.

ترکی: عوام نے صدارتی نظام مسترد کر دیا

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں 7 جون 2015ء کو منعقدہ عام انتخابات میں برسراقتدار جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو وہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی جسکی وہ توقع کر رہی تھی۔ اگرچہ اس جماعت نے 40.0 فی صد ووٹ حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے لیکن وہ تنہا حکومت بنانے کا مینڈیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک ایک بار پھر نوے کی دہائی کی طرح کولیشن حکومتوں کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔آق پارٹی کو تنہا حکومت تشکیل دینے کیلئے 550 نشستوں والی پارلیمنٹ میں 276 نشستیں حاصل کرنے کی ضرورت تھی لیکن آق پارٹی صرف 258 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ تاہم قانون ماہرین کا کہنا ہے کہ آق پارٹی اب بھی تنہا حکومت تشکیل دینے کا حق رکھتی ہے۔ ان کے مطابق ایک طریقہ تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت تشکیل دینے کے بعد اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے وقت آق پارٹی پارلیمنٹ میں ڈالے جانے والے کل ووٹوں میں سے نصف سے ایک زائد ووٹ حاصل کر لے۔ اگر مخالف تینوں سیاسی جماعتوں میں سے صرف 35 اراکین رائے شماری کے روز غیر جانبدار رہتے ہیں یا اپنا ووٹ استعمال نہیں کرتے تو ایسی صورت میں آق پارٹی پارلیمنٹ میں موجود کل ووٹوں میں سے نصف سے ایک زائد ووٹ حاصل کرتے ہوئے اعتماد کا ووٹ حاصل کر سکتی ہے۔

آئین نے ایسی حکومت قائم کرنے کا حق دے رکھا ہے لیکن ایسی حکومت کے سر پر ہر وقت حکومت گرنے کی تلوار لٹکتی رہے گی کیونکہ آئین کے تحت حکومت گرانے کیلئے لازمی طور پر 276 ووٹوں کی ضرورت ہوگی جو مخالفین کی دسترس میں ہے۔ اسکے علاوہ آق پارٹی کسی دوسری سیاسی جماعت کو حکومت سے باہر رکھ کر بھی اسکی حمایت حاصل کر سکتی ہے جسے اقلیتی حکومت کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور ترکی میں اس سے پہلے بھی اس قسم کی کئی ایک حکومتیں قائم ہو چکی ہیں۔ یہ انتخابات دراصل ملک میں صدارتی نظام کو متعارف کروانے کے لحاظ سے آق پارٹی کے لیے بہت بڑی ناکامی ہے۔ عوام نے آق پارٹی کو چالیس فیصد ووٹ دے کر ملک میں پارلیمانی نظام کو جاری رکھنے کے حق میں ووٹ دیا ہے ورنہ عوام آق پارٹی کو کے لحاظ سے آق پارٹی کے لیے بہت بڑی ناکامی ہے۔ عوام نے آق پارٹی کو چالیس فیصد ووٹ دے کر ملک میں پارلیمانی نظام کو جاری رکھنے کے حق میں ووٹ دیا ہے ورنہ عوام آق پارٹی کو 327 نشستیں دلوا کر صدارتی نظام کے لیے ریفرنڈم کروانے کی بھی راہ ہموار کر سکتے تھے۔ ان انتخابات میں ایک اور حقیقت ابھر کر سامنے آئی ہے کہ ترکی میں عوام نے کسی بھی صورت وزیر اعظم کے اپنے عہدے کی میعاد پوری کرنے کے بعد صدر بن کر پارٹی کو اپنی حاکمیت میں رکھنے اور صدارتی محل سے اسکو چلانے کا حق نہیں دیا ہے۔

اسکی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ صدر ایردوان سے قبل وزیر اعظم ترگتاوزال نے صدر بن کر حکومت چلانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے اور اسی طرح وزیر اعظم سلیمان دیمرل نے صدر بننے کے بعد اپنی پارٹی کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہا لیکن وہ بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے اور دونوں رہنماؤں کی جماعتیں تتر بتر ہو کر رہ گئیں۔ صدر ایردوان نے اپنے پیشتر سے کوئی سبق حاصل نہ کیا بلکہ انہوں نے ان سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر ملک میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام متعارف کروانے کی ٹھان لی، حالانکہ عوام بلکہ انکی جماعت خود بھی پوری طرح صدارتی نظام سے آگاہ نہ تھی اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی ٹریننگ پروگرام پیش کیا گیا تھا اور یہی وجوہات صدارتی نظام متعارف کروانے کی ناکامی کا باعث بنی ہیں ۔ میری ذاتی رائے کے مطابق اگر آق پارٹی وزیر اعظم ایردوان کی قیادت میں انتخابات میں حصہ لیتی تو آج رزلٹ بڑا مختلف ہوتا اور وہ نہ صرف اپنے ووٹو کا تحفظ کر پاتی بلکہ ووٹوں کی تعداد میں شاید اضافہ بھی ہو جاتا۔ آق پارٹی کو ان انتخابات میں پہلے سے کم ووٹ پڑنے کی دوسری بڑی وجہ اسکی طرف سے کردوں کے مسئلے کے حل کے بارے میں کردار ترک عوام کو صحیح طریقے سے اپنا موقف سمجھانے میں ناکام رہنا ہے۔

