.

دودھ کا دودھ

رضوان رضی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مالی سال 2015-16 کے مالیاتی تخمینے (بجٹ) کے اعلان میں خشک دودھ کی درآمد پرکسی قسم کا بھتہ (ٹیکس) نہیں لگایا گیا۔ اب اگر اس لفظ کے استعمال سے اشارہ کسی خاص پارٹی یا لسانی گروہ کی طرف چلا جائے تو ہمارا ذمہ اوش پوش۔ درآمدی دودھ پر بھتے (ٹیکس) کا غلغلہ بہت دنوں سے اخبارات میں مچ رہا تھا اور ظاہر ہے اس کے پیچھے ڈبہ دودھ بیچنے والوں کا مضبوط اور مخصوص مفادات کا حامل بااثر گروہ تھا۔ لیکن :

سرِ آئینہ میرا عکس ہے پسِ آئینہ کوئی اور ہے

یادش بخیر دادا جی سال2012 میں جب پاک پتن، دیپالپور ، عارف والا، اور ساہی وال کے دورے سے واپس تشریف لائے تو اس امر پر تشویش میں مبتلا پائے گئے، کہ ڈبوں میں دودھ بھر کر بیچنے والے ،ملک کے ایک کثیر القومی ادارے نے ان علاقوں میں کسانوں سے دودھ کی خریداری بند کر کے اپنا دودھ اکٹھا کرنے کا سارا نظام لپیٹ دیا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس ادارے نے یہ نظام کھڑا کرنے کے لئے اُسی ’گورے ‘ کی خدمات حاصل کی تھیں جس نے اسی طرح دودھ اکٹھا کرنے کا نظام پڑوسی ملک بھارت میں اس طرح متعارف کروایا تھا اور وہاں پر غربت مٹانے کے لئے ’امل‘ نامی یہ نظام دنیا بھر کے لئے ایک مثال بن کر دنیا کے سامنے آیا ہے ۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ نظام بہاولپور ، حاصل پور اور دیگر علاقوں سے بھی ختم کر دیا گیا۔ دادا جی کو تشویش اس امر کی تھی کہ اگر یہ ادارے کسانوں سے دودھ نہیں خرید رہے تو پھر یہ ڈبوں میں کیا بھر کر بیچ رہے ہیں؟

مزید تحقیق پر پتہ چلا کہ اس ادارے کو بین الاقوامی منڈی سے خشک دودھ کا ایک بہت بڑا ذخیرہ انتہائی کم نرخوں پر دستیاب ہو گیا ہے بلکہ آئندہ بھی دستیاب رہے گا ، اب اسی دودھ کو پانی میں گھول کر ڈبے میں بھر کر صارفین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ کیوں کہ دودھ کو خشک کرتے وقت ساری چکنائی نکال لی جاتی ہے اس لئے دوبارہ چکنائی ڈالنے کا خرچہ کرنے کی بجائے ، اس پانی میں گھلے خشک دودھ میں ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے موجود کیلشیم کا ڈھنڈورا پیٹنا بہت ضروری خیال کیا جاتا ہے ۔ ملاحظہ ہوں اشتہاری مہمات ۔

دادا جی نے اس وقت اپنے فیس بک اکاونٹ پرایک پوسٹ کی جس میں لوگوں کو خبردار کیاگیا تھا کہ وہ ڈبے کے دودھ کے بارے میں احتیاط کریں۔ دادا کی اس پوسٹ کے نتیجے میں ان ادارے کے اندر کام کرنے والے لوگوں کی ایسی ایسی کہانیاں ان کو سنائیں کہ جن کو سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ۔ ’سب سے گاڑھے ‘ دودھ کے ادارے میں کام کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ وہ دودھ میں Thinner ملاتے ہیں جس کی خصوصیت یہ ہے کہ اگر اس کا یک قطرہ پانی سے بھرے ٹب می ملا دیا جائے تو پورے ٹب کا پانی جیلی کی صورت اختیار کر جاتا ہے اور انہوں نے تو یہ کیمیکل بنانے کا پلانٹ بھی اپنی فیکٹری کے اندر ہی لگا رکھا ہے۔ جب ان تمام اطلاعات کو دادا جی نے اس پوسٹ کا حصہ بنایا تو اس وقت کے ایوان صنعت و تجارت کے صدر عالی مقام طیش میں آگئے اور ایوان صنعت و تجارت لاہور کے ریڈیو پر دادا پوتا شو بند ہو گیا۔

