.

بھارت کا جنگی جنون اور خطہ کا عدم استحکام

سلمان عابد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے عام انتخابات میں جب بی جے پی اور مودی نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی تو یہ بہت سے لوگوں کیلئے غیر یقینی عمل تھا۔ کیونکہ انتخابات کے نتائج سے قبل ایک عمومی تجزیہ یہ ہی تھا کہ مینڈیٹ تقسیم شدہ ہو گا اور بی جے پی کی مخلوط حکومت بنانا ہوگی لیکن بی جے پی اور مودی کی بڑی کامیابی نے بھارت کی سیاست کو ایک مضبوط حکومت دے ڈالی۔ بہت سے سیاسی پنڈت مودی اور انکی انہتا پسند سیاست کو بھارت کی سیکولر سیاست کیلئے خطرہ سمجھتے تھے لیکن بھارت میں موجود بڑے سرمایہ دار جو مودی کی اصل طاقت تھے وہ وزیر اعظم کی مدد سے معاشی ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہونے کے خواہشمند تھے، انکا خیال تھا کہ انتہا پسند مودی اقتدار میں آکر وہی کچھ کریں گے جو ہماری معاشی ضرورت ہو گی۔

حالانکہ بھارت کا سرمایہ دار طبقہ یہ بھی بھول گیا کہ مودی کی ساری انتخابی مہم معاشی ترقی کے ایجنڈے سے زیادہ ہندواتہ کی بنیاد پر تھے۔مودی نے اپنی انتخابی مہم میں پاکستان اور مسلم دشمنی کا کارڈ خوب کھیلا اور اسکا نتیجہ انکی بڑی کامیابی کی صورت میں نکلا۔ اب بھارت اور مودی کی پاکستان دشمنی کی سیاست بالادست ہو گئی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ دنوں میں جو تلخی، محاذ آرائی، شدت ، تعصب اور نفرت کا عمل ابھر کر سامنے آیا ہے اس ماحول کو پیدا کرنے میں بھارتی وزیر اعظم کی کابینہ اور میڈیا پیش پیش نظر آتا ہے۔

دراصل پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ دنوں میں جو تلخیاں پیدا ہوئی ہیں اس کی چند اہم وجوہات ہیں:
اول ۔۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بداعتمادی کے مقابلے میں اعتماد سازی اور دو طرفہ تعاون کے امکانات کا آگے بڑھنا۔
دوئم ۔۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں فوج کے کردار کی عالمی سطح پر پذیرائی۔
سوئم ۔۔ پاکستان کی طرف سے مسلسل پاکستان کے داخلی معاملات میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مداخلت ۔
چہارم ۔۔ پاک چین معاشی راہداری پر بھارت کے سنگین تحفظات جیسے امور شامل ہیں۔

اسی طرح بھارت کا اپنی داخلی سیاست کے مسائل کو چھپا کر پاکستان پر الزام تراشی کا کارڈ کھیل کر بھارت میں اس احساس کو پیدا کرنا کہ پاکستان ہمارے خلاف سازشوں میں شریک ہے، تلخی کی سیاست کو اور زیادہ شدت دے کر معاملات میں مزید خرابیاں پیدا کر رہا ہے۔

بھارت نے بنیادی طور پر پاکستان کی امن اور دوستی کی خواہش کو داخلی کمزوری سمجھ کر مزید دباؤ بڑھانے کی حکمت کو فوقیت دی حالانکہ وزیر اعظم نواز شریف بھارت سے تعلقات کی بحالی میں آگے تک جانے کیلئے تیار تھے، لیکن بھارت سے انہیں اس معاملے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ پاکستان میں وہ طبقہ جو بھارت سے تعلقات کی بحالی میں بڑا پیش پیش رہا ہے وہ بھی مودی سرکار کی حالیہ پالیسی کی وجہ سے دفاعی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے جو کچھ بنگلہ دیش کی تقسیم میں اپنے اور بھارت کے کردار کی باتیں بنگلہ دیش میں کی ہیں، وہ بھی تعلقات میں مزید خرابیوں کا سبب بنے گی۔

بھارتی طرز عمل پر ایک جوابی رد عمل پاکستان کی سیاست میں بھی بھارت کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور بالخصوص عسکری قیادت سمیت سیاسی اشرافیہ اور لوگوں میں بھارت کے طرز عمل پر سخت گیر موقف سامنے آیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کے بقول بھارت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے مفاہمتی فضا خراب ہوئی اور بھارت ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھے۔ جبکہ اسکے برعکس فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے بقول بھارت کو جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ بھارت اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور دیگر ممالک میں مداخلت پر فخر محسوس کرتا ہے۔ فوجی قیادت تسلسل سے اس نقطہ پر زور دے رہی ہے کہ بھارت ہمیں غیر مستحکم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

