.

ہندوستانی جارحیت ۔ پس چہ باید کرد؟

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہ چاپلوسی اور خوشامد بھی نقصان دہ ہے جسکا مظاہرہ موجودہ پاکستانی حکمرانوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہندوستان سے متعلق کیا۔ وہ خاموشی بھی مجرمانہ ہے جو موجودہ حکمران ہندوستان کے بعض سنگین اقدامات اور بیانات سے متعلق اختیار کر لیتے ہیں لیکن ہندوستانی بھڑکوں کے مقابلے میں بھڑکیں مارنے، جنگی فضا ہیدا کرنے اور متوحش ہونے کی ضرورت نہیں۔ اتنا تو ہندوستان کی جنونی قیادت بھی سمجھ سکتی ہے کہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنا اور اسے اپنی مرضی کے مطابق پڑھانا کوئی آسان کام نہیں۔ یقینا ہندوستان اور پاکستان کی طاقت کا تفاوت غیر معمولی ہے۔

آبادی میں کئی گنا زیادہ، معیشت اس کی کئی گنا بڑی، فوج اسکی کئی لاکھ زیادہ، دفاعی بجٹ اسکا سپر پاورز جتنا اور سفارتی لابی اسکی بہت تگڑی لیکن اگر اس تفاوت سے ہی چھوٹے ملکوں کو زیر کرنا ممکن ہوتا تو آج روس یوکرائن پر قابض ہو چکا ہوتا، یمن برادر عرب ملک کے زیر تسلط ہوتا اور خود سری لنکا، بھوٹان اور مالدیپ جیسے ملک ہندوستان کے صوبے بن چکے ہوتے؟

مذہبی جنونی ضرور ہیں لیکن اتنا تو مودی بھی سمجھتے ہیں کہ یہ 1945ء ہے اور نہ 1971ء ۔ یہ ہے 2015ء آج کا پاکستان بے تحاشا مشکلات کا شکار ضرور ہے لیکن وہ ایٹمی قوت بھی ہے۔ پہلے چین اور پاکستان دوستی اور اسٹریٹجک تعاون کے اس بندھن میں منسلک نہیں ہوئے تھے، جس میں آج بندھے ہوئے ہیں۔ تب اس خطے میں امریکی افواج موجود نہیں تھیں۔ تب افغانستان میں پاکستان مخالف حکومت ہوتی تھی اور وہاں پاکستان کی لابی نہ ہونے کے برابر تھی۔ تب خطے میں بے پناہ اثر ورسوخ رکھنے والا سوویت یونین جیسا ملک ہندوستان کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا لیکن آج ہندوستان اور روس کی وہ قربت نظر نہیں آ رہی۔

دوسری طرف تب ہندوستان کے مکروہ چہرے پر سے سیکولرازم کا پردہ نہیں اٹھا تھا۔ تب کشمیریوں کی آزادی کی تڑپ نے اس قدر نہیں تڑپایا تھا، تب ہندوستان کے اندر درجنوں کی تعداد میں آزادی کی تحریکیں نہیں چل رہی تھیں، تب شبانہ اعظمی اور عامر خان کو مذہبی بنیادوں پر نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، تب بابری مسجد اور گجرات کے واقعات رونما نہیں ہوئے تھے، تب مودی جیسے انتہا پسند اور قاتل لوگ وہاں کے وزیر اعظم نہیں بنے تھے اور مسلمان یا دیگر اقلیتیں اس عدم تحفظ کی شکار نہیں تھیں جسے انتہا پسند اور قاتل لوگ وہاں کے وزیر اعظم نہیں بنے تھے اور مسلمان یا دیگر اقلیتیں اس عدم تحفظ کی شکار نہ تھیں جس طرح آج ہیں۔ ہندوستان کے لئے اگر پاکستان کے ساتھ جنگ اس قدر آسان ہوتی تو وہ کارگل کے موقع پر چھیڑ دیتا۔ تب اگرچہ ہماری طرف سے ایسی حماقت ہوئی تھی کہ خود پرویز مشرف نے ہندوستان کو جنگ چھیڑنے کا موقع فراہم کر دیا تھا۔

