.

برطانوی میڈیا کی کریڈیبلٹی کیا ہے!

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پانچ سال پہلے موسم گرما میں پاکستانی کرکٹ ٹیم برطانیہ کے دورے پر تھی، چوتھے ٹیسٹ میچ کے ختم ہونے میں دو روز باقی تھے کہ اٹھائیس اگست کو انگلینڈ کے اخبار ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ نے ایک خبر شائع کر کے کھیلوں کی دنیا میں تھرتھلی مچادی۔ نیوز آف دی ورلڈ نے دعویٰ کیا کہ انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں دو پاکستانی فاسٹ بولر زمحمد آصف اور محمد عامرنے سپاٹ فکسنگ کرتے ہوئے طے شدہ موقع پر نو بال کروائیں ،یہ کام کپتان سلمان بٹ کی مرضی سے ہوا اور اِس کام کیلئے تینوں کھلاڑیوں نے مظہر مجید نامی ایجنٹ سے بھاری رقم وصول کی۔یہ خبر سامنے آتے ہی دنیائے کرکٹ میں تو تہلکہ مچا ہی لیکن پاکستانی حلقوں میں تو جیسے سراسیمگی پھیل گئی۔

اس خبر کا اتنا زیادہ منفی اثر پڑا کہ انگلینڈ کے خلاف اس چوتھے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو ایک اننگز اور دو سو پچیس رنز کی عبرتناک شکست کا ہی سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ انگلینڈ نے چار میچوں کی سیریز ایک کے مقابلے میں تین میچوں سے جیت لی اور دوسری جانب پاکستانی شائقین کا مورال تو جیسے پاتال کی گہرائیوں کو چھورہا تھا۔اس موقع پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث بچگانہ ذہن اور سوچ کے مالک ملزم کھلاڑی محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ معاملات کی نزاکت کو سمجھ نہ پائے اور ان الزامات کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ معاملہ آئی سی سی کے ٹربیونل کے سامنے پیش ہوا، جس نے مکمل چھان بین کے بعد کھلاڑیوں کو جھوٹا قرار دے کر اُن پر پابندی لگا دی، پھر جب کھلاڑیوں نے اِس پابندی کو برطانوی عدالت میں چیلنج کیا تو وہاں بھی کھلاڑی مجرم ثابت ہو گئے، عدالت نے مجرم کھلاڑیوں کو سزا دے کر جیل بھیج دیا اور یوں ’’پاکستانی ہیرو‘‘ مہینوں تک برطانوی جیل میں ’’چکی‘‘ پیسنے کے ساتھ ساتھ برطانوی نظام انصاف کے فیصلے پر دانت بھی پیستے رہے۔

ان کھلاڑیوں نے سزا بھگتنے کے باوجود قوم کے ساتھ ساتھ خود کو بھی دھوکا دینے کی کوشش کی اور اپنا جرم بھی تسلیم نہ کیا، لیکن جب کھلاڑیوں کو اِس بات کا احساس ہوا کہ وہ غلطی پر تھے اور انہیں اپنا جرم پہلے ہی قبول کرلینا چاہیے تھا، تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔اُس وقت اُن مجرم کھلاڑیوں پر عدالت نے رحم کیا نہ ہی آئی سی سی کو ترس آیااور عوام کی نظروں میں تو وہ اپنا مقام کھو ہی چکے تھے۔

آصف اور سلمان تو راندہ درگاہ گئے ہی، اِن میں سب سے ’’کم مجرم‘‘ عامر بھی سزا بھگتنے کے بعد ابھی تک انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس نہیں آسکا۔ ایک جانب چوری پر سینہ زوری کا مظاہرہ کرنے والے ہٹ دھرم مجرم کھلاڑی تھے، تو دوسری جانب یار لوگوں (بالخصوص میڈیا کے ایک حلقے) نے بھی حقائق پرکھنے اور ثبوت جانچنے کی بجائے سکینڈل شائع کرنے والے اخبار ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ کی کریڈیبلیٹی پر سوالات اٹھادیے تھے، لیکن اِس مشق سے کچھ بھی فرق نہ پڑا کیونکہ برطانیہ کے اِس تیسرے درجے کے اخبار ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ نے جو کچھ شائع کیا تھا، وہ مکمل حقائق اور ثبوتوں کے ساتھ شائع کیا تھا۔ اب اِسی طرح کی غلطی کچھ لوگ متحدہ قومی موومنٹ سے متعلق شائع ہونے والی بی بی سی کی رپورٹ کے بارے میں بھی کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے الزامات اور سوالات کا مناسب جواب اور ردعمل دینے کے بجائے ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم کی حمایت میں لکھنے والے اب بی بی سی جیسے موقر ادارے کی کریڈیبلیٹی پر بھی سوال اُٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ اِس طرح کے بھونڈے سوالات اُٹھانے کی بجائے ایم کیو ایم کو جواب دینا چاہیے تھا کہ وہ گزشتہ دو دہائی سے ایک دشمن ملک سے فنڈنگ کیوں لے رہی تھی؟

