.

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کے جہاں

ڈاکٹر عارفہ صبح خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آواگون کا نظریہ ہر قوم پر لاگو نہیں ہوتا بلکہ ہندو بھی خوش فہمی کی بھول بھلیوں میں ایسے نظریات تخلیق کر بیٹھے ہیں کہ جی انسان کے سات جنم ہوتے ہیں یا انسان مرنے کے بعد ستارہ بن جاتا ہے۔ چلو ایک لمحہ کو مان لیا کہ اچھا انسان مرنے کے بعد ’’ستارہ‘‘ بن گیا لیکن جو شیطان نما، سفاک اور ظالم آدمی ہے۔ وہ مرنے کے بعد کیا بنتا ہے۔ اس پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں نیک کم اور بد زیادہ ہیں لیکن آسمان تو ستاروں سے بھرا پڑا ہے۔ حقائق، سائنس، علم و دانش اور دین سے ثابت ہوچکا ہے کہ انسان دنیا میں صرف ایک مرتبہ آتا ہے جس میں آدمی زندگی کے پانچ ایکٹ کا ڈرامہ کرکے چلا جاتا ہے جو ایک دفعہ مرگیا وہ پھر کبھی پلٹ کر نہیں آیا۔ ہمارے حکمرانوں کو دیکھیں کہ انکے دل بھی پتھر کے ہیں۔ انکے اعصاب بھی پتھر کے اور انکے دماغ بھی پتھر کے ہیں۔ حکومت ملتے ہی خود کو خدا سمجھ بیٹھتے ہیں۔

لوڈشیڈنگ پر بات کرنا بیکار ہے۔ حکومت اس حوالے سے اس قدر ناکام اور بدنام ہے کہ مُنی بھی اتنی بدنام نہ ہوگی۔ روزانہ نئے نئے معاہدوں پر آٹوگراف دیتے اور لیتے ہیں مگرنتیجہ وہی زیرو کا زیرو۔ ابتک لوڈ شیڈنگ دور کرنے کے نام پر درجنوں یا خدا جھوٹ نہ بلوائے تو سینکڑوں تفریحی دورے عمل میں آچکے ہیں لیکن کہیں سے بجلی کی کمک نہیں آئی۔ البتہ غیر ملکی دوروں کے نام پر سیروسیاحت، فوٹو سیشن، پروجیکشن، پی آر شپ اور ذاتی معاہدے ضرور ہوئے ہیں۔ رمضان اور شدید گرمی کے اس عالم میں لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ اسکے ساتھ عوامی سطح پر بددعائوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ لوڈشیڈنگ، پٹرول تیل ، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عوام کا مقدر بنا دیا گیا ہے۔ رمضان بازاروں کی کارکردگی دیکھنے کیلئے وزیراعلیٰ اور انکے وزراء ، ہمنوا نیز پسندیدہ، قصیدہ خوان صحافی ہیلی کاپٹروں میں سیریں کرتے اور وڈیو بنوا کر روزانہ لاکھوں کروڑوں کا ٹیکہ قومی خزانے کو لگا دیتے ہیں۔

لوڈشیڈنگ بھی آئوٹ آف کنٹرول ہے۔ مہنگائی بھی قابو کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں اور بیروزگاری کا خاتمہ بھی حکومت کیلئے ناممکن بات ہے لیکن کیا امن وامان قائم کرنا بھی حکومت پنجاب کے اختیار میں نہیں؟ وزیراعلیٰ پنجاب کے لاڈلے چہیتے، ہونہار وزیر قانون رانا ثناء اللہ دوبارہ قانون کی باگ ڈور سنبھال چکے ہیں لیکن پاکستان کے دیگر علاقوں کے علاوہ لاہور سے بھی امن وامان کا خاتمہ ہوچکا ہے۔میری بہن سعودیہ سے آئی ہوئی ہے جہاں وہ سونا پہن کر آرام سے حرم آتی جاتی ہے۔ چند سال پہلے جب اُس کی شادی ہوئی تو وہ جوس کارنر سے باہر نکلی تھی کہ دو موٹرسائیکل سواروں نے گن پوائنٹ پر اُسکے پرس سے ریال، موبائل اور اسکا 20 تولہ سونا اُتروالیا۔ میری بہن نے سارا زیور اتار کر دیدیا مگر اپنے پانچ تولے کے کنگن دینے سے انکار کردیا کیونکہ وہ میرے بہنوئی نے اُسے منہ دکھائی میں دئیے تھے۔ اتنے میں لوگ اکٹھے ہونے لگے اور موٹرسائیکل سوار ڈر کربھاگ گئے۔

