.

ترکی میں مخلوط حکومت کے قیام کی کوششیں

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں سات جون 2015ء کے عام انتخابات میں کسی بھی جماعت کو حکومت قائم کرنے کی سادہ اکثریت بھی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے تمام جماعتوں کے تنہا حکومت تشکیل دینے کے امکانات مخدوش ہو کر رہ گئے جس کے بعد تمام جماعتوں نے کولیشن حکومت قائم کرنے کی کوششوں کو تیز تر کردیا ۔ کولیشن حکومت کی تشکیل سے قبل ہمیں سات جون کے انتخابی نتائج پر نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ترکی میں 550 نشستوں والی قومی اسمبلی میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ( آق پارٹی) نے 9.40 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے کل 258 نشستیں حاصل کی ہیں اور اس طرح وہ 276 ووٹوں کی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس بار آق پارٹی کے علاوہ ری پبلیکن پیپلز پارٹی (CHP) نے 25 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے 132 نشستیں، نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP) نے 16 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے 80 نشستیں اور پیپلز ڈیمو کرٹیک پارٹی (HDP) نے 13 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے 80 نشستیں حاصل کی ہیں۔ ان انتخابات کی سب سے اہم بات ترکوں کی قومیت پسند پارٹی MHP اور کردوں کی قومیت پسند پارٹی HDP کا 80، مساوی 80 نشستیں حاصل کرنا ہے اور اس طرح پارلیمنٹ میں دونوں قومیت پسند پارٹیوں کا توازن قائم ہونا ہے۔ چار جماعتوں کے پارلیمنٹ میں حکومت تشکیل، دینے کے بارے میں مختلف سینریوز پیش کئے جا رہے ہیں۔

23 جون بروز منگل ترکی کی پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں تمام اراکینِ پارلیمنٹ ایک ایک کرتے ہوئے صوبوں کے حروفِ تہجی کے لحاظ سے حلف اٹھائیں گے (یعنی اس کالم کے شائع ہونے کے ایک روز قبل حلف اٹھا چکے ہوں گے) اور یہ حلف قومی اسمبلی کے اسپیکر کا انتخاب نہ ہونے کی وجہ سے اراکینِ پارلیمنٹ میں سے عمر کے لحاظ سے سینئر ترین رکن پارلیمنٹ حلف (ستتر سالہ دینز بائیکال جو کہ اس سے قبل ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں) لیں گے اور اس کے بعد 27 جون تک قومی اسمبلی کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکرز اور دیگر عہدیداروں کے انتخاب کے لئے نام پیش کئے جائیں گے اور پھر قومی اسمبلی کے اسپیکر کے انتخاب کے مرحلے کا آغاز ہوگا۔ اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوگا۔

پارلیمنٹ میں اسپیکر کے انتخاب ہی سے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اس وقت تک آق پارٹی اور MHP کے درمیان مخلوط حکومت قائم کرنے کے بارے میں مفاہمت قائم ہونے کا خیال ظاہر کیا جارہا ہے۔ اگرچہ انتخابات کے فوراً بعد ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین کمال کلیچدار اولو نے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ عوام نے آق پارٹی کو مسترد کردیا ہے اور 40 فیصد کے برخلاف 60 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو حکومت قائم کرنے کا حق عطا کیا ہے لیکن کمال کلیچدار اولو اب تک حزبِ اختلاف کی دیگر دو جماعتوں کو اپنے اتحاد میں شامل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ کردوں کی قومیت پسند جماعت HDP اور MHP کا ایک جگہ جمع ہونا ممکن ہیں نہیں ہے کیونکہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو اپنی دشمن تصور کرتی ہیں اور خاص طور پر MHP کسی بھی صورت کردوں کو ایک الگ قوم کے طور پر تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اس لئے اتحاد کی یہ بیل منڈے چڑھتے ہوئے دکھائی نہیں دیتی ہے اور MHP کے چیئرمین کسی بھی طرح CHP کے ساتھ حکومت تشکیل دینے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ ماضی میں بھی یہ دونوں جماعتیں مخلوط حکومت میں شامل رہ چکی ہیں جس سے ان دونوں جماعتوں کو نقصان ہی پہنچا ہے اور اب MHP ایک بار پھر ماضی کی ان غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہتی ہے۔ اس طرح آق پارٹی کے بغیر مخالف جماعتوں کا کوئی اتحاد بنتے ہوئے دکھائی نہیں دیتا ہے۔