بھارت کے وزیر مملکت کرنل ﴿ر﴾ راجیہ وردہن سنگھ راٹھور، وزیر ماحولیات پر کاش جوادیکر، ایڈیشنل ڈائریکٹر ملٹری آپریشن جنرل رنبیر سنگھ کے بقول میانمار میں بھارتی فوج کی کارروائی پاکستان سمیت ان تمام ممالک کیلئے پیغام ہے جہاں بھارت مخالف شدت پسند نظریات والے لوگ بستے ہیں۔ انکے بقول اگر ہمیں پاکستان سے خطرہ محسوس ہوا تو ہم پاکستان ہر حملہ کرنے سے بھی گریز نہ کریں گے۔ بھارت کی سیاست میں وزیر اعظم مودی سمیت دیگر لوگوں کا یہ جارحانہ اور جنگی جنون پر مبنی رویہ پاکستان سمیت خود خطہ کی سیاست سمیت بھارت کی اپنی داخلی سیاست کیلئے بھی عدم استحکام کا سبب پیدا کرے گا۔ جو کچھ بھارت کی منتخب انتہا پسند سیاسی قیادت اس وقت رویہ اختیار کیے ہوئے ہے وہ بھارت کی اپنی سیکولر سیاست کیلئے بھی خطرہ ہے۔ کیونکہ خود بھارت میں رہنے والے مسلمان مودی سرکار میں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھے ہوئے ہیں اور مودی سرکار پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔

بھارت کی سیاسی قیادت کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ پاکستان اس وقت خود حالت جنگ میں ہے، اس کی ترجیح دہشت گردی سے نمٹنے پر مرکوز ہے اور اسکو اس وقت خطہ کے تمام ممالک سمیت بھارت سے دو طرفہ تعاون اینٹی ٹیررازم میکنزم پر تعاون کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ محض پاکستان کے داخلی استحکام سے ہی نہیں جڑی، بلکہ اسکا تعلق خطہ سمیت بھارت کے اپنے استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ایسے موقع پر بھارت کا جارحانہ اور جنگی جنون پر مبنی رویہ خود دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو نقصان پہنچائے گا۔ اس لیے اس وقت خطہ کی سیاست میں بھارت اور پاکستان دونوں کو ایک ذاہ دارانہ کردار کی ضرورت ہے۔ اصولی طور پر ہونا یہ چاہیے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جو شدت پیدا ہوئی اسکو دونوں اطراف سے کم کیا جائے ۔ لیکن اس میں پہل خود بھارت اور مودی سرکار کو کرنی ہوگی تاکہ معاملات میں استحکام آ سکے۔

بھارت کی سیاست میں سیکولر سیاست کے علمبردار طبقہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی پاکستان دشمنی یا تعصب کی آگ سے باہر نکلیں اور مودی سرکار کی سیاست اور طرز فکر پر بڑا دباؤ ڈال کر ان کے ایجنڈے کے خلاف مزاحمت کریں، کیونکہ خود بھارت کی اپنی سلامتی بھی امن اور دو طرفہ تعلقات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ اب قومی اسمبلی اور سینٹ سے بھارتی طرز عمل پر مخالفانہ قرارداد سامنے آئی اور وزیر اعظم نے بھی کھل کر بات کی۔

بھارت ہمارے مقابلے میں زیادہ مضبوط انداز سے عالمی دنیا میں اپنی سفارت کاری کی مدد سے یہ باور کرواتا رہا ہے کہ پاکستان بھارت کی داخلی سیاست میں مداخلت کرتے ہوئے دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے۔ اسی طرح وہ پاکستان کی ریاست کو براہ راست دہشت گردی اور دہشت گردوں کی وجہ قرار دیتا رہا ہے۔ لیکن کیونکہ اب پاکستان کے بقول اسکے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جو پاکستان میں بھارتی مداخلت کو ظاہر کرتے ہیں ، انکی موجودگی اور مودی سرکار کا حالیہ رویہ کے بعد ہمارا مسئلہ سفارت کاری کے محاذ پر ایک بڑی سیاسی جنگ کا بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہم سفارت کار۹ی کے محازذ پر کمزور ہیں اسکی وجہ جہاں واضح خارجہ پالیسی کا فقدان اور بغیر وزیر خارجہ ہے وہیں سفارتکاری کے محاذ پر سیاسی بھرتیوں نے مسائل پیدا کیے ہیں، جو حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

اب وقت ہے کہ ہم دنیا میں زیادہ بہتر انداز میں اور ٹھوس شواہد کے ساتھ بھارت کے بارے میں اپنا سیاسی مقدمہ زیادہ بہتر انداز میں پیش کر کے بھارت کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔ یہ دنیا کو باور کروانا ہوگا کہ بھارت کا موجودہ طرز عمل کسی بھی پرامن خطہ میں استحکام کی سیاست کے خلاف ہے۔ ہمیں خود بھی جنگی جنون پیدا کرنے کی پالیسی سے گریز کرنا چاہیے اور اپنا مقدمہ سیاسی بنیادوں پر ملک کے اندر خطہ سمیت بین الاقوامی ممالک میں لڑنا چاہیے تاکہ بھارت کی خود انتہا پسند سیاست کو بے نقاب کر کے اسکے سامنے ایک مضبوط سیاسی بند باندھا جا سکے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.