.

مودی، حمید گل اور افواہوں کا کھیل

اسلم خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت سے یکطرفہ دوستی کے سہانے سپنے حقائق کی کڑی دھوپ میں بھیانک تعبیر دکھا رہے ہیں۔ دوستی کے رنگین غباروں کا کھیل دکھانے والے جادو گر اپنی پٹاری سے زمینی حقاقئ کی نئی دنیا آباد کر رہے ہیں۔ جنرل حمید گل آئین منسوخ کر کے مارشل لاء لگانے اور پاکستان کو بچانے کے لیے دہائی دے رہے ہیں۔ شہر اقتدار میں افواہوں کی ہوائی چکیاں زور و شور سے بروئے کار ہیں۔ 25 جولائی سے پہلے زلزلے نہیں، بھونچال کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہے۔

کہتے ہیں کہ زلزلے کی پیش گوئی تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود انسانی فہم و ادراک سے بالاتر ہے لیکن چرند پرند اور پالتو جانور اپنے غیر معمولی رویوں سے ناگہانی آفت کے بارے میں اشاروں کی زبان میں عقل مند انسانوں کو آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقائق سے آنکھیں چرانے کا عادی دانش مند ہمیشہ ان اشاروں کو نظر انداز کر کے نقصان اٹھاتا اور بعد ازاں اپنی خطاؤں پر پچھتاتا ہے۔ شہر اقتدار کے ایوانوں میں تلخ زمینی حقائق کا مقابلہ کرنے کے بجائے ان سے انکھیں چرانے کا کھیل جاری ہے۔ مشیران گرامی اپنے ممدوحین کو حقائق سے آگاہ کرنے کے بجائے انہیں شخصی عظمت کے مینار پر چڑھا کر داد پا رہے ہیں۔

بھارت سے دوستی کے حسین غبارے مودی سرکار سے پیار و محبت کی پینگوں کے ہلارے صرف ایک سال میں دم توڑ رہے ہیں۔ مودی سرکار کے وزیر اطلاعات راجیہ وردھن سنگھ راٹھور اور وزیر دفاع منوہر پاریکر دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ہم پاکستان کی سرزمین پر بھی دہشت گردوں کے خلاف برما طرز کا آپریشن دہرا سکتے ہیں۔ ان دھمکیوں کا فوری اور بھرپور جواب تو فارمیشن کمانڈروں نے دیا۔ اجلاس کے بعد فوج کا رابطہ کار ادارے نے پریس ریلیز کے ذریعے دشمن کا منہ بند کر دیا بعد ازاں خواجہ آصف بھی بروئے کار آئے اسی طرح مرنجان مرنجن شخصیت کے حامل جناب پرویز رشید نے بھی بھارت کو للکار کر حق ادا کر دیا۔ چودھری نثار علی خاں کا بانک پن تو دیدنی ہوت اہے۔ انہوں نے نعرہ مستانہ بلند کیا، پاکستان برما نہیں، اور اب بھارتی ایوانوں میں کہرام برپا ہے۔

بھارتی بڑ بولے سیاستدانوں کے جشن فتح پر اس وقت خاک پڑ گئی جب برما کے صدارتی ترجمان نے اس خفیہ کمانڈو کارروائی کا بھانڈا پھوڑ دیا کہ بھارتی فوج نے برمی حکومت کی اجازت سے مشترکہ سرحدی علاقے میں یہ کارروائی اگرچہ اس کارروائی میں برمی فوج نے حصہ نہیں لیا۔ گھنے جنگلات پر مشتمل اس علاقے میں سرحد کی تقسیم کا کوئی تصور موجود نہیں ہے، اسی لیے ابتدائی ردعمل میں برمی سرحدی علاقے کے حکام نے کسی قسم کے ایسے فوجی آپریسشن کے بارے میں لا علمی ظاہر کی تھی۔

برمی حکومت کی ملی بھگت سے ہونے والے اس نام نہاد فوجی آپریشن کی آڑ میں ایٹمی طاقت پاکستان پر دھونس جمانا کہاں کی دانش مندی اور دانائی ہے۔ اس پر خود بھارت کے چند حقیقت پسند تجزیہ نگاروں نے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ لیکن بھارتی قیادت کی پاکستان کے خلاف یا وہ گوئی پر سر شام ہمیں ڈرانے والے سیاہ طابق، چڑی مار غیر جنبدار بن کر ادھر ادھر کی ہانک رہے ہیں۔ رہے مودی تو انہوں نے ہمیں کم اور ہمارے پیارے وزیر اعظم جناب نواز شریف کو بہت زیادہ دکھ دیا ہے، مایوس کیا ہے جو اپنی آنکھوں میں ترقی خوشحالی اور بھارت کی وسیع و عریض تجارتی منڈیوں تک رسائی کے خواب سجائے ان کی تقریب حلف برداری میں جا پہنچے تھے۔ آج صرف ٹھیک ایک سال کے بعد دن میں دیکھے جانے والے ان خوابوں کی بھیانک تعبیر ہمارا منہ چڑا رہی ہے۔

