.

قصہ مودی کی ٹیلی فون کال کا

شمشاد احمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمیں اچھا لگے یا نہیں، بھارتی وزیر اعظم مودی کم ازکم اسلام آباد کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہیں۔ وہ اپنے وزراء کو چند غیر ذمہ دارانہ لفظ بولنے کیلئے کہتے ہیں جن پر ہم فورا بھڑک اٹھتے ہیں، چنانچہ حالیہ ہفتوں میں بھی ہماری حکومت اور میڈیا دونوں لفظوں کی جنگ میں کود پڑے۔ مودی یہی چاہتے تھے۔ وہ اپنا آپ دکھانے کیلئے موقعے کی تاک میں رہتے ہیں، جیسے انہوں نے اپنے حالیہ دورہ ڈھاکہ میں کیا، وہ پاکستان کے خلاف اس زیادہ نفرت نہیں اگل سکتے تھے۔ مودی 1971ء میں پاکستان کو دولخت کرنے میں اپنے ملک کے کردار پر خوب اترائے، انہیں پاکستان پر گڑبڑ پھیلانے اور دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام دھرتے ہوئے آئینے میں اپنی شکل ضرور دیکھنے چاہیے تھی۔

کوئی بھارتی لیڈر اس سے زیادہ اشتعال انگیز بیان نہیں دے سکتا تھا۔ لیکن کوتیلہ کے ایک چیلے سے اسکے سوا کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ کوتیلہ جو چانکیہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ٹیکسلا کا ایک دانشور تھا، جو تین ہزار سال قبل موریہ سلطنت کے بانی شہنشاہ چندرگپتا موریہ کا اتالیق تھا۔ اس نے چندرگپتا موریا کو اپنے ہمسایہ ممالک سے نمٹنے کے سات گر سکھائے جو یہ تھے:
مصالحت خوا ہی کا ڈھنگ، تحفہ اور رشوت، تقسیم اور ناچاقی پیدا کرنا، طاقت اور جبر، دھوکہ اور فریب، دشمن کا مذاق اڑانا اور فوجی طاقت کا جعلی تاثر دینا۔ یہی چالیں مودی کی پاکستان پالیسی کا بھی جانا پہچانا انداز ہیں۔

شطرنج کے ایک ماہر کھلاڑی کی طرح وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنے مہروں کو کب حرکت دینی اور کب انکی ترتیب بدلنی ہے۔ اشتعال انگیز تقریر کے بعد انہوں نے ماہ رمضان کی آمد پر اچانک ہمارے وزیر اعظم کو خیر سگالی کا ایک مختصر سا ٹیلی فون کیا۔ انہوں نے رمضان المبارک میں اسی جذبے کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کی زیر حراست پاکستان کے ماہی گیروں کی رہائی کا بھی اعلان کیا۔ دونوں ملک وقتا فوقتا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ماہی گیروں کو رہا کرتے ہی رہتے ہیں، لیکن مودی نے اپنے دور اقتدار میں معمول کے اس پہلے عمل کو بھی سیاسی مفاد کیلئے استعمال کیا۔ نیت سے قطع نظر یہ ایک قابل تعریف اشارہ تھا اور وزیر اعظم نواز شریف نے اسے سراہا۔

انہوں نے مودی کی کال کو اچھے تعلقات کیلئے انکے خلوص کا آئینہ دار قرار دیا۔ اس میں کچھ مبالغہ تھا۔ مودی شطرنج کے ایک شاطر کھلاڑی کی طرح اپنے نو آمیز حریف کو فریب دینے کے ماہر ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بادشاہ کو کب شہ دینی ہے اور کب بساط پر بلاضرورت اپنے مہرے کی جگہ تبدیل کر لینی ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کی مبینہ سرپرستی کا مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اسے بھونڈے اور اشتعال انگیز انداز سے دھمکیاں دینے کے بعد نواز شریف کو ٹیلی فون کرنا شطرنج کے ایک شاطر کھلاڑی کی چال سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ انہیں واشنگٹن کو مطمئن کرنے کیلئے ، جو ان پر کچھ عرصے سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے زور دے رہا ہے، پاکستان کی جانب مصالحانہ نقاب اوڑھنا ہی تھا۔

وزیر اعظم نواز شریف کے دفتر سے جاری بیان میں انکی طرف سے دونوں ملکوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے اختلافات بھلا کر پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر زندگی بسر کرنے کیلئے امن اور سکون کی جانب قدم بڑھائیں۔ یہ بیان بظاہر بے ضرر محسوس ہوتا ہے لیکن بھارت پاکستان تعلقات کے حوالے سے یہ پاکستان کے جانے پہچانے اصولی موقف سے سنگین انحراف کے مترادف ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ ٹیلی فون پر انکا اصل موضوع گفتگو کیا تھا۔ کم ازکم بھارتی وزیر اعظم کےدفتر اور مودی کے ذاتی ٹوئٹر سے جو بیان جاری ہوا وہ ہمارے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان سے ہم آہنگ نہ تھا۔

