.

آرمی چیف کا دورہ روس

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں بڑھتی ہوئی اقتدار کی کشمکش ایک طرف رکھتے ہوئے جس میں آصف علی زعداری نے کھل کر اداروں کے خلاف طبل جنگ بجا دیا ہے ، ہم آرمی چیف کے دورئہ روس کو اہمیت دیں گے کہ وہ معاملہ اس لئے اہم ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان 5 سالہ دفاعی معاہدہ اور بھارت کا برما میں نگا باغیوں کے کیمپوں پر حملہ کر کے اپنی فوج کے گرتے ہوئے معیار اور مورال کو بلند کرنا اور پاکستان کو پیغام دینا کہ وہ پاکستان کے اندر بھی آپریشن کر سکتا ہے ان حالات میں آرمی چیف کا دورئہ روس انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دنیا بھر میں نئی صف بندی ہو رہی ہے۔ امریکہ روس اور چین کو چیلنج کر رہا ہے، عالمی جنگ کا خطرہ بڑھتا ہی جا رہا ہے کیونکہ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ اسکی ملٹری طاقت اس قدر زیادہ ہے کہ دنیا کے تمام ممالک بھی مل کر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لئے کہ امریکی معیشت جنگی معیشت ہے، یتھیار بنانے اور بیچنے کیلئے اس لئے اسرائیل لابی اور ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس امریکہ کو ہر وقت حالت جنگ میں رکھتے ہیں یا دنیا بھر میں کہیں نہ کہیں جنگ کو فروغ دینے میں اپنی توانائیاں خرچ کرتے ہیں۔ امریکہ نے روس کو زچ کر کے رکھا ہوا ہے۔

روس امریکہ کو یہ احساس کرا چکا ہے کہ وہ اس پوزیشن میں ہے کہ امریکی مفادات کو نقصان پہنچائے۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ نے یورپ کو اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور اسے روس سے ڈرا کر اپنے ساتھ غلاموں کی طرح رکھتا گروپ بن کر رہ گیا ہے۔ بھارت کے مودی کو اقتدار G-7 سے نکال دیا ہے اور اب امریکہ نے روس کو G-8 میں لانے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا اور اب وہ اسے استعمال کر رہا ہے کہ چین پاکستان معاشی کاریڈور نہ بنے اسی صورت حال میں روس بھارت سے قدرے مایوس ہوا اور اس نے پاکستان سے تعلق بڑھانے کا اصولی فیصلہ کیا۔ پاکستان کو روس کے اسلحے کی ضرورت ہے، اسے منجمد کرنے والے آلات چاہئیں تاکہ دشمن ہماری گاڑیوں یا قافلوں پر حملہ کرنے کا اہل ہیلی کاپٹر ہماری استعمال میں MI-17 نہ رہے، اسکے علاوہ سخوئی 40 طیارہ ہمارے لئے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔

ہیلی کاپٹر کی بھی ضرورت ہے۔ روس ہمیں یہ سامان حرب پاکستانی کرنسی میں فروخت کر سکتا ہے۔ بہر حال اگر MI-35 ہے روس ، چین ، افغانستان ، ایران اور پاکستان آپس میں جڑ جاتے ہیں یہ بھی بہت بڑی بات ہوگی۔ ایک عرصے سے روس پاکستان کو سگنل دے رہا ہے کہ وہ پاکستان کے قریب آنا چاہتا ہے اور پاکستان بھی تین سال سے مثبت جواب دے رہا ہے۔ ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستان روس سے تعلقات بڑھائے ، اسکی اہمیت کو سمجھے ، معروضی حالات میں نئی صف بندی میں امریکہ نے پاکستان کو اپنی صفوں سے نکال دیا ہے۔ ایسی صورت حال میں آرمی چیف کا دورئہ روس پاک روس تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ امید ہے کہ پاکستان اور روس کئی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑیں گے۔ 8-10 جولائی کو یوفا میں شنگھائی کارپوریشن اور برکس کا اجلاس ہو رہا ہے، پاکستان اس میں بطور ایک مبصر کے شریک ہوگا جو ایک اچھا خبر ہے کیونکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے یوفا کانفرنس میں شرکت کرنے کا عندیہ دیدیا ہے، یہ دورہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یوکرائن بحران کے بعد سے عالمی سیاست میں بھونچال آیا ہوا ہے۔ یہ روس کی بقا کا مسئلہ بن گی اہے اور یہ بھونچال امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے کیلئے تیاری کر رہا ہے اور یک قبطی دنیا کئی قبطی دنیا بنانے جا رہا ہے۔ پاکستان کی اہمیت بڑھتی چلی جا رہی ہے جبکہ بھارت امریکہ سے جڑ کر امریکہ کا آلہ کار بن رہا ہے۔ اس کانفرنس میں اس بات کا امکان ہے کہ پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل ممبر بنا لیا جائے جس میں بھارت کو شامل کرنے کی وجہ سے ہماری رکنیت رکی ہوئی تھی کیونکہ دونوں ممالک کو ایک ساتھ ممبر بنانے کا فیصلہ کیا جانا تھا جبکہ اب بھارت نے امریکہ سے فوجی اتحاد کر لیا ہے اس لئے وہ اب شاید شنگھائی تعاون تنظیم کا ممبر نہیں بننا چاہے گا۔ اسکے علاوہ اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ پاکستان کو برکس کا ممبر بنانے کی ابتدائی تیاری کی جائے۔ اس کانفرنس سے پہلے آرمی چیف کا دورہ بہت سے معاملات کو درست سمت میں لے جائے گا۔

