.

سبق جو ترکوں سے سیکھنا چاہیے!

محمد عامر خاکوانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شخصیت پرستی کا چلن دنیا بھر میں ہے، کہیں زیادہ کہیں کم۔ مغربی معاشروں کو اسکی تباہ کاری کا اندازہ ہوا تو انہوں نے اہل سیاست کو اس سے پاک رکھنے کی شعوری کوشش کی۔ مغرب نے اس اہم حقیقت کو پا لیا کہ اداروں کو فرد پر برتری حاصل ہے، ادارے مضبوط کرنے چاہئیں، افراد نہیں۔ ادارے مضبوط روایات مستحکم اور مشاورت کا مضبوط نظام موجود ہو تو اوسط درجے کا لیڈر بھی معاملات چلائے رکھتا ہے۔

تیسری دنیا میں البتہ معاملہ یکسر مختلف ہے۔ یہاں افراد اہم ہیں ، جماعتیں نہیں۔ ایک غیر معمولی شخص نے کوئی سیاسی جماعت بنائی یا اپنے سحر سے اسے مقبول عام جماعت بنایا تو سکے بعد اس گھرانے کو بھی غیر معمولی حیثیت حاصل ہو گئی۔ لیڈر کی محنت کا ثمر اگلی نسلوں کو ملتا رہا۔ بھارت میں نہرو خاندان اسکی بڑی مثال ہے۔ پاکستان میں بھٹو خاندان، سری لنکا میں بندرانائیکے کا گھرانہ اور بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزی حسینہ واجد اور جنرل ضیاء الرحمن کی بیوہ بیگم خالدہ ضیا کو اہم حیثیت ملی۔ مسلم ممالک اور مسلم معاشروں میں یہ رجحان بہت زیادہ رہا۔

اس کی وجوہات مسلم سماج کی نفسیات میں ڈھونڈنی ہوں گی۔ ہمارے ہاں روایتی طور پر کسی فاتح ، لیڈر یا مسیحا کا انتظار کیا جاتا ہے۔ لوگ اس کے لئے دعائیں مانگتے ہیں اور جیسے ہی کسی کے بارے میں شائبہ ہو کہ یہی وہ ہے تو اس کے گرد ہجوم اکٹھا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے ہیرو کے خلاف کوئی کچھ بھی سننا گوارا ہی نہیں کرتا۔ انکے خیال میں ہر خوبی لیڈر کے دامن سے لپٹی اور ہر خامی اس کے ذات سے کوسوں دور ہوتی ہے۔

ہمارے قد آور لیڈر اگر چاہتے تو اپنے اپنے سماج میں شخصیت پرستی کم کر کے ادارے مضبوط کر سکتے تھے۔ انہوں نے بھی معاملات اپنے گرد رکھنے کو ترجیح دی۔ خود پسندی، خبط عظمت اورمافوق البثر امیج انہیں زیادہ عزیز رہا۔ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے انہوں نے جمہوری رویے نہیں اپنائے ، مخالفوں کو کچلنے کی کوشش کی پریس، عدلیہ کی آزادی سلب کی اور کسی دوسرے کو جیتے جی پارٹی میں ابھرنے نہیں دیا۔ پاکستانی تناظر میں بھٹو صاحب کی إثال دی جا سکتی ہے ۔ ملائشیا کے ڈاکٹر مہاتیر محمد جدید دور کی دیو قامت شخصیت کا مقام رکھتے ہیں۔ اپنے ملک کو انہوں نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ ادارے وہ بھی مضبوط نہ بنا پائے، پریس کو آزاد نہیں ہونے دیا، عدلیہ کو کمزور رکھا، پوری سپری کورٹ یک لخت نکال باہر کی ، اپوزیشن کو دبا کر رکاھ، اپنی پارٹی کے مقبول لیڈر انور ابراہیم کو جھوٹے مقدمے میں جیل بھیجا، قصور صرف یہ تھا کہ لوگ اسے مہاتیر محمد کا جانشین تصور کرنے لگے تھے۔

