.

سراج الحق بنام نریندر مودی

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برصغیر پاک و ہند میں ایک دوسرے کو آموں کے تحفے بھجوانے کی روایت بہت پرانی ہے۔ ایک دفعہ اکبر الٰہ آبادی نے علامہ اقبال کو الٰہ آباد سے لنگڑا آم بھجوایا۔ علامہ اقبال نے شکریے کیساتھ اپنے بزرگ دوست کو یہ شعر لکھ بھیجا؎

اثر یہ تیرے اعجاز مسیحائی کا ہے اکبر
الٰہ آباد سے لنگڑا چلا، لاہور تک پہنچا

1947ء میں تقسیم ہند کے بعد مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت میں پہلی جنگ نے دونوں ممالک کے تعلقا ت میں کافی کڑاوہٹ پیدا کردی۔ بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گئے اور وعدہ کرلیا کہ وہ کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے سے کریں گے۔ اس وعدے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے دونوں ممالک کے تعلقات میں کڑواہٹ کم کرنے کے لئے نہرو کو آموں کا تحفہ بھجوایا۔ان آموں کی مٹھاس نے کوئی کام نہ دکھایا اور اگلے کچھ برسوں میں پاکستان اور بھارت میں مزید دو جنگیں ہوگئیں۔ جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کا اقتدار سنبھالا تو انہوں نے اندرا گاندھی کو آموں کا تحفہ بھجوا کر مینگو ڈپلومیسی کے نئے دور کا آغاز کیا لیکن اندرا گاندھی نے کشمیری حریت پسند مقبول بٹ کو دہلی کی تہاڑ جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا اور ان کا جسد خاکی بھی جیل میں دفن کرا دیا۔ کچھ ہی دنوں میں اندرا گاندھی اپنے سکھ محافظوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئیں۔
آئی کے گجرال بھارت کے وزیر اعظم بنے تو انہوں نے نواز شریف کو آموں کے تحفے بھجوائے لیکن وہ زیادہ عرصہ حکومت میں نہ رہے۔ کمانڈو جرنیل پرویز مشرف حکومت میں آئے تو انہوں نے اٹل بہاری واجپائی کو آم بھجوا کر کارگل کی تلخیاں کم کرنے کی کوشش کی یہاں تک کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو بھول جانے کی بات بھی کردی۔

اس سے پہلے کہ وہ کشمیر کی جنگ کو مذاکرات کی میز پر ہار دیتے وہ اقتدار سے فارغ ہوگئے۔ پھر من موہن سنگھ نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو آم بھجوائے لیکن شرم الشیخ کی ملاقات میں گیلانی نے انہیں بتایا کہ آپ کے آم تو بہت میٹھے تھے لیکن کشمیر کے انگور بہت کھٹے ہیں۔ 2014ء میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت کے نئے وزیر اعظم نریندر مودی کو سندھڑی اور چونسہ آموں کے 15 پارسل بھجوائے لیکن جواب میں بھارت نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر گولہ باری شروع کردی۔ ستمبر 2014ء میں مودی کے دورہ امریکہ سے قبل بھارت نے کوشش کی کہ کشمیری حریت پسند رہنما سید صلاح الدین پر اقوام متحدہ کے ذریعہ پابندیاں لگوادی جائیں۔اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے 1999ء میں اپنی قرار داد 1267 کے ذریعہ القاعدہ اور طالبان کے رہنمائوں کی ایک فہرست تشکیل دی تھی فہرست میں شامل افراد کے اثاثے ضبط کرلئے گئے۔ سفری سہولتوں پر پابندی عائد ہوگئی اور رکن ممالک سے کہا گیا کہ ان افراد کو گرفتار کیا جائے۔ بھارت نے 1267 فہرست کو ہمیشہ اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس فہرست میں القاعدہ کے رہنما ڈاکٹر ایمن الظواہری اور طالبان رہنما ملا فضل اللہ کے ناموں کی موجودگی کی کوئی نہ کوئی ٹھوس وجہ موجود ہے لیکن بھارت نے اس فہرست میں دائود ابراہیم،حافظ محمد سعید اور ذکی الرحمان لکھوی کے نام بھی شامل کرادئیے۔ اب بھارت اس فہرست میں سید صلاح الدین کا نام شامل کرانا چاہتا ہے۔ ستمبر 2014ء سے جون 2015ء تک بھارت نے 1267 کمیٹی کے اجلاسوں میں تین مرتبہ سید صلاح الدین کا نام 1267 فہرست میں شامل کرانے کی کوشش کی لیکن تینوں مرتبہ چین نے تکنیکی اعتراضات کے ذریعہ بھارتی کوشش کو ناکام بنادیا۔ حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے چین کا دورہ کیا اور کوشش کی کہ سید صلاح الدین کے معاملے میں چین اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔ فی الحال مودی کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن انہوں نے سید صلاح الدین کے بارے میں دھمکی آمیز بیانات دینے شروع کردئیے جس پر جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق جلال میں آگئے اور انہوں نے یہ اعلان کردیا کہ جو نریندر مودی کو گرفتار کریگا اسے 100 کروڑ روپے کا انعام دیا جائیگا۔ سراج الحق کے اس بیان کو پاکستانی میڈیا میں اتنی اہمیت نہیں ملی لیکن بھارتی میڈیا میں طوفان برپا ہوچکا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مودی نے سید صلاح الدین کو زندہ گرفتار کرنیوالے کیلئے 50 کروڑ روپے کا انعام مقرر کیا جس پر سراج الحق نے مودی کو گرفتار کرنیوالے کیلئے 100 کروڑ روپے کا انعام مقرر کردیا۔میں نے سینیٹر سراج الحق صاحب سے پوچھا کہ انہیں مودی کی گرفتاری کا انعام مقرر کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداروں کی روشنی میں جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔

