.

کیا زرداری صاحب ابھی باقی ہیں؟

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوں لگا جیسے کسی بھلے چنگے خوش مزاج بندے کو کسی سخت زہریلی قسم کی بھڑ نے ایسے کاٹا ہے کہ اس کا ضبط کا ہر ٹانکا ٹوٹ گیا ہے اور وہ مضروب بندہ بے ساختہ چیخنے چلانے لگ گیا ہے ایسے کہ آسمان سر پر اٹھا لیا ہے اور غیض و غضب یعنی غصے کے اس عالم میں دائیں بائیں آگے پیچھے ہر ایک کو مارنے کو دوڑا ہے اور خوف و ہراس پھیلانے کا جو لفظ بھی ذہن میں آیا ہے اسے بآواز بلند اپنے گردوپیش میں بانٹتا گیا ہے۔

سننے دیکھنے والوں کو یوں لگا جیسے کوئی دیوانہ ان کی محفل میں گھس آیا ہے اور جو چیز بھی اس کے سامنے آئی ہے اسے توڑنے پھوڑنے لگ گیا ہے کسی بے قابو سرکش پہلوان کی طرح۔ کل کے اس معقول شخص پر اچانک جو کیفیت طاری ہو گئی اس کو کسی ایسی خفیہ بیماری کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے جس کا دورہ اچانک پڑا اور مریض کے ہوش و حواس گم ہو گئے، وہ اپنے آپ سے بھی بے خبر ہو گیا۔ اپنے سے ہی بے خبر کیا ہوا پورے ملک کو بے خبر کر گیا، ہر کوئی حیرت کے ساتھ اخبارات میں اس کی تقریر کے الفاظ پڑھتا رہا اور حیرت کے عالم میں اس آصف زرداری کو یاد کرتا رہا جو اس کے ملک کی شہزادی کا شوہر بنا تھا اور اس کی شادی کی تقریب کو پورے ملک نے عجیب کیفیت میں دیکھا تھا۔

پاکستانیوں کو پہلی بار کراچی اور سندھ کے کسی نوجوان کا تعارف ہوا جو ان کی شہزادی کو بھی بیاہ کر گھر لے گیا۔ ایسا کارنامہ سرانجام دینے والے شخص پر کامیابی کے سارے راستے کھل گئے۔ پہلے تو اس نے ملکہ کے شوہر ہونے کی وجہ سے ملک پر حکومت کی اور اپنی مرضی چلائی ایسے انداز میں کہ وزیراعظم ملکہ بھی اس پر کسی اعتراض کو قبول نہیں کرتی تھی اور وہ پوری کی پوری طرح ایک شوہر کی ملکہ تھی ملک کی فرمانروا بعد میں تھی۔ ہمارے ایک ساتھی بتاتے ہیں کہ ایک محدود سی پریس کانفرنس میں کسی نے ان کے شوہر کے بارے میں کہا کہ ان پر بدعنوانی کے بعض الزامات ہیں یہ سن کر وہ پریس کانفرنس سے کچھ کہے بغیر اٹھ کر چلی گئیں۔

بعد میں خود مجھے بھی ایسا تجربہ ہوا کہ وہ کسی ناپسندیدہ بات کا جواب نہیں دیا کرتی تھیں بلکہ کچھ کہے بغیر اٹھ کر چلی جاتی تھیں اور یوں کوئی پریس کانفرنس اچانک ختم سمجھی جاتی تھی معلوم نہیں یہ عادت انھوں نے کہاں سے اپنائی جو ایک سیاستدان کے لیے قطعاً غیر معمولی اور ناقابل قبول تھی۔ بہر کیف اس وقت بات جناب آصف زرداری صاحب کی ہو رہی ہے جو گزشتہ دنوں یا کسی گزشتہ لمحے میں ایک ایسی ناگہانی کیفیت سے گزرے کہ جو منہ میں آیا وہ کہتے چلے گئے خصوصاً افواج پاکستان کو انھوں نے اپنی طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا۔کسی پاکستانی سیاستدان کے لیے فوج کی برملا توہین ناقابل فہم عمل ہے جو بقائمی ہوش و حواس نہیں ہو سکتا۔ اب وہ معافی یا اس کی کوئی دوسری توجیہہ کر رہے ہیں۔ اس پر بھی بات ہو گی۔
پاکستان میں خان لیاقت خان کے بعد ہم نے جنرل سکندر مرزا کی حکومت دیکھی اور ان کی