ایم کیو ایم کو جواب دینا چاہیے تھا کہ اُس کے سینکڑوں کارکنوں نے گذشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں قائم دہشت گردی کے کیمپوں سے گولہ بارود اور ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت کیوں حاصل کی؟ ایم کیو ایم کو جواب دینا چاہیے تھا کہ لندن میں اُن کے دفتر میں آتشیں ہتھیاروں، مارٹر گولوں اور بموں کی فہرست کیوں تیار کی گئی؟ اور یہ کہ اِس اسلحے کو کہاں کہاں استعمال کیا جا رہا تھا اور مزید کہاں کہاں استعمال کیا جانا تھا؟ ایم کیو ایم کو جواب دینا چاہیے تھا کہ عمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ کیس میں جیسے جیسے برطانوی پولیس کی تحقیقات آگے بڑھیں تو اُس کے ساتھ ساتھ برطانوی عدلیہ نے ایم کیو ایم کے خلاف سخت اقدامات کیوں کرنا شروع کر دیئے تھے؟ کیا برطانیہ میں ٹھوس ثبوتوں کے بغیر ایسے اقدامات کا سوچا بھی جا سکتا ہے؟ کیا یہ ایم کیو ایم کی ناکامی نہیں کہ برطانیہ کے ججوں تک کو پتہ ہے کہ ایم کیو ایم عشروں سے تشدد سے کام لے رہی ہے اور کراچی میں سینکڑوں پولیس افسران کے قتل کے مقدمات میں کہیں مجرم اور کہیں ملزم ہے؟

ایم کیو ایم اگر سچی ہے تو اُسے بی بی سی کے الزامات کے جواب میں بتانا چاہیے تھا کہ رینجرز نے نائن زیرو میں ایم کیو ایم کے صدر دفتر پر چھاپہ مار کر جو بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ و بارود برآمد کیا ، کیا وہ شب بارات پر چلانے کیلئے رکھا تھا؟ ایم کیو ایم نے بی بی سی کے الزامات پرصفائی دینے کی بجائے اُلٹا بی بی سی سے ثبوت مانگ لیے اور یہ وہی غلطی تھی جو سپاٹ فکسنگ میں ملوث سلمان، آصف اور عامر نے کی تھی، سو اب ایم کیو ایم کے ساتھ وہی ہو رہا ہے جو سلمان، آصف اور عامر کے ساتھ ہوا۔ بی بی سی کے الزامات کا پہلا ثبوت تو خود ایم کیو ایم کے رہنما طارق میر کی صورت میں سامنے آگیا ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما طارق میر کا بیان تو متحدہ پر خودکش حملے سے کم نہیں ہے، طارق میر کے بیان کے مطابق بھارت سے متحدہ کو سالانہ آٹھ لاکھ پونڈ ملتے تھے اور ایم کیو ایم کے ساتھ رابطے میں رہنے والے ’’را‘‘ کے افسر براہ راست بھارتی وزیراعظم کو رپورٹ کرتے تھے۔ قارئین کرام!! یہ بجا کہ ایم کیو ایم نے بی بی سی کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے، الزامات کیخلاف عدالت جانے کی بڑھک تو ماری ہے، لیکن اول تو اس بڑھک پر عملدرآمد کا موقع نہیں آئے گا اور بالفرض اگر سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کی طرح غلطی کرتے ہوئے اچھلنے اور پھدکنے والے کچھ لوگ یہ معاملہ عدالت میں لے بھی گئے تو پہلی ایک دو پیشیوں پر ہی اُنہیں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا۔

کراچی کے عوام سے منہ کا نوالہ چھیننے میں پیش پیش متحدہ قومی موومنٹ پر محب وطن حلقے عرصہ سے پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق اور غداری کے سنگین الزامات کے بعد تو ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کا مطالبہ اور بھی بڑھ گیا ہے۔ اس پابندی سے بچانا اب متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت پر منحصر ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت دشمن ملک سے رابطوں اور فنڈنگ لینے کا اپنا جرم تسلیم کرے، اپنا عسکری ونگ ختم کرکے قاتلوں کو قانون کے حوالے کرے اور اپنی جماعت کو مکمل سیاسی قالب میں ڈھال لے، ورنہ ممکن ہے کہ ایم کیو ایم پر مکمل پابندی کا جو کام بوجوہ پاکستان میں نہ ہوسکا، وہ کام برطانیہ کی عدالتوں سے ہو جائے۔ ایم کیو ایم کے لیڈر بڑھکیں مارنے کی بجائے سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر سے ہی سبق سیکھ لیں، کیونکہ یہ تینوں جانتے ہیں کہ برطانوی میڈیا کی کریڈیبلٹی کیا ہے!

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.