اس متنازع علاقے کا ایک باشندہ سید صلاح الدین سرینگر سے مظفر آباد آئے یا مظفر آباد سے جموں جائے، بھارتی حکومت اس کی گرفتاری پر انعام مقرر کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتی لیکن اگر بھارتی حکومت کشمیریوں پر ظلم و ستم سے باز نہیں آتی تو پھر مجبوراً ہم بھی بھارتی وزیر اعظم کی گرفتاری پر انعام مقرر کرنیکا حق رکھتے ہیں۔ سراج الحق صاحب کے تحفظات اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت اور امریکہ نے 1267 فہرست کو ایک مذاق بنادیا ہے۔ سوئٹزر لینڈ کی پارلیمنٹ 1267 کے خلاف قرارداد منظور کرچکی ہے کیونکہ اس میں کچھ یورپی مسلمانوں کے نام غلط طور پر شامل کئے گئے۔ 20 دسمبر 2011ء کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے سامنے پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں 1267 فہرست میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ کے پیرا گراف 36 میں کہا گیا کہ طالبان اور لشکر طیبہ کے درمیان کسی براہ راست تعلق کا ثبوت نہیں ملا۔ پیرا گراف 40 میں کہا گیا کہ فہرست میں گلبدین حکمت یار کا نام بھی شامل ہے لیکن حکمت یار کا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں ملا۔ اس فہرست سے طالبان رہنما وکیل احمد متوکل اور انکے دیگر چار ساتھیوں کے نام امریکہ نے نکلوادئیے حالانکہ یہ سب ملا محمد عمر کے قریبی ساتھی تھے لیکن امریکہ ان پر پابندیاں ہٹا کر ان کے ذریعہ طالبان سے مذاکرات کرنا چاہتا تھا۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ بھارت کے ساتھ دوستی ضرور بڑھائے لیکن بھارت کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ کرے۔ سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے سے قبل یہ معلوم کرلیاجائے کہ انہوں نے ہتھیارکیوں اٹھائے؟ سرینگر یونیورسٹی سے پولیٹکل سائنس میں ایم اے کرنے والے سید صلاح الدین کا اصل نام سید محمد یوسف شاہ ہے۔

سید محمد یوسف شاہ نے1987ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر اسمبلی کی نشست کے لئے سرینگر سے مسلم یونائیٹڈ فرنٹ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا لیکن الیکشن کے دن دھاندلی کی انتہا کردی گئی۔ انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔ جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے بیلٹ کا راستہ چھوڑ کر بلٹ کا راستہ اختیار کیا کیونکہ بھارتی حکومت نے ان کیلئے کوئی دوسرا راستہ نہ چھوڑا۔ بھارتی حکومت ایک امریکی شہری منصور اعجاز کے ذریعہ سید صلاح الدین سے مذاکرات کی کوشش کر چکی ہے لیکن سید صلاح الدین کو مذاکرات کے نام پر سرینڈر قبول نہیں اور اسی لئے بھارت انہیں دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی اور قربانیوں کی حالیہ تاریخ 13 جولائی 1931ء سے شروع ہوتی ہے۔مسلم کانفرنس نے 19 جولائی 1947ء کو الحاق پاکستان کی قرار داد منظور کی کیونکہ کشمیریوں کے تاریخی، سماجی اور تہذیبی رشتے پاکستان سے وابستہ ہیں۔ کشمیر کے دریائوں کا بہائو بھارت کی طرف نہیں پاکستان کی طرف ہے۔ کشمیر کے ایک تاریخی شہر اننت ناگ کا نام اسلام آباد 1947ء کے بعد نہیں رکھا گیا بلکہ 1664ء میں رکھا گیا۔ بھارت کا کشمیریوں سے صرف یہ رشتہ ہے کہ مقبول بٹ اور افضل گرو کے جسد خاکی پھانسی کے بعد دہلی کی تہاڑ جیل میں دفن کردئیے گئے۔ پاکستان کا کشمیریوں سے یہ رشتہ ہے کہ مسلم کانفرنس کے بانی رہنما چوہدری غلام عباس راولپنڈی اور قرآن مجید کا کشمیری زبان میں ترجمہ کرنے والے میر واعظ محمد یوسف مظفر آباد میں دفن ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے حکمران کئی ز مانوں سے ایک دوسرے کو آم کھلا رہے ہیں لیکن دونوں ممالک کے تعلقات کی اصل حقیقت وہی ہے جو سینیٹر سراج الحق نے نریندر مودی کے نام اپنے پیغام میں واضح کردی ہے۔

جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا کوئی لنگڑا، سندھڑی اور چونسہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں شیرینی پیدا نہیں کرسکتا۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.