.

اقتدار کا خواب اور خواب کا خمار

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سال2007ء پاکستان میں آخری فوجی آمر پرویز مشرف کے دور کے عروج کا آخری سال ثابت ہوا، جیسے ہی پرویز مشرف کے خلاف عدلیہ بحالی کی صورت میں ملک گیر عوامی تحریک برپا ہوئی تو اُس کے ساتھ ہی پرویز مشرف دور کی مصنوعی ’’ترقی اور خوشحالی‘‘ کا بت بھی دھڑام سے گر کر پاش پاش ہوگیا۔ توانائی کے نئے منصوبے شروع نہ کیے جانے کے باعث ملک میں لوڈشیڈنگ بڑھنے لگی اور ملک کے گلی کوچوں میں ’’بجلی بجلی‘‘ کی پہلی صدا بلند ہونا شروع ہوگئی، معیشت کو خوشنما ظاہر کرنے کیلئے کیا گیا ’’میک اپ‘‘عالمی کساد بازاری کی بارش کے چند چھینٹوں سے ہی دھل گیا تو نیچے اقتصادی تباہی کا بھیانک اور چیچک زدہ مکروہ چہرہ ظاہر ہونا شروع ہوگیا۔ بچا کھچا انفراسٹرکچر بھی تباہ ہوگیا اور ادارے بھی ایک ایک کرکے اپنی ساکھ اور وقعت کھونے لگے۔ بیروزگاری کیساتھ ساتھ غربت اور مہنگائی میں بھی اضافہ روز افزوں ہوا، دوسری جانب ملک میں لڑی جانیوالی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بم دھماکوں، خودکش حملوں اور بارودی گاڑیوں کے اہم عمارتوں سے ٹکرانے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ آخر اس تباہ کن صورتحال میں لوگ کب تک اپنے اعصاب پر قابو رکھتے؟لوگوں کے اندر غم و غصے اور نفرت کا لاوا پھٹنے کو مکمل تیار ہوچکا تھا کہ 2002ء میں عام انتخابات کا اعلان کردیا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ عام انتخابات ہوتے، پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو راولپنڈی میں جلسہ گاہ سے نکلتے ہوئے دہشت گردوں کا نشانہ بن گئیں۔

ایک جانب ملک میں امن و امان کی صورتحال روز بروز بگڑتی چلی جارہی تو دوسری جانب ایک بڑی سیاسی جماعت کی سربراہ سر راہ قتل ہوچکی تھی، مایوسی اپنی انتہاؤں کو چھونے لگی تھی اور پرویز مشرف کے نوسالہ جبر کی رات اور بھی طویل اور سیاہ محسوس ہونے لگی تھی۔ یہ تھے وہ حالات، جن میں ایک ماہ کی تاخیر سے فروری 2008ء میں عام انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات میں لوگوں نے کنگز پارٹی مسلم لیگ ق کو یکسر مسترد کردیا،دوسرے الفاظ میں لوگوں نے پرویز مشرف اور ان کی پالیسیوں کو مسترد کردیا تھا ۔ پنجاب نے عوام نے مسلم لیگ ن کو آزمانے کی کوشش کی اور زیادہ سیٹیں جیتنے کی وجہ سے پیپلز پارٹی مرکز، سندھ ، کے پی کے اور بلوچستان میں مخلوط حکومتیں بنانے میں کامیاب ہوگئی۔