اگرچہ آق پارٹی نے اس مسئلے کے حل کیلئے بھرپور کوششیں صرف کیں اور کئی ایک ایسے حقوق بھی دلوا دئے جنکے بارے میں ماضی میں مطالبہ کرنا بھی ایک جرم تھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان حاصل کردہ حقوق کے بعد مزید حقوق حاصل کرنے کی روش اختیار کر لیتا ہے اور یہی سب کچھ کردون نے بھی کیا اور انہوں نے اس سلسلے میں آق پارٹی پر شدید دباؤ جاری رکھا اور اسکے اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے دونوں جماعتوں کے درمیان طے پانے والے تعاون کے سمجھوتے پر عمل درآمد نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آق پارٹی کے خلاف جنوب مشرق اناطولیہ میں مہم کو جاری رکھا اور اس طرح آق پارٹی جسے گزشتہ انتخابات میں پہلی پوزیشن حاصل تھی، اس بار شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کردوں کی جماعت جسے گزشتہ انتخابات میں صرف 28 فیصد ووٹ پڑے تھے اس بار انہوں نے 48 فیصد تک اس علاقے سے ووٹ حاصل کر کے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ اسی طرح ترکی کے بحرہ اسود کے علاقے جہاں پر عام طور پر ترک قومیت پسند آباد ہیں اور یہاں سے آق پارٹی کو ہمیشہ ہی بڑی تعداد میں ووٹ پڑتے رہے ہیں لیکن اس بار کردوں کے مسئلے اور دہشت گرد تنظیم پی کے کے سرغنہ عبداللہ اوجالان کے ساتھ براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات شروع کرنے کے الزام کی وجہ سے آق پارٹی کو یہاں پر ترک قومیت پسندوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور اس طرح قومیت پسند ترک بھی آق پارٹی سے دور ہوتے چلے گئے۔

ان انتخابات میں اگر کسی جماعت کو قابل ذکر کامیابی ہے جو پہلے بار پارلیمنٹ میں پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے اور اس HDP حاصل ہوئی ہے تو وہ بلاشبہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی جماعت نے 13.1 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے پارلیمان کی 80 سیٹیں حاصل کر لی ۔ یہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔ اس جماعت کو کامیابی سے ہمکنار کروانے کیلئے جماعت کے رہنما صلاح الدین دیمر تاش نے بڑا نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے برعکس خوش دلی اور اعتدال پسندی کا مظاہرہ کیا خاص طور پر انکی منکسر المزاجی نے ترکوں کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیا اور یوں اس پارٹی نے استنبول اور ازمیر جیسے شہروں سے بھی بھاری تعداد میں ووٹ حاصل کرتے ہوئے دس فیصد کی حد کو بآسانی عبور کر لیا۔

مزے کی بات ہے کہ ترکوں کی قومیت پسند پارٹی نیشنلسٹ موؤمنٹ پارٹی MHP جو کردوں کی قومیت کو تسلیم کرنے سے گریز کرتی ہے نے آق پارٹی پر کردوں کو ضرورت سے زیادہ حقوق دینے کا الزام لگاتے ہوئے اپنی مہم کو جاری رکھا اس نے بھی 80 ہی نشستیں حاصل کی ہیں البتہ اس جماعت کو 16.3 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔

اس طرح ان دونوں قومیت پسند جماعتوں کو پارلیمنٹ کی مساوی نشستیں حاصل ہو گئی ہیں۔ ان انتخابی نتائج کے بعد اب نئی حکومت تشکیل دینے کے بارے میں کئی ایک مسائل ابھر کر سامنے آئیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کونسی جامعت کس کے ساتھ ملک کر حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوتی ہے؟ صدر ایردوان سب سے پہلے آق پارٹی کو ایم ایچ پی کے ساتھ حکومت تشکیل دینے کی کوشش کرے گی اور دعوت دیں گے اور میری ذاتی رائے کے مطابق آق پارٹی ایک دو سال اسی مخلوط حکومت کو جاری رکھا جائے گا کیونکہ آق پارٹی فی الحال 45 دنوں کے بعد نئے سرے سے قبل ازوقت انتخابات کروانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے کیونکہ چند دنوں میں اس کیلئے فضا کو اپنے لیے سازگار بنانا کوئی آسان کام نہیں۔

---------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.