.

مودی کا آدھا سچ اور مکتی باہنی

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پورا سچ نہیں بولا بلکہ آدھا سچ بولا ہے۔ مودی کا یہ کہنا تو درست ہے کہ 71ء میں ان سمیت ہر بھارتی بنگلہ دیش کا قیام چاہتا تھا۔ مودی کی طرف سے ڈھاکہ میں دیے گیے بیان پر پاکستان میں بحث ہو رہی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا ہے کہ مودی کے بیان سے پاکستان کے اس موقف کی تصدیق ہو گٴی کہ بر صغیر پاک و ہند میں سرحد پار دہشت گردی کا آغاز بھارت نے کیا تھا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ مودی کے اعتراف جرم کے بعد پارلیمنٹ میں انکے خلاف قراردار منظور ہونی چاہیے۔ پارلیمنٹ میں مودی کے بیان پر ضرور بحث کی جاءے لیکن یہ خیال بھی رکھا جاءے کہ مودی نے پورا سچ نہیں بولا۔ مودی نے آدھا سچ ایک ایسی تقریب میں بولا جہاں بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپاءی کو بنگلہ دیش کی تحریک آزادی کی حمایت کرنے پر ایوارڈ دیا گیا۔ واجپاٴی نے 71ء میں بھارتی لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوءے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستانی فوج کے خلاف لڑنے والے بنگالیوں کی مدد کی جاءے۔ واجپاٴی نے بنگلہ دیش کے قیام کی حمایت نہیں کی تھی۔

واجپائی کا ایوارڈ وصول کرنے مودی ڈھاکہ پہنچ گئے اور انہوں نے واجپائی کا کم اور اپنا ذکر زیادہ کیا۔ اس تقریب میں مودی کا یہ کہنا بالکل غلط تھا کہ وہ 71ء میں بنگلہ دیش کے حامی تھے۔ انکی جماعت بی جے پی اور کانگریس میں بہت سے اختلافات ہیں لیکن دونوں جماعتیں اکھنڈ بھارت کے نظریے پر یقین رکھتی ہیں۔ اکھنڈ بھارت کا کیا مطلب ہے۔؟ اکھنڈ بھارت کے نظریے کو سمجھانے کیلئے مودی نے بھارتی ریاست گجرات کے سرکاری اسکولوں کے نصاب میں صاف صاف یہ لکھوا دیا کہ اکھنڈ بھارت میں صرف بھارت نہیں بلکہ پاکستان، افغانستان، نیپال ، بھوٹان، تبت ، بنگلہ دیش، سری لنکا اور برما بھی شامل ہیں۔ عظیم تر بھارت کے حامی مالدیپ کے سوا اپنے ارد گرد کے تمام ممالک کو بھارت کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ 71ء کی جنگ میں پاکستان کی شکست کے بعد اندرا گاندھی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت نے دو قومی نظریے کو سمندر برد کر دیا۔

اندرا گاندھی کا خیال تھا کہ مشرق پاکستان پکے ہوئے پھل کی طرح بھارت کی جھولی میں آگرے گا لیکن ایسا نہ ہوا اور مشرقی پاکستان کے لوگوں نے بھارت میں شامل ہونے کی بجاءے بنگلہ دیش بننا پسند کیا۔ بنگلہ دیش کا قیام قاءد اعظم کے پاکستان کے لئے ایک سانحہ ضرور تھا لیکن بنگلہ دیش کا قیام اکھنڈ بھارت کے تصور کی شکست بھی تھی اور اسی لئے بھارت میں یہ کہا جانے لگا کہ اندرا گاندھی نے ایک پاکستان کو ختم کرنے کی کوشش میں دو پاکستان بنا دیئے۔ آج بھی اگر آپ بنگلہ دیش جائیں اور عام بنگالیوں سے بات کریں تو وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ تحریک پاکستان کا آغاز بنگال سے ہوا تھا۔ انہیں پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹروں سے آج بھی کئی شکوے ہیں لیکن وہ آج کے بنگلہ دیش میں بہت سے مسائل کا ذمہ دار بھارت کو سمجھتے ہیں۔ اکثر پاکستانیوں کو یہ معلوم نہیں کہ بنگلہ دیش کی آزادی کا پہلا اعلان شیخ مجیب الرحمان نے نہیں بلکہ 26 مارچ 71ء کو پاکستانی فوج کے ایک باغی افسر میجر ضیاء الرحمان نے چٹاگانگ میں کیا تھا۔ اگلے دن بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے میجر ضیاء الرحمان کی قیادت میں بغاوت کرنے والوں سے تعاون کا اعلان کر دیا تھا لیکن یہی میجر ضیاء الرحمان جب بنگلہ دیش کے صدر بنے تو وہ بھارت کی بجائے پاکستان کے زیادہ قریب تھے۔

انکی بیوہ بیگم خالدہ ضیاء کی جماعت بی این پی اور انکی اتحادی جماعت اسلامی کو پاکستان کا دوست سمجھا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کو بھارت کا دوست سمجھا جاتا ہے لیکن عوامی لیگ کے اندر موجود پڑھا لکھا طبقہ بنگلہ دیش کی خارجہ و داخلہ پالیسی پر بھارت کے کنٹرول کا سخت مخالف ہے۔ بنگلہ دیش کے پڑھے لکھے طبقے میں بھارت کے متعلق پاءے جانے والے تحفظات اور شکوک و شبہات کی کئی وجوہات ہیں لیکن ایک بڑی وجہ مکتی باہنی کے کمانڈر انچیف جنرل ایم اے جی عثمانی کے ساتھ کیا جانے والا دھوکہ ہے۔ جنرل عثمانی دراصل پاک فوج کے ایک ریٹاءرڈ کرنل تھے۔ 65ء کی جنگ میں وہ جی ایچ کیو میں ڈپٹی ڈائریکٹر ملٹری آپریشن تھے، 67ء میں ریٹاءرمنٹ کے بعد وہ عوام لیگ میں شامل ہو گءے اور 70ء کے انتخابات میں سلہٹ سے پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔ جنرل یحییٰ خان ، ٹکا خان اور جنرل اے اے کے نیازی سٹاف کالج کوئٹہ میں عثمانی کے ساتھ کام کر چکے تھے۔

