.

طوطے

مطیع اللہ جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قدرت اور فطرت کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے لئے ایک فلسفی نے جنگل کا رخ کیا ۔ کیا دیکھتا ہے کہ بہت سارے طوطے شکاری کی پھرکی میں الٹا لٹکے آ ٓزادی کے لئے پھڑپھڑا رہے تھے ،رحم دل فلسفی نے سوچا کہ ان طوطوں کو تھوڑی سی تربیت کے ساتھ اس بات پر مائل کیا جا سکتا ہے کہ وہ کبھی شکاری کی پھرکی یا جال کے قریب بھی نہ جائیں۔ سلائی مشین کی پھرکی کی مانند شکاری کی پھرکیاں ملائم ڈوری پر یوں پروئی ہوتی ہیں کہ جونہی طوطا ان پر بیٹھتا ہے تو وہ اپنے وزن پر پھرکی کے ساتھ گھوم کر الٹا لٹک جاتا ہے ۔ ایسے میں اس کے پنجے فطری طور پر اس پھرکی کو جھکڑ لیتے ہیں اور طوطا خود اعتمادی کی کمی کے باعث الٹا لٹک جاتا ہے، بجائے اس کے کہ پھرکی کو چھوڑ کر پھر سے اڑ جائے۔

الٹا لٹکے ان طوطوں کو شکاری ایک ایک کر کے اپنے تھیلے میں ڈال کر قید کر لیتا ہے ،بہرحال نرم دل فلاسفر نے سوچا کہ ان طوطوں کو کچھ عرصہ سبق پڑھایا جائے کہ” ہم شکاری کی پھرکی پر نہیں بیٹھیں گے اور اگر بیٹھیں گے بھی تو پھر سے اڑ جائیں گے“۔اس تربیتی و تعلیمی نصاب پر عملدرآمد کے لئے شکاری نے اپنے سامنے پھرکیوں میں الٹے لٹکے تمام طوطوں کو پکڑ کر اپنے تھیلے میں ڈالا اور انکو کئی ماہ تک آزادی کا یہ نصاب پڑھایا ”کہ ہم شکاری کی پھرکی پر نہیں بیٹھیں گے اور اگر بیٹھیں گے بھی تو پھر سے اڑ جائیں گے “۔ فلسفی نے دیکھا کہ اس کے زیر تربیت طوطوں نے یہ سبق بہت اچھی طرح یاد کر لیا ہے تو اس نے اپنے کام پر بہت فخر محسوس کیا ۔ اور پھر ان طوطوں کی تعلیم و تربیت کے امتحان کا دن آگیا ۔ فلسفی نے انہیں جنگل میں آزاد چھوڑ دیا اور سوچا کہ اب یہ تربیت یافتہ طوطے جنگل کے دوسرے طوطوں کو بھی آزادی کا یہ پیغام و سبق پہنچائیں گے ۔ آزاد اور تربیت یافتہ طوطے ایک غول کی صورت پرواز پر گئے تو پر تجسس فلسفی انکے پیچھے پیچھے چل پڑا ۔

کچھ دور جا کر اچانک اسے اپنے طوطوں کی باجماعت و باآواز بلند آوازیں آنا شروع ہو گئی ۔ وہ سب کسی کونے سے ایک ہی آواز میں بول رہے تھے کہ” ہم شکاری کی پھرکی پر نہیں بیٹھیں گے اور اگر بیٹھیں گے بھی تو پھر سے اڑ جائیں گے“ ۔ یہ سب سن کے فلسفی کا سر فخر سے بلند ہو گیا ۔ اس سر بلند فلسفی کی نگاہ جب ایک درخت پر پڑی تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کے تمام تربیت یافتہ طوطے شکاری کی پھرکیوں پر الٹے لٹکے اس کا یاد کرایا ہوا سبق دھرا رہے تھے کہ ”ہم شکاری کی پھرکی پر نہیں بیٹھیں گے اور اگربیٹھیں گے بھی تو پھر سے اڑ جائیں گے“ فلسفی کے دیکھتے ہی دیکھتے قریب ہی منتظر شکاری نے ان طوطوں کو اپنے تھیلے میں سمیٹا اور مسکراتا ہوا چلتا بنا ۔ ہمارے سیاستدان بھی ان طوطوں سے مختلف نہیں یہ لوگ جمہوریت کا سبق طوطے کی طرح دہراتے ہیں مگر پھر آمریت کی پھرکی پر الٹا لٹک کر بھی جمہوریت کی ٹائیں ٹائیں جاری رکھتے ہیں ۔ملکی سیاست و تاریخ کے پڑھائے ہوئے تلخ سبق طوطے کی مانند دوہراتے رہتے ہیں مگرا ٓمریت کی پھرکی پر الٹا لٹک کر یہ سیدھے کو الٹا اورالٹے کو سیدھا دیکھنے کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ عام ٹہنی پر بھی الٹا لٹکنا مشغلہ بنا لیا ہے۔

آصف علی زرداری ، محمد نواز شریف، عمران خان ۔ چوہدری شجاعت حسین اور دیگر چند سیاستدان جمہوریت کا راگ توہمیشہ سے الاپ رہے ہیں۔ مگر جب بھی موقع ملتا ہے تو بڑے شوق سے شکاری کی پھرکی پر جا لٹکتے ہیں ۔ آصف علی زرداری کی تقریر سن کر ان کا سیاسی کھوکھلا پن عیاں ہوتا ہے۔ جس شخص نے محض اپنی مدت حکومت مکمل کرنے کی خاطر فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں تین سے چھ سال کر دی وہ کس منہ سے یہ بات کرتا ہے کہ ”آپ تین سال کے لئے آتے ہیں اور ہم ہمیشہ کے لئے“۔اور وہی شخص جو ملک کی دو مرتبہ منتخب وزیر اعظم ، پارٹی کی سربراہ اور اپنے بچوں کی ماں کے قتل کی تحقیقات اور ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کو فوج سے سودا بازی کے لئے استعمال کرتا ہے وہ کس منہ سے خیبر تا کراچی سڑکیں بند کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

