.

افغانستان کی خانہ جنگی اور پاکستان

ڈاکٹر رشید احمد خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ صدارتی انتخابات میں افغانستان کے عوام نے سابق صدر حامد کرزئی کی جگہ اشرف غنی کو اس امید پر چن اتھا کہ وہ افغانستان میں 13 برس سے جاری خون ریزی کو بند کر کے ملک میں امن اور صلح کی فضاء قائم کریں گے۔ سابق صدر حامد کرزئی اپنی کوششوں میں کس طرح ناکام رہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اشرف غنی سے وابستہ توقعات کا سبب یہ ہے کہ کرزئی کے برعکس انکا پاکستان کے بارے میں رویہ زیادہ دوستانہ ہے، اور غالبا یہی وجہ ہے کہ گذشتہ برس ستمبر میں عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد انہوں نے جن ملکوں کو سب سے پہلے اپنے غیر ملکی دوروں کیلئے چنا ان میں پاکستان بھی شامل تھا۔ اسکے مقابلے میں انہوں نے بھارت کا دورہ گذشتہ ماہ یعنی مئی میں کیا تھا۔ اس کے علاوہ قول اور فعل کے ذریعہ بھی انہوں نے پاکستان کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ نہ صرف پاکستان اور افغانستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اب یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ جب تک ان دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر نہیں ہوتے۔ افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

سابق صدر حامد کرزئی نے اپنے عرصہ صدارت کے دوران بیس دفعہ پاکستان کا دورہ کیا تھا، لیکن وہ پاکستان اور افغانستان تعلقات میں بہتری لانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ صدر غنی نے اس مقصد کے حصول کیلئے جو راستہ اختیار کیا اسے پاکستان میں سراہا گیا اور پاکستان کی حکومت کی جانب سے بھی مثبت رد عمل کا اظہار کیا گیا۔ دو طرفہ بنیادوں پر ایک سال سے بھی کم عرصہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعلی سطح پر سیاسی اور عسکری شخصیات کے جتنے دوروں کا تبادلہ ہوا ہے، اسکی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ پاکستان کے وزیر اعظم جناب محمد نواز شریف ، سپہ سالار جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر اور وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور اور قومی سلامتی سرتاج عزیز کابل کا دورہ کر چکے ہیں۔ اسی طرح افغانستان کے صدر اشرف غنی کے علاوہ افغان نیشنل آرمی کے سربراہ جنرل کریمی اور افغان ہائی پیس کونسل کے سربراہ بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ حال ہی میں افغان نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی بھی اسلام آباد میں موجود تھے جہاں انہوں نے پاکستانی حکام سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری لانے پر بات چیت کی۔

دونوں طرف سے اعلی ترین سطح پر سیاسی و عسکری شخصیات و دیگر وفود کے تبادلوں کے علاوہ اشرف غنی کی حکومت نے پاکستان کے اس دیرینہ مطالبے کو بھی تسلیم کر لیا ہے کہ افغانستان اپنے فوجی افسروں کو تربیت کیلئے پاکستان ملٹری اکیڈمی بھیجے گا۔ پاکستان کی طرف سے بھ خیر سگالی اور فراخ دلی کا مظاہرہ کیا گیا۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اپنے دورہ کے دوران طورخم جلال آباد شاہراہ کو جلد مکمل کرنے کا حکم دیا۔ اسکے علاوہ افغانستان کی تعمیر و ترقی کیلئے پاکستان کی جانب سے امداد کی رقم 500 ملین ڈالر تک بڑھانے کا فیصلہ کیا، لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کسی بریک تھرو کے آثار نظر نہیں آئے، بلکہ دونوں طرف سے الزام تراشی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے اور اسکے ساتھ ہی افغانستان میں سیاسی تبدیلی سے پاک افغان تعلقات میں بہتری کی جو امیدیں پیدا ہوئی تھیں وہ دم توڑنے لگی ہیں۔

اس کی اہم وجہ افغانستان میں امن اور مفاہمتی عمل میں کسی قسم کی پیش قدمی کا نہ ہونا اور طالبان کی طرف سے افغان سکیورٹی فورسز ، غیر ملکی ٹھکانوں اور دیگر تنصیبات پر روز افزوں حملے ہیں۔ طالبان کے حملوں میں شدت آنے سے پاک افغان تعلقات براہ راست متاثر ہوئے ہیں کیونکہ افغانستان میں یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ افغان طالبان اپنے حملوں کیلئے پاکستان کی سرزمین کو استعمال کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ حقانی نیٹ ورک اور کوئٹہ شوریٰ کا حوالہ دیتے ہیں۔ گذشتہ سال فروری میں پاکستان سے متصل افغان صوبہ کنڑ میں ایک افغان فوجی چوکی پر طالبان کے حملے کے دوران 21 افغان فوجی مارے گئے تھے۔ اسکے علاوہ طالبان نے متعدد افغان سپاہیوں کو اغواء بھی کر لیا تھا۔ افغان حکام کی طرف سے الزام لگایا گیا تھا کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے اور ان میں پاکستانی جنگجوؤں کے علاوہ غیر ملکی مثلا تاجک، ازبک اور چیچنیا کے باشندے بھی شامل تھے۔ افغان حکام کے دعوی کے مطابق حملہ آور اپنی کارروائی مکمل کرنے کے بعد پاکستانی علاقے میں واپس چلے گئے تھے لیکن پاکستان نے ان الزامات کی نہ صرف سختی سے تردید کی، بلکہ افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے ان اڈوں کو اپنے ہاں ختم کر دے جن کے ذریعے بھارت پاکستان میں عمومی طور پر اور بلوچستان میں خصوصی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے افغان حکومت کو بھگوڑے دہشت گرد ملا فضل اللہ کو بھی پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جو افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کی کمان کر رہا ہے۔

