.

بلاول اب بھٹو بنیں گے یا زرداری

وکیل انجم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیاست میں رضاکارانہ جلاوطنی کی تاریخ پرانی ہی نہیں کافی پرانی ہے۔ بے نظیر بھٹو نے بھی دو مرتبہ جلاوطنی کا راستہ اختیار کیا ۔ سیاسی منظرنامے پر یہ سوال پھر اٹھا ہے۔ منظرنامہ ہی کچھ ایسا تھا جس انداز سے زرداری مافیا کے نیٹ ورک کو سندھ سے اکھاڑنے کا عمل شروع ہوا،ردعمل بھی خوب تھا مگر یہ ردعمل بلاول کی سیاست کیلئے خطرے میں گھنٹیاں بجانے لگا ہے۔ زرداری خاندان دبئی اور برطانیہ روانہ ہوا ہی تھا میڈیا پر بھاگ جانے کا سوال اٹھا۔ اگلے روز ہی بہادری دکھاتے ہوئے بلاول وطن واپس لوٹ آئے۔ بلاول بھٹو کیلئے اپنی شناخت کا سوال ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنا راستہ خود بناتے ہیں یا والد کی سیاست کو آگے بڑھاتے ہیں۔

سندھ میں کرپٹ لوگوں کی جس طریقے سے صفائی کا عمل شروع ہوا ہے اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اب سیاست اور جرم الگ ہو کر رہیں گے۔ خاص طور پر آصف علی زرداری کے خاص لوگوں کی کرپشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ نواب شاہ میں زرداری کے قریبی عزیز کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر سیلاب زدگان کیلئے آنے والی 7ایمبولینسیں اور ویگنیں برآمد کیں۔ مسئلہ تو بلاول کا ہے جس کا کوئی قصور نہیں مگر پیپلزپارٹی کے 5سالہ دور حکومت اور اس کے بعد بھی سندھ حکومت میں لوٹ مار کا جو میدان سجا ہے، بلاول کیلئے پارٹی کو پھر سے زندہ کرنابڑا چیلنج ہے۔ اس بیچارے کی مشکلات تو بڑی ہیں۔ چھوٹی عمر میں ہی ماں کا بچھڑ جانا اس کیلئے نہ بھولنے والا صدمہ ہے۔بلاول بھٹو زرداری کو بے نظیر بھٹو کی موت کے وقت ان کے والد آصف علی زرداری نے وصیت منظر عام پر آنے کے بعد لانچ کیا تھا۔

بلاول اُس وقت طالب علم تھے اس لئے ان کو چیئرمین بنانے کے بعد آصف خود کو چیئرمین بن گئے۔ تعلیم مکمل ہوئی ، بے نظیر بھٹو کی 5 ویں برسی پر انہیں باقاعدہ سیاست میں داخل کیا گیا۔ بلاول نے اس موقع پر سیاست میں آنے کا اعلان کیا۔ تربیت کے مراحل تو پہلے ہی طے ہو چکے تھے، اس کے بعد پارٹی نے 5 سال پورے کئے۔ 2013ء کے انتخابات میں بہترین موقع تھا۔ بلاول بھٹو پارٹی کیلئے باہر نکلے اس کے لیڈر باہر آئے یہاں تو صورت حال ہی یہ تھی ایوان صدر میں بیٹھ کر جوڑ توڑ کیلئے مسلم لیگ (ن) پر حملہ کرنے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ دشمن کی کردار کشی تو الگ بات اپنا پروگرام بھی ایوان صدر میں بیٹھ کر دیا جانے لگا۔ آصف علی زرداری چیئرمین تھے۔ وہ سمجھ بیٹھے تھے صوبہ بنانے کی جو تحریک انہوں نے شروع کی تھی اگرچہ وہ کامیاب نہیں ہو سکی لیکن
جنوبی پنجاب کے لوگ ان کے پیچھے چل پڑیں گے۔ عوام کا معاملہ یہ تھا وہ سمجھتے تھے زرداری صاحب سیاست کر رہے تھے نہ میدان میں زرداری آئے نہ گیلانی نہ کوئی اور پھنے خان، بلاول کو بھی چھپا لیا گیا۔

انتخابی مہم ٹیلی ویژن سکرین پر ہی نظر آئی۔ ایسی بیکار سیاسی مہم میں پارٹی کیسے کامیاب ہو سکتی۔ بلاول نے اپنی آنکھوں کے سامنے تین صوبوں میں پارٹی کا ایسا زوال دیکھا، بہت سے سوالات اُن کے ذہن میں ابلنے شروع ہوئے۔ اُن کو احساس ہو گیا تھا پارٹی کے لیڈروں نے جس انداز سے لوٹ مار کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا، انجام تو ایسا ہی ہونا تھا۔ باپ بیٹے کی سیاسی جنگ شروع ہوئی تو سب کچھ چھوڑ کر لندن جا بیٹھے، کسی صورت نہ مانے ، شرائط پر چھ سات ماہ کی ناراضگی اب ختم ہوئی۔ بلاول بھٹو زرداری کو بچہ سمجھنے والوں کو احساس ہونا چاہیے اب وہ بالغ ہے۔ قومی اسمبلی جانا چاہتا ہے۔ بلاول کو خونی رشتوں کو نبھانا ہے یا نانا کی پارٹی کو، اُن کی ترجیح یقیناًپارٹی ہے۔ اب اُس نے سندھ میں کرپٹ ٹولہ پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھٹو کی مشکلات یہ ہے پارٹی میں کافی عرصے سے نئے لوگ نہیں آئے۔ پرانے لیڈروں میں کشش نہیں رہی۔ بلاول نے ماں کی سیاست دیکھی ہے۔