یہ شخص آخر کس جرات کے ساتھ جرنیلوں کی کوئی فہرست سامنے لانے کی بات کرتا ہے جس نام نہاد فہرست کو وہ آج تک ایک معمولی بلیک میلر کی طرح جیب میں لئے پھرتا رہا اور بطور سربراہ حکمران جماعت اس فہرست پر کبھی کوئی کارروائی نہ کی ۔آمریت کی پھرکی پر الٹے لٹکے اس طوطے کی جمہوری ٹائیں ٹائیں پر اب کون یقین کرے گا، یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پیپلز پارٹی کو آج تک جنرل ضیاالحق کے بعد کسی نے اگر نقصان پہنچایا ہے تو سرخ، سبزاور کالے رنگوںکا ہی طوطا ہے جسے اپنے سیاسی کردار سے زیادہ اپنی کردار کشی پر اعتراض ہے۔آمریت کی پھرکی پر الٹا لٹکا ایک اور طوطا بھی ہے جو جمہوریت کی ٹائیں ٹائیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ موجودہ پیپلز پارٹی کی جمہوریت سے متعلق سیاسی منافقت اپنی جگہ مگر یہ طوطا بھی آمریت کی پھرکی پر الٹا لٹکا سب کچھ سیدھا دیکھ رہا ہے۔

بقول مسلم لیگ ن کے طوطوں کے پنجاب میں دہشت گرد ہیں نہ ہی ان کی مالی اعانت کر نے والے ۔ رہی سہی کسر تو پارلیمنٹ کے تربیت یافتہ طوطوں نے نکال دی ہے۔غول کے غول ان طوطوں نے فوجی عدالتوں کی پھرکیوں پر بیٹھ کر جمہوریت اورا ٓزادی کا وہی فلسفہ دہرایا اور پھر سے اڑ جانے کا اعادہ کیا۔ ایک طوطے نے تو الٹا لٹک کر آنسو بھی بہائے ۔آئین میں ترمیم کے زریعے فوجی عدالتوں کا قیام ویسے ہی ہے کہ کوئی شخص اپنی گاڑی کا انجن اور چیسئز( لوہے کا بنیادی ڈھانچہ) تبدیل کر دے اور گاڑی کے کاغذات میں پرانی نمبر پلیٹ سمیت کوئی تبدیلی نہ کرے ۔ اب ہمارے آئین اور قانون کے فلاسفر یہ سوچ رہے ہیں کہ آیا ہم بحیثیت قوم آمریت کی پھرکی پر الٹے لٹکے ہیں یا نہیں ۔ بات فوجی عدالتوں سے بہت آگے نکل گئی ہے ، ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ہاتھوں کے طوطے حکومت کے ہاتھوں کے طوطے ایک ایک کرکے اڑتے جا رہے ہےں ، عدلیہ کو ناکام قرار دے کر فوجی عدالتیں بنانے پر آئےنی اعتراضات بحث سے معامالہ آگے بڑھتاجا رہاہے ، عدلےہ کو ناکام قراد دے کر فوجی عدالتیں بنانے پر آئے نی اعتراضات و بحث سے معاملہ آگے بڑھ گیا ہے، دہشت گردی ہی نہیں بلکہ دہشت گردوں کو مالی امداد کے نام پر اب بدعنوانی کی تحقیقات بھی رینجرز کے دائرہ کا ر میں آ گئی ہیں، ایف آئی اے اور نےب جے سے تحقیقاتی ادارے او ر سب سے بڑھ کر وزارت داخلہ کا ےتیم ادارہ کاﺅنٹر ٹیرارزم اتھارٹی ان کی نااہلی اور کمزور دلی نہ صرف بے نقاب ہوئی ہے بلکہ اس حوالے سے وفاقی حکومت کے اختیارات و اوقات کی قلعی بھی کھل گئی ہے۔

نوبت یہاں تک پہنچ کئی ہے کہ دفاعی ماہرین (ریٹائیر فوجی افسران )بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناکامیوں کا تمغہ منتخب حکمرانوںکے بجائے عسکری قیادت کے سینے پے لگا رہے ہیں ۔ کچھ ذکر اےک نئے سےاسی طوطے کا بھی جو اصل عوامی مینڈیٹ کا سب سے زیادہ شور کرتا ہے ، مگر جب شکاری ( ایمپائر) سے ملاقات کا ٹائم مل جائے تو پھر سے پھرکی پر لٹک جا تا ہے ، پا پھر پشاور آرمی سکول کے سانحے کے بعد عوامی مینڈیٹ اور طاقت کو آزمانے سے بھی کتراتا ہے،اس صورتحال میں عوام کیا کریں ؟جس پرندے کو بھی پنجر ے سے آزاد کرواکر اڑاتے ہیں وہ کچھ دور جا کر بیٹھ جاتا ہے اور پھر معلوم ہوتاہے کہ تمام اسیر پرندوں کے پر تو کٹے ہیں ، ےہ صےاد سے مانوس طوطے اپنی کاہلی کے باعث صےاد کے دانے دنکے کے ہی عادی ہو چکے ہیں اور اپنا سبق دہراتے رہتے ہیں ،” ہم شکاری کی پھرکی پر نہیں بےٹھیں گے اور اگر بےٹھیں گے بھی تو پھر سے اڑ سے جائےں گے “۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.