.

دھماکہ ہو گیا۔

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب سے کراچی آپریشن شروع ہوا تھا آصف زرداری ایک آتش فشاں کی طرح اندر ہی اندر سے کھول رہے تھے، لیکن اب ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور لاوا بہہ نکلا،۔ اگر لگنے والے اس زخم پر افہام و تفہیم کامرہم فوری طور پر نہ رکھا گیا تو اس کے نتائم ایم کیو ایم، پی پی پی اور پی ایم ایل ن کے لئے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ زرداری صاحب کی تشویش اس وقت بالکل واضح تھی جب وہ صوبائی حکومت میں اپنے پارٹنر ایم کیو ایم کو فوجی آپریشن کی زد میں آنے سے نہ بچا سکے۔ اسکی وجہ سے دونوں جماعتوں کے تعلقات بھی کشیدہ دکھائی دیئے۔ مسئلہ یہ تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف صاحب کے ساتھ اس بات پر راضی ہونے کے بعد کہ فوج کو صوبے میں فری ہینڈ دیا جائے گا۔

وہ ٹارگٹڈ آپریشن پر اعتراض نہیں کر سکتے تھے۔ اب بہت سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے بعد فوجی آپریشن اس مرحلے میں داخل ہو گیا جہاں جرائم پیشہ گروہ اسکا ہدف ہیں۔ پی پی پی کے سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ ان جرائم پیشہ گروہوں میں سے کچھ کا پی پی پی کی صوبائی حکومت کے ساتھ کسی نہ کسی حد تک تعلق بنتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایسے گروہ انکی صوبائی جماعت کو تقویت دیتے ہیں اور اسکے بدلے حکومت ان سے اغماض برتنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ اس میں نچلے درجے کے بیوروکریٹس اور پولیس افسران بھی شامل ہیں جو کسی نہ کسی حد تک سندھ حکومت کو سہارا دیئے ہوئے ہیں۔

گزشتہ ماہ اس تناؤ میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب کور کمانڈر کراچی نے سندھ انتظامیہ میں ہونے والی بدعنوانی اور ناقص گورننس پر شدید تنقید کی۔ اسکا نقطہ عروج گزشتہ ہفتے سامنے آیا جب ڈی جی سندھ رینجرز نے صوبائی حکومت کے بدعنوان عہدیداروں پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ہر سال کراچی سے 230 بلین روپے بٹورتے ہیں۔ ابھوں نے نیب کو انکے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ۔ اسکے نتیجے میں جب ان بدعنوان افراد کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا تو زرداری صاحب غصے میں آ گئے اور فوج پر چڑھائی کردی۔

وہ گرجے، ہمیں تبگ کرنا بند کردو ورنہ ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ غصے سے کھولتے ہوئے سابق صدر نے خبردار کیا کہ اگر فوج نے سندھ انتظامیہ میں بدعنوان عناصر کی فہرست بنا لی ہے تو پھر انکی طرف سے بھی بدعنوان جنرلوں کی فہرست شائع کر دی جائے گی اور پھر سب کچا چٹھا سامنے آ جائے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا: ہمیں ہدف بنانا بند کردو ورنہ ہم کراچی سے لے کر خیبر تک پورے پاکستان کو بند کر دیں گے۔ شاید ہی کسی سیاست دان نے فوجی اسٹیبلشمنٹ پر اس طرح کھل کر اور تلخ لہجے میں تنقید کی ہو۔

تاہم زرداری صاحب نے جوش میں بھی ہوش کا دامن مکمل طور پر نہیں چھوڑا اور کہا ۔ یہ ہماری فوج ہے ، ہمارا ادارہ ہے۔ جب بے نظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تو میں نے پاکستان کھپے کہا لیکن ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ۔ کچھ نقاد الزام لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب زرداری صاحب کی طاقت اور اختیار کو فوج کی طرف سے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا تو وہ غصے سے کھول اٹھے لیکن جب بے نظیر بھٹو کو ہلاک کیا گیا تو انھوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا دیا۔