ترکی کے طیب اردوگان تازہ ترین مثال ہیں۔ استنبول کے متواسط گھرانے کے اس شخص نے حیران کن کام کر دکھائے ۔ سیاسی اعتبار سے منقسم ترک معاشرے میں انہوں نے صرف اسلامسٹوں کی قوت پر تکیہ کرنے کے بجائے وسیع تر بنیاد پر اتحاد بنایا۔ انہوں نے سنٹر آف رائٹ اور لبرل لفٹ کے ووٹروں کو بھی اپنی طرف مائل کیا۔ اردوان نے ایک نیا نعرہ دیا ‘‘سوشلی کنزرویٹو، پولیٹکلی لبرل’’ لبرل اکانومی کے نعرے نے انہیں مغربی کارپوریٹ ورلڈ کی حمایت دلا دی ۔ اپنی خارجہ پالیسی کو انہوں نے یکسر بدل کر رکھ دیا۔ اپنے پڑوسیوں سے تعلقات بہتر بنائے، ماضی کے مخالفوں کے ساتھ دوستی کی، جس کا اثر سیاحت پر پڑا۔ ترک کمپنیوں کو غیر ممالک کے بڑے کنٹریکٹ ملنا شروع ہوئے۔ چند ہی برسوں میں ترک معیشت میں انقلاب برپا ہوگیا۔ بیرونی قرضے اتر گئے، زر مبادلہ کے ذخائر میں بے پناہ اضافہ ہوا، فی کس آمدنی کہاں سے کہاں چلی گئی۔ خوشحالی کی اس لہر اور مغرب کی سیاسی سپورٹ نے سخت گیر سیکولر سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ باندھ دیے۔ اردوان آہستگی سے ، مگر درست سمت میں آگے بڑھتے رہے۔ طاققتور عدلیہ میں اپنے لیے گنجائش پیدا کی، فوجی اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں کو دیوار سے لگا دیا، بہت سوں کے خلاف مقدمات چلائے اور انہیں جیل بھیجا۔

طیب اردوان کی جماعت نے پچھلے تین عام انتخابات جیتے، 2003ء سے 2014ء تک وزیر اعظم رہے۔ گزشتہ برس انہوں نے صدر بننے کا ارادہ کیا اور انتخاب آسانی سے جیت لیا۔ انکا ارادہ اب صدر کے نمائشی عہدے کو طاقتور بنانا تھا۔ اس الیکشن میں اگر وہ اتنی نشستیں جیت لیتے کہ آئین میں ترمیم کا حق مل جاتا تو شاید ابتدائی دنوں میں یہی ترمیم کی جاتی اور ترکی کا پارلیمانی نظام صدارتی نظام میں بدل جاتا۔ الیکشن میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہ ہونے سے یہ خواہش ادھوری رہ گئی۔ طیب اردوان کی جماعت نے اگرچہ سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں مگر عملی طور پر اسے کست ہوئی، اس لیے کہ اپنی سیاسی طاقت اور پوزیشن کھو دی۔ سردست وہ نئے انتخاب کی پوزیشن میں بھی نہیں کہ زیادہ نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ منقسم پارلیمنٹ میں وہ کسی آئینی حیلے سے حکومت بنا بھی لیں تو وہ نہایت کمزور اور بے دانت ہو گی۔

ترک مبصرین اس انتخابی نتیجے کو طیب اردوان کی شکست قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ کم نشستیں ملنے کی تکنیکی وجوہ بھی ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ طیب اردوان کی جگمگاتی شخصیت کے رنگ پھیکے پڑنا شروع ہو گئے تھے۔ مسلسل کامیابیوں نے ترک لیڈر کو اپنی ذات کا اسیر بنا دیا۔ انہوں نے ادارے کو مضبوط کرنے کے بجائے شخصیت پرستی کے کلچر کو پروموٹ کیا۔ پچھلے دو تین برسوں میں انکی ذات پر کرپشن کے الزامات لگنا شروع ہوئے۔ طیب اردوان اور انکے بیٹے کی ایک مبینہ آڈیو ٹیپ منظر عام پر آئی جس میں بڑے سودوں اور کک بیکس لینے کی باتیں تھیں۔ اس کی تردید کرنے اور اس معاملے کو شفاف تحقیقات کے ذریعے ختم کرنے کے بجائے ترک وزیر اعظم نے یو ٹیوب اور ٹوئیٹر پر پابندی عائد کر دی تاکہ ترک عوام وہ ٹیب سن ہی نہ سکیں۔ ترک پولیس اور محکمہ احتساب کے چند دلیر اہلکاروں نے کرپشن کے الزامات کی تحقیقات شروع کیں تو طیب اردوان نے انہیں برطرف یا گرفتار کرا دیا۔ ترک میڈیا مجموعی طور پر سیکولر اسٹیبلشمنٹ کا حامی تھا، نجی چینلز قائم ہوئے تو اس کے ایک حصے نے طیب اردوان کی حمایت کی۔

