.

مسئلہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم نریندر مودی وزیراعظم بھارت کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے بھارت کا اصل چہرہ دکھا دیا اور بھارت کے ڈھکے چھپے عزائم سامنے لے آئے، جس سے پاکستانی قوم متحد ہوگئی، اور پاکستان میں سیاستدان و ادارے ایک صفحہ پر آگئے، بہت اچھا لگا جب جنرل راحیل شریف نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں سیاسی و فوجی قیادت نے یک جان دو قالب ہونے کی نوید سنائی اور یہ کہا کہ کشمیر تقسیم ہندوستان کا نامکمل ایجنڈا ہے اور پاکستان خطے میں امن واستحکام کی خواہش رکھتا ہے لیکن کسی بھی ملک کو پراکسی وار کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن دہشتگردی کو ہوا دے کر ملک میں عدم استحکام پیدا کررہا ہے لیکن پاک فوج ہر قسم کی دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے نوید سنائی کہ جنگی حکمت عملی میں تیزی سے تبدیلی لارہے ہیں۔

اس وقت بھارت کی قیادت بہت آگ بگولہ ہوتی جارہی ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ پاکستان کا معاشی کاریڈور مکمل ہو اور پاکستان معاشی و عسکری طور پر مضبوط ہوجائے، ایک مغربی ملک کی خاتون صحافی سنتھیا پال کو ’’را‘‘ کے ایک افسر نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو پاکستان اور چین معاشی کاریڈور پر سخت تشویش ہے اور اس کو وہ کبھی مکمل نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ طالبان اب اُن کے لئے ناکارہ بن کر رہ گئے ہیں کیونکہ ضربِ عضب نے اُن کی کمر توڑ دی ہے اور وہ تتربتر ہوگئے ہیں اس لئے وہ مشرق وسطیٰ سے داعش قسم کے لوگوں کو پاکستان میں گڑبڑ پھیلانے کے لئے لانے کی کوشش کررہے ہیں اور عالمی طاقتوں تک کو دعوت گرفت دے رہے ہیں کہ اگر بھارت کو چھوٹے ایٹمی ہتھیار یا ڈرٹی بم دینا پڑے تو وہ اس سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان کو وہ مزا چکھائیں گے کہ پاکستانیوں کی آئندہ کی نسلیں یاد رکھیں گی۔

ان باتوں سے ایک بات تو صاف ہوگئی کہ بھارت پاکستان میں بھرپور مداخلت کررہا ہے، دوسرے عام طور پر مغرب پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کا دہشتگردوں کے ہاتھ چڑھ جانے کے خطرے اور تشویش سے آگاہ کرتا رہا ہے جبکہ اُن کو استعمال کرنے کا ارادہ ’’را‘‘ کا ایک بڑا افسر سنتھیا پال سے گفتگو میں کرتا ہے کہ دہشتگردوں کو عراق سے پاکستان لائیں گے اور اُن کو ایٹمی اسلحہ سے لیس کردیں گے۔ اس خبر کو شائع ہوئے ایک ہفتے سے زیادہ ہوگیا مگر مغرب کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھی پاکستان کی ترقی اورایٹمی پروگرام کو تاحال ہضم نہیں کر پایا ہے اور بھارت کو شہ دے رہا ہے کہ وہ پاکستان کو مشتعل کرے جو پاکستان نہیں ہورہا، دہشتگردوں کا پیچھا اور صفایا کررہا ہے اُن کو بھگا رہا ہے تاکہ پاکستان کی آئندہ کی نسلیں امن وسکون کا سانس لے سکیں۔ جنرل راحیل شریف کے چیف آف آرمی اسٹاف کے بنتے ہی حالات نے کروٹ بدلی اور انہوں نے دہشتگردوں کا بلاامتیاز صفایا کرنے کا عزم کیا، پوری قوم نے اُن کا ساتھ دیا، سیاسی قیادت پہلے بادل ناخواستہ اور اب دلی طور پر ساتھ دے رہی ہے۔ سندھ کی صوبائی حکومت کو اب اس سلسلے میں قدم آگے بڑھانا پڑے گا۔ دوسری بات ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ داعش یا آئی ایس طے شدہ مغرب ساختہ ہیں، ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک اسکالر گریجکو نے برملا کہا کہ امریکی ان کو اپنا سب سے خطرناک ہتھیار سمجھتے ہیں اگر امریکی ایجنسیوں نے یہ بھارت کو دیئے تو پھر اس کو دشمنی سے تعبیر کیا جائے گا اور امریکی مفادات کی حفاظت کی ذمہ داری سے پاکستان مکمل طور پر بری الذمہ ہوجائے گا۔