یہ کام اتنا آسان ہوتا تو ممبئی واقعات کے بعد پاکستانی سرحد پر جمع ہونے والے والی ہندوستانی فوج ، جنگ کئے بغیر واپس نہ جاتی۔ پھر سوال یہ ہے کہ اگر جنگ کا ارادہ نہیں تو پھر ہندو قیادت جنگی فضا کیوں بنانا چاہتی ہے؟ میرے نزدیک ہندوستان نفسیاتی دباؤ بڑھا کر اور جنگی فضا بنا کر ، پاکستانی قیادت کو اس طرف الجھانا اور اسکی آڑ میں پاکستان سے متعلق اس ایجنڈے کو آگے بڑھانا کا چاہتا ہے جو اسکی اصل پالیسی کا حصہ ہے۔ وہ پالیسی وہ ہے جسکو کچھ عرصہ قبل ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت کا نام دیا ہے۔ اسکی تشریح اسی تقریر ڈیفنسیو آفینس دو ول نے بیان کیا تھا۔

اس پالیسی کو انہوں نے دفاعی حملے میں خود انہوں نے یہ کی تھی کہ ہم نے پاکستان کے اندر اندرونی تضادات کو ہوا دینا ہے، پاکستان میں فوج سے برسرپیکار عسکریت پسندوبشمول ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرنا ہے، افغانستان میں پاکستان کیلئے مشکلات بڑھانی ہیں، پاکستان کی معیشت کو مزید خراب کرنا ہے، سفارتی محاذوں پر پاکستان کو بدنام کر کے دہشتگرد یا دہشت گردوں کی سرپرست ریاست کے طور پر متعارف کرانا ہے۔

اسی تقریر میں انہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہم پاکستان کے اندر ایسی فضا بنائیں گے کہ اگر کوئی اور ممبئی جیسی کارروائی ہو تو جواب میں پاکستان کو بلوچستان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ اس تقریر میں انہوں نے یہ بھی وضاحت کی تھی کہ پاکستان کے ساتھ مکمل روایتی جنگ کی بجائے ہندوستان اس دفاعی حملے کی ایسی پالیسی کیوں اپنا رہا ہے۔ اب ہندوستان کی اس پالیسی کے تناظر میں دیکھا جائے تو بھڑکیں مارنا، پاکستان کے اندر جنگی فضا پیدا کرنا یا پھر ماضی کی طرح کارگل جیسی مہم جوئی کر گز ہندوستانی جارحیت کا مناسب جواب نہیں بلکہ یہ تینوں آپشن ہندوستان کے کام کو مزید آسان کرنے کا باعث بن سکتے ہیںْ میرے نزدیک موجودہ حالات میں ہندوستان کے شر سے بچنے اور پاکستانی دفاع کو ناقابل تسخیر کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ میرے نزدیک موجودہ حالات میں ہندوستان کے شر سے بچنے اور پاکستانی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے درج ذیل اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے:

1۔ پاکستان کو بھی ہندوستان سے متعلق اپنی پالیسی اپنانی چاہیے۔ اس ضمن میں ہندوستان کے اندر اور پڑوسی ممالک میں کیا کچھ اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں وہ ہماری ایجنسیاں جانتی ہوں گی۔

2۔ پاکستان میں سول ملٹری ہم آہنگی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اندرونی سیاسی اور صحافت کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی بجائے ہماری ایجنسیاں اپنی تمام تر توجہ داخلی سلامتی اور مذکورہ معاملات کی طرف مبزول کر دیں۔ اگرچہ فوج اور آئی ایس آئی کی موجودہ قیادت اس وقت اسی راہ پر گامزن نظر آ رہی ہے لیکن ماضی قریب میں ہم نے دیکھا ہے کہ جو صلاحیتیں ہندوستان جیسی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کے مقابلے پر صرف ہونی چاہیے تھیں وہ جنگ گروپ کو دبانے اور مخالف میڈیا گروپس کو اٹھانے یا پھر ایک سیاسی قوت کو قدموں میں لانے کیلئے اسکی مخالف سیاسی قوت کو اٹھانے پر صرف ہوتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری ایجنسیاں ہندوستان اور دیگر پاکستان مخالف قوتوں یا ان کی پراکسیز کا اپنے ملک کے اندر قلع قمع نہ کر سکیں۔ یہاں استعداد اور صلاحیت کا مسئلہ کبھی نہیں رہا لیکن اکثر اوقات ترجیحات غلط رہی ہیں۔ نئی عسکری قیادت نے پروفیشنل اپروچ اپنا کر اس معاملے کو بڑی حد تک کنٹرول کیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ سالوں کی غلط روش کو مکمل طور پر ریورس کرنے کیلئے ابھی بہت کچھ مزید کرنا ہو گا۔ لیکن اکثر اوقات ترجیحات غلط رہی ہیں۔ نئی عسکری قیادت نے پروفیشنل اپروچ اپنا کر اس معاملے کو بڑی حد تک کنٹرول کیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ سالوں کی غلط روش کو مکمل طور پر ریورس کرنے کیلئے ابھی بہت کچھ مزید کرنا ہو گا۔

