہو۔وہ روس کو بھی ہائی برڈ رجیم کو قبول کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔

-------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کی اس تحریر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.