.

ماہرین امور خارجہ کیا فرماتے ہیں۔

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اکرام ذکی ، سردار آصف احمد علی اور خورشید محمود قصوری پر مشتمل تین ماہرین امور خارجہ کا شائد یہ مشترکہ فیصلہ ہے کہ اممریکہ کبھی پاکستان اور ہندوستان میں جنگ نہیں چاہے گا مگر اس نام نہاد مشترکہ فیصلے میں تینوں ماہرین کے کچھ اختلافات بھی پائے جاتے ہیں مثلا خورشید محمود قصوری اپنے تجربے اور علم کے مطابق فرماتے ہیں کہ باہمی تناؤ کو کم کرنے کیلئے ہندوستان اور پاکستان دونوں کو کہا جائے گا کہ اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ اکرم ذکی کا خیال ہے کہ ہندوستان پاکستان پر حملہ کرنے میں پہل نہیں کرے گا اور سردار آصف احمد علی کا کہنا ہے کہ کسی کو اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ امریکہ تناؤ کم کرنے کیلئے ہندوستان پر دباؤ ڈالے گا۔

برصغیر پاک و ہند کے تاریخی حقائق اور زمینی سچائیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے غور کیا جائے تو یہ تینوں ماہرین امور خارجہ کسی نہ کسی خوش فہمی میں پائے جاتے ہیں۔ سب سے بڑی خوش فہمی تو یہ ہے کہ جنگ صرف میدان جنگ میں ایک دوسرے کے ملک پر حملے کر کے ہی لڑی جاتی ہے اور جنگ میں صرف آتشیں اسلحہ ہی استعمال ہوتا ہے۔ ایک خوش فہمی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ امریکہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ کو پسند نہیں کرے گا اور دونوں ملکوں پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ باہی تناؤ میں کمی لانے اور مذاکرات کی میز کے گرد بیٹھنے کی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح پوری دنیا پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد تیسری عالمی جنگ کی تباہی اور بربادی سے گزر رہی ہے ویسے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک جنگ جاری رکھی گئی ہے جس میں قتل و غارت ، تباہی اور بربادی کا سلسلہ جاری ہے اور تیسری عالمی جنگ سے مفادات حاصل کرنے والوں کی طرح پاک وہند سے فائدہ حاصل کرنے والے بھی اپنے فائدے حاصل کر رہے ہیں اور ان میں امریکہ جیسی عالمی طاقتیں بھی شامل ہیں۔

برصغیر پاک و ہند کی نام نہاد آزادی کے بعد کے تمام عرصے میں ان دونوں کی باہمی جنگ کو جاری رکھنے کیلئے مسئلہ کشمیر کھڑا کیا گیا تھا۔ اندازہ لگایا نہیں جا سکتا تو اندازہ لگانے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ کشمیر کے مسئلے کے ذریعے برصغیر پاک و ہند کے لوگوں کی زندگیوں کی متاثر کرنے والے کتنے زیادہ مسائل پیدا کئے گئے۔ مسئلہ کشمیر کے ذریعے ہندوستان اور پاکستان کو گزشتہ 66 سالوں کے دوران جو مالی اقتصادی یا مالیاتی نقصان پہنچایا گیا ہے وہ کسی عالمی جنگ کے کولیٹرل نقصان سے کم نہیں ہوگا اور اس جنگ کے دوران امریکہ بہادر یا کسی اور طاقت نے کبھی ہندوستان یا پاکستان کو باہمی تناؤ میں کمی لانے اور امن و امان کی فضاء قائم کرنے کا مشورہ نہیں دیا بلکہ جہاں تک ممکن ہوا دونوں کے جذبات کو بھڑکانے اور نقصانات کو بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی کیلئے مکتی باہنی سے صرف ہندوستانی افواج نے ہی تعاون نہیں کیا۔ کچھ اور عالمی طاقتیں بھی سرگرم دکھائی دیتی رہی ہیں۔

شائد یہ اندازہ کسی نے بھی نہیں لگایا ہوگا کہ پاکستان اور ہندوستان کے باہمی اختلافات کی وجہ سے امریکہ اور دوسرے جنگی اسلحہ تیار اور فروخت کرنے والوں کو کتنا فائدہ پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کو غیر ملکی قرضوں کی محتاج معیشت کے چنگل میں پھنسانے کا آغاز قیام پاکستان کے بعد بشیر ساربان کے اونٹوں کے گلے میں تھینک یو امریکہ کی تختیاں لٹکانے اور پھر ان تختیوں کے ساتھ خود لٹک جانے کے عمل سے شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے۔ اس عام عرصے میں چند لمحوں کے لیے بھی برصغیر کے ملکوں کے تناؤ میں کمی لانے کا کسی نے کوئی مشورہ نہیں دیا۔ تناؤ میں کمی لانے کا مشورہ دیا جاتا تو پاکستان اور ہندوستان کی جنگ کیسے جاری رکھی جاتی اور ان ملکوں میں فروخت ہونے والے اسلحہ سے امریکی معیشت کو فائدہ کیسے پہنچ سکتا تھا۔ برصغیر کے دونوں بڑے ملکوں کی گزشتہ سالوں سے جاری باہمی جنگ کے حالیہ اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ دونوں ملکوں کے ایٹمی طاقت بننے کے شوق کی وجہ 66 سے ہوا ہے۔ جنگی اخراجات میں اسی اضافہ کی وجہ سے یہ ممالک اپنے عوام کے کسی ایک مسئلہ کو حل کرنے کی جانب توجہ نہیں دے سکتے۔ کیا ماہرین امور خارجہ ان حقائق سے انکار کریں گے؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.