اگرچہ آق پارٹی تنہا حکومت تو نہیں بنا سکتی لیکن اسے حکومت تشکیل دینے کے لئے صرف ایک پارٹی کا ساتھ ہی کافی ہے۔ وہ یہ اتحاد CHP کے ساتھ بھی قائم کرسکتی ہے تو MHP کے بندھن میں بھی بند سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے لئے HDP کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے اس کو بھی اپنے محور میں شامل کرسکتی ہے لیکن اس وقت تک HDP نے اپنے دروازے آق پارٹی کے لئے مکمل طور پر بند کر رکھے ہیں۔ اس وقت کاروباری حلقے اور مغربی ممالک اور ان کے نمائندے آق پارٹی اور CHP کے درمیان مخلوط حکومت قائم کرنے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ان دونوں جماعتوں کے حکومت تشکیل دینے سے ملک میں نئے آئین کو تیار کرنے کی راہ بھی ہموار ہوسکے اور ایک نیاآزاد سول آئین تیار ہوسکے لیکن دونوں جماعتو ں کے درمیان جاری مذاکرات میں اس وقت تک کوئی قابل ِذکر کامیابی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

آق پارٹی نے CHP کے ساتھ ساتھ MHP کے ساتھ بھی اپنے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا اور ان دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات میں کافی حد تک پیشرفت بھی دیکھی گئی ہے۔ ویسے بھی آق پارٹی اور MHP دونوں جماعتوں کا تعلق دائیں بازو سے ہے بلکہ آق پارٹی میں شامل زیادہ تر اراکین کا تعلق ماضی میں کسی نہ کسی طرح MHP سے رہا ہے اور آق پارٹی کے ابتدائی دور میں MHP سے تعلق رکھنے والے بیورو کریٹس اور اراکین نے ملکی نظم و نسق میں آق پارٹی کی ہر ممکنہ مدد کی تھی اور آق پارٹی نے MHP کے کئی ایک اراکین کو اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز کیا تھا اور یہ بیورو کریٹس آج بھی ان عہدوں پر فرائض ادا کررہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد قائم ہونے کی صورت میں قومی اسمبلی کےا سپیکر کا انتخاب MHP سے کیا جائے گا اور میرال آقشنر کے اسپیکر منتخب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ کابینہ میں آٹھ وزراء کا تعلق MHP سے ہوگا جس میں وزیر خارجہ کے طور اکمل الدین احسان اولو، وزیر داخلہ کے طور پر مراد باش ایسگی اولو اور وزیر اقتصادیات کے طور پر سابق گورنر اسٹیٹ بینک دورمش یلماز کا نام لیا جا رہا ہے جبکہ MHP کے چیئرمین دولت باہچے لی نائب وزیراعظم ہوں گے اور ان ہی کی جماعت سے ایک اور رکن کو نائب وزیراعظم کا عہدہ پیش کیا جائے گا۔

اس سے قبل MHP کےچیئر مین دولت باہچے لی نے آق پارٹی کے بارے میں بڑا سخت موقف اپنا رکھا تھا۔ انہوں نے صدر رجب طیب ایردوان کو نئے صدارتی محل سے واپس لاتے ہوئے قصر چانکایہ میں آئینی حدودد میں رہتے ہوئے کام کرنے کی شرط عائد کی تھی جس میں اب نرمی پیدا کرتے ہوئے انہیں نئے محل ہی میں قیام پذیر رہنے تاہم آئینی حدود میں رہ کر کام کرنےکی شرط پیش کرنے کے علاوہ آق پارٹی جس نے کردوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے گزشتہ چند سالوں سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کرر کھا تھا ان مذاکرات کو ختم کرنے کی جو شرط عائد کی تھی اس میں بھی نرمی پیدا کرتے ہوئے مذاکرات کو ’’کردوں کے مسئلے کے حل‘‘ کے نام کی جگہ ’’جمہوریت کے فروغ‘‘ کے نام سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے مذاکرات کو جاری رکھنے سے متعلق آق پارٹی کی تجویز کو قبول کرنے سے آگاہ کیا ہےتاہم آق پارٹی نے MHP کی جانب سے آق پارٹی کے چار وزراء جن پر کرپشن کا الزام لگایا گیا ہے کو اعلیٰ تحقیقاتی کمیشن کے روبرو پیش کرنے اور مقدمہ چلانے کی تجویز کو قبول کرلیا ہے۔

اب دیکھتے ہیں یہ مذاکرات کب کسی نتیجے اور سمجھوتے پر منتج ہوتے ہیں؟ یہ بات عیاں ہے کہ اگر اسپیکر کے انتخابات کے 45 دنوں کے بعد تک نئی حکومت قائم نہ ہوسکی توآئین کی رو سے پھر ملک میں نئے سرے سے قبل از وقت انتخابات ہوں گے اور یہ قبل از وقت انتخابات آق پارٹی کے سوا شاید کسی دیگر جماعت کے لئے سود مند ثابت نہ ہوسکیںکیونکہ ہوسکتا ہے کہ انتخابات سے آق پارٹی اپنی پرانی پوزیشن بحال کرنے میں کامیاب ہو جائے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.