.

فوج کو چھوڑیئے پہلے اللہ سے معافی مانگیں

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوچا تھا کہ آج کچھ رمضان شریف کا ذکر کروں گا، خیال تھا کہ آج اللہ کے دن اللہ کے عطا کردہ سب سے حسین ماہ مبارک کی عظمتوں پر چند الفاظ لکھ کر اپنے ٹوٹے پھوٹے اعمال کی پیوندکاری کی کوشش کروں گا، ارادہ کیا تھا کہ پڑھنے والوں اور پڑھوا کر سننے والوں کو جیو پر اپنی رمضان شریف نشریات کی کچھ جھلکیوں سے آشنا کروں گا۔ مگر دو دن سے اس گناہ گار کا دل انتہائی مغموم اور درد سے پر ہے۔ درد تو ویسے بھی اس قدر ہے کہ اگر اسکو موضوع بنا لیا جائے تو شاید پھر کوئی اور موضوع آخری سانس تک لکھنے یا بولنے کو میسر ہی نہ ہو۔ برما کے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار سے لے کر وسطی افریقا، فلسطین اور شام و یمن میں طلم و ستم کی داستانوں نے شاید ایک مرتبہ فرعون و نمرود کو بھی عذاب کے دوران تھرا کر رکھ دیا ہو کہ ہمارے بعد کا بعد ایسا ہوگا یہ تو ہم نے بھی نہ سوچا تھا۔

کشمیر کے باہمت مسلم جنہیں پاکستان سے بے پناہ محبت ہے وہ بھی آلام کی بارش سے بھیگے ہوئے ہوئے ہیں اور اس قدر تر ہیں کہ تر آنکھیں اب اس تری کا ہی حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ اسی لیے تو بارگاہ ایزدی میں ہر لمحہ عرض کرتا ہوں کہ یارب غم کو موضوع نہ بنانا کیونکہ ہمارے لیے کیا موزوں ہے یہ تجھ سے بہتر کون جانتا ہے، بس اس موضوع کو بدل دے اور ان ایام کو پھیر دے جنہوں نے مسرتوں کا منہ تیرے حبیب کے امتیوں سے پھیر رکھا ہے۔ (آمین) تاہم میرا غم اسکے بعد بھی کچھ اور ہے مجھے کسی اور تکلیف نے جکڑ رکھا ہے اور میں 48 گھنٹوں سے بھی زائد وقت گزر جانے کے باوجود اب تلک ششدر ہوں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ سبقت لسانی اور جوش روانی کی اذیتوں سے انسان کا اپنے ہی آپ پر لم اسے کہاں تہ پہنچا سکتا ہےْ؟

بے شک درست پیغام ہے یہ قرآن کا کہ انسان درحقیقت خود ظالم ہے، اللہ تو اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے، ظلم نہیں۔ روسٹرم کے سامنے ، مائیک کو کائنات سمجھ کر منہ میں گوشت کے بے چین لوتھڑے سے بے قابو جملوں کی ادائیگی جہنم کے کس قدر قریب لے جا سکتی ہے یہ اگر بولنے سے پہلے نہیں سوچا ہوتا تو کم ازکم بولنے کے بعد یقینا سوچ لینا چاہیے کیونکہ اسی سوچ کو توبہ کہتے ہیں اور اللہ کو وہ بندے زیادہ محبوب ہیں جو اسکی بارگاہ میں اپنی مغزشوں اور کوتاہیوں کی سچے دل سے توبہ کر کے گناہ پر نادم ہوتے ہیں۔ لیکن جناب یہاں تو ہٹ دھرمی اور جملوں کی درستگی پر اصرار نے ضدر ابلیس کو بھی اپنا مکروہ چہرہ چھپانے پر مجبور کر دیا ہے۔ مجھے بتایا جائے کہ کوئی مسلمان یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ تم تین سال کے لیے آئے ہو اور ہم نے یہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ یہ جملہ کسی بھی تناظر میں چاہے وہ کسی عہدی کی معیاد سے متعلق ہو یا کسی کو اسکی مدت ملازمت کے اختتام کو یاد دلانے کے لیے ہی کیوں نہ ہو، اسکا یہ حصہ کہ ہم نے ہمیشہ یہیں رہنا ہے، کسی کو لرزائے یا نا لرزائے مجھے نہیں معلوم! لیکن مجھ جیسا گناہوں سے لتھڑا اور خطاؤں سے سنا ہوا انسان ضرور لرز کر رہ گیا ہے۔

