.

عمران خان کے یو ٹرن

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عمران خان یا جیسا کہ انہیں ٹوئیٹر پر یو ٹرن خان کہا جا رہا ہے، کو اب اپنی ہی تجویز کردہ کڑوی گولی نگلنی پڑ رہی ہے۔ دراصل ہونے والی پے درپے ناکامیوں نے انہیں حقیقت کا آئینہ دکھا دیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت انتظامیہ کے کنٹرول میں خیبر پختونخوا مقامی انتخابات میں اس وسیع پیمانے پر تشدد اور دھاندلی کے واقعات پیش آئے کہ عمران خان نے خود پر ہونے والی کڑی تنقید کی تاب نہ لاتے ہوئے تازہ انتخابات کی پیش کش کر دی۔ اسکے برعکس پی ایم ایل (ن) کی انتظامیہ کے تحت پنجاب میں منڈی بہاؤالدین میں ہونے والے ضمنی انتخابات اور گلگت بلتستان میں ہونے والے عام انتخابات پر امن ماحول میں نہایت شفاف طریقے سے ہوئے ۔ اہم بات یہ ہے کہ شفاف طریقے سے ہونے والے ان دونوں انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن نے پی ٹی آئی کو روند کر رکھ دیا۔

اس شکست سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ حتی کہ خیبر پختونخوا میں مقامی حکومتوں کیلئے ہونے والے دھاندلی زدہ انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کا ووٹ بنک 45 فیصد (جو کہ گزشتہ عام انتخابات مین تھا) سے گر کر 30 فیصد تک آ گیا۔ عمران خان نے اپنی تمام تر امیدیں جوڈیشل کمیشن سے وابستہ کر رکھی تھیں۔ کمیشن نے نواز شریف، سابق چیف جسٹس آف پاکستان، افتخار چوہدری ، سابق جج خلیل رمدے، چیف الیکشن کمیشنر فخر الدین جی ابراہیم، جنگ ، جیو میڈیا ہاؤس اور پنجاب کے سابق نگران وزیر اعلی نجم سیٹی کی ملی بھھگت سے سازش کے تحت 2013ء کے انتخابات چرانے کے الزام کی تحقیقات کرنا تھی۔

تاہم پی ٹی آئی سوائے نجم سیٹھی کے ، جن پر عمران خان اور انکے حمایتی حواری پینتیس پنکچر لگانے کا الزام لگاتے رہے، مندرجہ بالا میں سے کسی اور شخصیت کو کمیشن کے روبرو مورد الزام ٹھہرانے کا حوصلہ نہ کر سکی۔ اس سے پہلے میری طرف سے ہتک عزت کے دائر کردہ کیش کے سلسلے میں سول کورٹ کے سامنے بیان دیتے مسٹر سیٹھی پینتیس پنکچروں کی بات رائے تھی نہ کہ دو ٹوک سنجیدہ الزام۔ ہوئے عمران خان نے دعوی کیا۔ کے ملوث ہونے کا ثبوت جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ تاحال ایسا ہونا باقی ہے۔ پی ٹی آئی کا یو ٹرن اس وقت بھی انتہائی شرم ناک تھا جب اس کی طرف سے جوڈیشل کمیشن میں دائر کی گئی درخواست کہ عمران خان کو بھی گواہی کے لئے بلایا جائے، واپس لے لی کئی۔ انہیں ڈر تھا کہ ن لیگ کے وکلا جو بہت دیر سے خان صاحب کے منتظر ہیں، انکے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیں گے۔ اس طرح آج کل عمران خان کو یو ٹرن لینے کا بے تاج بادشاہ کہا جا سکتا ہے۔

اس میدان میں انکا دور دور تک کوئی حریف نہیں۔ اس سے پہلے خاں صاحب کا دعوی تھا کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف کے استعفے اور تازہ قومی انتخابات کے اعلان تک اسلام آباد کا دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا اور خان صاحب دھرنا ختم کر کے واپس آگئے۔ اس کے بعد دعوی تھا کہ وہ اپنی پارٹی میں منصفانہ انتخابات کرائیں گے لیکن سب نے ان انتخابات کی دھول اڑتے دیکھی۔ انکی طرف سے دعوی کیا گیا کہ وجیہ الدین کمیشن کے فیصؒوں کی پابندی کی جائے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ کئی ایک اقدامات عمران خان کی مقبولیت میں کمی لانے کا باعث بنے۔ کچھ مخالفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس وقت شادی کا فیصلہ کیا جب پشاور آرمی پبلک اسکول پر روح فرسا حملے کے نتیجے میں قوم کے بہنے والے آنسو بھی خشک نہیں ہوئے تھے۔ جسٹس وجیہہ الدین کے ساتھ کئے جانے والے سلوک نے پی ٹی آئی کے بہت سے مثالیت پسندوں کو سخت صدمہ پہننچایا۔ حالیہ دنوں پارٹی کے نظریاتی حامیوں کے درمیان تلخ بیان بازی اور محاذ آرائی کی وجہ سے بہت سے کارکن مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک حکومت کی کارکردگی، جسکا ایک مظاہرہ حالیہ انتخابات کے دوران بھی دیکھنے میں آیا، پی ٹی آئی کے ملک بھر میں پھیلے ہوئے کارکنوں کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہے۔

