.

کاٹھ کا گھوڑا

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

باوقار اداروں کے سربراہ عمومی طور پر جھنجھلاہٹ کا اظہار نہیں کرتے کیونکہ اس طرح یہ موقر ادارے، حرف گیری کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس وقت ہم صدارت کے ادارے کی بات کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان سے کوئی بھول چوک ہو بھی جائے تو انھیں ہدف تنقید بنانے سے گریز کیا جاتا ہے لہذا صدر مملکت پرناب مکھرجی نکتہ چینی سے بچ گئے ہیں حالانکہ انھی جیسے ایک اعلیٰ عہدیدار کو تو گویا مصلوب ہی کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ صدر اپنی اس خصوصی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے رہیں۔

اپنی خود نوشت سوانح میں جو کہ انھوں نے قصداً ایسے موقع پر شایع کی ہے جب وہ اتنے اونچے عہدے پر متمکن ہیں، مکھرجی نے مسز اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کو جائز قرار دیا ہے، حالانکہ یہ ایک برخود غلط اقدام تھا۔ آئینی قانونی اور اخلاقی طور پر ہر لحاظ سے غلط تھا۔ ایمرجنسی کے دوران ایک لاکھ لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے قید کر دیا گیا تھا۔ پریس کو بیڑیاں پہنا دی گئیں اور بنیادی حقوق معطل کر دیے گئے۔ وزیراعظم اندرا گاندھی کا بیٹا آنجہانی سنجے گاندھی ماورائے آئین حکومت چلا رہا تھا۔ صدر مکھرجی کا تازہ ترین بیان اور زیادہ افسوسناک ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’بوفورس توپوں کا اسکینڈل‘ بھارتی میڈیا کی تصوراتی اختراع تھی حالانکہ پرناب مکھرجی کو اس اسکینڈل کی تمام تر تفصیلات کا بخوبی علم ہے۔

یہ درست ہے کہ صدر مکھرجی مسز گاندھی کے بڑے وفادار معتمد تھے لیکن آخر وہ میڈیا کو کس بنیاد پر مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں؟ چہ جائیکہ میڈیا کو اس میں ملوث کیا جائے۔ راجیو گاندھی نے جان بوجھ کر ’بو فورس توپوں‘ کا انتخاب کیا تھا کیونکہ اس طرح تمام ’’کک بیکس‘‘ اٹلی میں اس کے سسرال والوں کو براہ راست ملیں اور سونیا کا گھرانا راتوں رات بے انتہا دولت کا مالک بن گیا ۔

اس حوالے سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ راجیوگاندھی نے اس سودے کی اپنی کابینہ میں کسی ایک کو بھی ہوا تک نہیں لگنے دی۔ یہ سویڈن کا ریڈیو اسٹیشن تھا جس نے سب سے پہلے اس خبر کا انکشاف کیا تاہم اس نے اس خبر کے ذرایع کے بارے میں کچھ نہیں بتایا اور نہ ہی آج تک اس کا پتہ چل سکا ہے۔ ریڈیو سے یہ خبر بھارتی جرنلسٹ چترا سبرا منیم نے حاصل کی جو انڈین ایکسپریس کے لیے کام کر رہی تھی۔ تاہم باور کیا جاتا ہے کہ یہ خبر کسی اندر کے شخص نے ہی باہر پہنچائی ہو گی جو اتنے بڑے مالیاتی اسکینڈل کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا ہو گا کیونکہ ابتدائی اندازے کے مطابق اس میں 64 کروڑ روپے کا گھپلا ہوا تھا حالانکہ اصل رقم 3000 کروڑ روپے تک جا پہنچی۔

سیاست پرناب مکھرجی کا جانا پہچانا میدان ہے لیکن صدر منتخب ہونے کے بعد انھوں نے سیاست چھوڑ دی۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے ساتھ ان کے اختلافات جائز محسوس ہوتے ہیں لیکن یہ ان دونوں کے درمیان ذاتی معاملہ ہے۔

قوم کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کسی سیاسی پارٹی کے اندر کیا معاملات چل رہے ہیں۔ مکھرجی کو اس بات کا احساس ہے کہ انھوں نے کانگریس پارٹی کے مشکل دنوں میں پارٹی اور حکمران خاندان کو بچانے کے لیے جو کردار ادا کیا تھا اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن سونیا گاندھی ہر قیمت پر اپنے بیٹے راہول گاندھی کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کرنا چاہتی تھیں اور ان کی یہی خواہش مکھرجی کے سیاسی عزائم کی راہ میں حائل ہو گئی جس سے مکھرجی سخت برہم ہوئے تاہم انھیں صورت حال کا بخوبی ادراک ہو گیا چنانچہ انھوں نے اعلان کر دیا کہ وہ 2014ء کے انتخابی معرکے میں حصہ نہیں لیں گے۔

سونیا گاندھی نے بخوشی ان کا فیصلہ تسلیم کر لیا کیونکہ اس طرح راہول گاندھی کا راستہ خود بخود صاف ہو سکتا تھا۔ صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد مکھرجی نے جو تقاریر کیں ان میں سیاست کا زیادہ ذکر نہیں بلکہ انھوں نے قوم کو درپیش مسائل پر اپنی توجہ مرکوز رکھی جیسے کہ وہ صدر نہ ہوں وزیراعظم ہوں۔ یوم جمہوریہ پر ان کی پہلی نشری تقریر کے جواب میں مخالفانہ تبصرے سنے گئے اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (CPI) سمیت بہت سی دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی صدر کی تقریر کو سیاسی تقریر قرار دیا۔ تاہم اس تقریر میں صدر نے جو بھی کہا تھا وہ عمومی طور پر درست تھا۔ مثال کے طور پر ان کا یہ کہنا کہ شخصی حکومت اچھی حکمرانی کا متبادل نہیں ہو سکتی اور یہ کہ سیاست دان عوام میں منافقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