جناب آصف علی زرداری صاحب قائم رہنے والی ذات صرف اسکی ہے جس نے آپ کو اور قائم علی شاہ کو پیدا کیا ہے۔ جناب زرداری صاحب ، ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، ہر ذی حیات کو اس دنیا سے اس دنیا کی جانب جانا ہے جہاں لے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جناب زرداری صاحب! یہاں صرف کام اور نام امر ہو سکتے ہیں وہ بھی اگر اللہ چاہے اور اگر وہ نہ چاہے تو کسی کا کوئی نام ہے اور نا ہی کام، ہم سب اسکے بندے اور غلام ہیں، جسکی ملازمت اور نوکری پر توحید پرستوں کو فخر ہے کہ ہمارا ملک کیا ہی بہترین مالک ہے۔ دنیا کے ہر مالک کو فنا ہے لیکن ہمارے آقا کو دیکھو کہ کیا ہی خوب صورت زندہ و جاوید ہے، اسے موت نہیں، اسے نیند نہیں، ارے نیند کیا اسے تو اونگھ بھی نہیں آتی۔ اپنے مولا کی رفعتوں اور بلندیوں کا کیا شمار کروں؟ وہ ہستی تو شمار اور اعداد سے بھی ماورا ہے ہم جیسے حدود میں رہنے والے تو اس قابل بھی نہیں کہ اس لامحدود کی صحیح طرح سے حمد کر سکیں، اپنی تعریف کا سلیقہ بھی اسی نے سکھایا ہے ورنہ ہم کیسے اسکی تعریف کر سکتے تھے؟ ارے ہم تو طریقہ جان کر بھی اب تک اس کی تعریف کا حق ادا نہ کر سکے اسکی تعریف کرنا ہمیں اسکے حبیب ﷺ نے ہی تو سکھلائی ہے لیکن کہاں وہ اور کہاں ہم!

انکی معراج کہ وہ پہنچے خدا تک۔ اور ہماری معراج کہ ہم پہنچھے مصطفی تک۔ کوئی اسکی حقیقت نہیں جانتا وہ سب کی حقیقت جانتا ہے ، حیات کا لفظ تو سجتا ہی اس پر ہے، جچتا ہی اسکے لیے ہے بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ اسے تخلیق بھی اللہ نے اپنے لئے ہی کیا ہے۔ کسی مائی کے لال کی یہ اوقات نہیں کہ وہ ہمیشہ رہے، ہاں اسکے لیے بہتر ہے کہ وہ اپنی اوقات میں رہے اور یہ اوقات میری بھی ہے اور آپ کی بھی بلکہ ہر ایک انسان کی یہی اوقات ہے کہ اسکے پاس ایک دن حضرت عزرائیل کے تشریف لانے کے اوقات مقرر ہیں، وہ آئیں گے اور اعمال کے مطابق انسان کو لے جائیں گے، بس پھوں پھاں کرنے والے انسان کی یہی ایک حقیقت ہے جس سے وہ لاکھ چاہتے ہوئے بھی دامن نہیں چرا سکتا پھر یہ انداز متکبرانہ ، یہ اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی بڑھکیں اور لڑکھڑاتی زبان سے ایک مچھر سے بھی کمزور اکڑ۔ آخر کس کو دکھا رہے ہیں ؟