یکایک عمران خان اب ایک ایسے رہنما نہیں رہے جن کا کردار اتنا بے داغ ہوتا ہے کہ ان پر الزام لگایا ہی نہیں جا سکتا۔ اس وقت وہ ایک ایسے عمر رسیدہ شخص دکھائی دیتے ہیں جو مایوسی کی وجہ سے شدید غصے میں ہو کیونکہ اسے پتہ نہیں چل رہا کہ اب وہ کیا کرے اور کہاں جائے۔ عمران خان کیلئے نہایت خلوص دل سے ایک نصیحت ہے کہ وہ اپنے نام نہاد اخلاقی گھوڑے سے نیچے اتر کر حقائق کی سرزمین پر قدم رکھنا سیکھ لیں۔ تھرڈ امپائروں سے امید لگانے کہ وہ انہیں اٹھا کر تخت پر بٹھا دیں گے، یا جوڈیشل کمیشن انکے ہاتھ میں قینچی پکڑا دے گا جس سے وہ سب حریفوں کے پر کتر کر تنہا پرواز کر جائیں گے، کی بجائے انہیں اپنی پارٹی کی تنظیم نو کرنے کے علاوہ اپنی صوبائی حکومت کی کارکردگی بہتر بنانی ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت کرنی اتنی آسان نہیں جتنی اسلام آباد میں، لیکن عمران خان کو یہ صوبہ چیلنج کے طور پر مل گیا ہے کہ اگر وہ یہاں کامیاب ہو گئے تو پورے ملک میں انکے سامنے کوئی مسئلہ نہ ہو گا۔

چنانچہ خان صاحب کو کوشش کرنی چاہیے کہ اسے بدعنوانی اور لاپرواہی کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں اور ایک اچھی گورننس قائم کرتے ہوئے باقی ملک کو پیغام دیں کہ وہ اس کی اہلیت رکھتے ہیں۔ کارکردگی کا یہ مظاہرہ دیکھنے پر عوام کو اگلے انتخابات میں فیصلہ کرنے میں آسانی رہے گی۔ آج صوبائی حکومت ملنے کے دو سال بعد پی ٹی آئی افراتفری کا شکار رکھائی دیتی ہے۔ عمران کے سامنے پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنی پارٹی کو ان خطوط پر استوار کریں جن پر چلتے ہوئے وہ قومی انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کر سکیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دیگر جماعتوں سے وفاداری تبدیل کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی صفوں میں آنے والے گھاگ رہنماؤں کو پیچھے ہٹاتے ہوئے نوجوان خون، جو پی ٹی آئی کی اصل طاقت تھا، کو آگے آنے کا موقع دیں کیونکہ یہ وہ نوجوان ہیں جو تبدیلی اور احتساب کے خواب آنکھوں میں سجا کر پی ٹی آئی میں آئے تھے۔ اس وقت پی ٹی آئی کو پارٹی کے داخلی انتخابات کی شدید ضرورت ہے تاکہ حقیقی نمائندے سامنے آسکیں۔ دوسرا اہم ترین کام خیبر پختونخوا حکومت میں شامل بدعنوان اور نااہل افراد کو نکال کر صاف ستھرے اور باصلاحیت افراد کو آگے لانا ہے۔ یہ دونوں اقدامات انہیں سیاسی طور پر فائدہ پہنچائئیں گے اور تین سال بعد ہونے والے قومی انتخابات میں ان کی کارکردگی ہت بہتر ہو جائے گی ۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی وعدوں اور الزامات کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ نواز شریف ، آصف زرداری اور عمران خان سے ٹھوس کارکردگی کی توقع کرتے ہیں۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.