جنرل راحیل شریف کو اس دورے میں بہت اہمیت دی گئی ، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور ساتھ ساتھ فوجی وفود کے تبادلے کی بات ہوئی۔ عالمی سطح پر اس دورے کو انتہائی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے اور حساب لگایا جا رہا ہے کہ آیا یہ پاکستان کے ساتھ بدلتے ہوئے حالات میں ایک مضبوط دوستی کی طرف قدم ہے یاپھر بھارت کو پیغام دینا مقصود ہے کہ ہم اپنے بھارت کو دیئے گئے سارے ہتھیاروں کا توڑ پاکستان کو دے سکتے ہیں۔ اگر بھارت نے روس سے دوبارع رجوع نہ کیا۔ اسی لئے مغرب کے تجزیہ کار کہتے ہیں پہلے بھی ولادمیر پوٹن پاکستان کے دورے کا اشارہ دے کر پاکستان نہیں آئے تھے اور انہوں نے بھارت سے وہ کچھ حاصل کر لیا جو روس اس سے چاہتا تھا مگر حالات قدرے مختلف ہیں، بھارت امریکہ سے جڑ گیا ہے۔

بھارت کے پاس موجود روسی ہتھیار فرسودہ اور جدید دور کے تقاضےپورے نہیں کرتے۔ اس لئے بھارت کی دلچسپی اس اسلحے کے اسپئیر پارٹس کی حصول کی حد تک ہے، وہ تجارت بھی تقریبا ایک بلین ڈالر سالانہ ہے مگر امریکہ یہ چاہے گا کہ وہ روسی اسلحہ سے چھٹکارا حاصل کرے اور مغرب سے اسلحہ خریدے جیسے بھارت نے فرانس سے رافیل نامی طیار؁ خریدے اور روس سے سخوئی طیارے کو رد کر دیییا۔ ماسکو میں پاکستان کے آرمی چیف کو دفاعی نمائش میں روسی ہتھیاروں سے آشنا کرایا گیا جو جدید ہیں اور بعض امریکی و یورپی ٹیکنالوجی پر حاوی ہیں۔ اس دورے میں انہوں نے روسی فوجی سربراہ کے علاوہ کئی اہم شخصیات سے بھی ملاقات کی جن میں پارلیمنٹ جو روس میں ڈوما کہلاتی ہے کے چیئرمین سرگی نریشکن سے ملاقات بھی شامل ہے اور خطے میں سیاسی و اسٹریٹیجک ساتھ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ روس کو جنوبی ایشیا میں دوستوں کی ضرورت ہے اس نے اب تک شمالی کوریا، ایران، چین اور اب پاکستان کو دوست بنانے کی طرف سنجیدہ پیش رفت کی ہے، پاکستان نے اس کو خوش آمدید کہا ہے۔ روس خائف ہے کہ امریکہ پھر سے طالبان کو استعمال کر کے پورے سینٹرل ایشیا کو غیر مستحکم نہ کر دے۔

یہ منصوبہ واشنگٹن میں کئی عرصے سے زیر غور ہے۔ اب اس پر کام ضرور ہوتا نظر آتا ہے مگر پاکستان اس دفعہ اب امریکہ کے جال میں پھنسنے والا نہیں ، اس نے اپنی خارجہ امور کی پالیسی متعین کرنے کا آلہ بنا لیا ہے۔ پاکستان نے پچھلے تین سالوں میں روس کی عالمی اداروں میں حمایت کی ہے، اسکے باوجود روسیوں کا خیال ہے کہ پاکستان ایک چھوٹا ملک ہے اور اسکی بیوروکریسی مغرب کے بہت قریب ہے اس لئے انکو پاکستان سے مکمل طور پر جڑنے میں قدرے ہچکچاہٹ ہے مگر ہمارے خیال میں بھارت امریکہ دفاعی معاملے نے معاملہ صاف کر دیا ہے، بھارت امریکہ کی طرف جھگ گیا ہے ۔ پاکستان کو بھی نئے دوستوں کی تلاش ہے اسی وجہ سے پاکستان اور روس مشترکہ ملٹری مشق کیلئے راضی ہو گئے ہیں۔ تربیت کے سلسلے میں بھی اتفاق ہے۔ مغرب اسکو پاکستان کی مغرب سے بہت سرد تبدیلی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کو پاک چین معاشی کاریڈور کے سلسلے میں روس کی حمایت درکار ہے ، وہ ہر حال میں اسکو مکمل کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت امریکہ و مغرب کے تمام منصوبوں کو ناکام بنانا چاہتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ آرمی چیف کے دورئہ روس کے موقع پر سابق صدر آصف علی زرداری کا فوج کے خلاف طبل جنگ امریکہ میں موجود اور امریکیوں سے رابطے میں رہنے والے امریکی شہری کے مشورہ پر دیا گیا جو امریکی و بھارتی مفاد کو مدد کرتا نظر آ رہا ہے۔ ایسے جیسے کسی نے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہو۔ کرپشن کی دہشتگردی کھلے عام جاری ہے۔ پاکستان کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔ اگر اس پر فوج کوئی کارروائی کرتی ہے تو بلیک میل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جسے پاکستانی عوام ناکام بنا دیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.