.

پیپلزپارٹی کے وجود کو شدید خطرات

وکیل انجم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم میاں نواز شریف سے 17 جون کو ملاقات پہلے سے طے تھی، شیڈول جاری ہو چکا تھا، تیاریاں مکمل تھیں،ملاقات سے پہلے خود آصف علی زرداری نے سیاسی تہلکہ مچا کر اپنے اور اپنی پارٹی کیلئے مشکل حالات تو پیدا کر ہی دیئے تھے ، زرداری کی تقریر کی وجہ سے وزیراعظم میاں نواز شریف کو زرداری سے فاصلہ کرنا پڑا۔ دونوں جماعتیں میثاق جمہوریت کے بعد ایک مرتبہ پھر یو ٹرن والی پوزیشن پر پہنچ گئی ہیں۔ میاں صاحب نے یقیناًپہلو بدل لیا ہے اور بدلتے بھی کیوں نہ، کیونکہ زرداری نے اپنی تقریر میں جو کچھ فرمایا ہے وہ نامناسب اور غیر ضروری تھا۔ میاں صاحب فوج کے عسکری کردار کے ہمیشہ قائل رہے ہیں البتہ سیاسی پہلو پروہ سوال اٹھاتے رہے ہیں۔

اب فوج اور حکومت ایک پیج پر ہے اور رہے گی۔ خارجہ پالیسی سے داخلی معاملات مل کر چلائے جا رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کے وزیروں نے نواز شریف اور زرداری کے درمیان لائن کھینچ دی ہے اب کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ دوسری بڑی خبر دو وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کیلئے ہے۔ نئے منظرنامے سے ان کا کردار ختم ہو چکا ہے۔ دونوں کی کرپشن کی کہانیاں غضب کر رہی ہیں۔ دونوں اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ اپنی تقریر میں سابق صدر پاکستان آصف زرداری نے پرانی باتوں کو دہرایا ہے۔ گزرے سال میں آصف علی زرداری نے علامہ طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنوں کے خلاف جو حکمت عملی بنائی تھی وہ خاصی حد تک کامیاب رہی ۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز بھی پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے دانشور اعتزاز احسن کی طرف سے آئی تھی۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا فورم سینہ تان کر جمہوریت کو ڈی ریل کرنے والوں کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ سیاست میں یہ سمجھا جاتا ہے احسان کا بدلہ احسان مگر ہوتا یہ کم ہے۔ آصف علی زرداری فرماتے ہیں اگر ہم بھی استعفے دے دیتے تو نئے انتخابات ناگزیر ہو جاتے۔ زرداری کو خود معلوم تھا کہ انہوں نے جو بویا ہے وہ فصل کافی عرصہ تک کاٹتے رہیں گے۔ اگر انتخابات میں جانے کا موقع آ بھی جاتا تو پیپلزپارٹی کونسا تیر مار لیتی ۔ اب وہ صرف سندھ کی بڑی جماعت ہے۔ ذوالفقار مرزا کے تازہ الزامات کو دیکھا جائے تو لگتا ہے سیاسی جماعتوں نے سندھ میں لوٹ مار کے ذریعے صوبے کو گروی رکھ دیا ہے۔ کرپشن کی کہانیاں جس پر میثاق جمہوریت کا غلاف لپیٹ دیا گیا ہے۔ اب لگتا ہے اس میں اتنا دم خم نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ کی سطح پر شدید دباؤ کا شکار ہے۔ عزیر بلوچ اور لیاری گینگ کے جو لوگ دبئی سے لائے گئے ہیں اُن کے انکشافات سنسنی خیز اور چونکا دینے والے ہیں۔ بہت سے اور بھی لوگ بولے ہیں اور بولیں گے۔

میاں نواز شریف جو پاکستان کی کلاسیکل سیاست کا سمبل مانے جاتے ہیں۔ وہ آصف علی زرداری سے ملاقات اور مفاہمت کیلئے ہمہ وقت دستیاب رہتے ہیں حالانکہ ان کی پارٹی کی بہت بڑی اکثریت زرداری صاحب سے ملاقات کو پسند نہیں کرتی۔ اس میں سچ بھی ہے کہ زرداری اور میاں صاحب کی سیاست بالکل مختلف ہے۔ آصف علی زرداری نے فوج کے بارے میں جس طرح کا لب و لہجہ اپنایا ہے اور ایک قومی ادارے سے جس انداز سے مخاطب ہو کر بولے ہیں ایسی زبان تو کسی عام آدمی کو زیب نہیں دیتی۔ زرداری تو صدر پاکستان رہے ہیں۔ آصف علی زرداری کی جماعت کی غیر قانونی سرگرمیوں اور کرپشن پر کم و بیش ایک سال سے ادارے نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔اب زرداری کو خوف ہے کہ انہوں نے 5 سالہ دور میں جو لوٹ کھسوٹ مچائی ہے اور جتنی رقم کی کرپشن کی فائلیں تیار ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ’’میثاق جمہوریت‘‘ کیا جمہوریت سے ہی عوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔ راحیل شریف پاکستان کے پہلے سپہ سالار ہیں جو ملک کی تعمیر و ترقی اور مثالی معاشرہ اور جمہوریت کی بالادستی کیلئے آئین پاکستان کے تابع رہ کر کام کرنا چاہتے ہیں، برابری کی بنیاد پر کراچی کے معاملات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ سندھ حکومت کی کارکردگی اتنی خراب ہے پیپلزپارٹی کو خدشہ ہے ستمبر 2015ء میں ہونے والے لوکل گورنمنٹ کے انتخاب میں اس جماعت کا بچا کھچا وقار خاک میں نہ مل جائے جو کام ضیاء الحق نہ کر سکے وہ بھٹو کے داماد اور بے نظیر بھٹو کی وصیت کے دعویدار آصف علی زرداری نے کر دکھایا ہے۔