بدقسمتی سے اس حد کو کم کرنے اور ان شعلوں جو تمام سیاسی جماعتوں اور سیاسی نظام کی ساکھ کو خاکستر کر سکتے ہیں، پر پانی گرانے کی بجائے چوہدری نثار علی خان نے یہ کہتے ہوئے شعلوں کو مزید ہوا دی۔ آصف نے اپنی خامیاں اور اپنی گرتی ہوئی سیاسی مقبولیت کو چھپانے کیلئے سب سے اہم ادارے فوج پر اس وقت وار کیا جب وہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے قربانیاں دے رہی ہے۔ ابھوں نے سابق صدر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے اسے نامناسب ، توہین آمیز اور بلاجواز قرار دیا۔ چوہدری صاحب کا کہنا تھا کہ سابق صدر کا سیاسی اسٹائل ہماری قومی شناخت اور اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسکے بعد زرداری صاحب نے وزیر اعظم نواز شریف سے مالاقت کرنا چاہی تاکہ گزشتہ سال عمران خان کے دھرنوں کے دوران جب پی ایم ایل ن کی حکومت تھرڈ امپائر کے رحم و کرم پر تھی تو پی پی پی انکے ساتھ کھڑی تھی، کا حق محنت وصول کیا جائے، لیکن وزیر اعظم کی طرف سے مسٹر زرداری کیلئے مشورہ آیا کہ وہ فوج کے ساتھ پڑنے والی خلیج و پاٹنے کی کوشش کریں۔ وزیر اعظم نے خود کو ان سے دور کر لیا بلکہ منظر سے کچھ پیچھے ہٹ گئے۔ یقینا وہ ابھی کچھ عرصہ قبل مشرف کے معاملے پر قدم پیچھے ہٹانے کے بعد ایک مرتبہ پھر عسکری اداروں کے ساتھ کسی تناؤ میں نہیں الجھنا چاہیں گے۔

جنرل راحیل شریف نے فوج میں احتساب کی مم شروع کر دی۔ فوج کے ایک فور سٹار جنرل اسکے بھائی اور کئی ایک تھری سٹار جنرلوں کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔ کچھ ٹو سٹار جنرل بھی تحقیقات کی زد میں ہیں۔ چنانچہ اب جبکہ سندھ آپریشن کلین اپ تکمیل کی جانب بڑھے گا، سندھ حکومت کے وزرا، بیوروکریٹس ، پولیس افسران اور سیاست دانوں پر ہاتھ ڈالا جائے گا۔ وہ صورت حال کسی اور سے زیادہ زرداری صاحب کیلئے انتہائی تشویشناک ہوگی۔ اب حالات فیصلہ کن رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے ڈی جی رینجرز کے رویے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وہ آرٹیکل 147 سے تجاوز کرتے ہوئے سول اور سیاسی انتظامیہ کے امور میں مداخلت کر رہے ہیں۔

جس دوران سندھ میں تناؤ بڑھے گا اسکی حدت اسلام آباد میں بھی محسوس ہو گی۔ ایک تو شعلہ بیان بلاول بھٹو نرم خو اور دھیمے لہجے میں بات کرنے والے خورشید شاہ صاحب کی جگہ اپوزیشن لیڈر بننے جا رہے ہیں۔ بلاول بھٹو مسٹر شریف کو پارلیمنٹ میں کوئی رعایت نہیں دیں گے اگر مرکز نے سندھ میں پی پی پی کو کوئی رعایت نہ دی۔ اگر سندھ حکومت اور ریجنرز کے درمیان تناؤ بڑھتا ہے اور اگر مثال کے طور پر عذیر بلوچ نے حراست میں کچھ انکشافات کرنا شروع کر دیئے تو سندھ میں گورنر راج کا کہا جائے گا۔ اس سے پی پی پی اور ن لیگ کے درمیان برادرانہ تعاون ختم ہو جائے گا اور پی ٹی آئی اور پی پی پی مل کر حکومت کے خلاف ایک نئی تحریک چلانا شروع کر دیں گے۔ تاکہ ن لیگ کی حکومت کو گرا کر ملک کو تازہ انتخابات کی طرف دھکیلا جائے۔ براہ راست اقتدار پر قبضہ کئے بغیر پاکستان کو مرحلہ وار صاف کرنے کی پالیسی نے فوج کے ہاتھ باندھ دیئے ہیں۔ اب چونکہ معاملہ بہت آگے بڑھ چکا ہے، اس لئے جنرل شریف کو ضرور کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ ایسا کریں تو خرابی، نہ کریں تو خرابی ۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.