ہمیں پاک سر زمین پر یک طرفہ آپریشن کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ایک سال پہلے مودی کی حلف برداری پر ہماری خوش فہمیوں کا یہ عالم تھا کہ ایک بھارتی کاروباری خاندان سے باہمی تجارت کو فروغ دینے کیلئے لندن میں مقیم غیر سیاسی صاحبزادے حسین نواز کو خصوصی طور پر بلوایا گیا۔ جبکہ بھارتی سیاسی اشرافیہ پاکستان سے پرامن بقائے باہمی کے تحت برابری کی سطح پر تعلقات تو درکنار پاکستان کو بنگلہ دیش اور بھوٹان کی سطح پر باج گزار ریاست بنانے کے خواب دیکھ رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے دورہ بنگلہ دیش کے دوران مودی نے پاکستان کے خلاف اپنے خنث باطن کو چھپانے کی ذرا برابر کوشش بھی نہیں کی۔ مودی نے بڑے دھڑلے سے حسینہ واجد سے پلٹن میدان میں جنرل نیازی کے ہتھیار ڈالنے کی تصویر والا پورٹریٹ وصول کیا جو سارک چارٹر اور بین الاقوامی آداب کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ برادرم محسن رضا خان نے بتایا کہ مودی کے دورہ بنگلہ دیش کے دوران بھارت کے خبر رساں ادارے 1971ء کے دوران پاک فوج کے ہاتھوں بنگالیوں پر نام نہاد ظلم و بربریت کی تاریخی تصاویر سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں جاری کرتے رہے۔

جہاں تک ذکر ہے برما کی سرزمین پر بھارتی جوابی کارروائی میں 40 بھارتی کمانڈوز نے حصہ لیا، وہ 13 گھنٹے پر محیط آپریشن مکمل کر کے بحفاظت واپس آگئے جس میں انہیں بھارتی فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی۔ شمال مشرقی بھارتی ریاست منی پور میں بروئے کار باغیوں کے خلاف اس محدود اور معمولی کارروائی کو پاکستان کے خلاف ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جسکا پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت نے مکمل ہم آہنگ منہ توڑ جواب دیا ہے جس کے بعد بھارتی بڑ بولے عقل کے ناخن چبانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

حرف آخر یہ ہے کہ ایک بار پھر سابق کور کمانڈر اور فلسفی جرنیل، جنرل حمید گل میدان میں آئے ہیں، وہ کھل کر پہلی بار مارشل لاء لگانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 1980ء کی دہائی میں جلال آباد کے محاذ پر جذبہ شہادت سے سرشار ایک نوجوان رضاکار اور جرنیل کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط شناسائی دیرینہ تعلقات میں ڈھل چکی ہے۔ جرنیل مدتوں پہلے ریٹائرڈ ہو چکا لیکن اس نے اپنے بھاری بھرکم بوٹ نہیں اتارے اسی طرح یہ خاکسار بندوق بردار رضاکار سے قلم بدست کالم نگار بن چکا ہے، میدان جنگ کے خطہ اول سے شروع ہونے والی شناسائی اب گہری آشنائی میں بدل گئی ہے۔

جمعہ کی صبح پہلے پہر اس کالم نگار سے فون پر طویل گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں بہت دنوں سے پاکستان بچانے کیلئے مارشل لا اور کڑا احتساب کرنے کا مطالبہ کر رہا ہوں۔ جنرل صاحب بتا رہے تھے میں کئی ٹی وی پروگرامات میں بار بار یہ مطالبات دہرا چکا ہوں لیکن کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی لیکن انٹرویو شائع ہونے کے بعد چہار سو آگ سی لگ گئی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف فوری ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جنرل صاحب فرما رہے تھے اور کام نگار ہمہ تن گوش تھا۔ میرے دماغ میں گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والے واقعات، افواہوں کی ہوائی چکیوں کی کارروائیاں، نجانے کیا کچھ گونج رہا تھا اور سب سے بڑھ کر 25 جولائی کا ہندسہ ڈرا رہا تھا۔

چاہتا تھا کہ جنرل صاحب بصد احترام استفسار کروں کہ گزشتہ مارشل لاؤں اور ان کے پروردگار نے ہمارے کن زخموں پر مرہم رکھا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو سے شوکت عزیز تک فوجی نرسری کے گملوں میں پروان چڑھنے والے شجرہائے سایہ دار نے کب ہمیں کڑی دھوپ سے بچایا، مرداز غیب کا انتظار کرتے کرتے بجانے کتنی آنکھیں پتھرا گئیں، ہم مربوط اور منظم نظام کے بجائے بھاری بوٹوں کی آہٹ میں نجات کا راستہ کب تک ڈھونڈتے رہیں گے لیکن میں یہ سب کچھ نہ پوچھ سکا کہتے ہین کہ بزرگوں کے سامنے بڑھ چڑھ کر نہیں بولنا چاہیے اور اس کالم نگار نے بھی مصلحت اور محبت کی راہ اپنائی۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.