.

سلیمان ڈیمرل کا اختتامِ سفر

فرخ سہیل گوئندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سلیمان ڈیمرل جن کا پورا نام سلیمان گُندودو ڈیمرل تھا، پانچ روز قبل 17جون کو 91 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وہ پانچ مرتبہ ترکی کے وزیراعظم بنے اور 1993ء سے 2000ء تک ترکی کی صدارت کے عہدے پر فائز رہے۔ سلیمان ڈیمرل نے نصف صدی سے زائد عرصے تک ترکی کی سیاست میں بھرپور کردارادا کیا۔ انہوں نے عصمت اِنونو اور طیب اردوآن کے بعد طویل مدت تک وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ وہ ترکی کے صوبے اسپارٹا کے گاؤں اسلام کوئے میں پیداہوئے۔ سلیمان ڈیمرل نے ترکی کے سماج میں تین انقلابات و تغیرات کو اپنی آنکھوں کے سامنے رونما ہوتے دیکھا۔ وہ عثمانی سلطنت کے زوال کے بعد جنگ آزادی اور انقلاب کے دنوں میں یکم نومبر 1924ء کو پیدا ہوئے۔

اس طرح انہوں نے عثمانی دَور سے جمہوری دَور میں Transition میں آنکھ کھولی۔ وہ ترکی کے ان سیاست دانوں میں آخری رہنما تھے جنہوں نے سماج کے اندر اُس عمل کو اپنی آنکھ سے دیکھا، جس نے ترک سماج کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی رویوں میں انقلاب برپا کر دیا۔ پچاس کی دہائی میں جدید ترکی نے ایک اور تغیر کاسامنا کیا، جس میں شدت پسند سیکولر رویوں کے خلاف نئی سیاسی حقیقت عدنان میندرس کی قیادت میں اُبھری۔ عدنان میندرس کی ڈیمو کریٹک پارٹی ماضی کے جاگیرداروں اور بڑے بینکاروں کی قیادت میں ابھرنے والی اہم سیاسی جماعت تھی۔ عدنان میندرس خود بھی ترکی کی روایتی اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے ڈیمو کریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم سے جمہوری خلق پارٹی کے قائد عصمت اِنونو کو انقلابِ ترکی کے بعد چیلنج کرکے ترکی کی جدید تاریخ میں ایک نئے دَور کا آغاز کیا۔ عدنان میندریس نے اپنے سیاسی ایجنڈے کے ذریعے جہاں شدت پسند سیکولر قوانین اور اصلاحات کو چیلنج کیا، وہیں انہوں نے اپنے عمل سے عالمی مالیاتی اداروں کی طرف مراجعت پر زور دیا۔ اس کشمکش میں ترکی کے روایتی قوم پرستوں اور نئے دائیں بازو کے مابین تصادم نے جنم لیا جس کے نتیجے میں عدنان میندریس کو یاسی اڈہ کے جزیرے میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنا کر ان کو سولی پر جھولا دیا۔

عدنان میندرس کے حریف عصمت اِنونو نے اس اقدام کی سخت مخالفت کی اور وہ عدنان میندرس کی رحم کی اپیل لے کر جنرل جمال گرسل کے پاس خود گئے۔ پاکستان سے عدنان میندرس کے لیے رحم کی اپیل ذوالفقار علی بھٹو لے کر انقرہ گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جمال گرسل کو عدنان میندریس کی رحم کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عدنان میندرس کی پھانسی ترکی کے لیے ایسے مسائل پیدا کرے گی جس کے اثرات دہائیوں تک رہیں گے، جبکہ جمال گرسل نے ذوالفقار علی بھٹو سے کہا، ’’عدنان میندریس کی پھانسی ترکی کے مسائل کا حل ہے۔‘‘ اور اسی طرح سلیمان ڈیمرل نے کہا کہ ’’عدنان میندریس کو سزائے موت ترکی کے لیے اگلے پچاس سال مسائل کا سبب بنے گی۔‘‘