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض چکائے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

گذشتہ دنوں ایک انگریزی اخبار میں جب ایک خبر چھپی تو دادا جی کے پرانے زخم پھر ہرے ہو گئے۔ برخوردار منور حسن، جو اقتصادیات اور صنعت و زراعت کی صحافت میں تحقیقی خبریں دینے کے باوصف ، صحافت میں ایک معتبر نام بن چکا ہے، انہوں نے پنجاب حکومت کے محکمہ لائیوسٹاک اور ڈیری ڈویلپمنٹ کی طرف سے پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کو لکھے گئے خط کی تفصیل کچھ یوں چھاپی کہ اپنے اخبار کے مارکیٹنگ کے شعبے کے لال بجھکڑوں سے بچ بچا کر ساری بات کہہ ڈالی۔ اس خط میں کہا گیا ہے پنجاب حکومت کو اس امر پر بہت تشویش ہے کہ صوبے کے کسان دودھ دینے والے جانور دھڑادھڑ قصائیوں کو فروخت کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں مستقبل میں ملک میں دودھ اور گوشت کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔خط میں لکھا گیا کہ پنجاب حکومت کی تحقیق کے مطابق کسانوں کی دودھیلے جانور بیچنے کی وجہ یہ ہے کہ ڈبہ بند دودھ بیچنے والے ادارے کسانوں سے ایک قطرہ بھی دودھ نہیں خرید رہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے ڈیری ایسوسی ایشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دودھ اکٹھا کرنے کے ضلع وار اعداد و شمار پنجاب حکومت کو فراہم کریں۔

وفاقی بجٹ سے پہلے خشک دودھ کی درآمد پر ٹیکس لگنے کے حوالے سے بہت شور و غوغا تھا۔ بعض اینکر اور اینکریاں تو جوش جذبات میں بجٹ والے دن بھی یہی کہتے رہے کہ دودھ پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے حالاں کہ خشک تو کیا گیلے دودھ پر بھی کسی قسم کا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ طریقہ واردات یہ ہے مالیاتی تخمینے کے اعلان سے قبل اخبارات میں یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ شیر خوار بچوں کے دودھ پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے حالاں کہ یہ خشک دودھ تو شیر خوار بچوں کے لئے نہیں تھا بلکہ اس کو تو دودھ ساز ادارے عوام کو دھوکہ دینے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اور اب ان اداروں کی دیکھا دیکھی مقامی گوالے بھی میدان میں کود پڑے ہیں اور خود سے دودھ بناکر مارکیٹ میں فروخت کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ فارمولا یہ ہے کہ ایک کلو اصلی دودھ، اس میں ایک کلو خشک دودھ اور پھر بیس کلو پانی، دودھ کا رنگ نکھارنے کے لئے مارکیٹ میں دستیاب گھٹیا بال صفا پاوڈر اور جھاگ بنانے کے لئے کپڑے دھونے والا پاوڈر، اور اس میں چکنائی کے لئے کوکنگ آئل۔ لیں جی دودھ تیار۔ ہر گلی محلے میں کھلے نام نہاد ’’ملک پوائنٹ ‘‘ یہی کچھ بیچ رہے ہیں۔ جس طرح ایگزیکٹ کی ڈگریاں اصلی ہیں بالکل اسی طرح یہ دودھ بھی اصلی ہے۔ اصلی دودھ جانچنے کا طریقہ بالکل واضح ہے، اس کا دہی جمائیے، اگر دہی جم گیا تو دودھ اصلی اور اگر صبح آپ کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا تو دودھ نقلی۔ یورپ اس سے پہلے ہی مستفید ہو رہا ہے اور وہاں اسے Synthetic Milk کا نام دیا جاتا ہے۔ پنجاب میں کسان کو دودھ کی پیداواری لاگت 65 روپے فیر لیٹر پڑتی ہے۔ پھر گوالے اور دکاندار کا منافع اس پر مستزاد۔ تو پھر سوچئے گا کہ آپ پچاس یا پچپن روپے میں کیا خرید رہے ہیں؟