اگر کال کا دورانیہ پانچ منٹ تھا تو دونوں وزرائے اعظم میں سے کسی نے باہمی تعلقات کے کسی سنجیدہ پہلو پر بات نہیں کی ہوگی۔ حقیقت کچھ بھی ہو لیکن ہمارے وزیر اعظم سے منسوب بیان میں جو کچھ کہا گیا وہ یقینا ہمارے اصولی موقف کی ترجمانی نہیں کرتا اور یہ مستقبل کے پاک بھارت تعلقات میں غلط فہمیوں کا موجوب بنے گا۔ حقیقت حال کچھ ہو، پاکستان کو یہ کال بہت مہنگی پڑی۔ مودی نے ہر اعتبار سے اپنا مقصد حاصل کر لیا۔ انہوں نے ہماری وزیر اعظم کو لالی پاپ دیا اور واشنگٹن کو بھی یقین دہانی کرا دی کہ وہ خطے میں ہر ایک کو ٹھنڈا کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔

مودی گزشتہ برس مئی میں وزیر اعظم بنے کے وقت سے ہی یہ کھیل کھیل رہے ہیں۔ اپنی تقریب حلف برداری میں سارک سربراہوں کو شرکت کی دعوت بذات خود ایک ایسے شخص کی طرف سے سرپرستانہ انداز تھا جو خطے کے دوسرے ممالک اور انکے لیڈروں کے بارے میں حقارت آمیز گفتگو کرتا رہا ۔ اس موقع پر بھی مودی نے فخریہ انداز سے کہا کہ خطے کے لیڈران کی موجودگی نے دنیا کو بھارت کی طاقت کے بارے میں یہ واضح پیغام دیا ہے کہ یہ ایک بڑی قوت ہے۔ اس موقع پر نواز شریف کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا وہ پاکستان کیلئے ایک واضح پیغام تھا کہ وہ اپنے آپ کو بھارت کے زیر اثر خطے کا ایک حصہ تصور کرے۔ بہتر ہوتا اگر ہم مودی کو یہ موقع فراہم نہ کرتے کہ وہ پاکستان کو جنوبی ایشیا کے ان کمزور ممالک کی صف میں شامل کریں جنکے پاس اپنے حجم اور محدود اثر و نفوذ کی بنا پر بھاری بھرکم انڈیا کی بالادستی قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

پاکستان نے بھارت کی علاقائی بالادستی کبھی قبول نہیں کی۔ درحقیقت پاکستان کی قیام ہیی اسکی طرف سے بھارتی برتری مسترد کرنے کا اظہار تھا۔ ہم ایک جوہری طاقت صرف اس لیے بنے کہ ہم خطے میں بھارتی بالادستی کے زیر اثر ایک ماتحت کا کردار قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ مئی 1998ء مین خود نواز شریف نے بھارت کے نیوکلئیر بلیک میل کا کرارا جواب دینے کیلئے تاریخی فیصلہ کیا تھا۔

آج مودی کی پاکستان پالیسی کی جڑیں کوتیلہ کی بے رحم سیاسی چالوں میں پیوست ہیں جنکا مقصد علاقائی برتری اور عالمی طاقت بننے سے متعلق بھارت کے بڑے عزائم کو آگے بڑھانا ہے۔ وہ خطے میں بھارت کی نام نہاد برتری جتانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے ۔ اس لیے عجب نہیں کہ ماہ رمضان کے حوالے سے انکی ٹٰلیفون کال ابھی اپنے آپ کو بڑا بھائی ظاہر کرنے کی ایک سوچی سمجھی چال ہو۔ وہ اس سے قبل بھی اس طرح کے دکھاوے کی کارروائیاں کر چکے ہیں۔ اس سال فروری میں انہوں نے کرکٹ ورلڈ کپپ 2015ء کے دوران اپنی نیک تمناؤں کے اظہار کیلئے نواز شریف کو فون کال کی اور پھر مارچ میں اپنے نئے سیکرٹری خارجہ کو پاکستان بھیجا جسکا بظاہر مقصد خیر سگالی مشن تھا مگر حقیقت میں یہ انکی سارک یاترا تھی۔

مودی اپنے پاکستانی ہم منصب کو کتنے ہی ٹیلی فون کال کریں ، بھارت اپنی اس مستقل گمراہ کن مہم سے باز نہیں آتا کہ وہ انہیں دہشت گردی کے مسئلے اور لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کے واقعات میں الجھا کر پاک بھارت معاملات کو نیا رخ دے۔ دراصل بھارت نے یہ انداز نائن الیون کے بعد اپنایا جس نے مودی کے منظر پر نمودار ہونے کے بعد خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ لیکن ہم بھی مزید بھولپن کے متحمل نہیں ہو سکتے، کالز یا علاقائی عالمی کانفرنسوں کے مواقع پر باہمی ملاقاتوں سے ہم غیر حقیقی امیدیں اور خوش کن مناظر کی توقعات وابستہ نہیں کر سکتے ہیں۔

بھارت پاکستان مسائل کی نوعیت حقیقی ہے جو ہمارے ملک کے کچھ لوگوں کی اپنی خام سوچ کے مطابق ختم ہو سکتی ہے اور نہ ہی اپنے آپ انکا کوئی حل نکل سکتا ہے۔ جب تک کشمیر بھارت کے فوجی تسلط میں ہے جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.