آپ اس جنرل راحیل شریف کو جسے بقول آپ کے تین برس بعد چلے جانا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ کس کو کب جانا ہے کیونکہ یہ مجھ جیسے سیاہ کار کی بساط ہی سے باہر ہے کہ وہ اپنے گریبان کی چھپکلیوں کو چھوڑ کر دوسروں کی مکھیاں اڑاتا پھرے لیکن بنی اسرائیل کے دو نوجوان ایسے بھی گزرے ہیں جن میں سے ایک کو اپنی عبادتوں پر بڑا ناز تھا اور دوسرا گناہوں میں مبتلا۔ عابد بھائی اپنے گناہ گار بھائی کو کم و بیش روزانہ ہی نصیحتیں کرتا اور اسے گناہوں کی تباہ کاریوں سے خوف دلاتا۔ یہاں تک معاملات بالکل درست تھے مگر ایک دن اسکے گناہ گار بھائی نے ایسا گناہ کیا کہ عابد بھائی سے یہ کہے بنا نہیں رہا گیا کہ اب تو تجھے جہنم میں جانے سے کوئی نہیں بچا سکتا، تو تو آج سے جہنمی ہوگیا۔

بس اسکا یہ کہنا تھا کہ اللہ کے حکم سے دونوں کی روح قبض کرلی گئی اور انہیں بارگاہ رب العزت میں پیش کیا گیا۔ پروردگار نے عابد سے دریافت کیا کہ تجھے کس بات نے قادر کیا کہ تو نے اپنے بھائی کو جہنمی کہا۔؟ عابد نے سر جھکا کر عرض کیا میرے مالک ترے سوا کوئی یہ فیصلہ ہی نہیں کر سکتا کہ کون جنتی ہے اور کون جہنمی۔ بس یہ جواب سنتے ہی رب العزت نے حکم دیا کہ اس عابد کو جہنم میں ڈال دو اور اس گناہگار کیلئے جنت کے باغ لکھ دو کہ یہ تمہارے رب ہی کا استحقاق ہے کہ جسے وہ چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے۔ زرداری صاحب اس عابد کو بھی زبان کی لغزش نے تباہ کیا اور آُ بھی اپنی زبان کی وجہ سے مشکل میں گرفتار ہیں۔ بہتر ہے اعلانیہ معافی مانگئے کیونکہ یہ رعونت بھی آپ نے اعلانیہ ظاہر فرمائی تھی۔ ہر انسان کو اپنے قد، حد اور الف پر مدکی طرح ساکت رہنا چاہیے۔ فوج سے معافی یا اسٹیبلشمنٹ سے معذرت تو بہت دور کی کی بات ہے پہلے اپنے رب کی بارگاہ میں سربسجود ہو کر اسے پکاریئے وہ بے شک فورا ہی معاف کرنے والوں میں ہے ، زبان پھسل گئی جذبات میں آ کر کچھ زیادہ ہی بول گئے اور رینجرز کی کارروائیوں نے آپ کو سیخ پا کر دیا۔ قوم سمجھتی ہے ۔ پر بہتر ہے کہ اب وضاحتوں کے بجائے اسکا ازالہ کر لیا جائے، جو سر جھکاتے ہیں ان ہی کے سر اٹھائے جاتے ہیں اور پھر آپ کے تو ایک پیر صاحب بھی ہیں، ان ہی سے پوچھ لیجیے وہ بھی انشاء اللہ یہی فرمائیں گے جو عرض میں کر رہا ہوں۔

یقین مانیے کہ آپ نے بہت دکھی کر دیا ہے یہ لہجہ اور یہ انداز آپ کو زیب نہیں دیتا، آج آپ کسی کی مدت گن کر اسے یاد دلا رہے ہیں لیکن پندرہ شعبان کی شب کے بعد سے کس کا کفن بازار میں بک رہا ہے یہ تو کوئی نہیں جانتا، ممکن ہے کہ کسی دکان پر میرا ہی کفن رکھا ہو اور کچھ عرصے بعد میرا بیٹا اسے خریدنے اسی دکان تک جا پہنچے۔ بس اللہ سے ڈریئے اور تھوڑا سا نیچے اتریئے صاحب! سینہ پھلانے کے لیے سینے کا بھی ہونا ضروری ہے اور عبادت کا پسینہ ہر انسان کیلئے کافی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.