پولیس میں رپورٹ کرائی کہ سولہ لاکھ کی دن دیہاڑے ڈکیتی ہوئی ہے مگر پولیس ٹس سے مَس نہ ہوئی۔ اب ٹھیک سات سال بعد یکم رمضان کو میری بہن رحیم سٹور سے رمضان پیکٹ بنوا کر ضرورتمندوں میں تقسیم کرکے گھر آرہی تھی تو دو موٹرسائیکلوں پر چار لڑکوں نے موزر میری بہن اور بھانجی پر تان لئے۔ میری بہن نے کڑک کر کہا کہ اپنے موزر نیچے کرو۔ تمہارے نصیب میں بددعائوں والا رزق ہی لکھا ہے۔ جیسے ہی انہوں نے میری بہن کے ہاتھ سے چوڑیاں اتارنے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو میری بہن جس کی آواز بہت نرم اور میٹھی ہے۔ ایک دم آگ بگولہ ہوکر اُس نے چوڑیاں انکی طرف حقارت سے پھینک دیں اور باقی بھی سارا زیور اسکے منہ پر دے مارا۔ ایک ڈکیت نے میری بہن پر فائر کھولا مگر میری بہن اتفاق سے اُسی وقت مڑی اور گولی اسکے ساتھی کو لگ گئی۔ جس سے وہ ڈر کر زخمی ساتھی کو لیکر بھاگ گئے۔ ملاحظہ کیجئے کہ اتنا کچھ ہوگیا اور نکڑ پر بیٹھی پولیس سوتی رہی۔ میری دوسری بہن جب ناروے سے آتی ہے تو اپنا تمام زیور لاکر میں رکھ آتی ہے۔

یہاں آکر وہ معمولی لباس، معمولی پرس اور معمولی جوتے استعمال کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ میں نے دنیا کے کسی کونے میں اتنی لاقانونیت نہیں دیکھی جتنی پنجاب میںہے۔ وہ سو سے زیادہ ملکوں میں جاچکی ہے اور ہر جگہ ویل ڈریسڈ رہتی ہے لیکن پاکستان آکر وہ بہت اپ سیٹ ہوجاتی ہے۔ وہ یہیں پیدا ہوئی، اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ایم ایس سی کیمسٹری جی سی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل لیا اور یہاںایک معمولی لیکچرر لگ گئی۔ شادی ہوئی، بیٹا ہوا لیکن یہاں اسکے علم کی قدر نہ کی گئی۔ اُسے ناروے اور بلجیئم یونیورسٹی نے آفر کی۔ اس نے پٹرولیم مصنوعات پر ریسرچ شروع کی۔ ساتھ ہی اُس نے ناروے جیوڈیشری کا امتحان پاس کیا اور جج لگ گئی۔ آج ناروے کے کئی وزیر اس کے قریبی دوست ہیں۔ اس کا بیٹا امریکہ سے انجینئرنگ کررہا ہے۔ ہم اُسے کہتے ہیں کہ پاکستان واپس آجائو تو وہ کان پکڑتی ہے۔ اُسے ناروے کی شہریت بہت عزت و احترام سے دی گئی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ میں جنت چھوڑ کر جہنم میں کیوں آئوں؟ میری دوسری بہن جو سعودی عرب میں حرم کے عین سامنے مدینہ منورہ میں رہتی ہے۔

وہ جب حرم میں نماز ادا کرتی ہے تو اکثر اپنا زیور موبائل ریال اور پرس آرام سے رکھ کر نماز اور عبادات کرتی ہے اور یہاں یہ حال ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے معصوم بے گناہ نمازیوںپر گولیاں برسا دی جاتی ہیں۔ دن دیہاڑے ڈکیت آجاتے ہیں۔ گھر سے باہر نکلیں تو ہر وقت خوف ستاتا ہے کہ باہر کوئی سانحہ نہ ہوجائے۔ حکومت لوڈشیڈنگ کم نہیں کرسکتی۔ مہنگائی دور نہیں کرسکتی۔ بیروزگاری کا خاتمہ نہیں کرسکتی۔ امن وامان قائم نہیں کرسکتی تو آخر کیا کرسکتی ہے؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.