3۔ خارجہ اور دفاع کے محکموں کے لئے اہل اور فوج کے ساتھ اچھی ورکنگ ریلیشن شپ کے حامل وزیروں کی تقرری ضروری ہے۔ میاں نواز شریف کی حکومت میں وزارت خارجہ کی جو ابتر حالت ہو گئی ہے ، پہلے کبھی نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات وزیر داخلہ، وزیر خارجہ کا کام کرتے نظر آتے ہیں لیکن دوسری طرف داخلی سلامتی کے حوالے سے انکی وزارت کی ناکامی کا یہ عالم ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر دس فیصد بھی عمل نہ ہو سکا۔ اہم ممالک میں ہمارے سفارت خانے اگر وہاں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی شخصیت کے حوالے سے سیمینار منعقد کر کے انکے ماضی سے دنیا کو آگاہ کرتے تو میرے خیال میں ہندوستان اب سفارتی محاذ پر اس جارحیت کے قابل نہ رہتا۔

4۔ وزیر اعظم صاحب اگر اس ملک کا وزیر اعظم رہنا چاہتے ہیں تو انہیں صرف موٹر ویز، میٹرو یا پھر صرف وسطی پنجاب کا وزیر اعظم بننے کی بجائے پاکستان کا وزیر اعظم بننے کی بجائے پاکستان کا وزیر اعظم بننا ہو گا۔ انہیں بلوچستان، کراچی پختونخوا، فاٹا اور گلگت بلتستان کے معاملات کو خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ ملکی خزانے کا رخ ان پسماندہ علاقوں کی طرف موڑنا ہوگا اور وہاں پر مصالحت اور طاقت کے استعمال کے تمام طریقوں کو بھی بروئے کار لانا ہو گا۔ یہی محاذ ہیں جن پر ہندوستان اپنی نئی پالیسی کے تحت ہمیں پچھاڑنا چاہتا ہے اور اگر یہ علاقے اور ان سے منسلک ایشوز اسی طرح ہماری قیادت کی عدم توجہی کے شکار رہے تو ہندوستان کے عزاہم کو ناکام بنانا مشکل ہو گا۔ پسماندگی، بدانتظامی اور غربت کی وجہ سے مذکورہ علاقے اس وقت پاکستان دشمن طاقتوں کے لئے تر نوالہ بنے ہوئے ہیں اور اگر وہ علاقے اسی طرح جہنم بنے رہے تو ہم اسلام آباد اور لاہور کو جزیرے بنا کر اس آگ سے زیادہ دیر محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔

5۔ ہندوستان کو حالیہ دنوں میں افغان قیادت کے ساتھ پاکستان کی قربت کی وجہ سے زیادہ تکلیف ہوئی ہے۔ اس وقت کابل میں ہندوستان ی سفارتخانہ ماتم کی کیفیت سے نکل کر پوری قوت کے ساتھ دوبارہ متحرک ہو گیا ہے۔ بد قسمتی سے اس معاملے میں ایرانی سفارت خانہ بھی اسکا ہم نوا ہے۔ وہ دونوں مل کر افغانستان میں دوبارہ پاکستان مخالف فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی سے ڈاکٹر اشرف غنی صاحب اندرونی محاذ پر بھی ناکام ثابت ہو رہے ہیں اور پاکستان سے متعلق بھی وہ تیزی کے ساتھ مایوسی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر اشرف غنی صاحب بھی حامد کرزئی صاحب کی طرح بگڑ گئے تو افغانستان میں پاکستان کا کام بہت مشکل اور ہندوستان کا نہایت آسان ہو جائے گا۔

تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اور یقینا افغانستان نے اپنے حصے کا کام بھی پوری طرح نہیں کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بھی انکی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا۔ اس لئے ہندوستان کی سازش کو ناکام بنانے کے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم عملی اقدامات اٹھا کر افغانستان کو مطمئن اور اپنے ساتھ رکھیں۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.