ایرانی نژاد بیگم ناہید سکندر مرزا کی۔ اگرچہ ان پر بھی کچھ الزامات تو تھے اور قاسم بھٹی نامی ایک اسمگلر بیگم صاحبہ کا پسندیدہ تھا ایک ہار کا قصہ اس زمانے میںبھی مشہور ہوا تھا لیکن اقتدار سے محرومی کے بعد ان حکمرانوں نے لندن میں غریبی کا بڑا مشکل وقت گزارا اور کبھی پاکستان کے سربراہ میجر جنرل سکندر مرزا لندن کے ایک ہوٹل میں ملازمت کرتے رہے اور ناہید سکندر مرزا گھر کا کام کاج کرتی تھیں اور شوہر کی دعوتوں سے نالاں تھیں پھر ایوب خان آ گئے پکے فوجی جو بیٹھے بٹھائے فیلڈ مارشل بھی بن گئے۔

انھوں نے اپنے خصوصی ملازمین اور معاونین کی جو فہرست تیار کی تھی اس میں جناب ذوالفقار علی بھٹو کا نام بھی شامل تھا جو اپنی ذہانت کی وجہ سے ترقی کرتے گئے اور ایوب خان کو خوش کرنے کے لیے انھیں ’ڈیڈی‘ بھی کہا کرتے تھے۔ ایوب خان نے جی بھر کر حکومت کی اور سیاستدانوں کی ایک بڑی پلٹن تیار کر دی ملک کے لیے ایوب دور اب تک کی کسی پاکستان حکومت کا بہترین دور تھا صنعت و زراعت میں ملک نے بہت ترقی کی اور مشرقی بعید کے آج کے بڑے صنعتی ملکوں کے لیے ایک نمونہ اور مثال بن گیا جہاں کے وہ دورے کر کے ترقی کے راز پاتے تھے۔

ایوب خان کے خلاف تحریک چلائی گئی بھٹو اور مولانا بھاشانی اس کے لیڈر تھے جب بات سیاست سے آگے نکل کر گالی گلوچ تک پہنچ گئی تو ایوب خان چپکے سے اپنے اسلام آباد والے گھر میں جا کر بیٹھ گئے۔ ان کی مسلم لیگ کے لیڈروں کی مسلسل منت سماجت کے باوجود وہ اقتدار میں واپس آنے پر تیار نہ ہوئے۔ مرحوم ملک قاسم اور سردار خضر حیات بتاتے تھے کہ فیلڈ مارشل کسی کمزور مانگے تانگے کے اقتدار کو قبول کرنے پر تیار نہیں انھوں نے ساتھیوں کو بتایاکہ جب پاکستان کا کمانڈر انچیف کہہ دے کہ ’نو‘ پھر یہ ’نو‘ ہی ہوتا ہے۔جنرل یحییٰ خان نے اقتدار میں آنے کا عندیہ دیدیا تھا۔

اس کے بعد ضیاء الحق تک لاتعداد سیاستدان پیدا ہوتے رہے۔ وزیر بھی بنتے رہے اور وزیراعظم بھی لیکن ان سب کی سیاست ایک فوجی جرنیل کی پیداوار تھی اور ہمارے آج کے سیاستدان بھی کسی نہ کسی فوجی سیاست کی پیداوار ہیں۔ زرداری صاحب ہوں۔ میاں نواز شریف ہوں یا کوئی دوسرا سیاستدان یہ سب کسی نہ کسی سلسلے اور سیاسی رشتے سے کسی فوجی سیاست کے ساتھ جا ملتے ہیں اور کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ سیاست اس کی محنت کی کمائی ہے۔

یہ سب کسی نہ کسی فوجی کی عنائت ہے مگر تعجب اس بات کا ہے کہ زرداری صاحب کس بل بوتے پر میدان سیاست کے اتنے جوانمرد بن گئے ہیں کہ کوئی بھی ان سے محفوظ نہیں ہے۔ اب ان کی پارٹی والوں پر گھبراہٹ طاری ہے۔ حالات صاف ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔ ابھی تک زرداری صاحب کی گفتگو ادھوری ہے انھوں نے شاید مزید کچھ بولنا ہے۔ معافی تلافی یا کوئی اور بات۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.