شیخ مجیب الرحمان کو جنرل یحیٰ کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرنے میں جنرل عثمانی نے بھی اہم کردارادا کیا لیکن مذاکرات کامیاب نہ ہوئے۔ جب لیفٹیننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان کو فوجی آپریشن کا حکم دیا گیا تو انہوں نے معذرت کر لی اور استعفی دے کر مغربی پاکستان واپس آ گئے۔ پھر شیخ مجیب الرحمان کو گرفتار کر لیا گیا تو جنرل عثمانی ڈھاکہ سے بھیس بدل کرسلہٹ پہنچے اور انہوں نے ایسٹ بنگال رائفلز کے افسروں کے ساتھ مل کر مسلح بغاوت کا منصوبہ بنایا۔ اپریل 71ء میں تاج الدین احمد بنگلہ دیش کی جلا وطن حکومت کے سربراہ بن گئے اور انہوں نے جنرل عثمانی کو مکتی باہنی کا کمانڈر انچیف بنایا۔ مکتی باہنی کے اکثر کمانڈرز دراصل ایسٹ بنگال رائفلز کے باغی افسران تھے جن میں میجر ضیاء الرحمان بھی شامل تھے۔

مکتی باہنی بھارت سے اسلحہ اور مالی امداد ملتی تھی لیکن مکتی باہنی میں حکم جنرل عثمانی کا چلتا تھا۔ بھارتی حکومت نے مکتی باہنی کو کمزور کرنے کے لئے مجیب باہنی بنا دی جو جنرل عثمانی کا حکم نہیں مانتی تھی۔ مجیب باہنی کے باعث عثمانی اور بھارتی فوج میں اختلافات پیدا ہو گيے۔ عثمانی کا خیال تھا کہ بھارتی فوج مکتی باہنی کی جدوجہد کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہے۔ 16 دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کی تقریب میں جنرل عثمانی کو دور رکھا گیا۔ جنرل عثمانی کا موقف یہ تھا کہ ڈھاکہ کے گرد و نواح میں پاکستان فوج کے خلاف بھارتی فوج نے نہیں بلکہ مکتی باہنی نے مزاحمت کی لہذا وہ ڈھاکہ جائیں گے اور بھارتی فوج کو ڈھاکہ میں خوش آمدید کہیں گے۔16 دسمبر کی صبح وہ ہیلی کاپٹر میں ڈھاکہ آ رہے تھے کہ سلہٹ کے قریب ان پر زمین سے فائرنگ ہوئی۔ انکے ساتھ کرنل ایم اے رب زخمی ہو گئے۔ جس علاقے میں ہیلی کاپٹر پر فائرنگ ہوئی وہ علاقہ بھارتی فوج کے کنٹرول میں تھا۔
عثمانی نے ہیلی کاپٹر زمین پر اتارا تو وہاں بھارتی فوج موجود تھی ۔ عثمانی نے بھارتی فوج کے اسران سے کہا کہ انہیں ڈھاکہ پہنچایا جائے لیکن ایسا نہ ہوا۔ ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر عثمانی دستخط نہ کر سکے اور بنگلہ دیش کی تحریک آزادی کا کریڈت مکتی باہنی کی بجائے بھارتی فوج کو مل گیا.

71ء کے سقوط ڈھاکہ کے کئی اہم پہلو ابھی تک پاکستانی رائے عامہ سے مخفی ہیں۔ ہم نے یہ جاننے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ شیخ مجیب ء1964 کے صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کا پولنگ ایجنٹ تھا۔ کے الیکشن میں ممتاز دولتانہ اور سردار شوکت حیات کو مشرقی پاکستان سے مسلم لیگ کے لئے بیس نشستوں کی پیشکش کر رہا تھا لیکن اکتر کے فوجی آُپریشن کے بعد بنگلہ دیش کا حامی کیسے بنا؟ ہمیں اس سے بھی غرض نہیں کہ مکتی باہنی کا کمانڈر انچیف دراصل پاکستان کی قومی اسمبلی کا منتخب رکن تھا پھر اس نے پاکستان کے خلاف بغاوت کیوں کی؟ 1972ء میں جنرل عثمانی کو فور اسٹار جنرل کے ساتھ ساتھ وفاقی کابینہ کا وزیر بنایا گیا لیکن شیخ مجیب کی زندگی میں ہی عثمانی نے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔ شیخ مجیب کی موت کے بعد انہوں نے عوامی لیگ چھوڑ دی اور جاتیا جنتا پارٹی بنا لی۔ 1983ء میں کینسر کے باعث انتقال کر گئے اور بھارتی فوج کے دھوکے اور مکاری کی داستان دل میں لئے اس دنیا سے چلے گئے۔ جنرل عثمانی کے ساتھ 16 دسمبر کو جو ہوا وہ مودی کے اس آدھے سچ کا عکاس ہے جسکا اظہار نہیں ہوا۔ مودی بنگلہ دیش کے حامی نہیں تھے بلکہ مشرقی پاکستان کو اکھنڈ بھارت میں شامل کرنا چاہتے تھے لیکن اکھنڈ بھارت شکست کھا گیا۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.