گو کہ ان کی یہ دونوں باتیں درست ہیں لیکن وہ یہ کیوں بھول گئے کہ وہ صرف آئینی سربراہ ہیں لہذا انھیں ایسی باتوں سے احتراز کرنا چاہیے جو منتخب پارلیمنٹ اور ریاستی قانون سازوں کی دائرۂ اختیار میں آتے ہیں لہذا ان باتوں کی صدر مملکت کی زبان سے ادائیگی کی توقع نہیں کی جاتی۔ صدر کا عہدہ تو ایسے باوقار منصب کی مانند ہے جس کو مسخ نہیں کیا جانا چاہیے البتہ سیاسی لیڈر ایسا کرتے ہی رہے ہیں۔ مکھرجی کا ایسا کرنا اگرچہ درست نہیں لیکن تعجب کی بات بھی نہیں۔

ہو سکتا ہے کہ وہ یہ باتیں اس لیے کر رہے ہوں کیونکہ انھیں وزارت عظمیٰ سے محروم کردیا گیا جسے وہ اپنا حق سمجھتے تھے بلکہ ان کا خیال تھا کہ انھیں خود بخود اس منصب کے لیے منتخب کر لیا جائے گا کیونکہ کانگریس پارٹی میں ان کی حیثیت خاصی قدآور تھی اور انھوں نے مختلف مناصب پر اپنی اہلیت کو ثابت بھی کیا تھا لیکن جس بات کا انھیں اس وقت احساس نہیں تھا اس کا انھیں بعد میں پتہ چلا کہ مسز سونیا گاندھی بذات خود حکمرانی کرنا چاہتی تھیں گو کہ انھیں اس بات کا پورا احساس تھا کہ ان کی اطالوی قومیت کہیں ان کی اولاد کی راہ میں رکاوٹ نہ بن جائے حالانکہ وہ گاندھی ۔ نہرو ۔ وراثت کے جانشین ہیں۔

سونیا کو درحقیقت ایک ایسے کاٹھ کے گھوڑے یا ’ڈمی‘ کی ضرورت تھی جس کی آڑ میں وہ خود حکومت کر سکیں اور اس کے لیے ان کی مرضی کے مطابق انھیں من موہن سنگھ کی صورت میں ایک گھڑی گھڑائی چیز مل گئی جن کی شخصیت صاف ستھری تھی اور ان کی قابلیت میں بھی کوئی کلام نہیں تھا نیز وہ مسز سونیا گاندھی کے مکمل تابعدار بھی تھے اور نہ ہی ان کا اپنا کوئی گروپ تھا اور اپنی وزارت عظمیٰ جاری رکھنے کے لیے ان کا تمام تر انحصار سونیا گاندھی پر ہی تھا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سونیا نے منموہن کے ذریعے پورے دس سال ملک پر حکومت کی۔ یہ اقتدار کی ایک ایسی عجیب و غریب شکل تھی جس میں مکمل اختیارات کے باوجود سونیا پر کسی قسم کی کوئی ذمے داری نہیں تھی۔ سرکاری فائلیں ان کی رہائش گاہ پر بھیجی جاتی تھیں اور ان پر وہ جو ہدایات لکھتی تھیں ان پر حرف بحرف عمل ہوتا تھا۔

منموہن سنگھ کے اطلاعات کے مشیر جنہوں نے ان کی حکومت پر کئی کتابیں بھی لکھی ہیں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ منموہن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ حیرت اس بات کی ہے کہ جب منموہن سنگھ کا کوئی اختیار ہی نہیں تھا تو پھر انھوں نے ان پر کتابیں کیوں لکھیں۔ منموہن کی حکومت کے دوران ان مشیروں نے کبھی اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ تمام احکامات مسز سونیا گاندھی کی رہائش گاہ 10 جنپت سے موصول ہوتے تھے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو منموہن کے مشیر بھی ان کی اتھارٹی کے غلط استعمال کے مرتکب تھے۔

میرا تجربہ یہ ہے کہ وزیراعظم صدر کے اوپر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ آئین تیار کرنیوالوں نے صدارتی طرز حکومت پر پارلیمانی جمہوریت کو ترجیح دی ہے اور صدر کے اختیارات کی تفصیل بھی تحریر کر دی ہے گو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صدر کے اختیارات کم سے کم ہوتے رہے ہیں لیکن اب چونکہ وزیراعظم نریندرا مودی سنگھاسن پر بیٹھے ہیں لہذا تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ مکھرجی نے مسز اندرا گاندھی کی ایمرجنسی پر جو تبصرے کیے ہیں وہ کئی دہائیاں پرانے ہیں لیکن انھوں نے موجودہ صورت حال پر اشارتاً بھی کوئی بات نہیں کی۔ اگر بالفرض انھوں نے کبھی ایسا کیا تو مودی کا ردعمل دیکھنے کے لائق ہو گا۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.