افغانستان میں یقین کی حد تک یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ افغانستان میں امن کی کنجی پاکستان کے ہاتھ میں ہے اور اگر پاکستان چاہے تو افغانستان میں قتل، خون ریزی اور دہشت گردی کی موجودہ صورتحال ختم ہو سکتی ہے ۔ اسکے لیے سابق صدر کرزئی حکومت کی طرح موجودہ حکومت کا بھی پاکستان سے مطالبہ ہے کہ وہ افغان طالبان کو افغانستان کی موجودہ حکومت کے ساتھ بات چیت کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کرے اور اگر افغان طالبان پاکستان کے کہنے کے باوجود اس پر راضی نہ ہوں تو پاکستان اپنے ہاں مقیم مافغان طالبان کی قیادت کے خلاف اقدام کرے اور جن ذرائع سے انہیں مالی امداد فراہم ہوتی ہے، انکو بلاک کر دے۔ ان مطالبات کا اظہار حال ہی میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغان ڈپٹی وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی نے کیا تھا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اسکی طرف سے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے عمل کی ہمیشہ حمایت کی گئی ہے بشرطیکہ یہ عمل افغانستان کی طرف سے ہو اور افغان کنٹرول میں ہو۔

پاکستان نہ صرف افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کا حامی ہے، بلکہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان کو اس پر راضی کرنے کی بھی کوشش کی ہے اور اسی کوشش کے نتیجے میں حال ہی میں قطر اور چین کے صوبہ سنگیانگ کے دارالخلافہ ارمچی میں افغان حکومت اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان پہلی دفعہ انتدائی بات چیت بھی ہوئی، لیکن ان ابتدائی روابط کے بعد بات چیت کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا بلکہ افغانستان میں افغان طالبان کے حملے اور بھی تیز ہو گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق افغان طالبان میں افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کے مسئلے پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ایک دھڑا حکومت کے ساتھ نہ صرف بات چیت بلکہ سمجھوتے کے حق میں ہے جبکہ دوسرا دھڑا جنگ کو تیز کرنے کے حق میں۔ اس دوسرے دھڑے کا موقف یہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد طالبان کی عسکری فتح کے امکانات بڑھ گئے ہیں کیونکہ افغان سکیورٹی فورسز بشمول افغان نیشنل آرمی طالبان کے منظم حملوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس دوسرے دھڑے نے بالادستی حاصل کر لی ہے اور اسی وجہ سے افغانستان میں جنگ کے شعلے بلند ہو گئے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امان بات چیت کا آغاز نہیں ہوتا اور جنگ کی آگ اس طرح بھڑکتی رہے گی تو پاک افغان تعلقات بلکہ خود پاکستان کے قومی سلامتی کے مفادات پر کیا اثر پڑے گا۔ ؟ ظاہر ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کے حملے جاری رہے تو پاک افغان تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے۔ کیونکہ افغانستان میں ان حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کیا جائے گا اور افغان رائے عامہ جو پہلے ہی پاکستان کو افغان طالبان کی حمایت اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا چکی ہے پاکستان کے مزید خلاف ہو جائے گی۔ اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے اب تک جو اقدام کیے گئے ہیں وہ سب ضائع ہو جائیں گے۔ دوسری طرف بین الاقوامی برادری بشمول چین افغانستان میں خانہ جنگی کے خلاف ہے اور وہاں امن کی خواہاں ہے۔ اسے ممکن بنانے کیلئے بین الاقوامی برادری کی طرف سے پاکستان پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔ تیسرے پاکستان اور چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں۔ اس میگا پروجیکٹ کے تحت کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ان علاقوں میں بھی کی جائے گی جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ افغانستان میں جنگ اور بدامنی کی صورت میں یہ سرمایہ کاری محفوظ نہیں ہو گی۔ اس لیے پاکستان کے پالیسی سازوں کیلئے افغانستان کی موجودہ غیر یقینی اور پر خطر صورتحال ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس سے بننرد آزما ہونے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک خصوصا چین، ایران اور صدر اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ مل کر افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو تیز کرے۔

--------------------
بشکریہ روزنامہ "دنیا"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.