خاندانوں اور نسلوں کی حکمرانی کا تصور جس طریقے سے تہ و بالا ہو رہا ہے وہاں بھٹو ازم بڑی تیزی سے روبہ زوال ہے۔ ذوالفقار مرزا جو اپنی اہلیہ سابق سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کے ساتھ علاج کیلئے امریکہ روانہ ہو رہے تھے انہوں نے آصف علی زرداری کی کرپشن کی دو ہولناک کہانیاں سنائی ہیں۔ اس کہانی کے اہم مبینہ کردار ملک ریاض ہیں جن کے بارے میں ذوالفقار مرزا کا فرمانا ہے کہ کراچی کی 4 لاکھ 80 ہزار ایکڑ زمین کو چونا لگایا گیاہے۔ یہ زمین معمولی نہیں بہت بڑی ہے۔ اس سے بڑھ کر زمین کا ایک اور بڑا سکینڈل آصف زرداری سے منسوب کیا۔ رینجرز پہلے ہی بہت سا ریکارڈ یہاں سے لے جا چکی ہے۔ کس طرح سیاسی جماعتیں اچھی حکمرانی نہیں کرپشن سے جڑی ہوئی ہیں۔ بیچاری ماڈل ایان بڑوں کی لڑائی میں پھنس گئی ہے۔ اُن سے آصف علی زرداری کا تعلق پہلے ہی جوڑا جا رہا تھا اب تو ذوالفقار مرزا جو کہہ رہا ہے اُس کے ثبوت دینے کیلئے تیار ہے۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ بھی نیند سے جاگے ہیں اور انہوں نے ڈی جی رینجرز کو خط لکھ دیا ہے کار سرکار میں مداخلت ہو رہی ہے۔ جس طرح کی لڑائی پیپلزپارٹی چھیڑ بیٹھی ہے اس کا انجام دیوار پر لکھا نظر آ رہا ہے۔

اگر قومی اسمبلی کے موجودہ قائد حزب اختلاف سید خورشید علی شاہ ،قائم علی شاہ کی جگہ وزیراعلیٰ بن بھی جاتے ہیں وہ پارٹی کو کیسے بچائیں گے۔ کرپشن کا حساب کتاب کرنے سے اداروں کو کیوں اور کیسے روکیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے سینٹ میں جو تقریر کی ہے وہ زرداری کی تازہ موومنٹ پر مسلم لیگ کا آفیشل ردعمل ہے۔ مشاہد اللہ خان نے جو وفاقی وزیر موسمی تغیرات بھی ہیں، زرداری کی تقریر پر قومی اسمبلی کے فلور پر جو ردعمل دیا ہے وہ واضح طور پر زرداری کی زبردست مذمت پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا پیپلزپارٹی نے شہداء سے مذاق کیا ہے۔

پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے گھروں سے 2,2 ارب روپے مل رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے لوگوں نے لانچیں بھر بھر کے زرمبادلہ باہر بھیجا ہے بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ آصف علی زرداری کے جیسے جرائم تھے وہ ملک کے صدر نہیں بن سکتے تھے۔ دوسری طرف سابق جرنیلوں کا ردعمل بھی آنا شروع ہو گیا ہے۔ پہل کی ہے مرزا اسلم بیگ نے جن کو بے نظیر بھٹو نے اپنے پہلے دور حکومت میں ’’تمغہ جمہوریت‘‘ دیا تھا، زرداری نے کہا تھا اگر بات کھلی تو دور تک جائے گی۔ سچ جانئے اس کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے جہاں جنرل حمید گل کی تجویز سے اختلاف کیا ہے وہاں پیپلزپارٹی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ زرداری نے جس انداز سے للکارا ہے اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو کر رہے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا ماضی میں کسی نے وہ کیا اب میں نے کچھ کر دیا ہے۔ اس کا نوٹس کیوں لیا جا رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی جو پہلے ہی بہت کچھ کھو چکی ہے اور اس کی ساری طاقت آصف علی زرداری کے پاس ہے، اب کرپشن کی فائلیں بند کرانے کیلئے دباؤ بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ نئی حکمت سے پارٹی کے اندر اور خاص طور پر پنجاب میں پارٹی میں نئی تقسیم ہونے کا خدشہ ہے۔

الیکشن 2013ء کے بعد پارٹی کے مستقبل سے مایوس بے شمار لوگ تحریک انصاف کا رخ کر چکے ہیں۔ پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے اگرچہ زرداری کے مؤقف کی حمایت کر دی ہے، احمد مختار جو سب سے زیادہ پرجوش تھے، مشرف دور میں جب نیب کی حراست میں آئے تو مشرف سے تعلق کی وجہ سے پہلے اپنے بھائی احمد سعید کو پی آئی اے کا چیئرمین بنوا دیا پھر ان کی خلاصی ہوئی۔ آصف علی زرداری کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا تھا کہ اس نے ماضی کے صدور کے مقابلے میں پہلے منتخب صدر مملکت کا عہدہ آئینی طریقے سے پایا اور 5 سال پورے کئے اور انہیں مسلم لیگ (ن) کی منتخب حکومت نے وضع داری نبھاتے ہوئے گارڈ آف آنرز دیا۔ 5 سالوں میں انہوں نے جو بویا اُس کی پارٹی نے کاٹا۔ کسی سیاسی جماعت کیلئے یہ سزا کافی ہے کہ اُس کو عوام مسترد کر دیں۔ پیپلزپارٹی کی سنٹرل کمیٹی نے جو تازہ فیصلہ دیا ہے اُس سے پارٹی کے آگے بڑھنے کے امکان نہیں ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.