سوچنے کی بات تو یہ بھی ہے کہ دیہات میں اکثر گھرانوں کا چولہا گائے اور بھینس کے دئیے ہوئے دودھ کی فروخت پر چلتا ہے۔ اور جب یہ دودھ خریدنے والا گوالا خود دودھ بنا کر مقامی منڈی میں فروخت کرنا شروع ہو چکا تو ان بے چاروں سے دودھ کون خریدے گا؟ایسی صورت میں ان کے پاس ایک ہی آپشن بچتا ہے کہ وہ جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے اپنے جانوروں کو اونے پونے بیچ کرلمحہ موجود میں تو اپنے پیٹ کی آگ بجھائیں، باقی اسحاق ڈار صاحب نے بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ کے لئے رقم بڑھا کر 102 ارب روپے کر دی ہے، اللہ اللہ خیر سلا۔

مملکتِ خداداد پاکستان میں امریکہ بہادر نے پاکستان کے جس شعبے میں بھی ہماری ’’امداد‘‘ کی ہے اسی شعبے کا ہی بیڑہ غرق ہوا ہے اوروہ شعبہ پھر دوبارہ کبھی بھی اٹھ نہیں پایا۔ اس کی مثال خوردنی اشیا ہی لے لیں۔ سال 1956تک ہم خوردنی اشیا اور خصوصاً خوردنی تیل کی پیداوار میں خود کفیل تھے۔ لیکن لگ بھگ 1952میں امریکی اداروں نے تحقیقات کر کے ہمیں بتایا کہ ہمارا بنیادی کھاجا گندم ہے، بس وہ دن اور آج کا دن ہم گندم کی پیداوار میں خودکفالت کو ترس رہے ہیں۔ اسی طرح PL 480 کے تحت امریکیوں نے ہمیں بتایا کہ خوردنی تیل کے شعبے میں وہ ہماری مدد کیا کریں گے اور اس امر کے لئے امریکہ نے اپنی سویابین اور اس کا تیل بھیج بھیج کر ہماری اس قدر ’مدد ‘ کی کہ جب 1986 میں یہ پروگرام ختم ہوا تو ہم اپنی خوردنی تیل کی ضرورت کا بیشتر حصہ درآمدی گھٹیا پام آئل کی صورت میں پورا کر رہے تھے۔ اور اس پام آئل کی بدولت قوم میں بانجھ پن، ہڈیوں کے گودے کو کینسر، السر، جوڑوں کے درد اور نامعلوم کن کن بیماریوں کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ کر چکے تھے۔

کچھ ماہ قبل ہی لاہور میں امریکیوں کے تعاون سے ایک عظیم الشان این جی او کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے لئے ڈالروں کی بوریوں کے منہ بھی کھولے گئے۔ کیا یہ محض حسنِ اتفاق ہے کہ اس این جی او کے وجود میں آتے ہی پورے ملک میں دودھیلے جانوروں کا خاتمہ شروع ہو گیا ہے اور اس شعبے میں بھی امریکی مدد سے دن دوگنی رات چوگنی ترقی شروع ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ ہم پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سب سے پہلے پاکستان کے اصول پر پہلے ہی امریکیوں سے امداد لے کر عنداللہ مہجور ہو چکے ہیں۔اللہ نہ کرے کہ ہمارے ملک میں امن و امان کی بھی یہی حالت ہو۔ اس لئے آئیں مطالبہ کریں کہ دنیا میں دودھ کی پیداوار میں چوتھے نمبر پر آنے والے ملک میں خشک دودھ کی درآمد پر مکمل پابندی لگائے جائے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.