آصف علی زرداری کی سربراہی میں پیپلز پارٹی اپنی حکومت کے پانچ سال پورے کرنے میں تو کامیاب ہوگئی، لیکن پیپلز پارٹی کے بقراط یہ سمجھنے سے بالکل قاصر رہے کہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں عوام نے اُنہیں کس کام کا مینڈیٹ دیا تھا؟پیپلز پارٹی کے لیڈر بس ایک ہی بات کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے کہ ملک میں جمہوریت بینظیر بھٹو کی قربانی کی وجہ سے واپس آئی، ایک جانب مفاہمت کا راگ الاپا گیا تو دوسری جانب ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ کا نعرہ مستانہ لگادیا گیا۔ تیرہ سال بعد پیپلز پارٹی کو دوبارہ اقتدار ملنے کی وجہ کیا تھی؟ پیپلز پارٹی کی قیادت یہ معمولی سی بات نہ سمجھ سکی کہ عوام نے پرویز مشرف کی پالیسیاں مسترد کرتے ہوئے اُنکی جماعت کو منتخب کیا تھا۔ اگر عوام کو جنرل مشرف کی پالیسیاں ہی عزیز ہوتی تو پھر بھلا انتخابات میں مشرف کی کنگز پارٹی مسلم لیگ ق خاک کیوں چاٹنے پر مجبور ہوتی؟ اس تجزیے کے برعکس پیپلز پارٹی نے نا صرف پرویز مشرف دور کی تمام پالیسیاں جاری رکھیں بلکہ اُن پالیسیوں میں اپنی نالائقی کیمطابق بھرپور اضافہ بھی کیا۔ پیپلز پارٹی نے مفاہمت کے نام پر قاتلوں کو گلے سے لگایا ،ڈاکوئوں کو اہم مناصب عطا کیے، اہم اثاثوں کی نگرانی کا فریضہ چوروں کے سپرد کردیا گیا اور کروڑوں روپے کے عوض اہم اور پرتعیش عہدے بیچے جانے لگے ۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے نالائق اور چاپلوس لوگوں کو اپنے گرد اکٹھا کرکے جہالت کا جمعہ بازار لگالیا کہ پورے پانچ سال تک ایک جانب رشوت، چور بازاری اور بدعنوانی کا بازارا گرم رہا اور دوسری جانب ملکی معیشت کا جسم ٹھنڈا پڑتا چلا گیا۔

سال 2013ء کے آغاز اور حکومتی مدت کے اختتام تک ’’کھپے جمہوریت‘‘ عوام سے ’’بہترین انتقام‘‘ لیتی رہی۔ لوگوں کی مایوسی ایک دفعہ پھر اپنی انتہاؤں کی چھونے لگی تھی، لیکن اس دفعہ عوام کی مایوسی پیپلز پارٹی کیلئے سازگار نہ تھی۔ شکستہ اعصاب والے جیالے تو مایوس ہوکر گھر بیٹھ گئے جبکہ کچھ کرنے کا جذبہ رکھنے والے جیالوں کی بڑی تعداد پیپلز پارٹی کے ساتھ اپنی چالیس سالہ رفاقت توڑ کر نئے سیاسی مرکز کی تلاش میں مختلف جماعتوں میں شامل ہوگئی۔بلاشبہ ان جیالوں کی زیادہ تعداد تبدیلی کی خواہش میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئی تھی۔ لیکن یہ تعداد اتنی زیادہ نہ تھی کہ انتخابات میں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی۔ ان حالات میں سال2013ء کے عام انتخابات ہوئے تو پنجاب، بلوچستان اور کے پی کے سے پیپلز پارٹی کا تقریبا صفایا ہوگیا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف میڈیا پر پراپیگنڈا کے جدید’’ٹولز‘‘ کے بھرپور استعمال اور ’’رنگین‘‘ جلسوں کی وجہ سے سمجھ بیٹھی کہ بس وزیراعظم ہاؤس اب اُنہی کا ہے۔جب تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرکے پی ٹی آئی کی رونق بڑھانے والے زیادہ تر ’’الیکٹبلز‘‘ امیدواروں کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا تو پھر بھلا ایسا کیسے ممکن تھا کہ پانچ سال تک پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر مزے کرنیوالے نئے ’’برانڈ‘‘ کے ساتھ سامنے آکر عوام میں مقبولیت پالیتے؟یوں انتخابات ہوئے تو پیپلز پارٹی کا تو صفایا ہوا ہی،اس کیساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف بھی کے پی کے کے علاوہ دوسرے صوبوں میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکی۔ اگر خواہش صرف تبدیلی کی تھی تو پاکستان تحریک انصاف 1997ء اور 2002 کے عام انتخابات میں بھی تبدیلی کے اِسی نعرے کے ساتھ بری طرح پٹ چکی تھی جبکہ 2008ء میں پی ٹی آئی نے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا تھا، لیکن اسکے باوجود 2013ء کے عام انتخابات میں شرکت کرتے وقت نجانے پاکستان تحریک انصاف نے کیونکر پاکستان میں بلا شرکت ِ غیرے راج کرنے کا خواب دیکھ لیا تھا؟پھر جب عمران خان کا وزیراعظم بننے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا اور مسلم لیگ ن نے 2013ء کے انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل کرکے حکومت بنالی تو دن میں خواب دیکھنے والے تو جیسے حواس ہی کھو بیٹھے۔ دن میں خواب دیکھنے والوں نے انتخابات کے بعد جو نیا خواب دیکھا تھا، وہ سڑکوں پر آکر احتجاج کے ذریعے حکومت تبدیل کرنے کا خواب تھا۔اب بھلا اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے وسط میں ایسی سوچ پالنا بھیانک خواب نہیں تو اور کیا تھا؟