زمان ایک ملین روزانہ کی اشاعت رکھنے والا ترکی کا سب سے بڑا اخبات ہے، یہی گروپ سمان یوک ٹی وی چینل بھی چلاتا ہے۔ زمان میڈیا گروپ پچھلے کئی برسوں سے طیب اردوان کا زبردست حامی رہا، سیکولرسٹوں کے ساتھ معرکوں میں اس نے ترک وزیر اعظم کا ساتھ دیا۔ کرپشن الزامات پر البتہ اس نے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

طیب اردوان اس پر سخت مشتعل ہوئے۔ دوسرے میڈا گروپس کی طرح اس پر بھی کریک ڈاؤن کیا گیا، زمان کے ایڈیٹر اور سمان یوک ٹی وی کے ڈائریکٹر کو گرفتار کر لیا گیا۔ حالیہ الیکشن سے پہلے یہ خبریں بھی آئیں کہ طیب اردوان اس گروپ کو نیشنلائز کرنے یعنی اسکی آزادی مکمل طور پر ختم کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ دنیا بھر میں اردوان کے حامی حیران تھے کہ وہ کرپشن کے الزامات کا جواب دینے اور آزادانہ تحقیقات کرانے کے بجائے یہ مطالبہ کرنے والوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیوں کر رہے ہیں؟

طیب اردوان کے اس ناقابل فہم رویے نے ہمارے ہاں کے رائٹسٹوں کو خاصا کنفیوز کیے رکھا۔ طیب اردوان آمریت کی راہ پر چل نکلے تھے، کئی سو ملین ڈالر خرچ کر کے شہنشاہوں کے انداز میں صدارتی محل بنانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ترکی کے پارلیمانی نظام کو بدلنا غیر ضروری تھا۔ اردوان بھرپور اننگ کھیل چکے تھے، جمہوری رویے کا تقاضا یہ تھا کہ اب خود پیچھے ہٹ جاتے اور اپنے دوسرے ساتھیوں کو سپورٹ کرتے۔ طیب اردوان نے اسکے برعکس کیا پس منظر میں جانے کے بجائے انکا رویہ اقتدار سے چمٹنے رہنے کا ہوگیا۔

عبداللہ گل جیسے دیرینہ ساتھی اور قدآور لیڈر کو کارنر کر دیا اور نسبتا کمزور وزیر اعظم لے آئے تاکہ اصل طاقت اردوان ہی کے ہاتھ میں رہے۔ یہ باتیں نظر آنے اور سمجھنے کے باوجود ہمارے رائٹسٹ خاموش رہے۔ مجبوری یہ تھی کہ طیب اردوان کا مجسمہ بھی انہوں نے خود ہی تراشا ہے۔ پچھلے دس بارہ برسوں سے میرے جیسے لکھنے والوں نے اردوان کا دیو ملائی خاکہ کھینچا انہیں امت مسلمہ کا عظیم لیڈر اور ترک عوام کا مسیحا قرار دیا۔ اس اخبار نویس کو یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ اردوان ان امیدوں پر پورا نہ اتر سکے۔

افسوس کہ ہمارے اندازے غلط نکلے۔ آخری تجزیے میں طیب اردوان بھی خبط عظمت کے اسیر نکلے۔ ان میں بے پناہ خوبیاں ہیں، مگر اپنی ذات کے حصار میں گھرے رہنا انہیں شاندار کامیابیوں کے بعد اتنی ہی افسوسناک شکست سے دوچار کر گیا۔ سیکھنے کا سبق وہی ہے کوئی شخص ناگزیر نہیں ہوتا۔ ادارے اہم ہیں، افراد نہیں۔ اصولوں سے محبت کرنی چاہیے، شخصیات سے نہیں۔ اصولوں کی پیروی کرنے والے قابل احترام رہتے ہیں اور اپنی ذات کو مقدم کرنے والے کتنے ہی اوپر چلے جائیں، بالآخر نیچے آ گرتے ہیں۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "دنیا"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.