سلیمان ڈیمرل نے ترکی کے اس سیاسی بحرانی دور میں اپنی عملی سیاسی زندگی کاآغاز کیا۔ یہ تغیر ترکی کی جدید سیاسی تاریخ کا دوسرا تغیر تھا۔ عدنان میندرس نے انہی دنوں سلیمان ڈیمرل کی ترکی کے مستقبل کا وزیراعظم ہونے کی خواہش کی۔ سلیمان ڈیمرل، عدنان میندرس کی ڈیموکریٹک پارٹی کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن تھے۔ اس کے بعد انہوں نے جسٹس پارٹی تشکیل دی۔ ان کی قیادت کا ایک دلچسپ اور یادگار پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے 1964ء میں عصمت اِنونو کو اقتدار سے محروم کرکے لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ اس وقت وہ رکن پارلیمنٹ بھی نہیں تھے۔ 1965ء میں جسٹس پارٹی انتخابات میں ایک بڑی پارٹی کے طورپر ابھر کر سامنے آئی اور یوں جسٹس پارٹی کو عدنان میندرس کی ڈیمو کریٹک پارٹی کے سیاسی تسلسل کے حوالے سے ہی دیکھا گیا اور وہ 1965ء میں جنرل جمال گرسل کی صدارت کے دوران وزارتِ عظمیٰ کا قلمدان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ پچاس سے ساٹھ کی دہائی کے سیاسی تغیرات نے سلیمان ڈیمرل کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ سیکولر شدت پسندی اور دائیں بازو کی رجعت پسندی کے تصادم کے بعد ترکی کی سیاست میں اب ٹھہراؤ آیا۔ ساٹھ کی دہائی کے بعد سلیمان ڈیمرل، ترکی کے دائیں بازو کے لبرل رہنما اور ایک کرشمہ ساز شخصیت کے طور پر اپنا آپ منوانے میں کامیاب ہوئے۔ 1971ء میں سلمان ڈیمرل فوجی آمریت کے سبب اقتدار سے محروم ہوئے۔ 1971ء میں انہوں نے چار جماعتی اتحاد کے تحت قوم پرست اتحاد کے نام سے حکومت تشکیل دی۔ ستر سے اسّی کی دہائی کے اوائل تک ترکی رجعت پسند دائیں اوربائیں بازو کی سیاست کے تصادم کا شکار رہا۔

عدنان میندرس کی سیاست کے بطن سے جنم لینے والا سیاسی دھارا اب دائیں بازو کے لبرل ایجنڈے کے ساتھ ترکی کی سیاست میں بھرپور کردارادا کر رہا تھا توبلندایجوت کی قیادت میں سیکولر شدت پسندی، سوشلسٹ اور جمہوری سیاسی روایات میں بدل گئیں۔ بلندایجوت نے 1971ء کی فوجی آمریت میں اس وقت اتاترک کی قیادت میں قائم جمہوری خلق پارٹی کی سیکریٹری جنرل شپ سے استعفیٰ دے دیا جب عصمت اِنونو نے بحیثیت چیئرمین جمہوری خلق پارٹی، فوجی آمریت کو خوش آمدید کہا۔ اپنے استعفے کے بعد بلندایجوت، ترکی سیاست میں ایک کرشمہ ساز بائیں بازو کے رہنما کے طور پر ابھرے۔ ان کے کریڈٹ میں ترکی کی سیاست میں سب سے فیصلہ کن کردار یہ ہے کہ انہوں نے ترکی کو ایک سوشل ڈیمو کریسی کے ذریعے ایک سوشل سٹیٹ میں بدل دیا جس کی تاحال ترکی کی تمام سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی انداز میں پیروی کرنے پر مجبور ہیں۔ بلندایجوت کو ترکی میں اتاترک ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے جمہوری خلق پارٹی کو تنگ نظر قوم پرست نظریات سے نکال کر ترقی پسند نظریات میں Transform کیا اور عصمت اِنونو اس کے بعد عملی سیاست سے ریٹائرڈ ہوگئے۔

ستر اور اسّی کی دہائی ترکی میں بلندایجوت اورسلیمان ڈیمرل کی سیاست سے عبارت ہے، اس سیاست کے بڑے دلچسپ پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ دونوں قائدین گہرے دوست بھی تھے اور ایک دوسرے کے حریف بھی۔ اس دوران ڈیمرل اور ایجوت حکومتیں بنتی اورگرتی رہیں اور پھر 12ستمبر 1980ء کو جنرل کنعان ایورن نے ترکی میں مارشل لاء لگا کرگزشتہ آئین کو منسوخ کر دیا اور ترگت اوزال کو ترکی کی سیاست میں متعارف کروا دیا۔ 1982ء میں ترکی میں نیا آئین تشکیل دیا گیا جو ابھی تک لاگو ہے۔ اس میں سلیمان ڈیمرل اوربلندایجوت پر ہر طرح سے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی۔ 1987ء میں ترک پارلیمنٹ نے دو اہم اقدامات کیے، ایک یہ کہ پارلیمنٹ نے متفقہ قرارداد منظور کرکے عدنان میندرس کی پھانسی کوترک سیاست کاسیاہ دھبہ قرار دیا اور کہا کہ اب ہمیں اس منحوس اقدام کو اپنی نفرتوں سے مٹا دینا چاہیے۔ اس قرارداد کے تحت عدنٰان میندرس کے تابوت کو قبر کشائی کے بعد سرکاری اعزاز سے استنبول میں دفنایا گیا۔ ترکی کی تینوں افواج کے سربراہوں نے عدنان میندرس کے تابوت کو کندھا دیا اور صدرترگت اوزال نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں اس مخصوص دن کو تاریخ کی نفرتوں سے مٹا دینا ہوگا‘‘ اور اسی طرح عوامی ریفرنڈم نے آئین کے تحت بلندایجوت اورسلمان ڈیمرل پر سیاست میں پابندی کا فیصلہ منسوخ کر دیا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.