اُن کی تربیت پائی ہے مگر اس نوجوان کو علم نہیں تھا کہ 27 دسمبر 2007ء جس نے بھٹو خاندان ہی نہیں، ہماری قومی زندگی میں ایک کھلبلی مچا دی تھی، اس نے بلاول بھٹو کی زندگی کا شیڈول بھی درہم برہم کر دیا اور جس پارٹی کو اُن کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے قائم کیا اور والدہ نے بھٹو ازم کے فلسفے کو عروج تک پہنچایا، اس پارٹی کی سربراہی صرف بیس سال 3 ماہ اور 8 دن کی عمر میں ان کے کندھوں پر آن پڑی تھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان پیپلزپارٹی کا چیئرمین بننے کے بعد جو پہلی پریس کانفرنس کی تھی اُس کا ایک ایک لفظ تحریر شدہ تھا۔ اسے سوچ سمجھ کر لکھا گیا تھا۔ اس میں انہوں نے اپنی والدہ بے نظیر بھٹو کے افکار کو ہی اجاگر کیا تھا اور یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ وہ اپنی شہید والدہ کی طرح پاکستان فیڈریشن کی علامت بن کر جئیں گے اور ملک بچانے اور فیڈریشن کو قائم رکھنے اور جمہوریت بچانے کیلئے جدوجہد کریں گے۔

وہ سمجھتے تھے کہ اپنی والدہ کی شہادت کا انتقام اور بدلہ صرف اور صرف جمہوریت قائم رکھ کر ہی لیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست بھی کیا خوب تھی ۔ مختلف وزارتوں سے ترقی پاتے پاتے وزیر خارجہ کے منصب تک جا پہنچے۔ ایوب خان کے دور میں انہیں فن خطابت کا موقع تو نہ ملا لیکن 1965ء میں انہوں نے سلامتی کونسل میں بے مثال تقریر کی۔ اس دور میں بھٹو کیلئے ایسا لمحہ بھی آیا جب ایوب خان کے بہت سے ساتھی جن میں بیورو کریٹ، سیاستدان اور فوجی شامل تھے جو بھٹو کو راستے سے ہٹانے کی سوچنے لگے۔ ایوب کابینہ سے نکلنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے براہ راست ایوب آمریت کو للکارا اور معاہدہ تاشقند کے راز سے پردہ اٹھانے کا جگہ جگہ ذکر کیا۔ پہلی مرتبہ لاہور آئے تو اہل لاہور نے دل کھو کر پذیرائی بخشی۔ 30 نومبر 1967ء کو انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی اور ایوب خان کی کابینہ سے الگ ہونے کے بعد 1970ء کے انتخابات تک کا دور پارٹی کو منظم کرنے میں لگا دیا۔ 23 جون 1967ء کو لاہور کے گول باغ میں بہت بڑے عوامی جلسے سے تین گھنٹے تک تاریخ ساز خطاب کرکے ہلچل مچا دی۔

وہ جوش خطابت سے کسانوں کو جاگیرداروں، مزدوروں، صنعتکاروں اور غریبوں کو امیروں کے خلاف ابھارتے رہے اور روٹی، کپڑا، مکان کا نعرہ لے کر ملک کے کونے کونے میں پہنچے۔ عوامی تاثر یہ تھا کہ وہ پہلے لیڈر ہیں جو عوام کی بات کرتے ہیں۔ بھٹو درحقیقت بڑے انسان تھے اور بڑے انسان کی طرح ان میں بھی چند کمزوریاں تھیں۔ وہ کامیاب ہوئے یا ناکام یہ فیصلہ تو تاریخ پر چھوڑتے ہیں لیکن 1977ء تک وہ ملک کے ایک بڑے طبقے کو متاثر کر چکے تھے۔ ان کے مقابلے میں 9 جماعتوں کا اتحاد پہلی مرتبہ چیلنج بنا جس میں بھٹو کا ایک سے ایک بڑا دشمن شامل تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد نصرت بھٹو کو چیئرپرسن بنایا ۔

بے نظیر بھٹو کی سیاست کا دور بھی یہاں سے شروع ہوا۔ بے نظیر بھٹو نے بھی پارٹی کی مقبولیت کا گراف نیچے نہ گرنے دیا۔ جہاں تک بلاول بھٹو زرداری کا تعلق ہے پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے اُن کے پاس اپوزیشن میں رہ کر کام کرنے کا تجربہ بالکل نہیں ہے۔ اس لئے بلاول بھٹو کو قومی اسمبلی میں لایا جا رہا ہے اور وہ سید خورشید علی شاہ کی جگہ اپوزیشن لیڈر بنیں گے۔ اس عہدے پر دو مرتبہ اُن کی والدہ فائز رہی ہیں۔ بلاول بھٹو کیلئے مشکل یہ ہے کہ پیپلزپارٹی بکھر رہی ہے اور لیڈر تیزی سے دوسری جماعتوں میں شامل ہو رہے ہیں۔والد نے اسٹیبلشمنٹ سے جو جنگ چھیڑی ہے وہ کوئی معمولی نہیں ہے۔ بلاول کو پتہ ہے آصف علی زرداری پورے پانچ سال پارٹی کو مقبول بنانے کی بجائے جوڑ توڑ کے جوہر دکھاتے رہے۔ عوام نے اُن کی سیاست کو مسترد کر دیا۔ بلاول بیچارا اب کیا کرے گا وہ زرداری ہے اُسے بھٹو بننے کیلئے اپنے والد کی فکر سے مکمل آزاد ہونا پڑے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.