جہاں تک بھارت کا تعلق ہے اُس کو اپنے آپے میں رہنا چاہئے کہ وہ نہ تو اپنی 13 لاکھ فوج کے ساتھ اس پوزیشن میں ہے کہ پاکستان سے روایتی جنگ لڑ سکے ، اُس کے ہتھیار لڑنے کے قابل نہیں رہے، جس کا اعتراف خود بھارتی، بری، فضائی اور بحری ذمہ داران نے اخبارات میں کیا ہے اور نہ ہی وہ اپنے کولڈ اسٹارٹ ڈوکٹرائن کو بروئے کار لانے کے قابل رہا ہے کہ وہ ہمارے آٹھ علاقوں میں پوری طاقت کے ساتھ گھس کر پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے کیونکہ اُس کے جواب میں ہم نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار اور کم فاصلے سے مار کرنے والے میزائل بنالئے ہیں جو کسی بھارتی فوجیوں کے اجتماع کو بھانپ کی طرح اڑا دیں گے، اس سے بھارت کے کوئی بیس بلین ڈالرز ڈوب گئے جو انہوں نے اِس ڈوکٹرائن کی تیاری میں خرچ کئے تھے جس پر چراغ پا ہو کر بھارت کے ایٹمی بورڈ کے چیئرمین شیام سرن نے 2013ء میں کہا تھا کہ اسٹرٹیجک ایٹمی جنگ شروع ہوجائے گی اگر پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار استعمال کئے، ہم چھوٹے ایٹمی ہتھیار اسی وقت استعمال کریں گے جب بھارت کولڈ اسٹارٹ ڈوکٹرائن کو روبہ عمل لائے گا جہاں تک اسٹرٹیجک ایٹمی جنگ کی بات ہے وہ پاکستان تو نہیں چاہتا۔ برطانیہ کے ایک صحافی نے لکھا ہے کہ پاکستان کے دو تین عسکری ماہرین نے مجھ سے کہا تھا کہ ہمیں 80 سیکنڈ لگیں گے کہ ہم بھارت کو وہ مار ماریں گے کہ یاد رہے۔ تاہم بھارت کے ناتجربہ کار اور ایجنسیوں کے سابق سربراہ اب بھارت کی سلامتی امور کے مشیر ایم کے ڈوول کو یہ بات سمجھنا چاہئے کہ جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا،حالات بدل گئے ہیں، معاملات بھی بدل گئے ہیں، بھارت اِس پوزیشن میں نہیں رہا ہے کہ پاکستان کو دھمکا سکے۔

یہ خیال بھی دل سے نکال دے کہ وہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہہ کر زیادہ دیر ظلم جاری رکھ سکے گا اور اب آگے بڑھ کر وہ گلگت بلتستان کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے رہا ہے۔ جو ایک اور بڑی غلطی ہے، یاد رہے کہ بھارت میں تقریباً دو درجن کے قریب آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں، کشمیری،نکلسلائٹ،گورکھا، بوڈولینڈ،ارون چل، جنوبی بھارت میں کئی آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ چینی دانشور کا یہ کہنا ہے کہ بھارت کو چھ حصوں میں تقسیم کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، پاکستان بھارت کی تقسیم کا حامی نہیں ہے،اگر بھارت اچھا پڑوسی ہونے کا ثبوت دیتا اور اپنی بالادستی قائم کرنے کی پالیسی اختیار نہ کرتا تو اس سے خطے میں امن قائم ہوتا۔ بھارت خطے میں چوہدری بننے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے، بھارت کی بالادستی ماننا ہوتی تو ہم پاکستان کیوں بناتے۔ اس لئے پاکستان کو نقصان پہنچانے یا چین پاکستان معاشی کاریڈور نہ بنانے دینے کی دھمکیاں دینے سےحالات اُس کے قابو میں نہیں آجائیں گے۔ انہیں یہ بات سمجھ لینا چاہئے کہ بھارت میں ایک اور پاکستان کے بننے کے امکانات موجود ہیں۔ ایک طرف بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر ،بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ پاکستان میں دہشت گردی کرانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب نریندر مودی امن کی بات کررہے ہیں جس پر پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کی خطے میں امن کی خواہش کھوکھلی ہے.

پاکستان کے چیف آف دی آرمی اسٹاف نے انتہائی نرم و شستہ لہجے میں بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ نہ کسی ملک میں پراکسی وار لڑتے ہیں اور نہ کسی ملک کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ پاکستان میں پراکسی وار لڑے۔ پاکستانی قوم یکجا ہے، ذمہ داریوں کی تقسیم کا مرحلہ ہے، عوام کو سڑکوں اور گلیوں اور کوچوں میں الرٹ رہنا ہوگا اور دشمن کے ہر کارندے کو سامنے لانا ہوگا، فوج اور تمام ادارے جس عزم کے ساتھ کام کررہے ہیں اُسی عزم کے ساتھ عوام کو بھی دشمنوں کے پیروکارو، ایجنٹوں اور کارندوں کا پیچھا کرنا ہوگا تو چند دنوں میں ان کا صفایا ہوجائے گا۔ علمائے کرام کھل کر پاکستان کی حمایت میں آواز بلند کریں بلکہ اپنے طلبا کو منظم کرکے دشمنوں کے ایجنٹوں کی نشاندہی پر لگائیں تو اُن کا حصہ بھی دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پڑ جائے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور سیاسی قیادت میاں محمد نواز شریف کی سربراہی میں دشمن کے عزائم کو نہ صرف ناکام بنا دیں گے بلکہ تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا مسئلہ کشمیر کا حل نکال کربھارت کی کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے کی رٹ کا بھی خاتمہ کردیں گے۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.