اس خواب کی تکمیل کیلئے پہلے لانگ مارچ کیا گیا اور پھر اسلام آباد کے قلب میں دھرنا دے کر کئی ماہ تک پورے ملک کو مفلوج کرکے رکھ دیا گیا۔اس احتجاج سے اگر عمران خان اور پی ٹی آئی کو کچھ حاصل ہواتو وہ مبینہ انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کیلئے قائم کیا گیا انکوائری کمیشن تھا۔رواں برس نو اپریل سے کارروائی کا آغاز کرنیوالے انکوائری کمیشن کے اب تک کم و بیش پینتیس اجلاس ہوچکے ہیں اوراس دوران گیارہ حلقوں کے ریٹرنگ افسران سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے اڑتیس گواہان بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور اب تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ اپنے دلائل بھی مکمل کرچکے ہیں، لیکن اسکے باوجود صورتحال یہ ہے کہ کمیشن دھاندلی کے ثبوت مانگ رہا ہے اور تحریک انصاف کہہ رہی کہ ہم نے ثبوت پیش کر دیئے ہیں۔ اس صورتحال میں کمیشن کی کارروائی کا جو نتیجہ نکلے گا، وہ کوئی زیادہ بعید از قیاس بھی نہیں۔

قارئین کرام! !پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور دھرنے کی وجہ سے پاکستان کو معاشی طور پر کتنا نقصان پہنچا؟ اس کا شاید کبھی حساب نہ ہوسکے! اس احتجاجی سیاست کے دوران جو قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اُنکے ذمہ داران کا بھی کبھی تعین نہ ہوسکے گا اور مبینہ اور منظم دھاندلی کے الزامات کی انکوائری کیلئے قائم کمیشن میں خاطر خواہ ثبوت پیش نہ کرکے عمران خان نے اپنے سیاسی کیریر اور پی ٹی آئی کو کتنا نقصان پہنچایا، اس کا اندازہ لگانا بھی تین سال سے پہلے ممکن نہیں، حالانکہ یہ وہی انکوائری کمیشن تھا ، جو مسلم لیگ ن کی حکومت نے تحریک انصاف کا آزادی مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی گزشتہ اگست میں عمران خان کی جھولی میں ڈال دیا تھا، لیکن تب تحریک انصاف کے رہنما دن میں خواب دیکھنے میں مصروف تھے اوروزیراعظم کی کرسی کے خواب کے خمار نے کپتان سے اپنی ذات سے آگے دیکھنے کی صلاحیت چھین لی تھی۔

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.